عمران خان کس حد تک کامیاب ۰۰۰پاکستانی تاریخ میں پہلی بار بیرون ملک سے رقوم واپس!

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے اور ملک کاپیسہ واپس لانے کا جو عزم و ارادہ ظاہرہ کیا تھا اس میں انہیں کامیابی حاصل ہونا شروع ہوگئی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیر اعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار بیرون ملک موجود پاکستانی رقوم واپس آئی ہے۔ برطانیہ نے ایک سو نوے پاونڈ واپس بھیج دیئے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ برطانوی حکومت نے پی ٹی آئی حکومت پر بھروسہ کرتے ہوئے ایک سو نوے ملین پاؤنڈ رانسفر کردیئے ہیں اور آنے والے وقت میں مزید رقم واپس آئینگی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد پیسہ لانا تھا جو پورا ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کے دور میں وزیر اعلیٰ ہاؤس میں گورکھ دھندہ چلایا گیا۔انہوں نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران تفصیلات سے آگاہ کیا اور برطانوی حکومت و برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے تعاون کا بھیشکریہ ادا کیا۔

پاکستانی امیرترین شہری ملک ریاض کی رقم پاکستان منتقل
بی بی سی ذرائع ابلاغ کے مطابق برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی اور پاکستانی حکام دونوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لندن میں ملک ریاض سے ایک تصفیے کے نتیجے میں ملنے والی کروڑوں پاؤنڈ کی رقم پاکستان منتقل کردی گئی ہے۔ وزیر اعظم کے معاون برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے ایک ایس ایم ایس پیغام کے ذریعہ بی بی سی کو بتایا کہ یہ رقم پاکستان منتقل ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ ملک ریاض کا شمار پاکستان کے امیر ترین شخصیات میں ہوتا ہے اور وہ بحریہ گروپ آف کمپنیز کے بانی ہیں جسے تعمیرات کے شعبے میں سب سے بڑا نجی ادارہ تصور کیا جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک ریاض نے 4؍ ڈسمبر کو اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں بتایا کہ کچھ عادی سی اے کی رپورٹ کو توڑ مروڑ کر پیش کررہے ہیں اور ان کی کردار کشی کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ انہوں نے سپریم کورٹ کو کراچی بحریہ ٹاؤن مقدمے میں 19کروڑ پاؤنڈ کے مساوی رقم دینے کیلئے برطانیہ میں قانونی طور پر حاصل کی گئی ظاہر شدہ جائیداد کو فروخت کیاہے۔ برطانوی ادارے کے اعلامیہ میں تصفیے میں پانچ کروڑ پاؤنڈ مالیت کا اپارٹمنٹ دینے کی بات کی گئی ہے جبکہ ملک ریاض کا کہنا ہے کہ انہو ں نے یہ جائیداد فروخت کی ہے تاکہ اس کی رقم سے سپریم کورٹ کو رقم کی ادائیگی کا وعدہ پورا کیا جاسکے۔ این سی اے کے مطابق ملک ریاض اورانکے خاندان سے تصفیے کے نتیجے میں مجموعی طور پر 19کروڑ پاؤنڈ یا 38ارب روپے حاصل کئے ہیں۔ اس طرح ایک بڑی رقم پاکستانی معیشت کے استحکام کے اہم سمجھی جارہی ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں کے اہم قائدین اور انکے افراد خاندان پر بھی کئی الزامات کے تحت کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں یا پھر بعض کے فیصلہ آچکے ہیں۔ اب دیکھنا ہیکہ ان قائدین سے پاکستانی حکومت اور عوام کو کتنا پیسہ واپس مل پاتا ہے۔

وزیر اعظم کے معاون برائے احتساب شہزاد اکبر نے اپوزیشن قائدپر ایک پریس کانفرنس میں الزامات عائد کرتے ہوئے ان سے کئی سوالات بھی کئے۔ ان ہی مطابق حمزہ شہباز کے اثاثوں میں بھی ہوش ربا اضافہ ہوا، ی ٹیز کی رقم سے 33.32کمپنیاں بنائی گئیں، جعلی کمپنیوں کی طرح سیلز بھی جعلی تھیں۔ جس سے کاروبار کے ایمپائر کھڑے کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن والوں کا نیٹ ورک بہت تیز ہے۔ جسے سی ایم ہاؤس سے چلایا جاتا رہا۔ کاغذی کمپنیوں سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ سب کچھ ڈکلیئرڈ ہے۔ دونوں کیش بوائز زیر حراست بتائے جاتے ہیں جنہوں نے ساری تفصیلات بتائیں۔ کمپنی کے دو کیش بوائز ٹریس ہوئے جنہو ں نے دو ارب سے زائد کی ٹرانزیکشن کی۔

پاکستانی معیشت بہتری کی طرف۰۰۰
بین الاقوامی اداروں کی جانب سے پاکستانی معیشت میں بہتری کی خبریں ذرائع ابلاغ کے ذریعہ منظر عام پر آرہی ہیں۔ روزنامہ پاکستان کے مطابق روسی میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان معیشت میں بہتری آرہی ہے ۔ روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں 200فیصد اضافہ ہوا ہے صرف نومبر میں 64کروڑ 20لاکھ ڈالر مالیت کے بانڈز خریدے گئے۔ اسی طرح مالی سال کے اختتام تک تین ارب ڈالر مالیت کے بانڈز فروخت ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ بلومبرگ کی فہرست میں موجود 94اسٹاک مارکیٹس میں پاکستان اسٹاک مارکیٹ سب سے اوپر بتائی گئی ہے۔جبکہ امریکہ نے بھی ملکی معیشت کی بہتری کا خیر مقدم کیا ہے۔

پاکستان قرضوں کے بوجھ تلے
عمران خان حکومت نے اگست 2018سے ستمبر2019کے درمیان دوست ممالک سے 1.8ڈالر کے قرضے حاصل کئے ہیں جن میں سر فہرست چین اور دوسرے نمبر پر سعودی عرب ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق اس کے علاوہ پاکستان کے مجموعی قرضوں میں جون 2018سے ستمبر2019تک چھ کھرب روپیے سے زائد کا اضافہ بتایا جاتا ہے۔ پاکستانی وزارت خرانہ کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کی گئی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ جون 2018سے ستمبر2019تک پندرہ ماہ میں حکومت نے مجموعی طور پر نو کھرب روپیے سے زائد کے قرضے حاصل کیے ہیں۔موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ سابقہ حکومتوں کی جانب سے ملک کو معاشی طور پر پسماندہ بنادیا گیا تھا ۔ اب دیکھنا ہے کہ عمران خان کی حکومت اتنی کثیر رقوم کو کس طرح واپس کرپائے گی۔ کیونکہ اصل رقم کے علاوہ اس پر لگایا گیا سود بھی پاکستانی حکومت کو ادا کرنا ہوگا اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب پاکستانی عوام حکومت کا بھرپور ساتھ دیں اور ملک میں امن وآمان اور سلامتی کے ذریعہ ترقی کی راہیں تلاش کریں۔

پاکستان سپریم کورٹ کے اگلے چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد ہونگے
پاکستانی سپریم کورٹ کے اگلے چیف جسٹس کی حیثیت سے جسٹس گلزار احمد کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے وہ 21؍ ڈسمبر کوچیف جسٹس آف پاکستان سپریم کورٹ عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق موجودہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ 20؍ ڈسمبر کو ریٹائرڈ ہورہے ہیں ۔ چیف جسٹس آصف کھوسہ رواں سال جنوری میں اس اہم ترین عہدہ کا جائزہ لیا تھا۔ جسٹس گلزار احمد فروری 2022ء تک چیف جسٹس آف پاکستان سپریم کورٹ کی حیثیت سے فرائض انجام دیں گے۔ ان کے بعد جسٹس عمر عطا بندیال چیف جسٹس ہونگے۔

نواز شریف کی واپسی کو یقینی بنانے کے لئے درخواست
پاکستان نے برطانوی حکومت سے درخواست کی ہیکہ وہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پاکستان کو واپسی یقینی بنائے جو علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کی ہدایت پر انہیں ایرایمبولنس کے ذریعہ لندن منتقل کیا گیا تھا۔

ابو ظہبی کے ولی عہد نے ایک معصوم لڑکی کا دل جیت لیا
ابو ظہبی کے ولیعہد شیخ محمد بن زاید النہیان نے عائشہ المرزونی کو اس وقت حیران اور مسرور کردیا ، جب اس کمسن لڑکی کے گھر پہنچ کر انہوں نے اس کی پیشانی کا مشفقانہ بوسہ لیا۔ اور ارکان خاندان سے ملاقات کی۔ عائشہ گذشتہ ہفتہ ایک تقریب کے دوران جو سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کی متحدہ عرب امارات آمد کے موقع پران کے اعزاز میں منعقد ہوئی تھی، اس موقع پر وہ زایدالنہیان مصافحہ کرنا چاہتی تھی مگر ناکام رہی۔ سوشیل میڈیا پرشدید ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا۔ شیخ محمد بن زاید النہیان نے اب لوگوں کا دل جیت لیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کا پاسپورٹ دنیا میں سب سے طاقتور
پاسپورٹ کی اہمیت کا اندازہ ان لوگوں کو ہوتا ہے کہ جو دوسرے ممالک کا سفر کرنا چاہتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے پاسپورٹ کی اہمیت دنیا کے تمام ممالک میں خصوصیت کی حامل ہوچکی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے پاسپور نے مکمل ایک سال تک ’پاسپورٹٹ انڈیکس‘ میں دنیا کے طاقتور ترین پاسپور ہونے کا ریکارڈ قائم کرلیا ہے۔ ڈسمبر 2018میں اماراتی پاسپورٹ پر 179ممالک کا سفر ویزکے بغیر کیا جاسکتا ہے۔ دنیا کے سب سے طاقتور پاسپورٹ اور دوسرے نمبر پر آنے اولے پاسپورٹ کے درمیان آٹھ ممالک کا فرق بتایا جاتا ہے۔یعنی پوری دنیا میں دوسرے نمبر پر آنے والے پاسپورٹ پر 171ممالک کا سفر کیا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل یعنی ڈسمبر 2018میں پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق اماراتی پاسپورٹ پر صرف 167ممالک کا سفر بغیر ویزے کے کیا جاسکتا تھا۔ 2019کے دوران اس میں مزید ممالک شامل ہوئے۔ اس طرح متحدہ عرب امارات کے شہری دنیا کے 90فیصد ممالک کا سفر بغیر ویزے کے کرسکتے ہیں۔ورلڈ گراف کمپنی آرن کیپٹل کے بانی چیئرمین آرمنڈ آرون کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں سب سے طاقتور پاسپورٹ کا اعزاز حاصل کرنا مشکل تھا لیکن اس اعزاز کو برقرار رکھنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے‘‘۔عرب امارات نے نہ صرف اپنی پہلی پوزیشن برقرار رکھی بلکہ نئے ممالک کا اس میں اضافہ بھی کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات پاسپورٹ کی درجہ بندی کے حوالے سے عرب دنیا کا پہلا ملک ہے ۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ امارات ایکسپو دبئی 2020کے حوالے سے دنیا کے تمام ریکارڈ توڑ دے گا۔
۰۰۰
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 145 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 217 Articles with 71915 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: