کوک سٹوڈیو کا جادو

(Akram Saqib, Pasni)

کوک سٹوڈیوپوک سٹوڈیو بنتا جا رہا ہے۔ اس کی پرفارمنس دیکھ کو ہنسنے کو تو کیا دل چاہنا ہے رونے کو بھی نہیں کرتا۔ 8 جون 2008 سے شروع ہونے والے اس پروگرام نے شہرت تو بہت حاصل کی مگر موسیقی کو کچھ نہیں دیا۔بارہ سال سے جاری اس پروگرام کے گانوں کو دیکھیں اور سنیں تو سوائے چربے کے اور کچھ بھی نہیں ملاتا۔ اس کی ٹوپی اس کے سر پہ ڈالنے کے علاوہ کوئی خاص کارکردگی نظر نہیں آئی۔ پرانے گانے نئے سازوں اور نئے سازندوں کے ساتھ پیش کر دیتے ہیں اس سے موسیقی کو کیا فائدہ پہنچتا ہے؟ کیا پرانے راگ راگنیاں ٹھمریاں خیال دادرے اس سے زندہ ہو رہے ہیں یا ہوئے ہیں؟ جی نہیں!

اس کے پیش کاروں میں روحیل حیات ،سٹرنگز، علی حمزہ اور زوہیب قاضی شامل ہیں ۔ یہ بارہ سیزن اور 64 اقساط مکمل کر چکا ہے۔ اس کی زبانوں میں انگریزی پنجابی ،اردو ،پشتو ترکی فارسی سندھی شامل ہیں۔ یہ ایک بین الاقوامی برانڈ بھی بن چکا ہے مگر کوئی اصل کام نہیں دکھا سکا۔ مطلب یہ کہ کوئی نیا نصرت فتح علی خان،امانت علی خان،غلام فرید صابری پٹھانے خان وغیرہ تو کیا ان کی نقل بھی درست معنوں میں پیدا نہیں کر سکے۔ پرانے گانوں کا چربہ بنانا کتنا مشکل ہے یا اس میں کونسا نیا فن پوشیدہ ہے سب اچھی طرح جانتے ہیں؟

کوک سوکڈیو والوں نے سازندوں کا ایک گروہ اکٹھا کیا ہوا ہے ۔ یہ سازندے پرانی دھن کو نئے ساز پر بجاتے ہیں اور کسی بھی گلوکار پکڑ کر اس کے کانوں پر ہیڈ فون لگا دیتے ہیں اور اس کے سامنے سکرین پر گانا لکھا ہوتا ہے جو وہ گا دیتا ہے۔ اس کی جے جے کار خود ہی کوک سٹوڈیو والے کرنی شروع کر دیتے ہیں اور ریلیز کرنے سے پہلے ہی اسے بہت عمدہ ثابت کر دیتے ہیں۔ الیکشن کی ہوا بنانے کی طرح اس گانے کی ہوا بناتے ہیں اور لوگ اسے کم از ایک بار ضرور سنتے ہیں یا ڈاون لوڈ کرتے ہیں یوں ان کو یعنی کوک سٹوڈیو والوں کو کافی کمائی ہو جاتی ہے ور ان کا دھندہ خوب چل رہا ہے۔ مگر جو حقیقت ہے وہ یہ ہے کہ اس کے کچھ گانے تو سنے بھی نہیں جا سکتے،پہلی بار سننے پر بھی وہ دل و دماغ پر بار گراں بن جاتے ہیں۔

اگر یہ نئے گانے والوں کو متعارف ہی کراتے رہتے تو بڑی بات تھی۔ یہ تو اچھے گلوکاروں سے نئے گیت بھی نہیں کروا سکے۔ ان سے بھی پرانے لوگوں کا کام دوبارہ پیش کروا رہے ہیں۔ عاطف اسلم سے کیا کروایا؟ راحت فتح علی سے کوئی نیا گیت نہ گوا سکے ۔ عابدہ پروین کو بھی پرانے گیت کے ساتھ ہی پیش کیا۔ عطااللہ کو بھی درست استعمال نہ کر سکے۔ کس کس کا نام لیا جائے سب سے ہی نقل کروائی۔

موسیقی کی خدمت کے لئے ضروری تھا کہ نئے گلوکار آتے یا کم از از کم نیا کام ہوتا۔ نئے گیت ہوتے نئی دھنیں اور نئے رحجان ہوتے۔ مگر اس مادیت پرست دنیا میں پیسہ سب سے بڑا ہے اور اسے کمانے کے لئے ہی سارے ڈرامے کئے جاتے ہیں۔ ان ڈراموں میں ایک ڈرامہ یہ کوک سٹوڈیو بھی ہے۔


 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 139 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: akramsaqib

Read More Articles by akramsaqib: 65 Articles with 24189 views »
I am a poet,writer and dramatist. In search of a channel which could bear me... View More

Comments

آپ کی رائے
Language: