گدھا گری سے گدا گری تک کا سفر

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

مجھے وہ بہت معصوم لگتا ہے ۔ پیارا دِکھتا ہے۔ جو بوجھ وہ اٹھا نہیں سکتا اس کو لاد کر چلتا پھرتا ہے ۔ اس کی عقل اور سمجھ گھاس چرتی رہتی ہے ۔ لوگ اسے گدھا کہتے ہیں ۔

وہ چپ چاپ کسی کی پروا کیے بغیر اپنی ڈگر پر چلتا رہتا ہے۔ اس کی یہ بات مجھے اچھی لگتی ہے ۔ ورنہ ہم لوگ تو بات بات پر سوچتے ہیں کہ دنیا کیا کہے گی ۔ اس چکر میں اپنا بھاری نقصان کر بیٹھتے ہیں ۔ اس وقت گدھے سے ہی سیکھ لیں ۔ کسی کی آواز پر کان نا دھریں جیسے گدھے کی آواز بری محسوس ہوتی ہے جو گدھے کو لاکھ پسند کرنے کے باوجود مجھے بھی اچھی نہیں لگتی ۔ وہ تو اسے بھی پسند نہیں جس نے اسے تخلیق کیا ہے کسی حکمت کے ساتھ۔

خالق کائنات نے فرمایا ہے

اور اپنے چلنے میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز پست کر، بے شک آوازوں میں سب سے بری آواز گدھوں کی ہے۔

جو آوازیں آج محفلوں اور سوشل میڈیا کی زینت بنی ہوئ ہیں وہ بھی گدھے کی آواز کی مانند بری لگتی ہیں۔ جن میں بنا برسات کیچڑ اچھالی جاتی ہے ۔ بات بعد میں جاتی ہے ، پہلے گالی جاتی ہے۔ ان باتوں سے جبری اصلاح جوش دے کر اُبالی جاتی ہے
جو بالآخر ٹھنڈی ہو کر بیٹھ جاتی ہے لیکن کسی کی بینڈ بجا دی جاتی ہے۔

بات واٹس ایپ ، فیس بک کی آوازوں کی ہو رہی تھی ۔ اس طرح کی آوازیں گھروں اور بازاروں میں بے چین اور بے بس روحوں کی جانب سے ساس بہو ، میاں بیوی، گاہک دوکاندار ، اور ٹاک شوز کی لڑائ کی صورت نظر آتی رہتی ہیں ۔

خدا نے اس خوبصورت کائنات میں خوبصورت آوازوں کے ساتھ کچھ بد صورت آوازیں بھی پیدا کی ہیں اور ان کو خود پیدا کر کے بھی وہ پسند نہیں کر رہا اور انسانوں کے لیے تو خصوصی طور پر پسند نہیں فرما رہا ۔
اسی طرح اس ملک کے جو کرتا دھرتا ہیں ، جو کرتے کم اور دھرتے زیادہ ہیں ان کو بھی اپنی پیدا کردہ تخلیق کو برا کہنا چاہیے اگر وہ عوام کے حق میں بری ثابت ہو رہی ہیں۔

میرا مقصد اس وقت معاشی ٹیم پر نظر ثانی کا فیصلہ کروانا اور ٹیکس پالیسی کو آہستہ آہستہ مناسب اور متبادل طریقہ پر نافذ اور تبدیل کرنے کا خیال دلانا ہے۔

گدا گری ہر چیز کا حل نہیں ہے۔ بیرونی طاقتوں کے جال میں پھنسنے کے بجاے ، جیسے بھی ہیں اپنے لوگوں پر اعتماد کریں اور اپنے بازار آباد کریں ۔
ٹیکس بڑھانے کی بات اس کے بعد کریں

۔ ایدھی اور چھیپا کو لوگ دینے کو تیار ہیں ۔
ٹیکس دے بھی رہے ہیں اور مزید دینے کو تیار ہیں ، صرف طریقہ کار پر اختلاف ہے۔
خوف کی فضا بہتری نہیں لا سکتی یہ بات صاف ہے ۔ کچھ لوگ دیں اور پریشان ہوں ۔ کچھ نا دے کر بھی ذی شان ہوں ۔ کیا یہ انصاف ہے؟

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 381 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 216 Articles with 62600 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: