نظام تعلیم اور ہم

(Sadaf Umair, Psychologist, Multan)

کچھ دن پہلے پی پی ایس سی کا امتحان دینے گئے. تو پیپر ختم ہونے کے بعد طلبہ جس طرح جوک در جوک مختلف ہالز سے برآمد ہورہے تھے ایسا لگتا تھا کہ پورا شہر کا شہر ہی پیپر دینے امڈ آیا ہے دل ایک بار پھر دکھ سے بھر گیا. میں بھی تین , چار بار پی پی ایس سی کے امتحان دیا اور ہر بار اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تو بنایا ہی امیدواروں کو فیل کرنے کے لئے. بے چارے بیروزگاروں کو مزید چونا لگا کر شدید بے روزگاری اور نالائقی کا احساس دلایا جاتا ہے. آخر پی پی ایس سی والے بھی کیا کریں . بیس سیٹوں پر 20000 بندہ کیسے ایڈجسٹ ہو سکتا ہے. لہذا پیپر ہی ایسا ہونا چاہئے کہ کوئی مائی کا لال پاس نہ ہوسکے. اکثر سوچتی ہوں کہ ماسٹرز میں 80 فیصد نمبر لینے کے باوجود بھی میں پی پی ایس سی میں پاس نہیں ہوسکی لیکن یقین مانے کہ گولڈ میڈلسٹ بھی پی پی ایس سی کے ہاتھوں پریشان بیٹھے ہیں.
" دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے"

یہ تو ہو گئے ہمارے جلے دل کے پھپھولے. اب آتے ہیں کچھ منطقی دلائل کی طرف تو جناب مختلف شہروں کی مختلف یونیورسٹی سے, مختلف اساتذہ کرام سے پڑھنے والے طلباء ایک ہی ٹیسٹ کیسے دے سکتے ہیں. جبکہ ہر یونیورسٹی میں ایک ہی مضمون کا سلیبس مختلف ہوتا ہے وہ بھی اساتذہ کرام اپنی قابلیت کے مطابق ہی پڑھاتے ہیں. کچھ نوجوان اور باہمت اساتذہ تو نئی ریسرچ چیز , آرٹیکل اور کتابوں کے نئے ایڈیشن کو ایڈ کر کے اپنا حق ادا کرتے ہیں. لیکن افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ایسے اساتذہ کی تعداد کچھ زیادہ نہیں, یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کچھ اساتذہ "پریوں" کی کہانیاں سن کر اور سنا کر اپنا ٹائم پاس کرتے ہیں. اور کچھ اساتذہ طالب علموں کو لائبریری کے چکر لگواکر اور چند اسائنمنٹس دے کر کام چلاتے ہیں. اور کچھ اساتذہ انھیں کتابوں پر گزارہ کر رہے ہوتے جو انہوں نے اپنے زمانہ طالب علمی میں پڑھیں, جبکہ ان کتابوں کے مزید چار , چار نئے ایڈیشن بھی مارکیٹ میں آ چکے ہوتے. اور ساتھ یہ بھی دھڑکا لگا رہتا کے جانے ان اساتذہ کی اقسام میں سے پی ایس سی کا پیپر بنانے کی قراندازی کس کے حصے میں آتی ہے. ہر یونیورسٹی میں ایک مضمون کے ماسٹرز کا سلیبس, معیارے تعلیم اور اساتذہ کا انداز مختلف ہے آپ ان سب کو جنرلائز کرکے ایک سانچے سے کیسے گزار سکتے ہیں. اور پی پی ایس سی کا ٹیسٹ بھی صرف میمری ٹیسٹ ہی ہے اور بہت سے قابل طلبہ اس کی بھینٹ چڑھ کر مایوس ہوچکے.
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 264 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sadaf Umair, Psychologist

Read More Articles by Sadaf Umair, Psychologist: 4 Articles with 730 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: