اس آرٹیکل کا مرکزی خیال بیسٹ سیلر کتاب Unlearn One Hundred and One Simple Truths for a Better Life سے لیا گیا ہے۔
خوف لفظ ہی اپنے اندر اتنی دہشت رکھتا ہے کہ سینسٹو لوگ اس سے نظریں چراتے مگر بہادر لوگ اس پر ہنستے نظر آتے ہیں۔
خوف کا بڑا بھائی ہے فوبیا۔
انسان کا دماغ مختلف کیمیکلز کی آماجگاہ ہے۔ انسان خوش ہوگا تو جو کیمکلز پیدا ہوں گے وہ ان کیمیکلز سے مختلف ہوں گے جو کہ غم کی حالت میں نکلتے ہیں۔ ہر کیمیکل کی اپنی اہمیت ہے فرض کر لیں جب آپکو کار ٹکر مارنے والی ہو تو کیمیکل ری ایکشن آپکو دائیں بائیں ہو کر مڑنے س بچائے گا۔وہ چند سیکڈز کا خوف ہے اگر ہر دفعہ سڑک پر نکلتے ہوئے محسوس ہو تو یہ فوبیا بن جائے گا۔
مایوسی ، ناکامی ، شرمندگی،کھودینے کا خوف ، تبدیلی کا خوف یہ چند عام خوف ہیں۔
مایوسی جو ہمارے معاشرے میں ہر تیس سال کی لڑکی کو ہے کہ شادی نہیں ہوگی اور معاشرہ بھی اسی طرف دھکیل رہا ہے کہ اب آپ فالتو ہو۔اب اگر کوئی رشتہ دیکھنے آ بھی جائے تو فوبیا ایسا بن گیا ہے کہ نئے لوگوں کا سامنا کرنے کا دل نہ کرے۔ یہ یقین ہو کہ اب ریجیکشن ہی ملنی ہے۔
شرمندگی کا خوف وہ لمحہ جب پہلی دفعہ ریسٹورنٹ میں کھاتے ہوئے پیزا چھری کانٹے سے ٹھیک سے نہ کٹا تو شرمندگی آج بھی ساتھ ہے۔
بدلتے موسم گرمی میں لوڈ شیڈنگ اور سردی میں عجیب سا ڈپریشن سب مل کر مت مارنے کے لئیے تبدیلی کو اتنا خوشگوار نہیں رہنے دیتے۔
کچھ کھو دینے کا خوف۔ عزیز رشتوں کے کھو جانے کا خوف ۔
ہر خوف دنیا میں جھٹلایا اور مینیج ہو سکتا ہے۔
خوف سے نکلنے کا آسان ترین نسخہ ہے جو کہ آزمایا ہوا ہے
گوگل کرو اسکے بارے میں معلومات اکٹھی کرو آپ کا خوف فوبیا ہے یا آپ اسکے کس مقام پر کھڑے ہیں وہ جانیں ماہر سے رائے لینے کی ضرورت ہے تو لیں خود جو کچھ کر سکیں کریں
اتنی چھوٹی سی تو زندگی ہے اس میں یہ سوچنا کہ لوگ کیا سوچیں اور اپنا آپ بہتر نہ بنانا اپنی زندگی خود ضائع کرنا ہے نیا سال زندگی میں نیا پن بھی تو لائے |