تبدیلی آب وہوا کا زندگی پر اثر

(Faisal Bhatti, Lahore)

بہت سارے لوگوں کو آب و ہوا کی تبدیلی اور اس سے متعلق امور کے بارے میں بات کرنا مشکل لگتا ہے ۔ یہ ایک ایسا عنوان ہے جو دل کی گہرا ئیوں سے چھوتا ہے ۔ اس کے بارے میں بات کرنا اور اس کے لیے کچھ کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہے ۔ گذشتہ چند برسوں سے آب و ہوا کے بارے میں بات ہو رہی ہے ، اس ممنوع حیثیت کی وضاحت کرتے ہوئے کہ آب و ہوا میں تبدیلی آ رہی ہے ۔ ہماری دنیا کو در پیش ماحولیات کی تبدیلی نے یکسر بدل دیا ہے ۔ اب ضروری ہے کہ ہم اس کے بارے میں واضع طور پر بات کریں ۔ اور اس انداز میں کہ لوگوں کے اس کے بارے میں بلایا جائے اور گفتگو کی جائے۔ اس موضوع پر بات چیت کرنا مشکل ہو سکتا ہے ۔ لیکن غیر دانستہ طور پر دوسروں کو الگ کرنا یا ان کو تبدیل کرنا ، یا ان کے لیے متضاد نظریات سے اپنی وابستگی کو مزید گہرا کرنے کا سبب بن سکتا ہے ۔ یہ بات واضع ہے کہ آب و ہوا کی تبدیلی کا انسانی زندگی پر بہت اثر پڑ رہا ہے ۔ اور یہ کہ آنے والے برسوں میں مزید شدت اختیار کرے گا ۔ ارضیاتی وقت کے ساتھ زمین کی آب و ہوا مستقل طور پر تبدیل ہوتی رہی ہے۔ عالمی سطح پر اگر جائزہ لیا جائے تو نمایاں طور پر اتار چڑھا ئو ہے۔ہم موسموں کا جائزہ لیں تو واضع طور ہمیں پتا چلتا ہے کہ گرمی کا یہ وجود دور ماضی کے مقابلے میں زیادہ شدت اخیتار کر گیا ہے ۔ یہ بات واضع ہو گئی ہے کہ ہماری جدید زندگی نے انسانیت کو کس مشکل سے دو چار کیا ہے ۔ آب و ہوا میں تبدیلی میں زیادہ دخل اُن گیسوں کا ہیں جنہیں عام طور پر گرین ہاوس گیسوں کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ ہم یہ جراثیم ایندھن ، زراعت اور زمینی استعمال ماحولیاتی تبدیلیوں کو روکنے والی دیگر سرگرمیوں کے ذریعے کر رہے ہیں ۔ گرین ہائوس گیسیں وہ اعلی سطح پر ہے جو انہوں نے گذشتہ کئی دہائیوں سے زیادہ ہیں ۔ یہ تیز رفتار اضافہ ایک پریشانی ہے ۔ کیونکہ یہ ہماری آب و ہوا کو اس شرح سے تبدیل کررہا ہے جو زندہ چیزوں کو بدلنے کے لیے بہت تیز ہے۔ اب ہمیں غیر جانبدار ہو کے اس پر آواز اُٹھانی ہے اور ہم پر لازم ہے کہ اپنی آواز کو بلند کریں اور واضع کریں کہ موسمیاتی تبدیلی حقیقی ہے اور انسان ذمہ دار ہے۔ اس کے اثرات سنگین ہے اور ہمیں اس پر عمل کرنا ہو گا ۔ آب و ہوا کی تبدیلی میں سب سے زیادہ عنصر ایند ھن ، کوئلہ اور گیس کا جلنا ہے ۔ جس نے ہمارے ماحول میں گرین ہائوس گیسوں یعنی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی تعداد میں اضافہ کیا ہے ۔ اس دیگر سر گرمیوں جیسے زراعت کے لیے زمین کو صاف کرنا ، ہماری زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بن رہا ہے ۔ در حقیقت اس کی مثال ہم یوں دیکھ سکتے ہیں ۔ کہ تمباکو نوشی کرنے سے کینسر ہوتا ہے ، پھیپڑوں کا مرض لاحق ہو جاتا ہے ۔ ایسے ہی گرین ہائوس گیسوں سے زمین کا درجہ حرارت بدل جاتا ہے ۔ یہ اب کی بات نہیں ہے گلوبل ورامنگ نے 1980سے اس کے بارے میں آگاہی دینا شروع کر دی تھی ۔ اگر ہم امریکہ کے شہر ولمنگٹن کی بات کرے جہاں گرمی کی لہریں بہت نقصان دہ ہیں وجہ اُس کی اب بھی وہاں تیل نکالنے کی ریفائفنریز کام کرتی ہیں لہذا انہیں اپنی کھڑکیوں کو بند رکھنا پڑتا ہے ۔ موسمیاتی تبدیلی ہم سب کو نقصان پہنچاتی ہے اور رہے گی اس کی وجہ جب تک حکومتیں اپنا کردار ادا نہیں کرتیں ۔ آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات ہمارے آنے والی نسلیں دیکھیں گئیں ۔ آپ تصور کر سکتے ہیں ۔ کہ ہماری نسلیں تباہ کن ہیٹ ویو سے کیسے سامنا کریں گئیں ۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آب و ہوا کا بحران ابھی سے شدت اختیار کر رہا ہے ۔ اس منٹ تک جب ہم رات کو سونے کے لیے جاتے ہیں اور صبح اُٹھتے ہیں ۔ ہمیں اس کے بارے میں کچھ کرنا ہے۔ مجموعی طور پر آج تک اس کے بارے میں جتنے بھی آرٹیکل لکھے جا چکے ہیں یا اس کی بحث ہو چکی ہے اُن سب کا ماننا ہے کہ آب وہوا کی تبدیلی نقصان دہ اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اضافے کا امکان ہیں ۔ سائنس دانوں کے مطابق اگلی صدی کے دوران درجہ حرارت میں 2.5 سے 10 ڈگری فارن ہائیٹ میں اضافے کی پیشن گوئی کرتے ہیں ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ انسانی سر گرمیوں سے پیدا ہونے والی گرین ہائوس گیسیں ہیں ۔ تباہ کن موسمی تبدیلیوں سے بچنے کے لیے ہمیں عملی طور پر کچھ کرنا ہو گا ۔ روشن خیالی پالیسی سازی کرنی پڑے گی۔ اصل میں سب سے زیادہ وجہ مایوسی ہے ، ہمیں اُمید پسندی کی طرف ہونا چا ہیے تا کہ ہم اس چینلج کا مقابلہ کر سکے ۔ کچھ عرصہ پہلے ہزاروں نوجوان سڑکوں پر نکلے تھے ۔ عالمی رہنمائوں کو یہ پیغام دینے کے لیے اپنی زمین اور مستقبل کو آب و ہوا میں جو تبدیلی رونما ہو رہی ہے ۔ اُس سے بچانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ ہماری نسل ناکام ہو رہی ہے ۔ آب وہوا کی تبدیلی سے نبٹنے کو اور اس بات کو نئی نسل نے بہت حد تک محسوس کیا ہے۔ اسکول کے بچوں کے ذہن میں اب موقع کی کھڑکی بند ہو رہی ہے ۔ اس سے پہلے کہ وہ بھی نا اُمیدی کی طرف بڑھے اس میں تاخیر ہو جائے ۔ ہمیں کچھ کر لینا چاہیے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 239 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Faisal Bhatti

Read More Articles by Faisal Bhatti: 10 Articles with 2484 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: