شہرِ قائد میں میں ادبی بہار.

(Muhammad Arshad Qureshi, Karachi)
کراچی آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ کا کہنا ہے کہ جب اس شہر میں صدا کا قحط پڑا تو ہم نے اپنی آواز بلند کی، جب آگ اور خون شہر کراچی کی پہچان بن گئے تھے تب ہم نے شعر و نغمہ کی بات چھیڑی،ہم نے کراچی کی پہچان رنگ، خوشبو، نغمہ و موسیقی کے حوالے سے کی۔
ہم سب کا کراچی، ہماری شناخت ہے، ہم اپنی شناخت مٹنے نہیں دیں گے، آرٹس کونسل کراچی کی بارھویں عالمی اردو کانفرنس کرہ ارض پر اردو کا سب سے بڑا میلہ ہے،ساری دنیا میں آرٹس کونسل کراچی کی پہچان بن گئی ہے ۔آرٹس کونسل کراچی کی برانڈ ہے۔

یوں تو کراچی میں ہر روز ہی کہیں نہ کہیں ادبی محفل سجتی ہے لیکن ماہِ دسمبر میں کراچی میں ادبی بہار پورے جوبن پر ہوتی ہے ۔ ایک جانب کراچی آرٹس کونسل میں چار روزہ سالانہ عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد ہوتا ہے تو دوسری جانب ایکسپو سینٹر میں پانچ روزہ سالانہ عالمی کتب میلہ سجتا ہے ۔ عالمی اردو کانفرنس کے شرکاء جوں ہی کراچی پہنچتے ہیں ۔ شہر میں ادبی محافلیں زور پکڑ جاتی ہیں جن میں دنیا بھر سے آئے ہوئے اردو ادب سے وابستہ شخصیات شرکت کرتی ہیں ۔

اس بار کراچی میں بارہویں عالمی اردو کانفرنس جاری ہے جو گذشتہ گیارہ سالوں سے نہایت کامیابی سے جاری ہے ۔ اس بار وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بارہویں عالمی اردو کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اردو کانفرنس اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم پاکستان کو جوڑنا چاہتے ہیں

کراچی آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ کا کہنا ہے کہ جب اس شہر میں صدا کا قحط پڑا تو ہم نے اپنی آواز بلند کی، جب آگ اور خون شہر کراچی کی پہچان بن گئے تھے تب ہم نے شعر و نغمہ کی بات چھیڑی،ہم نے کراچی کی پہچان رنگ، خوشبو، نغمہ و موسیقی کے حوالے سے کی۔

ہم سب کا کراچی، ہماری شناخت ہے، ہم اپنی شناخت مٹنے نہیں دیں گے، آرٹس کونسل کراچی کی بارھویں عالمی اردو کانفرنس کرہ ارض پر اردو کا سب سے بڑا میلہ ہے،ساری دنیا میں آرٹس کونسل کراچی کی پہچان بن گئی ہے ۔آرٹس کونسل کراچی کی برانڈ ہے۔

بھارت سے شمیم حنفی ، برطانیہ سے رضا علی عابدی، جرمنی سے عشرت معین سیما اور عارف نقوی، جاپان سے ہیرو جی کتاؤکا، کینیڈا سے اشفاق حسین، چین سے ٹینگ مینگ شنگ، ڈنمارک سے صدف مرزا اور امریکہ سے وکیل انصاری بھی آئے ہیں جب کہ اندرون ملک سے نامی گرامی ادیب بھی پہنچے، اردو کے ساتھ ساتھ پنجابی، سندھی، سرائیکی، پشتو اور بلوچی زبان و ادب پر بھی سیشن بھی منعقد کیئے جارہے ہیں۔

کراچی آرٹس کونسل میں ہر سال عالمی اردو کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے مثبت تبدیلیاں بھی کی جاتی رہی ہیں ۔ جیسا کہ ہمیشہ سے کانفرنس کے دوران کتابوں کی نمائش کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے اور اس حوالے سے آرٹس کونسل میں کئی بک اسٹال لگائے جاتے ہیں لیکن اس بارفوڈ فیسٹیول کا بھی اہتمام کیا گیا ہے ۔ عالمی مشاعرہ ہمیشہ سے کانفرنس کا حصہ رہا ہے لیکن اس بار نوجوانوں کے مشاعرے کا بھی الگ اہتمام کیا گیا ہے ۔ اس بار نہ صرف کراچی آرٹس کونسل کو دلہن کی طرح سجایا گیا ہے بلکہ بیک وقت کئی سیسشن کا اہتمام کیا جارہا ہے اگر ایک سیشن آڈیٹوریم 1 میں تو دوسرا آڈیتوریم 2 اور تیسرا لان میں منعقد کیا جارہا ہے ان نشستوں میں شرکاء اپنی دلچسپی کے تحت شرکت کر رہے ہیں ۔

اس بار کانفرنس کے موقع پر آرٹس کونسل چورنگی کی بھی خوبصورت تزئین کی گئی ہے۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی تمام پروگراموں کی تفصیل پر مبنی کتابچہ شائع کیا گیا ہے جس میں شرکاء کی رہنمائی کی گئی ہے ۔

دوسری جانب ایکسپو سینٹر میں جاری عالمی کتب میلہ بھی پورے عروج پر ہے صبح 10 بجے سے رات 09 بجے تک جاری رہنے والے اس میلے میں عوام کا جم غفیر نظر آتا ہے ۔ عالمی کتب میلے میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت کرتے ہیں۔ کتب میلے میں رعایتی نرخوں پر کتابیں دستیاب ہیں ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 167 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Arshad Qureshi

Read More Articles by Muhammad Arshad Qureshi: 102 Articles with 57994 views »
My name is Muhammad Arshad Qureshi (Arshi) belong to Karachi Pakistan I am
Freelance Journalist, Columnist, Blogger and Poet.​President of Internati
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: