ملائیشیا سربراہی اجلاس۔۔۔۔ ایجنڈا کیا ہے؟

(Hafeez Usmani, )

شب و روز / جاوید ملک
جیسے ہی پاکستان کے دفتر خارجہ نے یہ تصدیق کی کہ عمران خان سمیت کوئی بھی پاکستانی عہدے دار ملائیشیا میں منعقدہ کوالالمپور سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا حیران کن طور پر سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی بپا ہوگیا۔ حکومت پاکستان کے اس فیصلے کو غیر دانشمندانہ نامناسب اور وعدہ خلافی سے تعبیر کیا گیا۔ قوم کو جذبات کی لہروں میں بہانے کے لئے آزمودہ نسخہ کشمیر کا تڑکا بھی لگایا گیا۔ وزیراعظم پاکستان کو احسان فراموش تک کے لغو القابات سے نوازا گیا جنہوں نے انتہائی مشکل وقت میں ملائیشیا،ترکی اور ایران کے ببانگ دھل ساتھ کا احساس نہ کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر خاموشی کی چادر اوڑھنے والے عرب ممالک کا جھنڈا اٹھا کر اپنا وزن ان کے موقف کی تائید کے پلڑے میں ڈال دیا۔

ابھی چند روز قبل ہی برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے ایسی سینکڑوں جعلی ویب سائٹس کا کچا چھٹا کھولا ہے جو پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کے طور پر بہ طور ہتھیار استعمال کی جاتی ہیں معروف سوشل نیٹ ورکس پر ایسے ہزاروں جعلی اکاؤنٹ بھی موجود ہیں جو ہر روز زہر اگلتے ہیں اور ان کا مقصد پاکستان میں رائے عامہ ہموار کرکے پاکستان حکومت کو مجبور کرنا ہے کہ وہ ان کے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال ہو ماضی میں بدقسمتی سے کئی مواقع پر ہمارے ارباب اختیار اس دباؤ کا شکار بھی ہوئے اور بروقت درست فیصلے نہ کر سکنے کے سبب پاکستان دنیا میں تنہا ہوتا گیا اور عوامی سطح پر بھی پاکستان اور سعودی عرب کے لازوال رشتے میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔

کوالالمپور سربراہی اجلاس میں پاکستانی حکام کی شرکت نہ کرنے پر انگلیاں اٹھانے سے قبل ہمیں اس اجلاس کی حقیقت کو جان لینا اشد ضروری ہے۔ اقوام متحدہ کے بعد اس وقت دنیا کی دوسری بڑی تنظیم مجلس تعاون اسلامی(او آئی سی) ہے یہ ستاون ممبران پر مشتمل مضبوط اسلامی بلاک ہے جس نے ہر دور میں عالم اسلام کے مسائل پر مضبوط آواز اُٹھائی ہے دور حاضر میں اسلامی ممالک کو جن مشکلات کا سامنا ہے اس کا تقاضہ یہ ہے کہ اندرونی اختلافات کو ختم کرکے اس تنظیم کو مزید مؤثر بنایا جائے اگر اس وقت کوئی بھی متبادل بلاک ترتیب دیا جاتا ہے تو اس سے اسلامی ممالک کی طاقت تقسیم ہوجائے گی اور مسلم امہ اپنی واحد توانا آواز سے بھی محروم ہوجائے گی ۔ پاکستان کو عالم اسلام میں ایک خصوصی درجہ حاصل ہے سب سے زیادہ فوج اور ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے پاکستان کو یکجہتی عالم اسلا م میں کردار ادا کرنا چاہیے نہ کہ کسی انتشار یا تقسیم کی حمایت کرتے ہوئے اس کا حصہ بننا چاہیے ۔

میں عرصہ دراز سے ایک نقطے کی نشاندہی کرتا آرہا ہوں مسلمانوں کا مرکز سعودی عرب میں ہے حرمین شریفین کی نسبت ہی ہمارا کل اثاثہ ہے اس لیئے خادمین حرمین شریفین ہی مسلمانوں کے حقیقی راہنما ہیں چونکہ ہمارے ایمان کا یہ تقاضہ ہے کہ آخرت کے دن تک اﷲ تعالیٰ دین اسلام کی خود حفاظت کرے گا اس لیئے حرمین شریفین کے خادمین کا انتخاب بھی رب العزت کی قدرت ہے اس لیئے انہیں غیر اعلانیہ خلیفۃ المسلمین قرار دینا غلط نہیں ہوگا ۔ اس بنیادی نقطے پر اتفاق کے بعد عالم اسلام میں انتشار کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی ہے اس کے بعد عالم اسلام کو تقسیم کرنے کی ہر کوشش یقینا دشمنان اسلام کی سازشوں کا ایک حربہ ہی ہوسکتا ہے ۔

وزیر اعظم عمران خان کوالالمپور سربراہی اجلاس میں شرکت نہ کرکے نہ صرف درست فیصلہ کیا ہے بلکہ ایک سازشی غبارے سے ہوا نکال کر جہاندیدہ لیڈر کے طور پر اپنی شناخت بنائی ہے ۔ پاکستان اور سعودی عرب کو اب دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک ایسا سوشل نیٹ ورک ترتیب دینے کی ضرورت ہے جو دشمنان اسلام کی سازشون کی بیخ کنی کرسکے اور بعض ایسے اسلامی ممالک جو اس پروپیگنڈہے کا شکار ہوکر ایک غلط سمت کا تعین کربیٹھے ہیں ان کے سامنے مکمل صورت حال اور اس کے نتائج رکھ کر او آئی سی کی مضبوطی کیلئے کردار ادا کرنے پر زور دینا چاہیے ۔عالم اسلام پہلے ہی سازشیوں کے گھیرے میں ہے اور ناقابل تلافی نقصان اُٹھا چکا ہے اگر اب اس کی یکجہتی کا شیرازہ بکھیرنے کی سازش بھی کامیاب بن جاتی ہے تو عالم اسلام کیلئے یہ ایک بدترین دھچکا ہے کیونکہ ملائیشیا سربراہی اجلاس کے حوالے سے ابھی تک کوئی ایجنڈا سامنے نہیں آیا ہے یہ اندازہ بھی نہیں ہوپارہا کہ یہ سربراہی اجلاس ہے یا کوئی فورم اس تمام صورت حال میں ایجنڈا تقسیم کے علاوہ کیا ہوسکتا ہے ۔#
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 362 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafeez Usmani

Read More Articles by Hafeez Usmani: 55 Articles with 18481 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: