سپر مین : ون مین آرمی

(Dr. Salim Khan, India)

للن سنگھ نے کلن مشرا سے کہا دیکھا پنڈت جی آپ کہتے تھے ہمارے پردھان سیوک صنعتکاروں سے بھاگتے پھرتے ہیں ۔ اب کیا کہیں گے؟
کلن نے جواب دیا ہاں بھائی انہوں نے دس سرمایہ داروں سے ملاقات تو کی لیکن وزیر مالیات نرملا سیتا رامن کو واشنگ پاوڈر نرما سے غائب کردیا ۔
للن بولا بھائی تم نے ہماری وزیر مالیات کو داغ دھبا سمجھ لیا ہے کیا؟
پہلے تو نہیں سمجھتا لیکن جب انہوں نے گاڑیوں کی صنعت میں مندی کی وجہ اولا اور اوبر بتائی تو شک ہونے لگا ۔
بھائی انسان کو شک و شبہ کی بنیاد پر اپنی رائے قائم نہیں کرنی چاہیے ۔
جی ہاں ! مگر پہلے جو شک تھا۲۰آگے چل کر یقین میں بدل گیا ۔
اچھا وہ کیسے ؟
انہوں نے جب پیاز کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کےاستفسار پر کہہ دیا کہ وہ پیاز اور لہسن نہیں کھاتیں تو پھر ہماری رائے بالکل ہی بد ل گئی ۔
اچھا توچونکہ وہ نہیں کھاتیں اس لیے انہیں قیمتوں میں اضافہ کا علم نہیں ہے؟
جی نہیں مجھے تو ایسا لگا کہ وہ کہنا چاہتی ہیں جس طرح میں نہیں کھاتی تم بھی نہیں کھاو تاکہ شکایت ہی نہ رہے ۔
یعنی نہ رہے بانس اور نہ رہے بانسری۔
جی ہاں للن مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ بہت جلد نہ رہیں گے یہ پردھان سیوک اور نہ رہیں گی ان کی وزیر مالیات ۔ ان کے دن بھر چکے ہیں ۔
ارے کلن بھیا آپ تو بلا وجہ ہمارے پردھان سیوک کے پیچھے پڑے رہتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے وزیر مالیات کو نظر انداز کیا تو آپ ناراض ہوگئے۔
للن بولا بات ناراضگی کی نہیں ہے انہیں اگر بلایا بھی جاتا تب بھی و وہ ناراض ہی رہتیں ۔
وہ کیوں ؟
اس لیے کہ مودی جی کے سامنے ان کو خاموش ہی رہنا پڑتا ۔ اسی لیے سشما سوراج ان کے ساتھ ودیش یاتر ا پر نہیں جاتی تھیں ۔
جی ہاں آپ نے سچ کہا اس زمانے میں مودی جی آئے دن کسی نا کسی ملک کے دورے پر نکل جاتے لیکن اپنی وزیرخارجہ کو کبھی ساتھ لے کر نہیں گئے۔
ارے بھائی مودی جی تو اپنی ہوم منسٹر کو بھی اپنے ساتھ دہلی نہیں لائے ۔
آپ کیا کہہ رہے ہیں میں نہیں سمجھا؟
میرا مطلب ہے جسودھا بین کو تو وہ گاوں ہی میں چھوڑ آئے۔
جی نہیں ایسی بات نہیں مشرا جی ۔ جسودھا بین کو تو انہوں نے بچپن ہی میں دیس کے لیے تیاگ دیا تھا ۔
اچھا اور دیس کو کس کے لیے تیاگ دیا؟
ستاّ یعنی اقتدار کے لیے ۔ کم اہم چیز کو زیادہ اہم شئے کے لیے قربان کردیا جاتا ہے لیکن آپ سیتا رامن کی بات کرتے ہوئے جسودا بین کی طرف نکل گئے۔
جی ہاں سیتا رامن اگر مودی جی کے ساتھ ہوتیں تب بھی پتہ کہاں چلتا ہے؟ ان کو نہ مائک ملتا اور نہ کیمرہ!
للن بولا مائک کی بات تو سمجھ میں آگئی کیونکہ مودی کے آگے کون بول سکتا ہے لیکن یہ کیمرہ بیچ میں کہاں سے آگیا؟
ارے بھائی مودی جی کی موجودگی میں کیمرے کو کسی اور کی جانب نگاہِ غلط ڈالنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی۔ کوئی بیچ میں آ جائے تو ہٹا دیا جاتا ہے۔
ہٹا دیا جاتا ہے کیا مطلب َ؟
مطلب یہ کہ اس کا پتاّ صاف کردیا جاتا ہے۔ جیسے سشما سوراج، اوما بھارتی اور ان کے گرو اڈوانی جی کا کردیا گیا ۔
للن بولا میں آپ کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں ۔ مودی جی اپنے راستے سے کانٹوں کو ہٹانے میں ماہر ہیں۔
بیچارہ ہرین پنڈیا! کلن بولا ہماری برادری کے اس ہونہار رہنما کا قتل میں کبھی نہیں بھول سکتا۔
کلن کو غمزدہ دیکھ کر للن سنگھ نے بات بدلنے کے لیے کہا لیکن یہ تو ایک حقیقت ہے کہ ہر آدمی کے کام کرنے کا اپنا انداز ہوتا ہے ۔
للن بولا جی ہاں اسی لیے جس وقت مودی جی فرانس میں رافیل کا سودہ کررہے تھے ان کا وزیر دفاع منوہر پاریکر گوا میں مچھلی خرید رہا تھا۔
اچھا ہی ہوا جوپریکر کو رافیل سے دور رکھا گیا ورنہ بلی کا بکرا بناکر سارا الزام ان کے سر دھر دیا جاتا۔
یہی بات میں رام لیلا میدان کے اندر مودی جی کی تقریرسنتے ہوئے سوچ رہا تھا ۔
کلن ہنس کر بولا مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ تم جیسا پرم بھکت سوچتا بھی ہے ۔ خیر بتاو کیا سوچ رہے تھے ؟
آپ میرا تمسخر نہ اڑایا کریں ۔
اچھا بابا معؑذرت چاہتا ہوں بس ۔ اب بتاو کہ کیا سوچ رہے تھے
کوئی بات نہیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ اس وقت وزیر داخلہ کیا سوچ رہے ہوں گے ۔
اچھا ان کے چہرے پر کیا تاثرات تھے میں تو ٹیلی ویژن پر صرف وزیر اعظم کو دیکھ رہا تھا ۔
ارے بھائی کیا بتاوں ؟ ان کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں ۔
اچھا وہ کیوں؟
اس لیے کہ وزیر اعظم ان کی ہر بات کو دھڑلےّ سے جھٹلا رہے تھے ۔ این آر سی پر کبھی بات نہیں ہوئی ۔ وہ صرف آسام کے لیے ہے وغیرہ ۔
ہاں ہاں یاد آیا ۔ انہوں نے عقوبت خانوں کا بھی انکار کردیا تھا ۔ مجھے تو بے ساختہ غالب کا شعر یاد آگیا۔
کون سے شعر کی بات کررہے ہیں کلن بھیا۔
وہی مشہور شعرجو صرف غالب ہی کہہ سکتا ہے: ’بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ ٍ ٍٍکچھ نہ سمجھے خدا کرےکوئی ‘
ہاں بھائی لیکن لوگ سب سمجھ گئے ۔ آپ نے دیکھا اس تقریرسے پہلے ہر روز وزیرداخلہ کسی نہ کسی چینل پر دکھائی دیتے تھے لیکن ۰۰۰۰۰
اس کے بعد کیا ہوا؟ تم چپ کیوں ہوگئے۔
اس لیے کہ شاہ جی بھی خاموش ہوگئے۔ آج کل تو وہ گدھے کے سر سے سینگ کی مانند غائب ہیں۔
خیر للن وہ دن دور نہیں جب سینگ کی مانند گدھے بھی غائب ہوجائیں گے۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰ یہ کہہ کر للن مشرا بھی چھو منتر ہوگئے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 153 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 922 Articles with 302771 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: