یادِ رفتگاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر انورسدید- بیسویں صدی کا یگانہ نقاد

(Afzal RAZVI, Adelaide, AUSTRALIA)

2016ءکا سال کیا آیا آسمانِ ادب کے درخشندہ ستارے جو گزشتہ آٹھ نو دہائیوں سے آسمانِ ادب پر اپنی روشنی کی کرنیں بکھیر رہے تھے ایک ایک کرکے ہم سے جدا ہونے لگے۔ اردو ادب کی ایک عہد ساز شخصیت اور معروف افسانہ نگار انتظار حسین 2فروری،بھارت کے کہنہ مشق شاعر ندا فاضلی 8 فروری جب کہ فاطمہ ثریا بجیا 10 فروری کو داغِ مفارقت دے گئے۔ ابھی اہلیانِ قلم ان کی خدمات اور ان کے فن پر اپنی طبع آزمایا ں کر ہی رہے تھے کہ 20مارچ کو دنیائے ادب کا ایک اور ستارہ (انور سدید) بھی اپنی آخری کرنیں بکھیرنے کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہو گیا۔ یہی نہیں 12 اپریل کو سندھی زبان کے مایہ ناز ناول نویس اور کہانی نویس آغا سلیم بھی اس جہانِ فانی سے جہانِ ابد کو سدھار گئے(اناللہ وانا الیہ راجعون)۔

زندگی اور موت دونوں اٹل حقیقتیں ہیں لیکن پھر بھی انسان اکثر اوقات زندگی سے تو لطف اندوز ہوتا ہے لیکن موت جیسی حقیقت کو پسِ پشت ڈال کر اپنے فرائضِ منسبہ سے روگردانی کرتا ہے، حالانکہ جانتا ہے کہ ایک دن اسی مالک کی طرف لوٹ کر جانا ہے جس کے’کن‘ کہنے سے اس کائنات کا نظام چلتا ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ بہت کچھ ہے اور بس اب اس کے سامنے کسی کس و ناکس کی کوئی اہمیت نہیں لیکن ایسا نہیں، اسے جلد اس بات کا احساس ہو جاتا ہے کہ جسے وہ سب کچھ سمجھتا تھا وہ دراصل کچھ بھی نہیں تھا اور جس کی اس نے قدر نہ کی درحقیقت وہی سب کچھ تھا۔ انسان اس دنیا میں آتا ہے تو اس کی آمد پر خوشیا ں منائی جاتی ہیں لیکن جب وہ اس دنیا سے اپنے اصل گھر لوٹتا ہے تو حزن و یاس کے گہرے سائے ہر طرف پھیلے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔

انسان کی دنیا میں آمد اور رخصتی دونوں کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے کیونکہ جو آتا ہے اسے لوٹنا بھی ضرور پڑتا ہے۔ انسانوں کی اسی آمد و رفت کا نام زندگی اور موت ہے۔ موت ایک ایسی شے کا نام ہے جس کا ذائقہ ہر کس و ناکس کو جلد یا بدیر چکھنا ہی ہے۔جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا کہ امسال ہم سے اردو ادب کی بہت سی نامور شخصیات جدا ہو ئیں۔ ان میں شاعر، انشائیہ پرداز،افسانہ نویس، صحافی اور نقاد ڈاکٹر انور سدید جو ایک لمبے عرصے تک اردو زبان و ادب میں رقم ہونے والی تحریروں پر ناقدانہ نظر ڈالتے رہے بھی شامل ہیں اور سطورِ ذیل میں اب انہی کی بات کی جائے گی۔

ڈاکٹر انور سدید 4 دسمبر 1928ء کو سرگودھاکے ایک نواحی قصبے میانی میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم سرگودھا اور ڈیرہ غازی خاں میں حاصل کی۔ 1944ءمیں اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لیا لیکن تحریکِ پاکستان کی سرگرمیوں کی وجہ سے امتحان نہ دے سکے لیکن گورنمنٹ انجینئرنگ سکول منڈی بہاالدین سے سول انجینئرنگ میں ڈپلوما کیا اور گولڈ میڈل کے حق دار قرار پائے، پھر محکمہ آبپاشی میں ملازم ہوگئے۔بعدازاں ڈھاکہ سے بی ایس سی کا امتحان پاس کیا۔ یہی نہیں نجی طالب علم کی حیثیت سے ایم۔ اے کا امتحان پاس کیا اور پھر ’اردوادب کی تحریکیں‘ مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی۔ 1988ء میں جب ملازمت سے ریٹائرڈ ہوئے تو سپرنٹنڈنگ انجینئر کے عہدے ہر فائز تھے۔ریٹائرمنٹ کے بعد عملی طور پر صحافت میں قدم رکھا اور مختلف اخباروں اور رسائل و جرائد میں لکھتے رہے، جن میں اوراق،روزنامہ خبریں اور نوائے وقت اہم ہیں۔

انور سدید کی پہلی کہانی 1966ءمیں بچوں کے رسالے ’گلدستہ‘ میں شائع ہوئی۔بعدا زاں دیگر رسائل و جرائد میں بھی کئی کہانیاں چھپتی رہیں لیکن جنوری 1966ء میں جب ڈاکٹر وزیر آغا نے ’اوراق‘ جاری کیا تو اس میں ان کا پہلا تنقیدی مضمون’مولانا صلاح الدین احمد کا اسلوب‘ شائع ہوا، جسے بے حد پسند کیا گیا،چنانچہ ان کے اپنے بیان کے مطابق اس پذیرائی نے انہیں تنقیدی مضامین لکھنے کی طرف مائل کیااور پھر وہ تنقید ہی لکھتے چلے گئے حالانکہ انہیں اس صنفِ ادب کو اختیار کرنے کی بھاری قیمت بھی ادا کرنا پڑی(وزیر آغا اور احمد ندیم قاسمی گروپ بندی)۔ ان کی اسی خاصیت کا ذکر کرتے ہوئے امجد اسلام امجد نے لکھا،’ڈاکٹر انورسدید مرحوم نے اگرچہ افسانے، تحقیق اور شاعری کے میدانوں میں طبع آزمائی کی مگر بنیادی طور پر وہ ایک نقاد ہی تھے۔ ان کا کام کم و بیش چھے دہائیوں پر پھیلا ہو ا ہے۔ لکھنا پڑھنا ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔وہ بلا کے زود نویس تھے اور مقدار کے اعتبار سے ان کا کوئی ہم عصر نقادان کی برابری کا دعویٰ نہیں کر سکتا‘۔

انور سدید نے اپنے ایک انٹرویو میں جدید دور کی تنقید پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہ’جدیدیت، مابعد جدیدیت اور ساختیات، پسِ ساختیات وغیرہ مغرب سے درآمد شدہ نظریات ہیں اور تاحال اردو ادب کے گملے میں پرورش پارہے ہیں۔ان کی جڑیں ابھی زمین میں نہیں اتریں۔ پاکستان میں ڈاکٹر وزیر آغااور ڈاکٹر ناصر عباس نیران کو فروغ دینے میں کو شاں ہیں، لیکن ان کی اصطلاحات اور مفاہیم واضح کرنے کے لیے لفظیات اتنی مشکل ہے کہ ان نظریات کا دائرہ وسیع نہیں ہو سکتا‘۔

انور سدید دورِ حاضر کی تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیوں سے بھی نالاں نظر آتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ آج کے برقی دور میں ادب کا معیار وہ نہیں رہا جو گزشتہ کئی دہائیوں میں رہا تھا لیکن اس کے باوجود وہ اردو ادب کے درخشاں اور تابناک مستقبل کے لیے ہمیشہ پرامید رہے۔

ڈاکٹر انور سدید کی تصانیف و تالیفات میں سے چند یہ ہیں: اقبال کے کلاسیکی نقوش، اقبال شناسی اور ادبی دنیا، اقبال شناسی اور اوراق، اردو افسانے میں دیہات کی پیش کش، اردو ادب میں انشائیہ، اردو ادب میں سفر نامہ، اردو ادب کی مختصر تاریخ، پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ، فکر و خیال اوراختلافاتوغیرہ اہم ہیں، علاوہ ازیں انہوں نے سینکڑوں مضامین اور کالم بھی رقم کیے جو بخوفِ طوالت یہاں درج نہیں کیے جارہے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 99 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Afzal Razvi

Read More Articles by Afzal Razvi: 71 Articles with 21599 views »
Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allama
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: