کل کیا ہوگا؟

(Imtiaz Ali Shakir, Lahore)

 انسان کے علاوہ تمام جانوروں،پرندوں،حشرات ونباتات مختصرکہ خشکی اورتری کی کسی مخلوق کواس بات کی فکرنہیں کہ کل کیاہوگا،انسان کے علاوہ تمام مخلوقات آج میں زندہ ہیں، کل کیاہوگاسواے مالک وخالق کے کوئی نہیں جانتا،آنے والے کل کے بارے میں انسان کوعلم ہوتاتودنیاکاتوازن بگڑجاتا،جسے آئندہ سوسالہ زندگی جینے کاپہلے سے علم ہوجاتاوہ مخلوق کیلئے مصیبت بن جاتا،اپنی باقی سانسوں کاعلم نہ ہونے کے باوجودلالچ وہوس نے انسان کو پاگل کررکھاہے،لالچ کے نشے میں مخلوق کوروندتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش میں انسان کب حیوان بن جاتاہے اسے معلوم ہی نہیں ہوپاتا،انسان کوآنے والے کل کابالکل علم نہیں کہ کیاہونے والاہے پھربھی آئندہ سوبرس کاسامان اکھٹاکرنے کی کوشش کرتاہے اورمشاہدہ یہی ثابت کرتاہے کہ آئندہ سوبرسوں یاسو نسلوں کیلئے کافی دھن دولت اکھٹا کرلینے کے بعدبھی مطمن نہیں ہوپاتا
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشرنہیں
سامان سوبرس کاپل کی خبرنہیں

کل کس پارٹی کی حکومت بنے گی،کون کون سی پارٹیاں اپوزیشن میں ہوں گی،کون جیل چلاجائے گااورکون جیل سے نکل کرایوان اقتدارمیں پہنچ جائے گا،کل کس کے پاس کیاعہدہ ہوگا،کتنے پاورفل اختیارات ہوں گے اورکتنی دولت آجائے گی یاکل کون عہدہ اوراختیارات کھودے گا،مال ودولت چھن جائے گی اورغربت مقدرہوگی،کل کس کی صحت خراب ہوگی اورکون کون سے بیمارصحت یاب ہوجائیں گے ان تمام سوالات کے جوابات نہیں مل سکتے البتہ یہ حقیقت جان لینے کے بعدکہ آج،کل،پرسوں یاترسوں موت ضرورآئے گی تمام برائیاں ترک کرکے اچھائیاں اورسچایاں اپنالینی چاہیے،سچ اور حق بیان کرتے وقت یہ مت سوچیں کہ آج کے مجرم کل حکمران بن گئے توسختی سے پیش آئیں گے ہوسکتاہے آج کے مجرم کل تختہ دارپرلٹک جائیں یاپھرکل ہمیں زندگی حق اورسچ بیان کرنے کاموقع نہ دے،کل کیاہوگایہ کہناکسی کیلئے ممکن نہیں،آنے والے کل کی فکرمیں اپنے آج کو جھوٹ،فریب،دھوکہ دہی،فراڈ،چوری،چغل خوری، غیبت، زنا،منافقت،ملاوٹ ،سودخوری،تہمت زنی جیسے گناہوں کی نظرکرنے سے کہیں زیادہ بہترہے آپ آج حق اورسچ پرڈٹ جائیں آنے والے کل میں زندہ رہے تولوگ کہیں گے یہ بندہ حق اورسچ پرقائم ہے جودنیاوآخرت میں باعث عزت ونجات ثابت ہوسکتاہے،کل تک اس دنیافانی سے دانہ پانی اٹھ گیاتوجنازے میں شامل لوگ سرگوشیوں میں کہیں گے کہ بندہ سچاتھا،بندہ اچھاتھا،آنے والے کل کی فکرکرنی ہے توانسانی مستقبل کی فکرکریں،آئندہ نسلوں کی تعلیم وتربیت کی فکرکریں،اپنے بچوں یہاں اپنے بچوں سے مراد صرف وہ بچے نہیں جوہمارے آنگن میں پھول بن کرکھلتے ہیں بلکہ اُن کے ساتھ وہ تمام بچے جووطن عزیزکے آنگن میں پھول بن کرکھلتے ہیں ان کی تعلیم تربیت اس قدرخوبصورتی،دین اسلام کی تعلیمات اورجدیدتقاضوں کے مطابق کریں کہ جوترقی،اچھائی وبھلائی ہم نہیں کرپائے،انسانی فلاح وبقاء کیلئے جوخدمات ہم سرانجام نہیں دے پائے،اپنے وطن وقوم کو جوہم نہیں دے پائے ،جوخواب ،جوتمنائیں ادھوری رہ گئیں وہ ہماری آنے والی نسلیں پوری کریں،کل کی فکرکرنی ہے توکچھ ایساکرگزرنے کی کوشش کریں کہ ہماری طرح ہمارے بچوں کوکرپٹ،بے حس،دھوکہ باز،بدبودارہوس و لالچ، جھوٹ، غیبت،چغلی،منافقت زدہ معاشرے کی بجائے عدل وانصاف،بھائی چارے،روادری،مساوات کی بنیادوں پرقائم انسان دوست اور ایمانداری کی خوشبوسے مہکتامعاشرہ میسر آئے،اس معاشرے کی تعمیروترقی کیلئے اپنی تمام ترتوانائیاں صَرف کریں نہ کہ فانی دنیاکی عارضی زندگی کے چند لمحات کوعارضی اورناپائیدارمال ودولت کے انبارلگانے میں صَرف کریں،کل کیاہوگاہم نہیں جانتے،ہم کل کیاکریں گے اس بات پرہمارااختیار نہیں،آج کیاہے،کل کیاہوگاسب اﷲ رب العزت کے اختیارمیں ہے ہم توفقط اچھے دنوں کی جستجوکرسکتے ہیں،کل کاانتظارکئے بغیر،مزیداختیارات یاوسائل کی فکرکئے بغیراپنے آج اوردستیاب وسائل واختیارات میں رہتے ہوئے بھلائی اوراچھائی پھیلانے کی کوشش کرسکتے ہیں،کل کیاہوگاکی فکرچھوڑکرآج اوراب کچھ کرنے کی لگن ہمیں کامیاب بناسکتی ہے لہٰذاکل کیاہوگایہ فکرچھوڑکرآج میں جینے کااپنامزہ ہے،آج اورخاص طورپراپنے اب یعنی جوسانسیں چل رہی ہیں انہیں بہترین اندازمیں جینے کی کوشش ہمیں اچھاانسان،اچھی اولاد،اچھے بہن بھائی ،اچھے والدین اوراچھے ہمسائے بناسکتی ہے،اس سے قبل کہ دوسرے ہم سے اپنے حقوق طلب کریں ہمیں اپنے فرائض خوشی سے اداکردینے چاہئے ،اپنے کل کی فکرمیں دوسروں کے آج کوبربادکرنے کاحق کسی کوحاصل نہیں،جولوگ لالچ وہوس کے باعث اپنے کل اوراپنی اولادکیلئے دوسروں کے حقوق پرڈاکے ڈالتے ہیں انہیں اس دنیامیں بھی اورآخرت میں بھی حساب واحتساب دیناپڑتاہے
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 261 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Imtiaz Ali Shakir

Read More Articles by Imtiaz Ali Shakir: 610 Articles with 251237 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: