کراچی لاوارث نہیں ہے

(NIMRAH KHAN, KARACHI)

مکرمی جناب! آج شہر کراچی کا جو حال ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر، نالے بہہ رہے ہیں، سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہے، جیسے روشنیوں کا شہراندھیرے کی نظر ہوگیا ہو۔ آج ایسا سچ میں محسوس ہو رہا ہے کہ کراچی شہر کا کوئی پرسان حال نہیں۔ جبکہ کراچی ہی وہ شہر ہے جس نے بے سہاراہوں کو سہارا اور بے روزگاروں کو روزگار مہیا کیا۔ جس نے سب کے مشکل وقت میں اس کا ساتھ دیا۔ پر افسوس سدا افسوس! آج وہی کراچی لاوارث پڑا ہے اور سک سک کر رحم کی بھیگ ماانگ رہا ہے پر کوئی اس کا درد محسوس نہیں کر رہا۔ کسی کو کراچی اور اس کے مسائل سے کوئی غرض نہیں آج کہتے تو سب ہیں کہ کراچی ہمارا ہے لیکن اس کے مسائل کسی کےنہیں۔ کہنے کو تو اس وقت کراچی شہر کو تین بڑی سیاسی جماعت اون کر رہی ہیں پر ہمیشہ کی طرح اس بار بھی انھوں نے کراچی کے نام پر اپنی جیبیں ہی بھریں ہیں۔ کسی نے شہرکے مسائل کا نہیں سوچا جس نے بھی سوچا شہر کو لوٹنے کے بارے میں سوچا-

آج جہاں نظراٹھاؤ وہاں کچرے کا ڈھیر پڑا ہوتا ہے کیا گلیاں، کیا روڈ ،کیا نالے، کیا اسکول، کالج ہر جگہ گندگی کے ڈھیر موجود ہیں جن پر منو مکھیاں منڈلاتی نظر آتی ہیں اور پھر وہی مکھیاں ہمارے گھروں میں کھانے پینے کی اشیاء پر بیٹھتی ہیں۔ جس سے نہ جانے کتنی بیماریاں جنم لیتی ہیں اور جب بارش ہوتی ہے تو وہی کچرا ہمیں پانی میں تیرتا نظر آتا ہے۔ جس کی وجہ سے گٹر نالے بند ہوجاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ اس شہر کی خستہ حال سڑکیں جن میں ہفتوں تک بارش کا پانی جمع رہتا ہے یوں شہر قائد کی خبصورتی کو اور چار چاند لگ جاتا ہے۔ آج لوگ کہتے ہیں کراچی میں کچرا لیکن وہ وقت دور نہیں جب کچرے کے ڈبے میں پڑا ہوگا کراچی۔ اگر ہم نے ا ب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے اور اپنی اپنی ذمہ داریوں کو نہ سمجھا تو ہم اس روشنی کے شہر کو کھو بیٹھیں گے لہذا میری حکومت سندھ اور میئر کراچی سے درد مندانہ التماس ہے کہ کراچی کے ان بنیادی مسائل کا کوئی موثر حل تلاش کریں اور اسی کے ساتھ ساتھ میں عوام الناس سے گزارش کرتی ہوں کہ خدارا اس شہر کو اسی طرح صاف رکھیں۔ جس طرح اپنے گھروں کو صاف رکھتے ہیں کیونکہ یہ شہر ہمارا ہے۔ ہمیں ہی قدم اٹھانا ہوگا اور شہر کی رونقوں کو پھر سے بحال کرنا ہوگا۔ اور ان لوگوں کو اپنے عمل سے ثابت کردیں جو کہتے ہیں کراچی لاوارث ہے کہ کراچی لاوارث نہیں ہے کراچی کے وارث ابھی بھی زندہ ہیں-
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: NIMRAH KHAN

Read More Articles by NIMRAH KHAN: 5 Articles with 2072 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Nov, 2019 Views: 406

Comments

آپ کی رائے