آئیے اسموگ کو سمجھیں

(Nadeem Asif, )

ا ب پاکستان میں گذشتہ کچھ سالوں سے موسم سرما کے ساتھ ہی ملک کے بالائی اور وسطی حصے شدید دھند کی لپیٹ میں آجاتے ہیں، مگر یہ مسئلہ ہر گزرتے سال کے ساتھ سنگین ہوتا جارہا ہے۔زمین سے فضاء میں جانے والی آلودگی کے ذرات دھند کے ساتھ مل کر اسموگ پیدا کرتے ہیں۔
اسموگ کیا ہے؟
اسموگ (Smog) دھوئیں اور دھند کا امتزاج ہے لفظ اسموگ انگریزی الفاظ اسموک اور فوگ سے مل کر بنا ہے۔اس طرح کی فضائی آلودگی نائٹروجن آکسائڈ، سلفر آکسائیڈ، اوزون، دھواں یا کم دکھائی دینے والی آلودگی مثلا کاربن مونوآکسائڈ، کلورو فلورو کاربن وغیرہ پر مشتمل ہوتی ہے۔جب فضاء آلودہ ہو یا وہ گیسز جو اسموگ کو تشکیل دیتی ہیں، ہوا میں خارج ہوں تو سورج کی روشنی اور اس کی حرارت ان گیسوں اور اجزا کے سے اسموگ کی شکل اختیارکرتی ہے۔۔
اسموگ کی وجوہات
اس کی بڑی وجہ ہوائی آلودگی ہی ہوتی ہے اسموگ بننے کی بڑی وجہ پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں سے گیسز کا اخراج، صنعتی پلانٹس اور سرگرمیاں، فصلیں جلانا (جیسا محکمہ موسمیات کا کہنا ہے) یا انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی حرارت۔
اسموگ صحت پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے؟
اسموگ پرندوں،انسانوں، جانوروں، درختوں سمیت فطرت کے لیے نقصان دہ ہے اور جان لیوا امراض کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، خصوصاً پھیپھڑوں یا گلے کے امراض سے موت کا خطرہ ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ شدید اسموگ سورج کی شعاعوں کی سطح کو نمایاں حد تک کم کردیتی ہے جس سے اہم قدرتی عناصر جیسے وٹامن ڈی کی کمی ہونے لگتی ہے جو امراض کا باعث بنتی ہے۔ کسی شہر یا قصبے کو اسموگ گھیر لیں تو اس کے اثرات فوری طور پر محسوس ہوتے ہیں جو آنکھوں میں خارش، کھانسی، گلے یا سینے میں خراش اور جلد کے مسائل سے لے کر نمونیا، نزلہ زکام اور دیگر جان لیوا پھیپھڑوں کے امراض کا باعث بن سکتی ہے۔اسموگ کی معمولی مقدار میں گھومنا بھی دمہ کے مریضوں کے لیے دورے کا خطرہ بڑھانے کے لیے کافی ثابت ہوتی ہے، اس سے بوڑھے، بچے اور نظام تنفس کے مسائل کے شکار افراد بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
اسموگ سے بچاوکے لیے کیا کریں؟
اسموگ پھیلنے پر متاثرہ جگہوں پر جانے سے گریز کرنا چاہیے تاہم اگر وہ پورے شہر کو گھیرے ہوئے ہے تو گھر کے اندر رہنے کو ترجیح دیں اور کھڑکیاں بند رکھیں۔
باہر گھومنے کے لیے فیس ماسک کا استعمال کریں اور لینسز لگانے کی صورت میں وہ نہ لگائیں بلکہ عینک کو ترجیح دیں۔
اسموگ کے دوران ورزش سے دور رہیں خصوصاً دن کے درمیانی وقت میں، جب زمین پر اوزون کی سطح بہت زیادہ ہوتی ہے۔
اگر دمہ کے شکار ہیں تو ہر وقت اپنے پاس ان ہیلر رکھیں، اگر حالت اچانک خراب ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
اگر نظام تنفس کے مختلف مسائل کے شکار ہیں اور اسموگ میں نکلنا ضروری ہے تو گنجان آباد علاقوں میں جانے سے گریز کریں جہاں ٹریفک جام میں پھنسنے کا امکان ہو، سڑک پر پھنسنے کے نتیجے میں زہریلے دھویں سے بچنے کے لیے گاڑی کی کھڑکیاں بند رکھیں۔پانی اور گرم چائے کا زیادہ استعمال کریں۔سیگریٹ نوشی ویسے ہی کوئی اچھی عادت نہیں تاہم اسموگ کے دوران تو اس سے مکمل گریز کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔
باہر سے گھر واپسی یا دفتر پہنچنے پر اپنے ہاتھ، چہرے اور جسم کے کھلے حصوں کو اچھی طرح پانی سے دھویئں
ا سموگ کے مفروضے کیا ہیں اورحقائق کیاہیں
کوئی بھی معالج آپ کو بتا سکتا ہے کہ کسی بیماری کا علاج اس وقت تک نہیں کیا جا سکتا جب تک اس کی شناخت نہ ہوجائے۔ ناقص معلومات مسئلے سے آپ کی توجہ اور کوشش ہٹاسکتی ہیں جس سے یہ بارآور ثابت نہیں ہوں گی۔ سموگ سے متعلق بہت سے مفروضے ہیں لیکن ذیل میں بتایاگیا ہے کہ ان مفروضوں کے پیچھے اصل حقائق کیا ہیں۔
پہلامفروضہ: یہ ایک دھندہی ہے
عام طور پربہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ موسم سرما میں بادلوں کی تہہ ہے جوحد نظر کومحدود کر دیتی ہے، دھند ہے۔ دھند زمین کی سطح کے قریب فضا میں معلق پانی کے قطرے ہیں۔ دھند حد نظر کو ایک کلو میٹر تک محدود کردیتی ہے لیکن اس کے علاوہ یہ قطعی طور پر بے ضرر ہے۔
اصل حقیقت: یہ دھند نہیں سموگ ہے سموگ سرما کی دھند کے ساتھ مل جانے والی فضائی آلودگی ہے جو نقصان دہ بادل بناتی ہے۔ سموگ نہ صرف حد نگاہ محدود کرتی ہے بلکہ انسانی صحت پر بھی خطرناک اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ فضائی آلودگی کی ایک نقصان دہ قسم ہے جو اپنی دھواں دھار بدبو اور ہلکے پیلے رنگ کی بنا پرباآسانی شناخت کی جا سکتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث فضائی آلودگی زمین کی سطح کے قریب ترآگئی ہے او ہم اس غبارکے زہریلے دھویں سے شدید متاثر ہورہے ہیں۔
دوسرامفروضہ: سموگ زیادہ خطرناک نہیں ہے
موسم سرما میں بہتی ناک، سینے کا جکڑجانا، چھینکیں آنا اور کھانسی ہوجانا عام سی بات ہے۔ سموگ کے باعث کسی حد تک آنکھیں متاثر ہو سکتی ہیں لیکن اس کے علاوہ اگر چند احتیاطی تدابیر اختیار کر لی جائیں تو یہ بالکل بے ضرر ہے۔ زکام کی ویکسین یا فیس ماسک کے استعمال سے ہی آپ اس موسم کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اصل حقیقت: سال 1990 سے فضائی آلودگی عالمی سطح پر اموات کی چوتھی بڑی وجہ ہے ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریبا ایک لاکھ 35 ہزار لوگ فضائی آلودگی کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ سموگ زمین کی سطح کے قریب اس آلودگی کی شدت میں اضافہ کردیتی ہے جس کے باعث سانس سے متعلق امراض، دورے اور دل کے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سموگ کے موسم میں ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں لائے جانے والے ایسے امراض میں مبتلا افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔
تیسرامفروضہ: سموگ کی وجہ صرف بھارت سے آنیوالی آلودہ ہوا ہے
بھارتی پنجاب میں فصلوں کی کٹائی کے بعد کھیتوں میں ان کا بقیہ حصہ جلانے اور دیوالی کے موقع پر بھاری تعداد میں آتشبازی سموگ اور فضائی آلودگی کی بڑی وجہ ہیں۔ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ دیوالی گزرنے کے بعد آلودہ ہوائیں سرحد پارآجاتی ہیں۔ ہم بھارت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور سرحد پار فصلوں کو آگ لگانا بھی موجب بنتا ہے سموگ کا
اصل حقیقت: الزام دونوں ممالک کو جاتا ہے اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ فضائی آلودگی ایک بین السرحدی مسئلہ ہے اور بھارت بھی سموگ کی وجہ ہے مگر اس کے ذمہ دار صرف ہمارے پڑوسی ممالک نہیں۔ بارڈر کے اس طرف بھی اینٹوں کے بھٹے میں استعمال ہونے والا ایندھن اور کچرا جلایا جاتا ہے۔ ہماری گاڑیوں کو چلانے کیلئے خام تیل استعمال ہوتا ہے اور توانائی بحران کے باعث ہم اپنے جنریٹرز چلانے کیلئے پڑوسی ملک سے زیادہ ایندھن استعمال کرتے ہیں۔ خطے کی فضائی آلودگی میں ہمارا بھی حصہ ہے اس لیے ہم خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے۔
چوتھامفروضہ: سموگ فقط لاہور کا مسئلہ ہے
سموگ اور فضائی آلودگی کو پنجاب خصوصا لاہور کے ساتھ لازم و ملزوم سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک علاقائی مسئلہ ہے اس لیے ملک کے دیگر حصوں میں رہنے والوں کو اس حوالے سے فکرمند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
اصل حقیقت: سموگ پاکستان میں ماحولیاتی بحران کا باعث ہے۔ سموگ تو فضائی آلودگی کی دکھائی دینے والی شکل ہے لیکن گزشتہ دہائی سے پاکستان میں ہوا کا معیارمتاثرہوا ہے۔ سموگ ایک عارضی رجحان نہیں ہے جو صرف ملک کے ایک حصے تک مخصوص رہے گا۔ طاقتور ہوائیں سموگ کو بڑے فاصلے تک لے جا سکتی ہیں۔کراچی میں بھی سموگ رپورٹ ہوئی تھی۔
پانچواں مفروضہ: ائر پیوریفائراور فیس ماسک سموگ سے بچاو کے لیے کافی ہیں
گھر کی فضا کو محفوظ اورآلودگی سے پاک بنانا ہے تو ائرپیوریفائر(ہوا صاف کرنے کے لیے) اور فیس ماسک خریدلیں جو آلودہ ہواؤں اور گردوغبار سے محفوظ رکھیں گے۔ گزشتہ 2 سال میں ائرپیوریفائر کی طلب میں اضافے کے باعث اب مارکیٹ میں یہ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ موٹرسائیکلوں پر بیٹھے مردحضرات اور ساتھ بیٹھی خواتین اور بچے بھلے سے ہیلمٹ پہننا بھول جائیں لیکن ان کے چہروں کا نچلا حصہ کپڑے سے بنے ماسک سے ڈھکا ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم مکمل طور پر محفوظ ہیں۔
اصل حقیقت: تمام آلودگی فلٹرنہیں کی جاسکتی ۔ائر پیوریفائراور فیس ماسک ہوا کو آلودہ بنانے والے بنیادی زہریلے عناصرکوتوختم کرسکتے ہیں لیکن ان کی مدد سے سموگ کو زہریلا بنانے والے انتہائی باریک ذرات (پرٹیکلر میٹرز 2.5) کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ریسرچ سے پتہ چلا ہے کہ کچھ ائرپیوریفائرز زہریلے دھویں کے اثرات کم کرنے کے لیے اوزون خارج کرتے ہیں جو کہ پھیپھڑوں کی تباہی کے علاوہ دمہ کا بھی باعث بن سکتا ہے۔ فیس ماسک بھی ہوا کو آلودہ کرنے والے انتہائی باریک ذرات کو فلٹر نہیں کرسکتے اور یہ بچوں کے چہرے کے لحاظ سے بڑے بھی ہوتے ہیں اس لیے انہیں تو فیس ماسک سے کوئی خاص فائدہ بھی نہیں ہوتا۔ کپڑے سے بنے ماسک کچھ حد تک مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
چھٹامفروضہ:شجر کاری سے سموگ ختم ہو سکتی ہے
درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ کے علاوہ دیگرمضرصحت گیسوں جیسے کہ سلفر ڈائی آکسائیڈاور کاربن مونو آکسائیڈ کو جذب کر کے آکسیجن خارج کرتے ہیں۔ درختوں کی تعداد میں اضافے سے گرین ہاؤس گیسز میں کمی واقع ہوگی۔ کیا کچھ ایسا مسئلہ بھی ہے جسے درخت حل نہ کرسکیں۔
اصل حقیقت: درخت سموگ کا مسئلہ حل نہیں کرسکتے ۔اگرچہ درخت بہت ساری مضرصحت گیسز کو فلٹرکرتے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ سموگ میں پائے جانے والے سب سے زہریلے ذرات پی ایم 2.5 کو فلٹر نہیں کرسکتے۔ تازہ تحقیق کے مطابق درختوں کی غلط اقسام اگانے سے آلودگی سے متاثرہ علاقوں میں اوزون کا لیول خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے خصوصا اگر درخت مصروف شاہراہوں کے نزدیک اگائے جائیں۔
سموگ فی الحال ایک نہ حل ہونے والا پیچیدہ مسئلہ ہے۔ اس سے ہمارے ماحول کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے میں برسوں لگ جائیں گے لیکن اس کی وجوہات کی نشاندہی ایک اچھا آغاز ہے کیونکہ اس عمل سے سموگ سے بچاؤ کے اقدامات کرنے والے گروہ متحد ہوتے ہیں اﷲ تعالی سے دعا ہے کہ وہ میرے ملک عظیم کو فضائی آلودگی بالخصوص سموگ کے مضر اثرات سے محفوظ رکھے۔آخر میں میری اﷲ تعالی سے دعا ہے کہ وہ آپ سب کو اورمجھے ایمان و صحت کی بہترین حالتوں میں رکھے آمین،بشکریہ پریس لائن انٹرنیشنل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 323 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Nadeem Asif

Read More Articles by Nadeem Asif: 3 Articles with 633 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: