سانحہ آرمی پبلک سکول اور سقوط ڈھاکہ

(Jarrar Shakir, Kasur)

16 دسمبر 1971 کو دشمن کی مدد سے اپنے ہی غداروں نے مکتی باہنی بنا کر پاکستان کو دولخت کر دیا تھا حالانکہ دنیا گواہ ہے کہ چند دن کے گولہ بارود ہونے کے باوجود ہماری بہادر افواج تقریبا سات ماہ تک لڑی اور آخر کار عالم اسلام کی وہ مایہ ناز فوج کے جس نے 1948 اور 1965 میں انڈیا کو چھٹی کا دودھ یاد کروایا تھا اور عرب اسرائیل جنگ میں کہ جب عالم اسلام کے کئی خلیجی ملک اسرائیل کے قبضے میں جا چکے تھے اس وقت تل ابیب کا خاک غرور میں ملایا تھا اس اسلامی جہادی فوج نے ورنہ یقینا اسرائیل ایک اٹامک پاور ہوتا اور دنیا کا نقشہ آج یہ نا ہوتا مگر افسوس کہ وہ فوج اپنوں کی غداری کی بدولت ہتھیار پھینکنے پر مجبور ہو گئی اور پھر ڈھاکہ ڈوب گیا -

ہم نہیں بھولے سقوط دھاکہ اور ہم نہیں بھولے سانحہ اے پی ایس 16 دسمبر 2014 کو ایک بار پھر ہمارے ازلی دشمن بھارت نے ہمارے ملک کے اندر سے ہی غداروں اور دین کے نام نہاد دعویداروں کو خریدا اور پشاور میں بچوں کے آرمی پبلک سکول پر حملہ کرتے ہوئے ڈیڑھ سو سے زائد بچوں کو شہید کر دیا اور اس بار مکتی باہنی کا کردار دین کے نام نہاد دعویداروں ٹی ٹی پی یعنی تحریک طالبان پاکستان نے ادا کیا مگر میں قربان افواج پاکستان اور عوام پاکستان پر کہ جنہوں نے مل کر مقابلہ کیا اور ٹی ٹی پی کے تمام سورمے جہنم واصل کر دیئے اور دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا کہ اب ارض پاک کے بچے سکول نہیں جائینگے -

میرے ملک کے دشمنوں دکھ تو ضرور ہوتا ہے ان گزرے واقعات کو یاد کر کے مگر ہمارا حوصلہ پھر بلند ہو جاتا ہے کہ ہمارے لئے رب نے ناکامی رکھی ہی نہیں کیونکہ ہم اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے مارے جائیں یا لڑتے ہوئے دشمن کو مار دیں ہر صورت ہم ہی کامیاب و کامران ہوتے ہیں وہ ہمارے پولیس و فوج کے جوان ہو یا آرمی پبلک سکول کے اساتذہ و نہتے معصوم بچے ان شاءاللہ کامیاب و کامران ہیں-

ہاں مگر دشمنوں خارجیوں دین و ملت کے باغیوں ناکامی صرف تمہارے لئے ہی ہے کہ تم نے مکتی باہنی بنا کر میرے اپنوں کو میرے خلاف کرکے ڈھاکہ کا سقوط تو کروا لیا مگر آج بھی دیکھ لو بنگلہ دیش کے اندر سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں لوگ پاکستان سے محبت کرنے والے موجود ہیں اور ان میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور دیکھ لو بنگلہ دیش بنانے والوں کا انجام بھی ذرا کہ کیسے اپنی ہی بنگلہ دیشی فوج کے ہاتھوں اپنے بیوی بچوں سمیت قتل ہو گئے اور نشان عبرت بن گئے اور تم نے اپنی اس حزیمت کا بدلہ لینے کیلئے پشاور میں ڈیڑھ سو کے قریب معصوم بچوں کو شہید کروا دیا اور تمہارا خیال تھا کہ اب پاکستان کے بچے ڈر جائیں گے اور سکول کی راہ نہیں لینگے مگر دیکھو ظالموں تم پھر ناکام ہو گئے
اللہ کی قسم ایسی درندگی کی مثال نہیں ملتی تم نے سوچا تھا اے پی ایس کو ویران کرکے ملک کے باقی سکولوں میں دہشت کی فضا قائم کرکے بچوں کو سکول سے دور کر دو گے مگر آؤ دیکھو اسی اے پی ایس کے سکول کے بچوں کے حوصلے پہلے سے بھی زیادہ بلند ہیں اور اے پی ایس اسی شان و شوکت سے قائم و دائم ہے مگر اب تو ہمارے معصوم بچے بھی بے خوف ہو کر تمہیں للکار رہیں ہیں کہ جس عمر میں بچے ویڈیو گیم اور چاکلیٹ کھانے کی باتیں کرتے ہیں اب اے پی ایس کے بچے بلکہ پورے ملک کے بچے کہہ رہے ہیں مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے-

کیا جب کبھی کوئی دہشت گرد مرتا ہے تب اس کے بچوں نے بدلہ لینے کی بات کی ؟ نہیں بلکل نہیں کیونکہ بچے بھی جانتے ہیں حق کیا ہے باطل کیا ہے دہشتگردوں خارجیوں اللہ کے دین کے دشمنوں تم نے بہت نہلایا اس ارض پاک کو خون سے مگر اللہ کی قسم ہمیشہ تم ناکام ہوئے اور ان شاءاللہ ہوتے ہی رہوگے کیونکہ آج بنگالی بھی مانتے ہیں کہ ہم پاکستان کیساتھ زیادہ مضبوط تھے اب تو پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگانے والے بھی کہہ رہے جیوے جیوے پاکستان مگر کہاں گئے وہ دہشت گرد اور ان کے یار آج وہ بیرون ممالک اور پہاڑوں غاروں میں منہ چھپائے بیٹھے ہیں -

دنیا نے دیکھا پاکستان کو توڑنے والے خود مٹ گئے کیونکہ اس ارض پاک کی بنیادوں میں سولہ لاکھ شہداء کا خون شامل ہے اور خون کی بنیاد بڑی مضبوط ہوتی ہے ان شاءاللہ تم جتنا مرضی زور لگا لو جتنا لگا چکے اس سے بھی زیادہ لگا کر دیکھ لو پاکستان تھا ہے اور قیامت تک رہے گا ان شاءاللہ کیونکہ اس ملک کے بچے بوڑھے اور جوان سب کا ایک اللہ پر ایمان-

اوہ مودی میرے فوجیوں میرے اے پی ایس کے بچوں کے قاتل تو اب اپنے ہی ملک میں بنگال اور بھارت کے دیگر علاقوں میں اٹھتی ہوئی سونامی کو دیکھ اور ڈر اس وقت سے جب تیرے اس ہندوستان کے اندر کئی پاکستان بنے گے ان شاءاللہ
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 186 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Jarrar Shakir

Read More Articles by Jarrar Shakir: 5 Articles with 1417 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: