آخر تم کرتی کیا ہو

(Sana, Lahore)
مگر گھر کی ملکہ اصل میں نوکروں کی طرح کام کرتی ہے تب ہی گھر کی ریاست چل پاتی ہے۔

ہم نے مل کر گھر میں رہنے والی عورت کو ناکارہ اور سست قرار دے دیا ہے

"تم کرتی کیا ہو سارا دن" یہ وہ جملہ ہے جو عورتوں کو کبھی نہ کبھی زندگی میں ضرور سننا پڑتا ہے۔ مگر جو مرد یہ جملہ نہیں کہتے وہ واقعی میں ایک گولڈ میڈل دیئے جانے کے مستحق ہیں۔ عورت کی زندگی خاص طور پر، اس عورت کی جو گھر کی چار دیواری میں رہتی ہو اس کے لئے تو خاص طور پر "کیا کرتی ہو؟" کے جملے کے حصار میں زندگی رہتی ہے۔

عورت سارا دن کرتی کیا ہے؟ بہت سوں کو لگتا ہے کہ وہ ٹی وی دیکھتی رہتی ہے کچھ کو لگتا ہے کھاتی رہتی ہے اکثریت کو لگتا ہے سوتی رہتی ہے ایک اچھی خاصی تعداد کو یہ بھی گواہیاں دیتے دیکھا گیا ہے کہ صرف فون پر پیکج کروا کو گپیں لگانے میں رہتی ہے اور اب تو واٹس ایپ نے زندگی مزید آسان کر دی ہے۔

عورت یہ سب کام بھی کرتی ہے مگر وہ بے شمار ایسے کام بھی کرتی ہے جو دوسروں کو نظر نہیں آتے اور خاتون خانہ کی بیماری کی صورت میں جب وہ کام نہیں ہوتے تب بھی منہ پر تو اسکی خوبیوں اور کاموں کا اعتراف کم ہی کیا جاتا ہے ہاں اگر دل میں کیا جا رہا ہو تو اللہ جانے۔

ہم نے مل کر گھر میں رہنے والی عورت کو ناکارہ اور سست قرار دے دیا ہے۔ اب کچھ تو معاشی مجبوریوں اور کچھ کام کرنے کے شوق کی بنا پر بے شمار خواتین ملک aکی خدمت کرتی نظر آرہی ہیں ۔ مگر جو خواتین ملک کی نہیں صرف گھر کی خدمت پر مامور ہیں انکے لئے کیا کرتی ہو جیسے جملوں نے انکو کہیں نہ کہیں احساس کمتری میں ضرور مبتلا کیا ہوا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ گھر جیسا ادارہ چلانا بھی آسان کام نہیں ہے۔ اچھا گھر چلانا ہر گھر کے فرد پر کتنا اچھا اثر ڈالتا ہے یہ آپ کسی پھوہڑ خاتون کے گھر والوں سے پوچھیں تو پتہ چلے۔ مگر پھوہڑ کے ساتھ ساتھ کام کرنے والوں کو بھی طعنے دینا کہاں کی عقلمندی ہے۔ گھر چلانا بھی کسی ادارے کو چلانا جیسا ہی ہے۔ جہاں پر آپ وقت کی پابندی کرتے ہیں تب ہی سکول کالج آفس کو نکلنے والے لوگ گھر سے وقت پر نکل پاتے ہیں۔

گھر کو گھر اصل میں بناتی ہی ایک گھر والی ہے۔ اسکو ذٰیادہ کچھ چاہیئے بھی نہیں دوسروں کی خدمت کر کے اور تھوڑی سی تعریف پا کر وہ خوش بھی ہو جاتی ہے اور دوبارہ سے سب کو سنبھالنے کے لئے تازہ دم بھی ہو جاتی ہے۔ اسکوبہت ذیادہ کی خواہش بھی نہیں ہاں اپنے جیسی دوسری عورتوں سے ممتاز نظر آنے کے لئے برینڈڈ سوٹ کی فرمائش کرتی ضرور نظر آئیگی۔

مگر گھر کی ملکہ اصل میں نوکروں کی طرح کام کرتی ہے تب ہی گھر کی ریاست چل پاتی ہے۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 820 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: sana

Read More Articles by sana: 229 Articles with 159608 views »
An enthusiastic writer to guide others about basic knowledge and skills for improving communication. mental leverage, techniques for living life livel.. View More

Comments

آپ کی رائے
میرے خیال میں آج زیادہ تر عورت جو گھر میں رہتی ہے، وہ اس کا احسن عمل ضرور ہے اور ہم اس بات کی تعریف ضرور کرتے ہیں اور ایسی خواتین کو الله بہترین اجر دے جو گھروں سے باہر نہیں جاتیں مگر اس کے ساتھ ساتھ ان کا گھر سے باہر نہ جانا اور میڈیا اور فیس بک اور دوسری ویب سالٹس یا پھر یوٹیوب پر مختلف کپڑوں، آئیڈیاز، اور سل فونز اور شوز وغیرہ کو دیکھ کر پھر اپنے شوہروں کا سر كهانآ ایک اچذی علامت نہیں ہے كیوں کہ میڈیا پر جو دکهايا جاتا ہے وہ بہترین شکل صورت کے لوگوں کو ایک ہى جگہ پر تعینات کر دیا جاتا اور بہترین اور پر آسائش چیزوں کو سامنے لایا جاتا ہے جب کہ یہ کوئی حقیقت پسسندی نہیں ہے. مثال کے طور پر مورننگ شوز میں ایسی عورتوں کا جمگھٹا لگا لینے جو پردہ کی باغی ہیں. اب اس کا کیا اثر ہوگا اس عورت پر جو دنیا بھر یا پاکستان بھر میں میڈیا پر یہ بیہودگی دیکھ رہى ہے اور بار بار اسی کی ترویج كى جا رہی ہے جس سے یہ حقیقت لگتی ہے، حالاں کہ اس کا حقیقت اور مسلمان کی حقیقی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اس طور پر آج پاکستان بھر کی عورت جو گھروں میں ہیں وہ بالکل قابو سے باہر ہونے کو ہیں كیوں کہ وہ میڈیا پر دکھائی جانے والی باتوں کو اصل سمجھتی ہے. تو اس کا دل اپنے گھر اور اپنے گھر سے متعلقہ باتوں اور چیزوں کی دیکھ بھال میں کم ہى لگتا ہے اور جو چیز اصل نہیں ہے وہ اسی کو اصل سمجھتی ہے میں یہ نہیں کہتا کہ یہ بیماری صرف عورت میں ہے. یہ بیماری تو کسی بھی مرد میں بھی ہوسکتی ہے جو باہر بھی جاتا ہو اور کماتا بھی ہو. مگر یہ ذہنی بیماری صرف اس وقت روک سکتی ہے جب حکومتِ وقت میڈیا کو پابند کرے کہ خاص خاص موضوعات پر میڈیا بلکل بات نہیں کرے گا، آج لاہور، کراچی، پنجاب سندھ، اسلام آباد وغیرہ جیسے بڑے شہر تو فتنوں کی آماجگاہ ہیں اور وہاں کی شہری عورت تو قابو سے باہر ہے اور وہ تمام پاکستان کی خواتین کو گمراہ کرنے کا باعث بن رہى ہیں. اسی لئے آج گھروں میں رہنی والی عورت بھی ڈپریشن کا شکار ہے، كیوں کہ اس کو لگتا ہے جو گند میڈیا پردکھایا جا رہا ہے یہ اصل ہے، اور یہ اصل خوشی ہے، حالانکہ یہ تو گمراہی کا گڑھ ہے. اسی لئے نہ ہى گھریلو عورت (زیادہ تر) گھروں کے امور صحیح طرح انجام دے رہی ہے نہ ہى مرد اس کی تعریف کر رہا ہے، حالانکہ اس کی قربانی جو دین کی حدود کے اندر ہو یقینا ایسی قرپانی پر ضرور تعریف کرنا چاہے.
By: Manhaj As Salaf, Peshawar on Jan, 31 2020
Reply Reply
0 Like
بہت خوب! واقعی حقیقت بیان کی ہے آپ نے۔ گھریلو عورت واقعی بہت زیادہ کام کرتی ہے۔ لیکن مرد اس کی قدر کم ہی کرتے ہیں
By: Saleem Ullah Shaikh, Karachi on Jan, 30 2020
Reply Reply
0 Like
Language: