یوم کشمیر۔۔۔۔۔کٹتی شہ رگ

(Musab Ghaznavi, )

اس پانچ فروری کو کشمیر پر موجودہ بھارتی سفاکیت کو چھ ماہ(184روز) مکمل ہو جائیں گے۔ 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کا خاتمہ کرکے جو ظلم و جبر کی داستان رقم کی گئی اس کی نظیر تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ اس آرٹیکل کے خاتمہ پر کشمیر میں ایک طوفان تھا جو برپا ہونا تھا مگر اس طوفان کو روکنے کے لیے بھارت نے جو ظلم و ستم کی داستان لکھی اس سے قلم اور تاریخ کے اوراق بھی شرما گئے، بلکہ پھوٹ پھوٹ کر خون کے آنسو رو پڑے۔ کشمیر پر جاری وحشت کو ایک دم سے 100 فیصد سے بڑھا کر 1000 فیصد بلکہ دو ہزار فیصد کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کر دیا گیا۔ معصوم کشمیریوں کی آہیں اور سسکیاں آسمان کو پھاڑنے لگیں۔ قتل و غارت گری کے بازار گرم کر دیئے گئے، کشمیری بیٹوں اور بیٹیوں کو جبری گھروں سے اٹھالیا گیا۔ جوانوں کو تو نہ جانے کس قرب میں ڈال کر کہاں بھیج دیا گیا مگر بیٹیوں کی عصمت دری کی وہ بے حیا تاریخ رقم ہوئی کہ جس سے خود بے حیائی شرما گئی۔ اور اس صورتحال کو کشمیریوں نے بہت کشادہ دل اور دماغ سے برداشت کیا، اور خود کو اپنے مطالبہ آزادی پر قائم و دائم رکھا۔

یہ سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا دیکھ دنیا نے آنکھیں پھیر لیں کشمیر کی جانب سے۔ اور دنیا کی بات الگ کہ دنیا نے کشمیر سے نظریں چرا لیں، خود پاکستان اور تمام مسلم ممالک نے تو اس عظیم سانحہ پر آنکھیں ویسے ہی بند کرلیں سوائے ایک دو ممالک کے جنہوں نے بھی عملی طور پر کچھ نہ کیا۔ اور پھر امت مسلمہ نے تو آنکھیں بند ہی کیں مگر کشمیر کو اپنی شہہ رگ ماننے والے پاکستان نے تو اس سانحہ پر آنکھیں بند کرنے کے ساتھ ساتھ کان بھی بند کر لیے کہ اہل کشمیر کی صدا بھی نہ سن سکیں۔ یہ تو پاکستانیوں کا حال رہا مگر اس سب میں پاکستان کے حکمرانوں نے جو خود کو امت مسلمہ کا عظیم لیڈر سمجھتے ہیں کشمیر کے ساتھ وہ سلوک کیا جسے دیکھ کر شاید بے حسی خود سے بھی نفرت کرنے لگ پڑی ہو۔ اس قدر منافقانہ رویہ اور طرز عمل اپنایا گیا اپنی ہی کٹتی شہہ رگ کے واسطے کہ میں یہ کہنا بجا سمجھوں گا کہ، بھارتی حکمران اس سے بڑے بے حس اور ظالم نہ ہوتے تو پاکستانی حکمرانوں کی ظالمانہ بے حسی دیکھ کر شاید کشمیر سے خود ہی ظلم و جبر ختم کر دیتے۔ مگر افسوس کے کشمیر پر ظلم کرنے والا ظالم دشمن بھی غیرت سے عاری ہے اور جس دھڑ (جسم) کی وہ کشمیر شہہ رگ ہے وہ اپنا بھی ایسا کہ جس کا غیرت سے دور دور تک کوئی واسطہ ہی نہیں۔

کشمیر پر جاری اس سارے ظلم و ستم کے دوران جس ایک چیز نے ہر ایک کو بے حد متاثر کیا وہ کشمیریوں کی استقامت ہے۔ کشمیری اس قدر استقامت سے ڈٹے کہ استقامت کا کوہ گراں ثابت ہوئے۔ اس بدترین جبروظلم نے بھی انہیں اپنے مطالبہ آزادی سے دستبردار نہ ہونے دیا، بلکہ اس ساری مشکلات میں وہ اور جذبہ سے آزادی کے حق کی آواز اٹھانے کی کوشش کرتے رہے۔ اس قدر شدید کرفیو کے جس میں کشمیریوں کو آواز دنیا تک پہنچانے کے واسطے انٹرنیٹ تک میسر نہ تھا اور دوسری اشیا ئے ضروریہ کیا میسر ہوتیں انہوں نے اپنے مطالبہ آزادی کو دنیا کے سامنے ازسر نو زندہ و جاوید کیا۔ اور یہ بات ہر ایک کے سامنے واضح کردی کی کشمیری قوم آزادی کے علاوہ کسی بھی مطالبے کو نہیں مانے گی۔

اس عرصہ کے دوران ظلم کی ایسی جھلکیاں دیکھنے کو ملیں کہ جسے سن کر ہی دل تھرا جاتا ہے، جوان کو راہ چلتے گولی مار دینا صرف اس قصور پر کہ وہ آزادی چاہتا ہے۔ معصوموں کو خوراک سے اس قدر دور کر دینا کہ ماں کی چھاتی میں موجود دودھ تک سوکھ گیا۔ مریضوں کو زندگی کی آخری سانس تک اس طرح تڑپایا گیا کہ وہ موت کی بھیک مانگنے لگے۔ بیٹیوں کی عصمت دری اس وحشیانہ انداز سے کی گئی کے بدترین جنسی درندے بھی تھر تھر کانپنے لگے۔ سرعام ماں، باپ اور بھائی کے سامنے ان کی بہن بیٹی کو، اور شادی شدہ خاتون کو اس کے معصوم بچوں سے اور اس کے شوہر کے سامنے بے آبرو کر دیا گیا کہ اسے اپنی زندگی ہی عذاب اور بوجھ لگنے لگی۔ اور پھر یہیں بس نہیں اس سارے ظلم کے بعد اس کو مار ڈالا گیا۔ جس ماں کے شکم میں معصوم بچہ پل رہا تھا اسے جنسی ہوس کا نشانہ بنا کر سرے بازار لٹکا دیا گیا۔ گو کہ ایسا ظلم ہوا کہ جسے بدترین جنگلی درندہ بھی نہ دیکھ سکتا تھا۔

اس سب کے دوران اس شہہ رگ کے دھڑ کا کردار انتہائی شرمناک ترین رہا۔ بہارت نے تو شرم کا نام تک نہ سنا ہوگا، اس سے اور توقع نہ کی جاسکتی ہے کہ وہ جب تک قائم ہے اس سے شر ہی شر کی امید لگائی جاسکتی ہے خیر کا تو لفظ بھی ان سے منسوب کرنا شاید گناہ تصور ہوگا۔ مگر اپنی خودمختاری اور جغرافیائی حدود کی حفاظت کے لئے جو کردار پاکستان کو ادا کرنا چاہیے تھا وہ بھی پاکستان نے کردار ادا نہ کیا، احساس کے رشتے کی بات تو کوسوں دور رہ گئی۔ یعنی پاکستان نے خود کے ساتھ ہی سوتیلا سلوک کیا، خود پر ہی ظلم کرلیا کشمیر کی اہمیت و افادیت کو پاکستان کی ضرورت جاننے کے باوجود۔
اہل کشمیر کی استقامت اور دلیری کو قلم سے بیان کرنا تو شاید کسی کے بس میں نہ ہو مگر اہل کشمیر نے ایمان کی مضبوطی کی گواہی اپنے اپنے کردار سے ادا کردی جو رہتی دنیا کے لیے باعث رشک ثابت ہوگی۔

رب کریم کشمیر اور اہل کشمیر کو آزادی جلد نصیب فرمائے۔ (آمین)

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 84 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Musab Ghaznavi

Read More Articles by Musab Ghaznavi: 16 Articles with 2870 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: