عارف شفیق ، منفرد اسلوب کے انقلابی شاعر ہم سے بچھڑ گئے

(Muhammad Abdullah, Lahore)

عارف شفیق نے کراچی کے حساس علاقے لالو کھیت (لیاقت آباد) میں 31 اکتوبر1956ء کو شفیق بریلوی کے گھر آنکھ کھولی۔انہوں نے شاعری کا آغاز 12سال کی عمر میں کیا۔شہرہ آفاق شاعر سراج الدین ظفر ان کے استاد تھے۔ہر تخلیقی انسان کی طرح وہ بھی حساس دل کے مالک تھے۔معاشرے میں پھیلی غربت، کسمپرسی اورجاہلیت انہیں خون کے آنسو رلاتی تھی ۔ روشنیوں کے شہر کراچی اور اس کے باسیوں سے انہیں بے پناہ محبت تھی۔انہوں نے اسی محبت اور حساسیت کو اجاگر کرنے کے لیے قلم اٹھایا ۔کراچی میں دہشتگردی اور قتل و غارت پر انہوں نے اپنے احساسات اس طرح سپرد قلم کیے تھے۔
نہتے لوگوں پہ جو گولیاں چلاتے ہیں
یہاں وہ گاؤں سے ویگن چلانے آئے تھے
یہ اپنے اپنے علاقوں سے بھاگ کر عارف
کراچی شہر میں کیا گل کھلانے آئے تھے

شاعر معاشرے کا نبض شناس ہوتا ہے۔غربت، لاچاری اور بے کسی کی بدولت فاقہ کشی پر مجبور انسانوں کی ترجمانی کرتے ہوئے عارف شفیق قلم طراز ہو ئے کہ
غریب شہر تو فاقے سے مر گیا عارف
امیر شہر نے ہیرے سے خودکشی کر لی

تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ارباب بست و کشاد کی ریشہ دوانیوں کی بدولت کراچی شہر کی گلیوں اور سڑکوں پر کئی بار خون کی ہولی کھیلی گئی۔اپنی گندی سیاست کو چمکانے کے لیے ہر سیاسی جماعت نے کراچی کے باسیوں کے سامنے مہاجر، پٹھان، سندھی اور پنجابی ہونے کی بین بجائی اور اپنا الو سیدھا کیا۔سیاست، مذہب، زبان اور قومیت کا لبادہ اوڑھ کر، کراچی کے امن کو تہہ و بالا کرنے والے نسان نما درندے عارف شفیق کو ایک آنکھ نہیں بھاتے تھے۔
ملی ہو جو کسی کا گھر جلا کر
لگا دو آگ ایسی روشنی کو
اک فتویٰ پھر آیا ہے یہ غاروں سے
کافر کہہ کر مارا جا سکتا ہے مجھے

عارف شفیق ہشت پہلو شخصیت کے مالک تھے۔انہوں نے شاعری کے علاوہ کوچہ صحافت میں بھی آبلا پائی کی۔

وہ ہفت روزہ سینٹرل نیوز، ماہ نامہ وقت ایشین آرٹ اور ماہنامہ اردو مورچہ کے چیف ایڈیٹر رہے۔وہ ماہنامہ ادبی دنیا اور کرائم سٹوری کے ساتھ بھی چیف ایڈیٹر کی حیثیت سے وابستہ رہے۔قومی اخبار، روزنامہ ایکسپریس میں ادبی کالم اور روزنامہ جرات اور پرچم میں سیاسی کالم لکھتے رہے۔عارف شفیق قومی آواز اور پرچم میں قطعات لکھتے رہے۔ ان کے 9 شعری مجموعے اندھی سوچیں ، گونگے لفظ، سیپ کے دیپ، جب زمین پر کوئی دیوار نہ تھی، احتجاج، سر پھری ہوا، میں ہواؤں کا رخ بدل دوں گا، میرا شہر جل رہا ہے، یقین اور میری دھرتی میرے لوگ شائع ہوچکے ہیں۔

شاعری کی دنیا کے دمکتے ماہتاب عارف شفیق انقلاب کے علمبردار تھے۔وہ ایام جوانی سے لے کر تادم مرگ ایم کیو ایم سے وابستے رہے۔۔من حیث القوم ہمارا یہ المیہ ہے کہ ہم تخلیق کار کے فن کو بھی سیاسی، سماجی اور مذہبی وابستگی کی عینک سے دیکھتے ہیں۔عارف شفیق کی سیاسی وابستگی کی بدولت ان پر طعن و تشنیع کے تیر برسائے گئے۔ان کی شاعری میں معاشرے کے عام فرد کے مسائل اور تکالیف کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ محبت، جدائی، وفا، جفا، پھول، کانٹے، انسان، کائنات، زندگی کی بے ثباتی اور خدا ، عارف شفیق کی شاعری کے موضوعات تھے۔
عارف حسین دھوکا سہی اپنی زندگی
اس زندگی کے بعد کی حالت بھی ہے فریب

منفرد اسلوب کے انقلابی شاعرعارف شفیق کافی عرصے سے فالج اور سانس کی بیماری میں مبتلاتھے۔وہ 14دسمبر2019ء کو خالق حقیقی سے جا ملے۔وہ انقلابی شاعری میں ایک ادارے کی حیثیت رکھتے تھے۔ان کی وفات سے انقلابی شاعری میں ہونے والا خلا شائد صدیوں بعد پورا ہو۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 148 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Abdullah

Read More Articles by Muhammad Abdullah: 3 Articles with 789 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: