مشرف کا فیصلہ اور شتر بے مہار دوڑ

(Muhammad Arshad Qureshi, Karachi)
ہم جب کسی کے خلاف سوچنے لگتے ہیں تو پھر دانستہ اس کی اچھائیوں کو چھپا کر اس کی تمام برائیوں کو تلاش کرتے ہیں سوچ سوچ کر ڈھونڈ ڈھونڈ کر اس کی برائیاں بیان کرتے ہیں ہم وہاں بھی جاکر یہ برائیاں بتانے لگتے ہیں جہاں مدتوں سے کبھی گئے ہی نہیں تھے اور ایسا ہی بالکل اس وقت بھی کرتے ہیں جب ہم کسی کی حمایت کرنے پر اتر آتے ہیں تو اس کی تمام برائیوں کو دانستہ چھپاکر اس کی اچھائیاں بیان کرنے لگتے ہیں۔

ہم جب کسی کے خلاف سوچنے لگتے ہیں تو پھر دانستہ اس کی اچھائیوں کو چھپا کر اس کی تمام برائیوں کو تلاش کرتے ہیں سوچ سوچ کر ڈھونڈ ڈھونڈ کر اس کی برائیاں بیان کرتے ہیں ہم وہاں بھی جاکر یہ برائیاں بتانے لگتے ہیں جہاں مدتوں سے کبھی گئے ہی نہیں تھے اور ایسا ہی بالکل اس وقت بھی کرتے ہیں جب ہم کسی کی حمایت کرنے پر اتر آتے ہیں تو اس کی تمام برائیوں کو دانستہ چھپاکر اس کی اچھائیاں بیان کرنے لگتے ہیں۔

مشرف کا فیصلہ آنے کے بعد ایسی ہی کچھ شتر بے مہار دوڑ فیس بک پر بھی نظر آرہی ہے وہ دوست جو مجال ہے کبھی آپ کی کسی بھی پوسٹ کو لائیک کردیں کمنٹ کردیں وہ بھی آستین چڑھائے میدان میں کود آئے ہیں۔ ایسی ایسی پوسٹیں دیکھنے کو مل رہی ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ وہ لوگ بھی ایک دوسرے کوقانون سکھا اور بتا رہے ہیں جو روز ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی کرتے ہیں ۔

ایسی ایسی اصطلاح لائی جارہی ہیں، دلیلیں پوسٹ کی جارہی ہیں یوں گمان ہو رہا ہے کہ سوشل میڈیا پر ہی عدالت لگی ہے اور تمام پوسٹوں اور کمنٹس کو پڑھنے کے بعد جج صاحبان کوئی مزید فیصلہ کریں گے۔ علامتی سزائیں ، علامتی اظہاریہ، محافظ حرمین، سہولت کاروں کو سزا کیوں نہ ہوئی، سو بچوں کے قاتل کو عبرت ناک سزا سنائی اس کے ٹکرے ٹکڑے کرنے کے فیصلے پر عوام کیوں خاموش تھی جو اب چیخ رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔
یہ کس طرح کی باتیں ہورہی ہیں

ارے بھلے مانسو سو بچوں کے قاتل کے سزا پر عوام کیوں احتجاج کرتی کیوں کہتی کی لاش کی بے حرمتی نہ کرو اس نے آئین نہیں توڑا تھا اس نے بچوں کا قتل کیا تھا آئین توڑنے یا معطل کرنے سے کسی غریب کا نقصان نہیں ہوتا سیاست اور جمہوریت کا نقصان ہوتا ہے۔ بلدیہ ٹاون فیکٹری، 12 مئی قتل عام، وکیلوں کو زندہ جلانا، معصوم بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنا، جعلی پولیس مقابلے میں قتل کرنے والے جیسے مجرموں کو اگر عوام کے حوالے کردیں تو وہ ان کو نوچ نوچ کر مار ڈالیں گے۔ کیا ایسے واقعات نہیں ہوئے کہ لوگوں نے ڈاکوؤں کو پکڑ کر زندہ جلادیا ، چوروں کو قتل کرکے آگ لگادی۔ اگر کسی آئین توڑنے والے کو عوام کے حوالیں کردیں تو وہ سوچیں گے کہ اس سے ہمارا کیا نقصان ہوا تھا۔

یہ ساری زور آزمائی مشرف کے خلاف اور حمایت میں جو کی جارہی ہے اگر یہی اسی طرح جوش جذبے سے جعلی پولیس مقابلے کرنے والوں، بلدیہ ٹاؤن میں لوگوں کو زندہ جلانے والوں ، ماڈل ٹاؤن میں قتل عام کرنے والوں کے خلاف مہم کی صورت میں چلائی جاتی تو اس سے یقیناََعوام کی داد رسی ہوتی شاید انہیں اسی طرح تیز ترین انصاف بھی میسر آجاتا۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 307 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Arshad Qureshi

Read More Articles by Muhammad Arshad Qureshi: 114 Articles with 63584 views »
My name is Muhammad Arshad Qureshi (Arshi) belong to Karachi Pakistan I am
Freelance Journalist, Columnist, Blogger and Poet.​President of Internati
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: