کسان کی سیاست

(Dr. Salim Khan, India)

للن گائیکواڑ نے کلن دیشمکھ سے کہا سنا تم نے وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے وزیراعظم کا پونے ہوئی اڈے پر خیر مقدم کرنے والے ہیں ۔
کلن بولا یہ تو ان کو کرنا ہی پڑے گا۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کسی پارٹی کا نہیں پورے ملک اور صوبے کا ہوتا ہے۔
ہاں اب سمجھا کہ مودی جی نے حلف برداری کے بعد ادھو ٹھاکرے کو مبارکباد کا پیغام کیوں بھجوایا تھا ؟
اچھا ! لیکن کیا وزیر داخلہ پورے ملک کا نہیں ہوتا ؟ کیونکہ امت شاہ نے مبارکباد نہیں دی۔
ارے بھائی وزیراعظم نے دے دیا تھا سو کافی ہے ۔اب کیا سبھی وزیر مبارکباد دیں گے؟
جی ہاں یہ بھی درست ہے لیکن پھر انہوں نے ساڑھے تین کے منگل مورتی میرا مطلب ہے دیویندر فڈنویس کو مبارکباد کیوں دی تھی؟
یار تم تو بس بال کی کھال نکالنے لگتے ہو خیر یہ بتاو کہ ادھو اور مودی ہوائی اڈے پر بیس منٹ کے لیے ملیں گے تو کیا بات کریں گے؟
وہی کسان اوراس کے مسائل ؟ مہاراشٹر میں ہمارے رہنماوں کا پسندیدہ موضوع کسان ہی تو ہے؟
کلن نے چونک کر پوچھا کون سا کسان؟ تم کس کسان کی بات کررہے ہو؟
ارے مہاراشٹر کے وہ کسان جن میں سے اوسطاً سات لوگ ہرروز موت کو گلے لگا لیتے ہیں ۔ یعنی خودکشی کرلیتے ہیں ۔
اچھا ! یہ بتاو کہ تم تو یہاں پونے شہر میں رہتے ہو اور کسان بیچارہ گاوں میں خودکشی کرتا ہے۔ اب یہ تمہیں کیسے پتہ چل گیا کہ ۰۰۰۰ ؟
مجھے تم سے یہ توقع نہیں تھی۔ ذرائع ابلاغ کے اس دور میں ٹمبکٹو کی خبر بھی منٹوں میں ہم تک پہنچ جاتی ہے میں تو اپنے ودربھ کی بات کررہا ہوں۔
لیکن للن میں نے سنا ہے سوشیل میڈیا پر پھیلائی جانے والی اکثر باتیں جھوٹ ہوتی ہیں یا ان میں مبالغہ آرائی ہوتی ہے۔
جی ہاں ! لیکن یہ باتیں ہم انہیں خبروں کے بارے میں سوچتے جن کو مسترد کرنا ہوتا ہے ۔ جن کو ماننا ہو ان پر آنکھ بند کر ایمان لے آتے ہیں ۔
کلن شرمندہ ہوگیا اور بولا بھائی تم تو کسانوں کی بات کرتے کرتے مجھ پر ہی برس پڑے۔
نہیں کلن یہ تمہارا یا میرا نہیں بلکہ ہم سب کا مسئلہ ہے ۔ ہم اپنی پسند کی چیز دیکھتے ہی بلاتحقیق اس کو پھیلانے لگتے ہیں ۔
ہاں تو خیریہ بتاو کہ تمہیں وہ کسان والی بات کیسے پتہ چلی ؟
میرے ایک دوست ہیں جمن میاں انہوں نے آرٹی آئی کے ذریعہ سرکار سے کسانوں کی خودکشی کے اعدادو شمار طلب کیے اور اسے پھیلا دیا ۔
اچھا تو کیا وہ کسانوں کے بڑے شبھ چنتک ہیں ؟
جی نہیں وہ کانگریسی آدمی ہیں سرکار ی دعووں کا پول کھولنے کے لیے انہوں نے پچھلے دس سالوں کے اعدادو شمار کا موازنہ کرکے ثابت کردیا کہ فڈنویس سرکار میں کسانوں کی خودکشی تقریباً دوگنی ہو گئی ہے اور ان کی امداد کم ہوگئی ہے۔
اوہو تو گویا یہ ایک پروپگنڈے کا حصہ ہے لیکن یہ بڑی شاطرانہ سیاسی چال ہے کیونکہ وہ سرکار اپنے ہی اعدادو شمار کا انکار بھی نہیں کرسکتی تھی ۔
ہاں بھائی کسانوں کے مسائل پر ہمارے یہاں سیاست کے سوا ہوتا بھی کیا ہے؟
جی ہاں مجھے یاد ہے شردپوار کا بارش میں بھیگ کر کسانوں سے خطاب جس نے انتخاب کا نقشہ بدل دیا تھا
اور میں تو فڈنویس کا وہ نادر اعلان بھی نہیں بھول سکتا کہ وہ سیلاب زدہ علاقوں سے پانی پائپ کے ذریعہ قحط زدہ بستیوں میں لے جائیں گے
لیکن انہیں پتہ کیسے چلے گا کہ سیلاب کہاں آنے والاہے ؟
ارے بھائی سڑکوں کی مانند پائپ کا ایک جال پھیلانے کا ارادہ ہوگا ؟ کہیں نہ کہیں سیلاب اور کہیں نہ کہیں قحط تو ہوتا ہی ہے ۔
یار تم تو فڈنویس کے بہت بڑے بھکت نکلے ۔ میرے خیال میں وہ خود بھی اپنے احمقانہ بیان کی ایسی توجیہ نہیں کرسکیں گے۔
ہاں ہاں تم نے نہیں سنا کہ استاد تو گڑ رہ گیا اور چیلا شکر نکل آیا ۔ مودی کے آشیرواد سےفڈنویس نے بھی تو اپنے استاد نتن گڈکری کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
پھر سے کسانوں کو لوگ بھولنے لگے ہیں جبکہ پہلی بار سنجئے راوت نے شرد پوار سے ملاقات کی تھی تو انہوں نے کسانوں کے مسائل پر گفتگو کی تھی۔
شردپوار تو دور شیوسینا کےرہنما جب گورنر سے پہلی مرتبہ ملنے کے لیے گئے تھے اس وقت بھی یہی کہا گیا تھا کہ کسانوں کے مسئلہ پر بات چیت ہوئی ۔
اوہو گورنر کی کیا بساط شردپوار نے سونیا گاندھی سے ملاقات کی وجہ بھی کسانوں کے مسائل پر گفت وشنید بتائی حالانکہ بیچاری سونیا کیا کرسکتی ہیں ؟
کوئی کچھ کرتا تھوڑی نا ہے ۔ شرد پوار کسانوں کی بات کرنے کے لیے وزیراعظم کے پاس پہنچےتوانہوں نے ’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘ کا راگ چھیڑ دیا۔
اوہو اب سمجھ میں آیا کہ اس نعرے میں ’سب ‘ کون ہے اور ’وکاس ‘ کا کیا مطلب ہے؟
ابھی تم بچے ہو کلن ، ان سیاستدانوں کی باتیں سمجھنے کے لیے تمہیں سو جنم لینے پڑیں گے ۔
لیکن جس وقت شردپوار دہلی میں سرکار کی راہ ہموار کررہے تھے اپنے ادھو جی بھی ودربھ میں کسانوں سے مل رہے تھے ۔
جی ہاں اس وقت ان کے پاس کوئی کام نہیں تھا ۔ اب وزیراعلیٰ کی ذمہ داری ہے۔ بہت سارے اہم کام ہیں ۔
ہاں اب سمجھ میں آیا کہ وہ کسانوں کو کیوں بھول گئے۔ میں تو سمجھ رہا تھا کہ وہ شیواجی پارک پر ہی کسانوں کے قرض معافی اکا اعلان کردیں گے۔
ایسا نہیں ہوتا ۔ اپنے کابینہ کی پہلی نشست میں یہ ہوسکتا تھا لیکن انہوں نے وہاں بھی رائے گڈھ قلعہ سے متعلق اہم فیصلے پر اکتفاء کرلیا ۔
ٹھیک ہے لیکن کم از کم اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد تو کسانوں کا اعتماد حاصل کرہی سکتے تھے ۔
ارے بھائی ایسے بڑے فیصلے اتنی جلدی بازی میں نہیں لیے جاتے ۔
کلن نے بیزاری سے پوچھا تو کیا اب ان کسانوں کو پھر سے بھلا دیا جائے گا ۔
جی نہیں ایسا نہیں ہے۔ فی الحال سرکار میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جب مسائل پیدا ہوں گے تو انہیں پھر یاد کیا جائے گا ؟
یار ایک بات بتاو ! کبھی تم کسانوں کے مسائل کی بات کرتے ہو تو کبھی سیاسی مسائل کی بات کرنے لگتے ہو۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ہے۔
بھائی کلن ان سیاسی لوگوں کی باتیں تمہاری ، میری اور کسانوں کی سمجھ میں نہیں آتیں ۔
کلن نے ٹھنڈی آہ بھر کر کہا اب سمجھا کہ کسانوں کی خودکشی کیوں بند نہیں ہوتی؟
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 166 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 917 Articles with 300944 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: