پاکستان کی 5 مشہور اداکارائیں جو اب صرف ماں کے کردار میں نظر آتی ہیں


پاکستانی ڈرامے بنیادی طور پر سوشل اشوز کو سامنے رکھ کر بنائے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہر ڈرامے میں جہاں پر مرکزی کردار کے لیے کسی ہیرو اور ہیروئن کا ہونا ضروری ہے ویسے ہی سپورٹنگ رول ادا کرنے کے لیے ماں باپ کا ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ مرکزی کردار کا ہونا ضروری ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہماری شوبز کی بہت ساری اداکارائیں جو ماضی میں ہمیں مرکزی کرداروں میں نظر آیا کرتی تھیں اب انہوں نے سپورٹنگ رول میں ماں کی جگہ مستقل طور پر سنبھال لی ہے- آج ہم آپ کو ان کی اداکاراؤں کے بارے میں بتائيں گے-

1: بشریٰ انصاری
بشریٰ انصاری کے اسکرین کے سفر کا آغاز ایک گلوکارہ کے طور پر سہیل رعنا کے شو سے ہوا جہاں ایک بچی اپنی خوبصورت آواز کا جادو جگایا کرتی تھی اس کے بعد پروگرام ففٹی ففٹی میں اداکاری کے جوہر دکھاتے دکھاتے کب انہوں نے ورسٹائل ہونے کا لیبل خود پر لگا لیا کچھ پتہ ہی نہ چلا معاملہ سنجیدہ اداکاری کا ہو یا مزاحیہ اداکاری کا پیروڈی ہو یا غزل گائیکی ہر ہر جگہ پر بشریٰ انصاری لوگوں کے دل جیتی رہیں ۔ اب بشری انصاریٰ حالیہ دنوں میں دیوار شب میں ماں کے کردار میں سامنے آرہی ہیں مگر ان کی تمکنت اور وقار میں کہیں بھی کمی دیکھنے میں نہیں آئی اور وہ ماضی کی طرح ہر کردار میں پہلے سے بہتر نظر آرہی ہیں-


2: صبا حمید
عام طور پر صبا حمید کا نام ذہن میں آتے ہی ان کے تمام کردار آنکھوں کے سامنے سے گھومنے لگتے ہیں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سال کا کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں ہوتا جب کہ صبا حمید کسی نہ کسی کردار میں نظر نہ آئیں ۔ ہر طرح کے کردار میں مکمل طور پر ڈھل جانے والی صبا حمید نے اپنے کیرئیر کا آغاز لاہور کے ٹی وی ڈراموں سے کیا تھا اس کے بعد پیارے افضل میں رقیہ کے کردار میں ،ڈرامہ دل لگی میں زلیخا کے کردار میں انہوں نے اداکاری کےایسے جوہر دکھائے کہ ہر ڈرامے میں ماں کے کردار کے لیے اولین انتخاب بن گئيں آج کل ڈرامہ رشتے بکتے ہیں میں ماں کے کردار میں نظر آرہی ہیں-


3: ثمینہ پیرزادہ
ثمینہ پیر زادہ کا نام سامنے آتے ہی ایک ایسی خاتون کا تاثر ابھرتا ہے جس کے لیے اس کے اصول اور ضابطے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ ہوتے ہیں ایسے کرداروں میں چاہے وہ زندگی گلزار ہے میں کشف کی ماں ہو یا پھر داستان میں درشہوار کی ماں کا کردار ہو ان تمام کرداروں میں ثمینہ پیر زادہ نے جس طرح جان ڈالی اس کے بعد ایسے مضبوط ماں کے کردار کے لیے ہر ڈائریکٹر کی اولین چوائس بن کر ابھری ہیں-


4: صبا فیصل
صبا فیصل کا شمار پاکستانی ڈراموں کی ان ماؤں میں ہوتا ہے جو کہ اپنے مضبوط ڈائیلاگ ڈلیوری کے سبب ذرا یاد کر میں ایک ایسی ماں بن کر ابھری ہیں جو کہ غلط کو غلط کہتی تھی اس کے بعد آنے والے دور میں صبا فیصل نے یہ ثابت کیا کہ وہ ہر قسم کے کردار بخوبی ادا کر سکتی ہیں-


5: حنا خواجہ
ماڈرن ماں کے کردار کے لیے حنا خواجہ سے بہتر کوئی انتخاب آج تک ہماری ڈرامہ انڈسٹری کو نہیں مل سکا ہے ان کا لباس ان کا انداز سب کچھ ان کو ایک ماڈرن ماں کے روپ میں دکھاتا ہے ہر ڈرامے میں جس میں امیر ماں کا کردار ادا کرنا ہو حنا خواجہ اس وقت بہترین انتخاب ثابت ہوتی ہیں-
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 2033 Print Article Print
 Previous
NEXT 

YOU MAY ALSO LIKE:

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
Language: