ٹیکنالوجی کا غلط استعمال

(Tubay Rizvi, )

کہتے ہیں انساں کی سب سے بڑی کامیابی اس کی پیدا کردہ ٹیکنالوجی ہے․ جو دورِ حاضِر میں انسانوں کے لیئے سہولت اور آسانیوں کا باعث ہے․انسان کامیابی کے اس شور میں جنم لینے والے نقصانات کو بغور سننے سے قاصر ہے یہی وجہ ہے کہ دورِ حاضر کا انسان خاص طور پر نوجوان نسل، جسمانی اور اخلاقی پستی سے دو چار ہیں ـ․ ترقی کے اس عمل میں کچھ ٹیکنالوجی پر مبنی اشیاء ایسی بھی ہیں جن کے مثبت اور منفی دونوں قسم کے اثرات ہماری نوجوان نسل پر مرتب ہو رہے ہیں․خصوصاََ کیبل نیٹ ورک، سوشل نیٹ ورکنگ،موبائل فون اور سوشل ایپس نے نوجوانوں کو غیر مہذب ناشائستہ اور نالائک بنا دیا ہے․ یہ بھی حقیقت ہے کہ دورِ حاضِرمیں انٹرنیٹ،موبائل فون اور سوشل نیٹ ورکنگ کے بغیر ذندگی بے رنگ اور ادھوری سی لگتی ہے کیونکہ ان ذرائع نے رابطوں میں آسانی پیدا کر کے ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے․
آج کل زیادہ تر والدین بچوں کے ساتھ کچھ نصیحت آمیز گفتگو کرتے نظر آتے ہیں․ جیسے کہ ہر وقت موبائل فون سے چپکے رہتے ہو، یہ سب تمہارے کام نہیں آئے گا، اپنے والد کا احساس نہیں ہے، امتحان میں نمبر کم آئے تو ہڈی پسلی ایک کردوں گا، اور جبکہ لڑکیاں یہ تانے سنتی ہیں ہر وقت ٹی وی کے آگے بیٹھی رہتی ہو، کام تم سے ہوتا نہیں ہے، پرھائی میں دل لگتا نہی ہے، بہت سست ہو، ہر وقت ٹک ٹک کروالو بس، او ر ہر والدین کا آخری جملہ ـ ’ ہم نے تو اسے کہنا ہی چھوڑ دیا ہے ‘ یہ تقریباََ ہر گھر کی کہانی ہے․ آئے دن والدین بچوں کو یہ نصیحت کر رہے ہوتے ہیں کہ انٹرنیٹ، گیمنگز،موبائل فون اور سوشل نیٹ ورکنگ کے مستقل استعمال سے ان کی پڑھائی کا ہرج ہوتا ہے وہ اپنا زیادہ تر وقت پرھنے کے بجائے موبائل فون استعمال کرنے پر ضایع کرتے ہیں․ بہت کم والدین ایسے ہیں جو اپنے بچوں کی سوشل سر گرمیوں پر نظر رکھتے ہیں، سونے پے سوہاگا تو یہ ہے کہ موبائل فون پر مختلف نیٹ ورک کمپنیوں نے سستے سستے ایس ایم ایس، کال ، اور نیٹ پیکجزز متعارف کروائے ہوئے ہیں جس سے نوجوان سارا وقت موبائل اورا نٹرنیٹ پر مشغول رہتے ہیں․انٹرنیٹ کی دنیا ایک الگ ہی دنیا ہے اگر اس کا درست استعمال کیا جائے تو ایک کلک پر معلومات کا سمندر ہے ․

کمپیوٹر، موبائل فون انٹرنیٹ اور ان جیسے جدید آلات کا سب سے ذیادہ نقصان نئی نسل کو ہو رہا ہے ․نوجوان ان میں ضرورت سے زیادہ دلچسپی لے کر بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں، گویا اگر یہ کہا جائے کہ نوجوان طبقہ ’ ٹیکنالوجی ایڈکٹ ‘ ہے تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا․ خواہ وہ لڑکی ہو یا لڑکا سونے سے پہلے اور اٹھنے کے بعد سب سے پہلے موبائل فون کی زیارت کی جاتی ہے․ دن کی روشنی ہو یا رات کا اندھیرا کوئی فیملی گیدرنگ ہو یا دوستوں کی محفل آپس میں گفتگو سے ذیادہ اسٹیٹس اپڈیٹ کرنے کا ذیادہ خیال کیا جاتا ہے․ کسی رشتے دار کے گھر جایا جائے تو سلام کے بعد پہلا سوال وائی فائی کے پاسورڈ کا ہوتا ہے․ اگر گیمز کی بات کی جائے تو بہت سے ایسے گیمز بھی ہیں جو بچوں میں تشدد پیدا کر رہے ہیں جیسے کہ آ پ ’ پَب جِی ‘ نامی بلا کی ہی مثال لے لیجیئے بچہ تو بچہ بڑوں میں بھی یہ گیم مقبولیت کا حامل ہے پَب جِی گیم کی مقبولیت اور ایڈکشن صرف کھیلنے کی حد تک محدود نہیں بلکہ شہرِ کراچی میں باقاعدہ پَب جِی تھیم ریسٹورینٹ بھی موجود ہے․ وہاں آنے والے لوگوں کو باقائیدہ فِری انٹرنیٹ فراہم کیا جاتا ہے․ پَب جِی ، فائیٹر پیلین اور اس طرح کے بہت سے گیمز بچوں کو تشدد پسند بنا رہے ہیں۔

سوشل نیٹ ورکنگ کی بات کی جائے تو صرف نوجوان طبقہ ہی نہی بلکہ ہر عمر کے افراد سوشل نیٹ ورکنگ سائٹز استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں․ مذاک و تفریح کرنی ہو یا وقت گزاری کسی پروڈکٹ کی مارکٹنگ کرنی ہو یا دوستوں سے گفتگو ان سب فرائض کو سر انجام دینے کے لیئے سوشل نیٹ ورکنگ کا استعمال کیا جاتا ہے․ لیکن آج کل سوشل نیٹ ورکنگ کا غلط استعمال مانو عام ہو گیا ہے ․ اس کا غلط استعمال ہمیں سائبر بلنگ کی طرف لیجاتا ہے․ سائبر بلنگ کا شکار نا صرف لڑکے، لڑکیاں بلکہ اساتذہ بھی ہوتے ہیں․ تحقیق کے مطابق17% اساتذہ طلبہ کے ہاتھوں سائبر بلنگ کا شکار ہو چکے ہیں ․بہت سے سافٹ ویئر جیسے․فوٹوشاپ کے زریعہ تصاویر کا غلط استعمال کر کے بلیک میلنگ کرنا یا ہیکنگ جیسا سافٹ ویئر استعمال کر کے کسی کا ذاتی اکاؤنٹ ہیک کرنا اور اس کا ذاتی ڈاٹا بلیک میلنگ میں استعمال کرنا․ٹیکنالوجی کی دنیا میں لوگ اس قدر مگن ہوگئے ہیں کے اخلاقیات کے درجہ سے بلکل بالہ ترہو گئے ہیں۔

حد سے ذیادہ کسی بھی چیز کااستعمال نقصان دے ہوتا ہے․ ٹیکنالوجی کے بے جا غلط استعمال نے انسانوں کو ذہنی اور جسمانی طور پر کمزور بنا دیا ہے․مستقل چیٹنگ اور میسجنگ سے اعصاب کمزور ہوجاتے ہیں اور فالج جیسی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، موبائل فون کے زیادہ استعمال سے برین ٹیومر74%، دل کا مرض45% اور سننے کی صلاحیت میں 80% کمی آتی ہے․جب کہ نظر کی کمذوری، سردرد، نیند کی کمی اور ڈپریشن جیسی بیماریاں مستقل طور پر آپکی ساتھی بن جاتی ہیں․نوجوان ذہنی اور جسمانی کمزوری کا شکار ہیں۔ سستی اور کاہلی جیسے نوجوانوں کی شخصیت کا حصہ بن گئی ہیں وہ ہر کام میں ٹیکنالوجی کا سہارا ڈھونڈتے ہیں․ ہر چھوٹے سے چھوٹے حساب کے لیئے بھی کیلکولیٹر کا استعمال کیا جاتا ہے۔

کمپیوٹر تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ دفاتر اور کاروبار میں بھی ضرورتن استعمال کیا جاتا تھا․لیکن اب کمپیوٹر کا استعمال تعلیمی سر گرمیوں کے لیئے کم اور گیمنگ کے لیئے ذیادہ کیا جاتا ہے․موبائل فون رابطہ کرنے کے لیئے کم اور تصاویر لینے کے ذیادہ کام آتا ہے، اورا نٹرنیٹ تو مہذ موویز اور سیریس تک محدود ہو کر رہ گیا ہے․ کیبل ٹیلیوژن نے بھی غلط رجحانات اور بے حیائی کو فروغ دے دیا ہے․ پہلے پاکستان ٹیلیوژن تفریح کا ایک اہم ذریعہ تھا․تفریح کے ساتھ ساتھ بچوں اور نوجوانوں کی تربیت بھی کرتا تھا․ کھل جا سم سم، عینک والا جن، نیلام گھر اور انوکھے لوگ جیسے پروگرام نشر کیئے جاتے تھے․ ان پروگرامز کو فیملی پروگرامز کہا جاتا تھا۔ گھر کے تمام افراد ایک کمرے میں اکھٹے بیٹھ کر ایک ساتھ ٹِی وِی دیکھا کرتے تھے․کیبل نیٹ ورک اور چینلز کی بھرمار کی وجہ سے سب کی پسند منفرد ہے یہی وجہ ہے کہ ہر کمرے میں ٹِی وِی کا رجہان عام ہوگیا ہے․ والدین اس چیزسے بے خبر ہیں کہ بچے کیا دیکھ رہے ہیں انٹرنیٹ اور ٹِی وِی پر دکھائے جانے والے رومانوی ڈرامے اور فلمیں دیکھ کر نوجوان نسل فرضی ذندگی کو حقیقی خیال کرنے لگتے ہیں اور ایسی ہی سر گرمیاں تلاش کرتے ہیں، ناکامی اور دل برداشتہ ہونے پر خودکشی جیسے اقدامات بھی کرتے ہیں جس سے معاشرے میں بد فعلی پھیلتی ہے-

کیا ٹیکنالوجی خود کو تباہ کرنے کے لیئے بنائی گئی تھیں ؟ کیا ہم ٹیکنالوجی کا صحیح استعمال کر رہے ہیں ؟ کیا حقیقت میں جدید ٹیکنالوجی کا مطلب یہی ہے کہ بے حیائی اور بے باقی کو فروغ دیا جائے ؟ مشرق و مغرب کے فرق سے دست بردار ہو کر بے حیائی کو اپنایا جائے یا اپنی روایات و تعلیمات کو بھلا کر غیروں کی ثقافت کو عام کیا جائے․ ہم ایک اسلامی ریاست ہیں ہم آزاد ہیں لیکن اپنی دینی تعلیمات کی پاسداری کرنا ہم پر فرض ہے․ہم اپنا اصل بھولے بیٹھے ہیں اور جو قومیں اپنا اصل بھول جاتی ہیں ، تباہی اور ذوال ان کا مقددر ہوتا ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 415 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tubay Rizvi
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: