ناصر ناکا گاوا جاپان میں پاکستان اور اردو زبان وادب کا بے لوث سفیر--- تیسری قسط

(Afzal RAZVI, Adelaide-Australia)

مندرجہ بالا اقتباس سے قارئین کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ پاکستان کے ہوائی اڈوں پر بیرونِ ملک جانے والے مسافروں سے اور خصوصاً بیرونِ ملک مقیم مسافروں سے کیسا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ معاملہ اگر سلوک تک ہو تب بھی ہے اگر اپنے ساز و سامان کے ساتھ بخیریت آجائیں تو بڑی بات ہے۔
راقم الحروف نے جب ناصر کے سفر نامچوں اور دیگر اصناف پر لکھنے کا قصد کیا تو ان کی ایک تصنیف کے سرورق کے پیچھے لکھے ہوئے دو اشعار نے مجھے جنجھوڑ کر رکھ دیا اور میں سوچوں کے سمندر میں گم ہو گیا۔ ان اشعار میں دل کا دکھ اور وطن سے دوری نیز وطن کی محبت پر مہر ثبت کی گئی ہے۔ تحقیق و تفتیش سے پتا چلا کہ یہ اشعار ناصر ناکا گاوا کے اپنے ہیں جو انہوں نے غالباً آج سے چودہ پندرہ سال پہلے کسی موقع پر کہے تھے۔ قارئین بھی میری بات سے اتفاق کریں گے کہ انہوں نے ان دو اشعار میں گویا اپنی زندگی کے گہرے تاثر کو بیان کیا ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں۔
کون چھوڑے ہے میرے دوست وطن کی مٹی
بعد مرنے کے یہیں خاک نہ ہو جاؤں کہیں
کم پڑ گئی ہے جاپان میں دفن کی جگہ
سزائے جلاوطنی میں یہیں راکھ نہ ہو جاؤں کہیں
حال ہی میں ناصر ناکا گاوانے یورپی ممالک کی سیاحت کی ہے۔ چنانچہ جرمنی اور سوئزرلینڈ کے سفری تاثرات قلمبند کرتے ہوئے اس کے آغاز میں لکھتے ہیں:
جوں جوں میری عمر دراز ہورہی ہے، مجھے اپنی سوچ، طبیعت اور عادات میں بہت بڑا تغیر محسوس ہو رہا ہے۔مثلاً یہ کہ ہر روز میں یہ سوچتا ہوں کہ یہ میری زندگی کا یومِ آخر ہے اس لیے اپنی خوش لباسی، بہترین کھانا، پر تعیش زندگی اور مال ودولت سے بہت دور ہوتا جارہاہوں، یہی بات مجھے آمادہ کرتی ہے کہ میرے پاس وقت کم ہے اس لیے اللہ کی تخلیقات کو جلد سے جلد اور زیادہ سے زیادہ دیکھ لوں۔
جرمنی اورسوئزرلینڈکی سیاحت کے دوران ناصر نے گاڑی ڈرائیو کرنے کاایک دلچسپ واقعہ تحریر کیا ہے، جب وہ اپنے دوست شیراز گیلانی کے ہمراہ گاڑی سے سفر کررہے تھے اور انہیں علم نہیں تھا کہ جاپان کا لائیسنس یورپ میں کارآمد نہیں۔ ایک جگہ پولیس آفسرنے انہیں روکا اور پاسپورٹ نیز لائیسنس لے کر قریب ہی ایک بوتھ میں چلا گیا جہاں کمپیوٹر کی سہولت موجود تھی،لکھتے ہیں:
جہاں اس نے ہمارے پاسپورٹ اور لائیسنس وغیرہ چیک کیا جو ہمیں گاڑی کے پاس سے بھی نظر آرہا تھاکہ کمپیوٹر پر جھکا ہوا کچھ کر رہا ہے۔صرف پانچ منٹ کے بعد ہی وہ پولیس آفسر واپس آیا اور مجھے میرا پاسپورٹ اور لائیسنس واپس کرتے ہوئے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ آپ کا جاپانی لائیسنس سوئزرلینڈ میں کارآمد نہیں ہے، بین الاقوامی لائیسنس کے بغیر آپ کو یہاں گاڑی چلانے کی اجازت نہیں؛تاہم آپ کے ساتھی کا لائیسنس پورے یورپ میں کارآمد ہے اس لیے اگر آپ ڈرائیونگ نشست تبدیل کرلیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہو گا اور میں آپ کو سوئزرلینڈ میں خوش آمدید کہتا ہوں۔
پھر سوئزرلینڈ کی خوب صورتی اور دلکش مناظر کو احاطہئ تحریر میں لاتے ہوئے لکھتے ہیں:
فلک سے ہم کلام ہوتے ہوئے سرسبز پہاڑ، برف پوش چوٹیاں، ٹھنڈے پانی کے چشمے اور آبشاریں ان تمام مناظر کا صرف انسانی آنکھ ہی احاطہ کرسکتی ہے۔ میرے الفاظ یا میرے کیمرے کی آنکھ اس کا عشرِ عشیر بھی بیان نہیں کرسکتی ۔۔۔کشمیر کو جنت نظیر کہا جاتا ہے اور سوئزرلینڈ کی سرزمین بھی جنتِ ارضی سے کم نہیں۔
سفر نامے لکھنا ناصر کا شوق ٹھہرا لیکن انہیں مزاحیہ مضامین لکھنے کا بھی فن آتا ہے۔ میری نظر سے ان کا ایک مزاحیہ مضمون ”وہ کون شخص ہے جس کے سامنے طاقتور انسان بھی سر جھکا لیتا ہے؟“گزرا جس سے میں لطف اندوز ہوا اور اپنے قاری کو بھی اس سے حظ اٹھانے کا موقع فراہم کرنا چاہتا ہوں اور ساتھ ہی ساتھ ناصرکے فنِ مزاح کو بھی اپنے قاری سے متعارف کرانا چاہتا ہوں گویا ایک تیر سے دو شکار کرنے کا ارادہ ہے، تو دیکھیے کس خوب صورتی سے ناصر نے اس شخص کا تعارف کرایا ہے جس کے سامنے دنیا کے بڑے بڑے سورما اپنا سر جھکانے پر مجبور ہوتے ہیں:
جو بھی اسکے سامنے سر جھکائے بیٹھا ہوتا تھا وہ اسکے سر کو پکڑ کر ادھر ادھر کرنے کے ساتھ ساتھ اسکا ماتھا یا اسکی ٹھوڑی کو بھی اپنی مرضی سے موڑتا ماڑتا رہتا تھا مگر کسی کی مجال نہیں ہوتی تھی کہ اسے کچھ کہہ سکے بلکہ بعض اوقات تو وہ اکڑی ہوئی گردن کو اپنے ہاتھ سے خم دے کر ا سے نیچے کردیا کرتا تھا اور کھلی ہوئی آنکھوں کو خود اپنے ہاتھوں سے بند کردیا کرتا تھا۔ اب آپ کو بھی غصہ آرہا ہوگا کہ میں کس شخص کے بارے میں کہہ رہا ہوں تو جناب یہ ہستی جسے پڑھے لکھے طبقے میں خلیفہ جی اور عام طبقے میں نائی کہا جاتا ہے شہروں میں باربر اور اعلیٰ طبقوں میں ہیئرڈریسر وغیرہ بھی کہا جاتا ہے۔شہروں میں رہنے والا یہ شخص بہت موڈرن نظر آتا ہے اور اسکے کام مخصوص ہوتے ہیں وہ صرف سر کے بال تراشتا ہے اور شیو بناتا ہے اور بڑی ٹیپ ٹاپ میں رہتا ہے پینٹ شرٹ اور بو کا استعمال کرتا ہے جبکہ اسی برادری کا دوسرا شخص
جو گاؤں یا گوٹھ میں رہتا ہے اسکے ذمہ کام بہت زیادہ ہوتے ہیں جن میں سر کے بال تراشنے، شیو کرنے کے علاوہ بالغان کے بغلوں کے بال بھی صاف کرتا ہے اور نو مولود نر بچوں کو دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے لئے خیالی چڑیا دکھا کر مسلمان ہونے کا سرٹیفیکیٹ بھی جاری کرتا ہے۔
وہ مزید لکھتے ہیں:
وہ پھیری والا نائی گلی کے مرکز میں میلی کچیلی سی چادر بچھا کر اپنے اوزاروں والی صندوقچی کھولتا تھا جس میں سے زنگ آلود استرے، بلیڈ، قینچی،دنبے کے بال کاٹنے والی مشین،میل سے بھری ہوئی کنگھی، بدبو دار تولیہ اور ایک ٹین کا کپ برآمد ہوتے تھے۔ ہم جو اماں جی کے خوف سے اسکے سامنے جھکے بیٹھے ہوتے تھے اور ہچکیاں مار مار کر رورہے ہوتے تھے کہ ٹھیک ہے امی جان اسے کہہ دیں کہ میرے انگریزی بال کاٹے تو میں پھر کٹواؤں گا ورنہ نہیں، اس شرط پر امی جان اسے بلند آواز میں کہتیں کہ دیکھو بھیا میرے بچے کے انگریزی بال کاٹنا،ہم جو سر جھکائے بیٹھے ہوتے تھے امی جان کی آواز سن کر مطمئن ہوجاتے تھے مگر ہمارے اس جھکے ہوئے وقفے کے دوران امی جان خلیفہ جی کو اشارہ کردیا کرتی تھیں کہ ویسے ہی کاٹنا جیسے پہلے کاٹے تھے یعنی مشین پھیر دو!!!
پاکستان کے خلیفہ سے جاپانی خلیفہ تک پہنچتے پہنچتے مضمون مزید فکاہیہ شکل اختیار کر لیتا ہے اور یقین کیجیے درج ذیل اقتباس پڑھ کر میں بھی خوب محظوظ ہوا۔
جاپانی خلیفہ جی کی فیس ہمارے ایک دن کی کمائی کا نصف ہوا کرتی تھی اور نصف کمائی کی قدر کا اندازہ آپ اس طرح لگا سکتے ہیں کہ چار دن کا گھر کا راشن خریدا جاسکتا تھا۔ کئی دوستوں سے معلومات کی کہ بھائی کوئی ایسے نائی کی دکان بتاؤ جو پیسے کم لیتا ہو،آخر کار ہمارے ایک دوست نے ایسے خلیفہ جی کی دکان دریافت کی جو نہایت ہی سستے پیسوں میں بال کاٹتے تھے اس دکان کا پاکستانیوں میں چرچا عام ہوگیا اور اب وہاں کافی رش بھی رہنے لگا، ایک دن اتوار کو بال کٹوانے گیا تو مجھ سے پہلے ایک صاحب بال کٹوا کر کرسی سے اٹھے اور دکان کے کونے میں جا کر کھڑے ہو گئے۔ خلیفہ جی پیسے وصول کرنے جب انکے قریب آئے تو موصوف نے اپنا بازو اٹھایا اور اپنے موٹے سے شکم سے شرٹ اٹھا کر اپنا منہ چھپا لیا، خلیفہ جی حیران پریشان کہ یہ کیا ماجرا ہے میں نے جب یہ منظر دیکھا تو ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گیا چونکہ میں سمجھ گیا تھا کہ وہ پاکستانی کیا چاہ رہا ہے، لیکن کافی دیر وہ اسی پوز میں رہا اور خلیفہ جی کبھی میری طرف اور کبھی اس کی طرف دیکھتے۔ میں نے اس پاکستانی سے کہا کہ بھائی یہاں جاپان میں بغل کے بال صاف کرنا نائی کی ذمہ داری نہیں
ہے تو وہ بہت حیران ہوا کہ یہ کیا بات ہوئی پیسے بھی دو اور کام بھی پورا نہ کرواؤ!!پاکستان میں تو بال کٹوانے کے بعد بغل کے بال بھی کاٹتے ہیں اور مونچھیں وغیرہ بھی درست کرتے ہیں، میں نے کہا کہ وہاں تو بہت کچھ کاٹتے ہیں مگر یہاں پر اسی پر اکتفا کریں۔۔۔۔ (جاری ہے)
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 68 Print Article Print
About the Author: Afzal Razvi

Read More Articles by Afzal Razvi: 55 Articles with 13129 views »
Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allama
.. View More

Reviews & Comments

Language: