انتظار حسین- ایک عہد ساز شخصیت

(Afzal RAZVI, Adelaide, AUSTRALIA)

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
اردوادب کی وسعتوں کا جس قدر تذکرہ کیجیے، کم ہے کیونکہ یہ ہر صنفِ ادب کو اپنے اندر سمونے اور اسے اپنانے کی صلاحیت اور استعداد رکھتا ہے۔ ریختہ سے اردو زبان کا نام لینے والی یہ زبان اپنی ہمہ گیریت کی بدولت آج دنیا کی چوتھی بڑی زبان کا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ اپنی ابتدا ہی سے اس نے اپنی وسعت درازی کا ثبوت دیتے ہوئے سب سے پہلے شعرا کو اپنا گرویدہ بنایا اور بعد ازاں داستان گوئی کا ملکہ رکھنے والوں نے اسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ابھی داستان گوئی فن اپنے عروج کی حدوں کو چھو رہاتھا کہ انگریزی ادب کے زیرِ اثر ناول بھی اس کا حصہ بن گیا اور پھر غلام عباس کے افسانوں کے آتے ہی اس نے اپنا دامن ان کے لیے بھی پھیلا دیا۔داستان، ناول، افسانے کے بعد کالم نویسی اور تنقید کے ابواب بھی کھل گئے اور انیسویں صدی کی پہلی چوتھائی کے اختتام پر ایک ایسے نابغہ ئ روز گارنے جنم لیا جس نے ناول اور افسانے کو ایک ایسے مقام پر لاکھڑا کیا جو کسی بھی صنف کی انتہا ہوتی ہے۔اگر ناو ل نگاری، افسانہ اورکالم نویسی جیسے معاشرے کی عکاسی کرنے والی ادبِ اردو کی اصناف نیز تنقید جیسے چبھتے مضمون کو یکجا کر لیا جائے تو اس مجموعے کا جو نام نکلے گا اسے انتظارحسین کہیں گے بیسویں صدی اور اوائلِ اکیسویں صدی کا یہ نابغہ ئ روز گار۷دسمبر ۳۲۹۱؁ء کوڈبائی ضلع میرٹھ میں پیداہوااور زندگی کی بانویں بہاریں دیکھ کر۲ فروری ۶۱۰۲؁ء کولاہور میں اس جہانِ فانی سے جہانِ ابد کو سدھارا،لیکن پیچھے اتنا کچھ چھوڑا کہ صدیوں تک یاد کیا جاتا رہے گا۔ ہر پرانی نسل، نئی نسل کو جب اپنے ادبأ کے بارے بیان کرے گی تو انتظار حسین کا نام ضرور سینہ بہ سینہ نسل در نسل چلتا رہے گا۔انہیں ان کی زندگی میں ہی بڑے بڑے اعزازات سے نوازا گیا۔حکومتِ پاکستان نے انہیں ستارہئ امتیاز اوراکادمی ادبیاتِ پاکستان نے کمالِ فن ایوارڈان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں عطا کیے جبکہ حکومتِ فرانس نے انہیں ستمبر ۴۱۰۲؁ء میں آفیسر آف دی آرٹس اینڈ لیٹرز( Ordre des Arts et des Letters)کے اعزاز سے نوازا۔

انتظار حسین نے میرٹھ سے گریجوایشن کی اور بعدازاں پنجاب یونیورسٹی سے اردو میں پوسٹ گریجوایشن کرنے کے بعد صحافت کو پیشے کے طور پر اختیار کر لیا۔زندگی کی تیس بہاریں دیکھ چکے تو ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’گلی کوچے‘ ۳۵۹۱؁ء کو منصہ شہود پر کیا آیا کہ ہر طرف انتظار حسین کے چرچے ہونے لگے۔ اس مجموعے میں ان کے ۰۵۹۱؁ء تک لکھے گئے افسانے شامل تھے۔اسی طر ح ان کا دوسرا مجموعہ’کنکری‘ ۵۵۹۱؁ء میں اور تیسرا ’آخری آدمی‘ ۷۶۹۱؁ء میں شائع ہوا۔حمید شاہد، خدا حافظ۔انتظار حسین، میں رقم طراز ہیں،’جب قاری یکسو ہو کر انتظار کی طبع زاد کہانی پڑھتا ہے،جی! ان کہانیوں کو جو محض اردو میں ڈھال نہیں لی گئیں ہیں تو ماننا پڑتا ہے کہ ’آخری آدمی‘، زردکتا‘ اور’شہر افسوس‘ جیسے شاہکا ر افسانے لکھ کر جو توقیرانتظار حسین کے حصہ میں آئی ہے کسی اور کے مقدر کا حصہ نہ ہو سکی۔میں نے جوپہلے کہہ رکھا ہے، اسے ایک بار پھردہرادیتا ہوں کہ اردو افسانے کی پوری روایت میں کوئی بھی نہیں ہے جس کے پاس ان الگ سی چھب رکھنے والی کہانیوں کے مزاج اور مواد کا ایک بھی افسانہ ہو‘۔

انتظار حسین نے ناول بھی لکھے لیکن جو شہرتِ دوام افسانوں کی بدولت ان کے حصے میں آئی وہ ناول انہیں نہ دے سکے۔ ستیہ پال آننداپنے ذاتی تاثرات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ان کی ناراضی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان سے کہا تھا،’آپ کے پچاس سے زیادہ افسانے ہیں۔۔۔ شاید آپ کے ناولوں سے زیادہ معتبر ہیں‘۔ انتظار حسین نے جب اس کی وجہ دریافت کی تو ستیہ آنند نے جواب دیا کہ دیکھیے، ’آپ کے سبھی ناول ایپی سوڈک ہیں یعنی واقعات کا مجموعہ ہیں جنہیں مضبوطی سے جوڑنے کی کوشش تو ضرور کی گئی ہے لیکن کئی بار یہ کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔ جس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ ’آپ بنیادی طور پر افسانہ نگار ہیں، ناول نگار نہیں‘۔اسی مضمون میں آگے چل کر لکھتے ہیں کہ وہ اس بات کے قائل ہوگئے تھے کہ وہ ایک افسانہ نگار ہیں۔

جب میں پاکستان سے ہزاروں میل دور بیٹھا یہ سطور لکھ رہاہوں تو میرے ذہن میں ایک سوال بار بار گردش کر رہا ہے کہ آخر میں ایسا کیو ں کر رہا ہوں۔ میں تو انتظار حسین سے زندگی میں کبھی ملا ہی نہیں تو جواب ملتا ہے کہ ان سے ملاقات کے لیے ان کی کہانیاں ہی کافی ہیں۔وہ اپنی ذات میں عہد تھے اور ایک ایسا عہد جس میں پاک و ہند کی تہذیب و ثقافت اور زبان و بیان کی ندرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ گویا غلام شبیر رانا کے الفاظ میں،’انتظار حسین نے قدیم ہندوستانی اساطیر کو اردو فکشن میں شامل کرنے کا جو منفرد انداز اپنایا اس سے اردو فکشن کی ثروت میں بے پناہ اضافہ ہوا‘۔انتظار حسین کے افسانے اور ان کا اسلوب دیگر افسانوں نگاروں کی طرح روایتی نہیں۔ان کے افسانوں میں بیان کی چاشنی، بے ساختگی، حقیقتوں کا کھلا پن اور استعارات کاکچھ اس مہارت سے استعمال کیا گیا ہے کہ قاری اس کے سحر میں گرفتار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہاں یہ بات خاص طورپر یاد رکھنے کی ہے کہ انہوں نے اپنے افسانوں میں تجریدی رنگ کے بجائے علاماتی رنگ اپنایا جس کی بدولت وہ دوسرے افسانہ نگاروں سے ممتاز ہوگئے۔مثلاََ: اپنی کہانی ’بندر‘ میں انہوں نے انسانی جبلت اور ترقی کو جس انداز میں پیش کیا ہے وہ انہی کا خاصہ ہے۔ بندر انسان کی ترقی دیکھ کر یہ سمجھتا ہے کہ اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کی دم ہے اور چونکہ انسان کی دم نہیں ہے اسی لیے اس نے اس قدر ترقی کی ہے چنانچہ وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اپنی دم کاٹ دے کہ ایک بوڑھا بندر اسے مشورہ دیتا ہے کہ جس استرے سے آج تم اپنی دم کاٹو گے کل اسی استرے سے ایک دوسرے کی گردنیں بھی کاٹو گے۔گویا وہ ایک بندر دوسرے کو مشورہ دیتا ہے کہ انسانوں کی ایسی ترقی سے جنگل کی زندگی ہی بہتر ہے جس ترقی کی آڑ میں ایک انسان دوسرے انسان کا گلا کاٹ رہا ہے۔

انتظار حسین کی کہانیوں کا ایک خاصا یہ بھی ہے کہ ان کی تحریریں عمر کی حد میں قید نہیں بلکہ یہ ہر عمر اور ہر جنس کے لیے یکساں موضوع اور سبق آموز ہیں۔پس یہ کہنا بے جا نہیں کہ انتظار حسین کا افسانہ اپنے عہد کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ اس میں معاشرے کے کردار، ان کے مسائل، ان کے تعصبات،نفرتیں اور محبتیں سب کچھ سادگی اور بے ساختہ پن کے ساتھ موجود ہے۔ ’آخری آدمی‘میں انتظار اس آدمی کی بات کرتے ہیں جس کے لیے مادی اور جسمانی خواہشات کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔وہ آدمی جو لالچ اور حرص و ہوس سے بلند ہونے کی جانب رغبت رکھتا ہے، یہ آدمی بندر کی نسل والا آدمی نہیں ہے بلکہ یہ اقبال کا مردِ مومن ہے۔۔۔صاحبِ اسلوب اور درویش نقش ادیب اور دانشورنے اپنی تخلیقات کے ذریعے اردو ادب کو ایسا ورثہ دیا ہے جو ہمیشہ انہیں ہمارے دلوں اورذہنوں میں زندہ رکھے گا(روزنامہ اساس)۔انتظار حسین کی کہانیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے حمید شاہد ’اردو افسانہ اور افسانے کی تنقید‘ میں لکھتے ہیں کہ’صاحب دیکھیے تو کتنی الجھانے والی بات ہے کہ عین اس زمانے میں بھی کہ جب ہر کہیں طبع زادکہانی کا شہرہ ہے، انتظار کے دل کو طبع زاد کہانی کا مطالبہ سرے بھاتا ہی نہیں ہے۔۶۰۰۲؁ء میں چھپنے والی اپنی کتاب ’نئی پرانی کہانیاں‘ کے ابتدائیے میں اس نے طبع زاد کہانی کے مطالبے کو نئے زمانے کے تعصبات کہا۔۔۔اور کبھی ہاتھ مل مل کر تشویش کا اظہار کیا کہ لو جی کہانی کی راہ تو اب کھوٹی ہوئی ہے۔ وہ زمانہ گیا جب افسانہ لکھا جاتا تھا‘۔ وہ اس زمانے کی بات کرتے تھے جب ٹھٹھرتی راتوں میں لوگ آگ کے دہکتے ہوئے الاؤ کے گرد بیٹھ جاتے تھے اور جیسے جیسے رات کی ٹھنڈک برھتی تھی ویسے ویسے ایک سے ایک بڑھ کر کہانی سنائی جاتی تھی۔آگ کے گرد بیٹھے لوگ اس سے اس قدر محظوظ ہوتے کہ رات گزرنے کا احساس تک نہ ہوتا۔ایسی ہی سرد راتوں کے متعلق انتظار حسین کہتے ہیں،’قدیم زمانے کے الاؤ سے لے کر میری نانی کی انگھیٹی تک کہانی کی تاریخ اسی طرح چلی ہے‘(ادب اور سماعی روایت-انتظار حسین)۔

اس میں کوئی شق نہیں کہ انتظار حسین واقعی ایک عہد ساز شخصیت تھے جن کی کہانیاں ہمیشہ ہمارے ارد گرد رہیں گی اور ہمیں ہمیشہ ان کی یاد دلاتی رہیں گی۔خدا انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔آمین!
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 396 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Afzal Razvi

Read More Articles by Afzal Razvi: 65 Articles with 18773 views »
Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allama
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: