کرامات حضؤر غؤث اعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ

(Muhammmad Burhan Ul Haq Jalali, Jhelum)

کرامات حضؤر غؤث اعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ
راقم الحروف:۔
محمد برھان الحق جلالی(جہلم)
(ڈبل ایم۔اے،بی۔ایڈ،بی ایم ایس ایس،ٹی این پی،آئی ایس ٹی ٹی سی)
مصنف و مئولف:۔مقام والدین،صیام السالکین(رمضان روزے اور ہم)
قطب الاقطاب، غوث اعظم، محبوب سبحانی، محی الدین سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ النورانی حسنی و حسینی سید اور مادر زاد ولی تھے۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ اخبار الاخیار میں فرماتے ہیں، اﷲ تعالیٰ نے آپ کو قطبیت کبریٰ اور ولایت عظیمہ کا مرتبہ عطا فرمایا، یہاں تک کہ تمام عالم کے فقہاء علماء طلباء اور فقراء کی توجہ آپ کے آستانہ مبارک کی طرف ہوگئی، حکمت و دانائی کے چشمے آپ کی زبان سے جاری ہوگئے اور عالم ملکوت سے عالم دنیاتک آپ کے کمال و جلال کا شہرہ ہوگیا، اور اﷲ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے علاماتِ قدرت و امارت اور دلائل و براہین کرامت آفتابِ نصف النہار سے زیادہ واضح فرمائے اور جودو عطا کے خزانوں کی کنجیاں اور قدرت و تصرفات کی لگامیں آپ کے قبضہ اقتدار اور دست اختیار کے سپرد فرمائیں تمام مخلوق کے قلوب کو آپ کی عظمت کے سامنے سرنگوں کردیا اور تمام اولیاء کو آپ کے قدم مبارک کے سائے میں دے دیا کیونکہ آپ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے اس منصب پر فائز کیے گئے تھے جیسا کہ آپ کا ارشاد ہے، ’’میرا یہ قدم تمام اولیاء کی گردنوں پر ہے‘‘۔ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں ؎
واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا
سربھلا کیا کوئی جانے کہ ہے کیسا تیرا
اولیاء ملتے ہیں آنکھیں وہ ہے تلوا تیرا
آپکی کرامات بے شمار ہیں چند ایک رقم کرتا ہوں
خانقاہ میں ایک باپردہ عورت اپنے منے کی لاش چادر میں لپٹائے، سینے سے چمٹائے زار و قطار رو رہی تھی۔ اتنے میں ایک “بچہ“ دوڑتا ہوا آتا ہے اور ہمدردانہ لہجے میں اس عورت سے رونے کا سبب دریافت کرتا ہے۔ وہ روتے ہوئے کہتی ہے، بیٹا! میرا شوہر اپنے لخت جگر کے دیدار کی حسرت لئے دنیا سے رخصت ہو گیا ہے۔ یہ بچہ اس وقت پیٹ میں تھا اور اب یہی اپنے باپ کی نشانی اور میری زندگانی کا سرمایہ تھا، یہ بیمار ہو گیا، میں اسے اس خانقاہ میں دم کروانے لا رہی تھی کہ راستے میں اس نے دم توڑ دیا ہے۔ میں پھر بھی بڑی امید لے کر یہاں حاضر ہو گئی کہ اس خانقاہ والے بزرگ کی ولایت کی ہر طرف دھوم ہے اور ان کی نگاہ کرم سے اب بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے مگر وہ مجھے صبر کی تلقین کرکے اندر تشریف لے جا چکے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ خاتون پھر رونے لگی۔ “بچہ کا دل پگھل گیا اور اس کی رحمت بھری زبان پر یہ الفاظ کھیلنے لگے، محترمہ ! آپ کا بچہ مرا ہوا نہیں بلکہ زندہ ہے، دیکھو تو سہی وہ حرکت کر رہا ہے!“ دکھیاری ماں نے بے تابی کے ساتھ اپنے منے کی لاش پر سے کپڑا اٹھا کر دیکھا تو وہ سچ مچ زندہ تھا اور ہاتھ پیر ہلا کر کھیل رہا تھا۔ اتنے میں خانقاہ والے بزرگ اندر سے واپش تشریف لائے، بچے کو زندہ دیکھ کر ساری بات سمجھ گئے اور لاٹھی اٹھا کر یہ کہتے ہوئے “مدنی منے“ کی طرف لپکے کہ تونے ابھی سے تقدیر خداوندی عزوجل کے سربستہ راز کھولنے شروع کر دئیے ہیں! “مدنی منا“ وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا اور وہ بزرگ اس کے پیچھے دوڑنے لگے۔ “مدنی منا“ یکایک قبرستان کی طرف مڑا اور بلند آواز سے پکارنے لگا، اے قبر والو ! مجھے بچاؤ! تیزی سے لپکتے ہوئے بزرگ اچانک ٹھٹھک کر رک گئے کیونکہ قبرستان سے تین سو (300) مردے اٹھ کر اسی “بچے“ کی ڈھال بن چکے تھے اور وہ “بچہ“ دور کھڑا اپنا چاند سا چہرہ چمکاتا مسکرا رہا تھا۔ اس بزرگ نے بڑی حسرت کے ساتھ “مدنی منے“ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، بیٹا ! ہم تیرے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتے۔ اس لئے تیری مرضی کے آگے اپنا سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں وہ “بچہ“ کون تھا ؟ اس مدنی منے کا نام عبدالقادر تھا اور آگے چل کر وہ غوث الاعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرام کے لقب سے مشہور ہوئے اور وہ بزرگ ان کے ناناجان حضرت سیدنا عبداللہ صومعی علیہ رحمۃ اللہ القوی تھے۔ (الحقائق فی الحدائق)
بچپن کی چند کرامات
غوث الاعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرام مادر زاد ولی تھے۔
(1) آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ابھی اپنی ماں کے پیٹ میں تھے اور ماں کو جب چھینک آتی اور اس پر وہ الحمدللہ کہتیں تو آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ پیٹ ہی میں جواباً یرحمک اللہ کہتے
(2) آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ یکم رمضان المبارک بروز پیر صبح صادق کے وقت دنیا میں جلوہ گر ہوئے اس وقت ہونٹ آہستہ آہستہ حرکت کر رہے تھے اور اللہ، اللہ کی آواز آرہی تھی
آپ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ اْم الخیر بیان فرماتی ہیں کہ ولادت کے ساتھ احکامِ شریعت کا اِس قدر احترام تھا کہ حضرت غوث اعظم رمضان میں دن بھر میں کبھی دودھ نہیں پیتے تھے۔ ایک مرتبہ اَبر کے باعث 29شعبان کو چاند کی رؤیت نہ ہوسکی لوگ تردوّمیں تھے لیکن اِس مادر زادولی حضرت غوث اعظم نے صبح کو دودھ نہیں پیا۔ بالآخر تحقیق کے بعد معلوم ہواکہ آج یکم رمضان المبارک ہے۔ آپ کی والدہ محترمہ کا بیان ہے کہ آپ کے پورے عہدِ رضاعت میں آپ کا یہ حال رہا کہ سال کے تمام مہینوں میں آپ دودہ پیتے رہتے تھے لیکن جوں ہی رمضان شریف کا مبارک مہینہ آپ کایہ معمول رہتاتھا کہ طلوع آفتاب سے لے کر غروب آفتاب تک قطعاََ دودہ نہیں پیتے تھے۔خواہ کتنی ہی دودہ پلانیکی کوشش کی جاتی یعنی رمضان شریف کے پورے مہینہ آپ دن میں روزہ سے رہتے تھے اور جب مغرب کے وقت اذان ہوتی اور لوگ افطارکرتے توآپ بھی دودہ پینے لگتے تھے۔ ابتدا ہی سے خالقِ کائنات اللہ رب العزت کی نوازشات سرکارغوث اعظم کی جانب متوجہ تھیں پھر کیوں کوئی آپ کے مرتبہ فلک کو چھوسکتا یا اِس کااندازہ کرسکے چنانچہ سرکارِ غوث اعظم اپنے لڑکپن سے متعلق خود ارشاد فرماتے ہیں کہ عمر کے ابتدائی دور میںجب کبھی میں لڑکوں کے ساتھ کھیلنا چاہتاتو غیب سے آواز آتی تھی کہ لہوولعب سے بازرہو۔جِسے سْن کر میں رْک جایاکرتاتھا اور اپنے گردوپیش جو نظرڈالتاتومجھے کوئی آوازدینے والا نہ دِکھائی دیتاتھاجس سے مجھے دہشت سی معلوم ہوتی اور میں جلدی سے بھاگتاہواگھرآتااور والدہ محترمہ کی آغوش محبت میں چھپ جاتاتھا۔
(3) جس دن آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت ہوئی اس دن آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے دیار ولادت جیلان شریف میں گیارہ سو بچے پیدا ہوئے وہ سب کے سب لڑکے تھے اور سب ولی اللہ بنے۔
(4) غوث الاعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرام نے پیدا ہوتے ہی روزہ رکھ لیا اور جب سورج غروب ہوا اس وقت ماں کا دودھ نوش فرمایا۔ سارا مہینہ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا یہی معمول رہا
(5) پانچ برس کی عمر میں جب پہلی بار بسم اللہ پڑھنے کی رسم کیلئے کسی بزرگ کے پاس بیٹھے تو اعوذ اور بسم اللہ پڑھ کر سورہء فاتحہ اور آلم سے لے کر اٹھارہ پارے روشن پڑھ کر سنا دئیے۔ اس بزرگ نے کہا، بیٹے اور پڑھئے! فرمایا، بس مجھے اتنا ہی یاد ہے کیونکہ میری ماں کو بھی اتنا ہی یاد تھا۔ جب میں اپنی ماں کے پیٹ میں تھا اس وقت وہ پڑھا کرتی تھیں۔ میں نے سن کر یاد کر لیا تھا
(6) جب آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ لڑکپن میں کھیلنے کا ارادہ فرماتے، غیب سے آواز آتی، اے عبدالقادر (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)! ہم نے تجھے کھیلنے کے واسطے نہیں پیدا کیا
(7) آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ مدرسہ میں تشریف لے جاتے تو آواز آتی، “اللہ عزوجل کے ولی کو جگہ دے دو۔“ (کتب کثیرہ)
ڈوبی ہوئی بارات
ایک بار سرکار بغداد حضور سیدنا غوث الاعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم دریا کی طرف تشریف لے گئے۔ وہاں ایک نوے سال کی بڑھیا کو دیکھا جو زار و قطار رو رہی تھی۔ ایک مرید نے بارگاہ غوثیت میں عرض کی، یامرشدی! اس ضعیفہ کا ایک اکلوتا خوبرو بیٹا تھا۔ بے چاری نے اس کی شادی رچائی دولہا نکاح کرکے دلہن کو اسی دریا میں کشتی کے ذریعہ اپنے گھر لا رہا تھا کہ کشتی الٹ گئی اور دولہا دلہن سمیت بارات ڈوب گئی۔ اس واقعہ کو آج بارہ برس گزر چکے ہیں مگر ماں کا جگر ہے، بے چاری کا غم جاتا نہیں ہے، یہ روزانہ یہاں دریا پر آتی ہے اور بارات کو نہ پاکر رو دھو کر چلی جاتی ہے۔ حضور غوث الاعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کو اس ضعیفہ پر بڑا ترس آیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعاء کے لئے ہاتھ اٹھا دئیے۔ چند منٹ تک کچھ بھی ظہور نہ ہوا۔ بے تاب ہو کر بارگاہ الٰہی عزوجل میں عرض کی، یااللہ عزوجل ! اس قدر تاخیر کیوں ؟ ارشاد ہوا، اے میرے پیارے ! یہ تاخیر خلاف تقدیر و تدبیر نہیں ہے، ہم چاہتے تو ایک حکم کن سے تمام زمین و آسمان پیدا کر دیتے مگر بتقضائے حکمت چھ دن میں پیدا کئے، بارات کو ڈوبے بارہ سال بیت چکے ہیں، اب نہ وہ کشتی باقی رہی ہے نہ ہی اس کی کوئی سواری، تمام انسانوں کا گوشت وغیرہ بھی دریائی جانور کھا چکے ہیں، ریزہ ریزہ کو اجزائے جسم میں اکٹھا کروا کر دوبارہ زندگی کے مرحلے میں داخل کر دیا ہے، اب ان کی آمد کا وقت ہے۔ ابھی یہ کلام اختتام کو بھی نہ پہنچا تھا کہ یکایک وہ کشتی اپنے تمام ساز و سامان کے ساتھ بمع دولہا دلہن و براتی سطح آپ پر نمودار ہوگئی اور چند ہی لمحوں میں کنارے آلگی۔ تمام باراتی سرکار بغداد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے دعائیں لے کر خوشی خوشی اپنے گھر پہنچے۔ اس کرامت کو سن کر بے شمار کفار نے آ آ کر سیدنا غوث الاعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کے دست حق پرست پر اسلام قبول کیا۔ (سلطان الاذ کارفی مناقب غوث الابرار
حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی ؒ کے ایک ہم عصر بزرگ فرماتے ہیں کہ ایک بارمیں نے جِنّات کی حاضری کا عمل کیا مگر کوئی جِن حاضر نہ ہوا۔ میں حیران رہ گیا، کیوں کہ اس سے قبل کبھی ایسانہ ہواتھا۔میں نے کئی گھنٹے تک عمل جاری رکھا۔ بالٓاخر وظیفے سے متعلق جِن حاضر ہوئے ۔ میں نے تاخیر کا سبب پوچھا:’’ہم سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کی مجلسِ وعظ میں حاضرتھے۔‘‘ایک جِن نے جواب دیا۔ میں نے حیران ہوکرپوچھا:’’تم لوگ بھی حضرت شیخ کی مجلس میں حاضر ہوتے ہو۔‘‘ ’’انسانوں کے اجتماع سے زیادہ وہاں ہمارا اجتما ع ہوتاہے، ہمارے کئی قبائل ان کے دست مبارک پرایمان بھی لاچکے ہیں۔‘‘اجنّہ نے عجیب راز کا انکشاف کرتے ہوئے کہا۔ ٭٭٭٭ ایک بار سیّدنا عبدالقادر جیلانی ؒ کھلے میدان میں تقریر فرمارہے تھے ۔ اس وقت دس ہزار سے زیادہ انسانوں کاہجوم تھا۔یکایک ایک سیاہ بادل اُٹھا اور آسمان پر چھا گیا۔کچھ دیرمیں موسلادھاربارش ہونے لگی۔آپؒ نے آسمان کی طرف دیکھااور رقت آمیزلہجے میں عرض کیا:’’میں تو صرف تیرے لیے مخلوق جمع کرتاہوں ۔‘‘ اچانک میدان پرپانی برسنا بندہوگیا،مگر میدان کے چاروں طرف پورے زور و شور سے بارش ہوتی رہی۔ہجوم نے کھلی آنکھوںسے حضرت شیخ کی یہ کرامت دیکھی
حضور غوث اعظم کی حیات مبارکہ کا اکثر و بیشتر حصہ بغداد مقدس میں گزرا اور وہیں پر آپ کا وصال ہوااور وہیں پر ہی آپ کا مزار مبارک ہے جس کے گرد عام لوگوں کے علاوہ بڑے بڑے مشائخ اور اقطاب آج بھی کمالِ عقیدت کے ساتھ طوافِ زیارت کیاکرتے ہیںاور فیوض و برکات سمیٹتے ہیں۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 384 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammmad Burhan Ul Haq Jalali

Read More Articles by Muhammmad Burhan Ul Haq Jalali: 5 Articles with 2526 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: