شادی کے صرف تین ماہ بعد ہی اس نے مجھ پر ہاتھ اٹھانا شروع کردیا۔۔۔گھریلو تشدد کا شکار شوبز کی خواتین


پاکستانی شوبز انڈسٹری میں ایسی کئی خواتین ہیں جنہوں نے ہمت اور حوصلے سے اپنی زندگی کو آگے بڑھایا اور اگر کوئی ان کے ماضی میں جھانکے تو دکھوں کا ایک گہرا سمندر ملے گا-

جگن کاظم
پر اعتماد اور خوش باش نظر آنے والی جگن کاظم نے اپنی زندگی کی بہت ساری تکالیف سے جنگ لڑی ہے۔۔۔وہ جب چھوٹی تھیں تو ان کے والدین کی ہمیشہ لڑائیاں رہتی تھیں اور پھر علیحدگی ہوگئی۔۔۔اس سب نے جگن کے دماغ پر بہت اثر ڈالا اور وہ بہت چھوٹی عمر میں بہت بڑا اور مختلف سوچنے لگیں۔۔۔اداکاری اور ماڈلنگ کا شوق ہوا اور کم عمری میں کینیڈا چلی گئیں اپنے اس شوق کو پورا کرنے۔۔۔جب بھائی کی منگنی پر واپس پاکستان آئیں تو وہیں ملاقات ہوئی اپنے سابقہ شوہر سے اور ایک ہفتہ میں ہی بغیر کسی کو بتائے شادی کرلی۔۔۔گھر والوں نے ساتھ دینے سے منع کردیا۔۔۔یہ ہوا کے گھوڑے پر سوار شادی تین ماہ بعد ہی رنگ دکھانے لگی اور جگن نے شادی کے صرف تین ماہ بعد ہی پٹنا شروع کردیا۔۔۔شروع میں یہ کبھی کبھار ہوتا تھا اور پھر معمول بن گیا۔۔۔جگن نے یہ سب کچھ سہا لیکن پہلے بچے کی پیدائش کے دوران انہیں اتنا مارا کہ وہ ڈیلیوری کے وقت اپنے بچے سمیت موت کے منہ میں پہنچ گئیں۔۔۔یہی وہ وقت تھا جب جگن نے واپسی کے سارے راستے بند کر لئے اور آگے بڑھیں۔۔۔جب بیٹا نو سال کا ہوا تو پھر انہیں زندگی کی سب سے بڑی خوشی ملی اپنے دوسرے شوہر کی صورت میں جو ان کے سارے غموں کا انعام ہے۔۔۔


فاطمہ سہیل
مشہور اداکار و گلوکار محسن عباس حیدر کی بیگم فاطمہ سہیل نے کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر اور گھریلو تشدد کی کہانی شیئر کرکے ایک ہنگامہ کردیا۔۔۔محسن عباس کی فلم باجی انہی دنوں ریلیز ہوئی تھی اور وہ اس عمل سے سخت پریشان ہوئے لیکن فاطمہ نے اپنے پوسٹ میں لکھا کہ ظلم برداشت کرنا بھی گناہ ہے۔۔۔انہوں نے بتایا کہ کس طرح شادی کے شروع سے ہی محسن کا رویہ جارحانہ تھا لیکن وہ اپنی شادی کو برقرار رکھنے کی کوششیں کرتی رہیں ۔۔۔پہلے بیٹی کی پیدائش ہوئی تو رشتے میں بہتری آئی لیکن بیٹی کے انتقال کے بعد محسن کے دوسری خواتین سے تعلقات ہوگئے۔۔۔وہ ماڈل نازش جہانگیر کے ساتھ کھلم کھلا محبت کی پینگیں بڑھانے لگے جبکہ فاطمہ سہیل دوسری بار حاملہ تھیں۔۔۔اور محسن نے فاطمہ کو اسی حالت میں اتنا مارا کہ وہ ہسپتال جا پہنچیں۔۔۔بیٹے کی پیدائش کے بعد وہ پھر رشتہ کو بہتر بنانے گئیں لیکن اب کی بار پھر محسن نے اپنا جلالی روپ دکھایا اور یوں فاطمہ نے دنیا سے اپنا دکھ شیئر کرنے کا فیصلہ کیا اور اب یہ رشتہ بھی ختم ہوچکا ہے اور فاطمہ سہیل نے اپنے بیٹے کے ساتھ زندگی کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اور میڈیا میں واپس قدم رکھ دیا ہے۔۔۔


مزنا ابراہیم
میزبان مزنا ابراہیم نے ایک عرصہ اپنے پہلے شوہر کا ظلم اور جبر برداشت کیا اور اس کے بعد جب ان کی حد ختم ہوگئی تو انہوں نے علیحدگی اختیار کی۔۔۔اس کے کچھ عرصے بعد ان کی دوسری شادی ہوئی لیکن یہ بھی ذہنی تشدد کی حد ختم ہوجانے کی وجہ سے ختم ہوگئی۔۔۔مزنا کے دوسرے شوہر سے ان کی ایک بیٹی بھی ہے جسے وہ خود پال رہی ہیں اور اب وہ زندگی کے اس مقام پر ہیں جہاں وہ شادی سے جڑی تکالیف کا دوبارہ سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتیں اور اپنی امی اور بیٹی کے ساتھ ہنسی خوشی دن گزار رہی ہیں-

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 72928 Print Article Print
 Previous
NEXT 

YOU MAY ALSO LIKE:

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
Language: