ناصر ناکا گاوا کے سفرنامے”دیس دیس کا سفر“ کا ایک سرسری جائزہ۔۔۔ دوسرا حصہ

(Syeda F GILANI, Australia)

گزشتہ سے پیوستہ:
ناصر کے اس سفر نامے میں ہمیں منظر نگاری کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔رومانیہ کی دیہی زندگی کا منظر پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
چھوٹی سی سڑک کے دونوں اطراف درخت اور کھیت نظر آرہے تھے اور کہیں دورکوئی کسان ٹریکٹر سے ہل چلاتا بھی نظر آجاتا تھا۔صبح کا وقت تھا اور اتوار کا دن شاید اس لیے یہاں زیادہ رونق نہ تھی مگر موسم بہت خوش گوار تھا۔نہ گرمی نہ سردی، کھیتوں کے درمیان دوڑتی ہوئی گاڑی کے سامنے دور تک سیدھی سڑک کے اوپر ہی خوب صورت بادل نظر آرہے تھے۔ بادلوں کا اتنا خوب صورت منظر میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
پھر نیوزی لینڈ کے حسین نظاروں کی بابت کہتے ہیں:
اب ہم شہر سے نکل کر ہائے وے پر چل رہے تھے یہاں کے ہائی وے پر کوئی ٹال ٹیکس وغیرہ نہیں ہے۔ یہ ہائی وے جس کے دونوں اطراف ہرے بھرے میدان، سرسبز پہاڑیاں، اونچے اونچے ٹیلے اور بڑی بڑی چراگاہیں تھیں جہاں گائیں، بھیڑیں اور گھوڑے بڑی تعداد میں چرتے نظر آرہے تھے اور یہ منظر اتنا دلکش اور خوب صورت تھا کہ جسے الفاظ میں
بیان کرنا ناممکن ہے۔ لکھتے ہیں:
ایک بڑی سی جھیل کے قریب پہنچے جہاں ہوکا فالز سے ہوتا ہوا پانی یہاں جمع ہو رہا تھا اور اس میں ایک Hooka Falls Jet کے نام سے تیز رفتار بوٹ جس میں دس پندرہ سیاح سوار تھے قلابازیاں کھاتی تھی اور چند لمحوں میں ہی سیدھی ہوکر شوں سے گزرتی ہوئی نظروں سے اوجھل ہو کر چھوٹی بڑی چٹانوں اور جزیروں میں غائب ہوجاتی تھی۔۔۔
اس دریا یا جھیل کے دونوں اطراف چٹانوں اور درمیان میں آنے والے چھوٹے بڑے جزائر سے گزرتے ہوئے وہ ہمیں عین اسی جگہ لے گئی جہاں کچھ دیر پہلے میں اورطارق بھائی ہو کا فالز کے پل کے نیچے سے گزرنے والی طاقتور لہروں سے خوف زدہ ہو رہے تھے۔۔۔یہ بہت ہی پیارا منظر تھا کہ سامنے ہمارے آبشار تھی دونوں طرف سر سبز پہاڑ اور چٹانیں اور فضا میں ہیلی کاپٹر چکر لگا رہا تھا۔۔۔اوکلینڈ کی طرف رواں دواں ہوئے۔ راستے میں وہی ہرے بھرے میدان، جنگل، پہاڑیاں، ٹیلے اور دور دور تک گائیں، بھیڑیں اور گھوڑوں کی چراگاہیں نظر آئیں۔
مصنف نے کہیں کہیں دلچسپ معلومات بھی فراہم کی ہیں۔مثلاً یہ کہ نیوزی لینڈایسی سرزمین ہے جہاں کوئی زہریلا سانپ، بچھو یا حشرات الارض نہیں پائے جاتے۔اسی طرح وہ فن لینڈ کے متعلق بھی اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔دیکھیے ایوانِ صدر کا مرقع کس طرح کھینچتے ہیں:
سامنے ایک پرانی اور سادہ سی عمارت تھی جس کے مرکزی دروازے پر دو سپاہی چوکس کھڑے تھے معلوم ہوا کہ یہ فن لینڈ کا ایوانِ صدر ہے۔اس ایوانِ صدر کو دیکھ کر احساس ہوا کہ یہ کتنی غریب اورسادہ قوم ہے کہ اپنے صدر کے لیے ایسا ایوان مختص کیا ہوا ہے جس کا صدر پاکستان کے ایک ادنیٰ سے ڈرائیور کے ایوان سے بھی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
یہی نہیں، اس کے بعد مصنف نے فن لینڈ کی تعریف میں لکھا ہے کہ،”فن لینڈ دنیا کا شاید واحد ملک ہے جہاں جرائم سب سے کم ہوتے ہیں۔یہاں کے عوام بہت محنتی اور اپنے کام سے کام رکھتے ہیں“۔انہوں نے کچھ اسی قسم کے خیالات کا اظہار نیوزی لینڈ والوں کے لیے بھی کیا ہے۔”یہاں کے لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ جرم کیا ہوتا ہے۔وہ برائیوں سے ناآشنا ہیں“۔
انڈو نیشیا کی سیاحت کے دوران مصنف نے جب ایک بوڑھی جاپانی خاتون کو دیکھا تو ان کا ذہن جاپانی معاشرے میں وقوع پذیر ہونے والے رجحان کی طرف مبذول ہو گیا۔چنانچہ جاپانی ریٹائرڈ باشندوں کی بیرون ملک سکونت اختیار کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
وہ جب پینسٹھ برس کے ہو جاتے ہیں تو اپنی بقیہ زندگی تھائی لینڈ، فلپائین، ویت نام یا انڈونیشیا جیسے ترقی پذیر ممالک میں گزارتے ہیں جہاں وہ اپنی پنشن سے بڑی پر آسائش زندگی زندگی گزارنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔
دیس دیس کے سفر“ میں ناصر کی تحریر کی ایک اور خوبی جو قاری کو متاثر کرتی ہے تحریر کی شگفتگی اور ہلکے پھلکے مزاح کا عنصر ہے۔آسٹریلیا کی سیاحت کے دوران سڈنی کے جس ہوٹل میں قیام کیا اس کے بارے لکھتے ہیں کہ”ہوٹل کے تمام کمروں میں نوشی تو آسکتی ہے مگر سگریٹ نوشی ممنوع تھی اور جہاں اس قسم کی پابندی ہو تو سگریٹ اور نوشی کی طلب میں شدت آجاتی ہے“
ایک دواور جگہ بھی ان کے مزاح کی ہلکی سی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔سڈنی میں ایک دوست کے ہاں انواع واقسام کے کھانوں کے بارے کچھ یوں اظہارِ خیال کرتے ہیں کہ:
اتنا وسیع دسترخوان دیکھ کر مجھے لگا کہ شاید کچھ اور بھی مہمان متوقع ہیں مگر ایسا نہیں تھا۔صبح ناشتہ نہ کرنے کی وجہ سے بھوک بھی زوروں پر تھی لہٰذا ہم سب نے مل کر وہ دسترخوان صاف کر دیا۔ جہاں کچھ دیر پہلے قورمہ، چکن، کباب، نہاری، حلیم، بریانی، سلاداور روٹیوں کا انبار لگا ہوا تھا۔مجھے یقین ہے کہ اس دسترخوان کی صفائی کرنے میں پچاس فی صد کارروائی میں نے کی تھی۔
نیوزی لینڈ کے ایک جوا خانہ کے بارے لکھتے ہیں، ”یہاں کسی کو بھی ارب پتی یا چائے کی پتی ہونے میں دیر نہیں لگتی“۔
المختصر”دیس دیس کا سفر“ سفر نامے کی تاریخ میں ایک عمدہ اضافہ ہے جس میں مصنف کہیں رومانیہ کی رومان پرور فضا سے متاثر ہے تو کہیں انڈونیشیا کی ترقی کے راز فاش کرتا ہے؛کہیں نیوزی لینڈ کی پرسکون زندگی اسے بھاتی ہے تو کہیں آسٹریلیا کی ترقی پر رشک کناں ہے؛ کہیں کینیڈا کی مجالسِ ادب دوست میں رطب اللسان ہے تو کہیں سویڈن کی سادگی کو اجاگر کرتا ہے۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 110 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syeda F GILANI

Read More Articles by Syeda F GILANI: 28 Articles with 10256 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: