اسلام میں مظاہروں کی حرمت۔

(Manhaj As Salaf, Peshawar)

عالم دين: الشیخ صالح فوزن حفظه للہ

الشیخ صاحب کے اس آڈیو کو انگریزى اور عربی کو سامنے رکھ کر اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے مگر پھر بھی غلطی کی گنجائش موجود ہے

"یہ خاندانوں میں ، خواتین میں ، لوگوں میں اور گھروں میں انٹرنیٹ کے ذریعے عام ہوگیا ہے، مظاہروں کی کال ہے۔

مظاہرے کس کے لئے ہے؟
مظاہروں کا مطالبہ

اور یہ مظاہرے حرام ہیں کیونکہ وہ دینِ اسلام سے نہیں ہیں بلکہ صرف دینِ کفار سے ہیں کسی بھی طرح سے دینِ اسلام سے نہیں ہیں۔

اس کے برے نتائج جیسے کہ افراتفری اور کسی حد کے بغیر متحرک ہو جانا۔

دشمن اور منافق فائدہ اٹھانے کے لئے مظاہروں کے ذریعے داخل ہوتے ہیں ، وہ ان کو شروع کرتے ہیں اور مسلمانوں کے اتحاد کو تقسیم کرنے کے لئے۔

اور (ان کا مقصد) اسلامی ممالک اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانا ہے۔

مظاہروں میں خونریزی ، تباہی ، انتشار ، لوٹ مار اور ڈکیتی شامل ہیں۔

اور اس پر ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ گروہوں کا غلبہ ہوتا ہے جو لوگوں سے پیسے لوٹتے ہیں اور ان مظاہروں کے نتیجے میں ان کے گھروں ، کام کے مقامات اور زمین کی سڑکوں پر حملہ کرتے ہیں۔
مظاہرے مسلمانوں کے مابین تفرقہ اور دشمنی پیدا کرتے ہیں۔ یہ مسلمانوں کے اتحاد کو الگ کر دیتے ہیں۔

یہ مظاہرے کے کچھ (خراب) پھل (اثرات) ہیں۔

اگر ان مظاہروں کی اجازت کفر یا ان کی حکومت دیتی ہے تو اسلام کبھی بھی اس کی اجازت نہیں دیتا ہے۔

اور ہم مسلمان ہیں (اللہ کے فرمانبردار ہیں) اور تمام تعریفیں الله کے لئے ہیں۔

لہذا اگر ان کے ممالک میں اس کی اجازت ہے تو ہمارا دین اس سے منع کرتا ہے۔ اور ہم مسلمان ہیں لہذا ہم کتاب اللہ کی طرف سے قوانین لیتے ہیں نہ کے فرانسس کے یا دوسروں کے (قوانین).

جو لوگ ان کا سبب بنتے ہیں اور لوگوں کو ان مظاہروں کی طرف بلاتے ہیں وہ دو گروہوں میں سے ہیں:

فریق اول کفّار ہیں اور وہی لوگ ہیں جو اس کی سازش کرتے ہیں جبکے نیوز اسٹیشنوں میں ان کے کتے بھونکتے ہیں اور مسلمانوں کے درمیان آگ لگاتے ہیں.

یا ان کے ساتھ گمراہ مسلمان نوجوانوں میں سے وہ لوگ ہیں جن کو دھوکہ دیا گیا ہے، وہ لوگ جن كے ذہن آلودہ ہوچکے ہیں اور اس طرح ثقافت نے ان کا رخ بدل ديا ہے۔

انہوں نے انصاف ، عدل، مساوات ، حقوق اور ان مطالبات میں سے اور دیگر چیزوں کی کال سنی.

جى ہاں ، لوگوں کے حقوق ہیں لیکن یہ مظاہروں اور انتشار کے ذریعہ نہیں (حاصل) کیے جاتے۔

حقوق ضائع ہوجائیں گے اور ان میں سے بیشتر (حقوق) مظاہروں اور مشکل بنانے سے محروم ہو جاتے ہیں۔

حقوق کا دعویٰ اسلامی طریقوں سے عدالتوں اور حکمران سے التجا کرتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ یہ جائز طریقوں سے بنایا گیا ہے۔

لیکن جہاں تک مظاہروں کی بات ہے ، اس سے یہ حقوق اور اس کے ساتھ موجود دیگر چیزوں کے ضائع ہونے کا سبب بنتا ہے۔ اور یہی وہ کام ہے جو دشمن حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

تو اللہ کے بندوں، اللہ سے ڈرو اور اس پر غور کرو۔

اور مشوره دو، مشوره دو اپنے بیٹوں ، خواتین اور بیٹیوں کو، جو وہ اس خبيث مشین (انٹرنیٹ) کے ذریعہ پڑھتے اور دیکھتے ہیں۔

جو مسلمانوں کے گھروں میں ایک مجسمے کی طرح بن گیا ہے جو گھروں میں برائیوں ، پروپیگنڈوں اور افواہوں کو نشر کرنے تک مسلمانوں کے گھروں میں تکلیف لے آتا ہے.۔ اور یہ گھر خوف اور عدم استحکام سے بھرے ہیں۔

لہذا اللہ سے ڈرو، الله کے بندو.

اللہ قران میں ارشاد فرماتا ہے:
وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا

ترجمه: اور اللہ تعالیٰ کی اس وقت کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی، پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پہنچ چکے تھے تو اس نے تمہیں بچا لیا۔
(سورة آل عمران: 3 آيت: 103)

الله کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَخَيْرُ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ ‏"

ترجمه: جانو کہ ہر بات سے بہتر اللہ کی کتاب ہے اور ہر چال سے بہتر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی چال ہے۔ اور سب کاموں سے برے، نئے کام ہیں اور نیا کام گمراہی ہے
(صحيح مسلم، ترقیم فوادعبدالباقی: 867)
"
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 113 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Manhaj As Salaf

Read More Articles by Manhaj As Salaf: 266 Articles with 181521 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ