بچوں کو جادوگر مت بنائیں!

(Abdul Waris Sajid, )

ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کا بچہ بااخلاق ہو، تہذیب یافتہ ہو۔ ایسے ہی ہر والدین اس کے لیے کوشش بھی کرتے ہیں۔ بچوں کو اخلاقی عادات سیکھانے والی کتب اور میگزین لا کر دیتے ہیں تاکہ ان میں اچھا اخلاق اور عمدہ عادتیں پیدا ہوں اور وہ ایک اچھا مسلمان بن کر معاشرے کے سامنے آئے۔ کچھ عرصہ ہوا وہ کتب اور میگزین جنہیں والدین بچوں کے اچھے اخلاق اور بہترین تربیت کے لیے خریدتے ہیں ان میں اسلام مخالف باتیں اور بری تہذیب کی جھلکیاں آنا شروع ہو گئی ہیں۔ اب تو بچوں کے شائع ہونے والے رسائل میں اسلام مخالف تحریریں اور تصویریں کثرت سے شائع ہونے لگی ہیں اور اس بات کی چنداں پروا نہیں کی جاتی کہ اس کا اثر پڑھنے والے بچے پر کیا ہو گا۔

نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سات ہلاکت خیز چیزوں سے بچو۔ صحابہ کرام] نے پوچھا: اﷲ کے نبی وہ کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: اﷲ کے ساتھ شرک کرنا، جادو، ناحق کسی کا خون بہانا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جانا اور پاکدامن مومن عورتوں پر بہتان لگانا۔
’’ان باتوں کو ان کے مہلک ہونے کہ وجہ سے مہلکات کہا جاتا ہے۔ ان میں سب سے ہلاکت خیز چیز شرک ہے، پھر جادو، اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر و بیشتر جادو بھی شرک ہی ہوتا ہے کیونکہ جادو سے شیطان کی عبادت، ان سے مدد طلبی اور قربت حاصل کی جاتی ہے۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی مذکورہ بالا حدیث کے متعلق محدثین لکھتے ہیں: ’’یہ حدیث جادو کے جرم کی سنگینی پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اس کا ذکر شرک کے بعد کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ موبقات یعنی مہلکات میں سے ہے۔ جادوکفر ہے کیونکہ کفر کے بغیر اس تک رسائی ناممکن ہے۔‘‘

قرآنی آیات اور احادیث نبویہ میں واضح طور پر جادو اور کہانت کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ جادوگروں، کاہنوں کے پاس جا کر ان سے سوال کرنے اور ان کی باتوں کو سچا جاننے کی ممانعت بھی وارد ہے ان چیزوں کا تعلق نواقض اسلام، گناہ کبیرہ، سات مہلک (یا غارت گر) چیزوں اور کفر و شرک کی انواع سے ہے،امام ذہنی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں: ’’تیسرا گناہ کبیرہ جادو ہے، کیونکہ جادوگر لازماً کفر کرتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے یہ کفر شیطانوں کا تھا، وہ لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے، ملعون شیطان کا انسانوں کو جادو سکھانے کا مقصد اس کے سوا کوئی اور نہ تھا کہ وہ اس کے ذریعہ شرک میں مبتلا ہو جائیں۔ اس قدر شدید مزمت کے باوجود کئی بچوں کے رسائل میں جادو کے حوالے سے کہانیاں عام شائع ہوتی ہیں۔ جادوگر، سامری وغیرہ کے متعلق بے شمار کہانیاں ہوتی ہیں جن کا اثر بچوں کی سوچ اور ذہنیت پر پڑتا ہے جیسے کچھ سال قبل ہیری پوٹر سیریز منظر عام پر آئی تو بچوں نے اسے پڑ کر ویسا ہی ببنے کی ٹھانی کئی نے چھتوں سے کود کر ٹانگیں تڑوائی ایسے ہی ایک رسالہ ’’جہان جگمگ‘‘ ہے یہ پاکستان سے شائع ہونے والے معروف اخبار ’’جہان پاکستان‘‘ کے ساتھ ہفتے کے روز شائع ہوتا ہے اس رسالے میں میگزین ایڈیٹر عقیل روبی، کی کہانی ’’جادو کی کتاب‘‘ تواتر سے شائع ہو رہی ہے۔ 5 اکتوبر 2017ء کے شمارے میں اس کی 28 ویں قسط شائع ہوئی ہے۔ اس میں سوائے جادو کے اوٹ پٹانگ واقعات کے کچھ ملا نہیں۔ نہ بچوں کے لیے کوئی سبق ہے اور نہ ہی کوئی راہنمائی، البتہ ایسے واقعات پڑھ کر بچے سوچ یہ سوچتے ہیں کہ جادو ہمیں بھی آنا چاہیے تاکہ ہم بھی جادو سے کربت کریں۔ یا ہماری بھی کسی جادوگر سے دوستی ہونی چاہیے جو ہمیں سیر کرائے ظاہر سی بات ہے کہ بچے جو دیکھتے ہیں جو سنتے ہیں یا جو پڑھتے ہیں اس کا اثر ضرور لیتے ہیں اور بچوں میں اتنی سنس تو ہوتی نہیں کہ اس کے برے اچھے اثرات کا بہتر انداز ہ کر سکیں یوں جو وہ سیکھتے ہیں اس پر عمل بھی کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں چاہے نقصان ہو جائے۔

اسے شمارے میں صفر 12 پر رنگ بھریں، یا فرق تلاش کرنے کے لیے دلہن کی تصویر دی گئی ہے اور اس تصویر میں اس کے بازو اور سینہ کا اوپری حصہ تمام تر برہنہ ہے، خدا جانے انہوں نے کس حوصلے کے ساتھ یہ تصویر شائع کر دی۔ حالانکہ کوئی بھی والدین معاشرے میں ہیں اپنے بچی کو اس روپ میں دیکھنا پسند کرتا ہے اور نہ ہی اپنے بچے کے لیے موزوں سمجھتا ہے کہ وہ ایسے تصویر دیکھنے یا اس میں کوئی فرق تلاش کرے اور رنگ بھی بھرتا پھرے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 316 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Waris Sajid

Read More Articles by Abdul Waris Sajid: 31 Articles with 14319 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: