سٹیزن پورٹل ، ترقی ٔ معکوس؟

(Aqeel Khan, Jambir)

 تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے سے پہلے جو انقلابی نعرے لگائے تھے ان میں ایک نعرہ یہ بھی تھا کہ عام آدمی کی پہنچ وزیراعظم ہاؤس سے خود وزیراعظم تک ہوگی۔ اسی انقلابی نعرے کو پایہ تکمیل پہنچانے کے لیے وزیرا عظم عمران خان کی جانب سے عوامی شکایات اور تجاویز براہ راست سننے کے لیے ’پاکستان سٹیزن پورٹل‘ کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا۔ اس شعبے کا دفتر وزیرا عظم آفس ہی میں بنایا گیا ہے جس کے ذریعے عوام اپنی شکایات اور تجاویز (مشورے) براہ راست وزیرا عظم آفس کو بھیج سکتے ہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان براہ راست عوامی شکایات سن کر ان پر کارروائی کے احکامات بھی جاری کریں گے۔ پاکستان سٹیزن پورٹل کے لیے جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ لوگ موبائل ایپ کے ذریعے حکومتی اداروں تک اپنی آواز پہنچا سکیں۔

وزیراعظم عمران خان کو بھجوائی گئی پاکستان سٹیزن پورٹل کی سال 2019 کی رپورٹ کے مطابق سال 2019 میں سٹیزن پورٹل پر سولہ لاکھ سے زائد شکایات موصول ہوئیں۔ ملک بھرسے پندرہ لاکھ جبکہ بیرون ملک سے ترانوے ہزار شکایات موصول ہوئیں۔پنجاب سے سات لاکھ سے زائد شکایات موصول ہوئیں۔ خیبر پختونخواہ سے ایک لاکھ پچانوے ہزار، سندھ سے ایک لاکھ چھتیس ہزار شکایات اور بلوچستان سے بھی پندرہ ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئیں۔ پاکستان سٹیزن پورٹل کی رپورٹ میں سب سے زیادہ شکایات میونسپل، توانائی اور تعلیم کے شعبے سے متعلق موصول ہوئیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سٹیزن پورٹل نے چودہ لاکھ ساٹھ ہزار شکایات کاازالہ کیا۔پاکستان سٹیزن پورٹل کی کارکردگی پر 40 فیصد لوگوں نے اعتماد کا اظہار کیاہے۔

نہیں معلوم اس سٹیزن پورٹل پر حکومت پاکستان کاکتنا ماہانہ یا سالانہ خرچہ ہورہا ہے مگر اس کا فائدہ شاید اس کے اخراجات کی نسبت ایک آنے کا بھی نظر نہیں آرہا ہے۔ عوام کو کوئی خاطر خواہ ریلیف نہیں مل رہا ہے اور نہ ہی میرٹ پر فیصلے ہورہے ہیں۔بذات خود وزیراعظم اس کی کارکردگی سے ناخوش نظر آرہے ہیں جس کا انہوں نے ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے اعتراف بھی کیا تھا۔

میں نے بذات خود سٹیزن پورٹل پر 8 کے قریب شکایات درج کرائیں مگر ان میں سے کسی ایک پر بھی ایسا جواب نہیں ملا جس سے وہ مجھے مطمئن کرسکے ہوں۔ اپنی ذاتی کی گئی ایک کمپلین کا حال سناتا ہوں جس کا فیصلہ قارئین خود کرسکتے ہیں۔ جمبرمیں پچھلے کئی سالوں سے سیوریج کے ڈرین کا شدیدمسئلہ پیش آرہا ہے۔ میں نے سٹیزن پورٹل پر درخواست دی کہ جمبر میں بس سٹاپ سے آبادی کی طرف جانے کے لیے دو مین راستے ہیں جہاں آئے روز ڈرین بند ہونے کی وجہ سے کئی کئی فٹ پانی سڑک پر کھڑا ہوجاتا ہے۔ برائے مہربانی انتظامیہ کو حکم صادر فرمایا جائے کہ ڈرین لائن کو مشین کے ذریعے صاف کرایا جائے تاکہ جمبر کی عوام کو بھی سکھ کا سانس مل سکے۔ گندا پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے بچوں سمیت بڑے بھی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ 13 اکتوبر کو درج کرائی گئی شکایت کا 3 جنوری 2020 میں فائنل جواب ملا۔ سب سے پہلے تو اس سٹیزن پورٹل کی کارکردگی کا اندازہ لگائیں کہ کس سپیڈ سے کام ہورہا ہے؟ درخواست پہلے مرحلے میں 13اکتوبر کو ڈی سی کے پاس پہنچی تو انہوں نے14اکتوبر کو ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ قصور کو فارورڈ کردی۔ 16 اکتوبر کو ڈپٹی ڈائریکٹر نے سیکرٹری یونین کونسل جمبر سے رپورٹ طلب کرلی۔ 25 اکتوبر کو یونین کونسل کی رپورٹ جس میں سیکرٹری صاحب نے رپورٹ کیا کہ جمبر میں ڈرین بہت پرانی ہوجانے کی وجہ سے پائپ لائن اور کنوؤں کی صفائی بہت ضروری ہے اور وہ صفائی جمعداروں کی بجائے مشینوں کے ذریعے ہی ہوسکتی ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر نے چیف آفیسرضلع کونسل قصور کو کیس فارورڈ کردیا۔ 15 نومبر کو چیف آفیسر ضلع کونسل نے ڈپٹی ڈائریکٹر کو اپنی ساری رام کہانی لکھ کر بھیج دی۔ 16 نومبر کو ڈپٹی ڈائریکٹر نے دوبارہ چیف آفیسر ضلع کونسل کو یہ لکھ کر بھیج دیا کہ معاملہ ضلع کونسل کا ہے اور وہ ہی اس کو حل کرے۔ 7 دسمبر کو چیف آفیسر ضلع کونسل نے درخواست چیف آفیسر تحصیل پتوکی کو بھیج دی کہ یہ تحصیل کا معاملہ ہے۔ 11 دسمبر کو چیف آفیسر تحصیل پتوکی نے ڈی سی قصور کولکھ کر بھیج دیا کہ یہ ایریا میونسپل کمیٹی پتوکی میں نہیں آتا۔ 17 اکتوبر کو دوبارہ ڈی سی صاحب نے چیف آفیسر ضلع کونسل کو مارک کردیا کہ یہ کیس آپ کے آفس کا ہے اور اس پر ضروری ایکشن لیں اور دوسرے دفاتر کو نہ بھیجیں جس کا جواب 3جنوری 2020کو یہ ملا کہ اس وقت ایک نیا لوکل گورنمنٹ سسٹم پی ایل جی اے 2019 منتقلی پر ہے اور پی ایم ایس پی پروگرام کے تحت لوکل گورنمنٹ کے تمام ترقیاتی منصوبے چلائے جارہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی سٹیزن پورٹل کا کام ختم ہوگیا۔
 
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ درخواست دینے والے کو سٹیزن پورٹل والوں نے کیا فون کے ذریعے اطلاع دی۔ کیا سائل سے کسی کو بتایا کہ آپ کی درج کرائی گئی درخواست کوخارج دفتر کیا جارہا ہے؟ تین ماہ تک درخواست مختلف دفاتر میں فٹ بال بن کر گھومتی رہی مگر آخر میں کھودا پہاڑ نکلا چوہا کے مترادف رزلٹ صفرآیا ۔ خرچے والا کام کرنے کے لیے تحصیل اور ضلع دونوں نے جواب دے دیا مگر شہرسے ٹیکس وصولی ، مختلف دکانوں پر چھاپے مارنے اوربہت سے انکم والے کام مثلاً وزن پورا نہ ہونا، ریٹ لسٹ آویزاں نہ ہونا،ریٹ لسٹ کے مطابق چیزیں فروخت نہ کرناان سے جرمانہ وصول کرنے کے لیے ضلع اور تحصیل کونسل کا عملہ حاضر ہے مگر ڈرین کی صفائی کے لیے ان کونسلز (یونین، تحصیل، ضلع)کے پاس فنڈ نہیں۔

سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ آخر قائم مقام لوگ جو ان اداروں کو چلا رہے ہیں وہ یہ کام نہیں کراسکتے تو پھر اس شہر سے کسی قسم کی وصولی بھی نہ کریں اور اگر بلدیاتی نظام اپوزیشن اور حکومت کی لڑائی میں کئی ماہ یا سال تک رائج نہ ہوسکا تو کیا جمبر کی عوام اسی طرح اس عذاب میں مبتلا رہتے ہوئے مرتے رہیں گے اور جنازے بھی راستے بدل بدل کے لیکر جاتے رہیں گے۔

سٹیزن پورٹل پر یہ ایک درخواست کی روداد ہے مگر ایسے بہت سے دوست ہیں جو سٹیزن پورٹل پر کی گئی درخواست پراپنی رام کہانی سنا چکے ہیں اورآخر میں یہ رزلٹ نکلتا ہے کہ اس پر درخواست دینے کا کوئی فائدہ نہیں یہاں تو’’ کتی چوراں نال رلی اے‘‘

خان صاحب کو نظر ثانی کرنا ہوگی کہ یہ پراجیکٹ پر جس لاکھوں روپے خرچ کیے اس کے نتائج کیا نکل رہے ہیں۔ کبھی کسی نے سٹیزن پورٹل پر کی گئی درخواست پر نیوٹرل ٹرائل کرایا۔ جس محکمے کے خلاف درخواست دی گئی اس محکمے کے آفیسر کو انکوائری آفیسر مقرر کردیا جس نے اپنے ہی محکمے کی سائیڈ لیتے ہوئے یک طرفہ فیصلہ کرکے درخواست کو کلوز کردیا جاتا ہے۔

خانصاحب پاکستان مالی بحران میں مبتلا ہے اگر سٹیزن پورٹل کی کارکردگی سے عوام اور آپ ہی مطمئن نہیں تو پھر اس پراجیکٹ پر جو لاکھوں روپے خرچ ہورہے ہیں یہ پراجیکٹ بند کرکے پاکستان کو کچھ نہ کچھ مالی بحران سے نکال سکتے ہیں یا پھر اس کی پہنچ جو عوام تک آپ نے رکھی ہے تو پھر فیصلے بھی میرٹ پر کرتے ہوئے محکموں کے خلاف ایکشن لیں۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 330 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aqeel Khan

Read More Articles by Aqeel Khan: 276 Articles with 114869 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: