کورونا وائرس اور احتیاطی تدابیر

(Sarwar Siddiqui, Lahore)

 آج دنیا کو جس خطرے کا سامناہے اسے کورونا وائرس کانام دیا گیاہے اس کا محرک فطرت سے بغاوت ہے کورونا وائرس کو اﷲ کا عذاب بھی قراردیاجارہاہے دنیا میں تیزی سے سب سے بڑی معاشی قوت بننے ولا ملک کورونا وائرس کے سامنے بے بس دکھائی دیتاہے جو اس بات کابرملااعلان ہے کہ اﷲ کے سامنے ہرچیزہیچ ہے بلاشبہ اﷲ ہی کے قبضہ ٔ قدرت میں ہرقوت ہے اور اتنی ترقی کرنے کے باوجود انسان اﷲ تبارک تعالیٰ کے سامنے بے بس ،عاجز اور لاچارہے کیونکہ آج دنیا کو جس خطرے کا سامناہے اسے کورونا وائرس کانام دیا گیاہے اس کا محرک فطرت سے بغاوت ہے کورونا وائرس کو اﷲ کا عذاب بھی قراردیاجارہاہے اس وقت ہمارے پڑوسی ملک چائنہ کے عوام پر کیا بیت رہی ہے وہ صرف اﷲ ہی جانتا ہے۔ چائنہ ہم پاکستانیوں کا ایسا پڑوسی ملک ہے جو ہر مشکل میں ہمارے مدد اور دفاع کیلئے پیش پیش رہا ہے۔ آج چائنہ کے عوام بہت مشکل میں ہے آو سب پاکستانی مل کر انسانیت کے خا طر دعا کر یں کہ اﷲ رب العزت ہمارے پڑوسی ملک چائنہ ،پاکستان کو دنیا کو اس عذاب سے چھٹکارہ دلا دے آمین ثمہ آمین۔ کہا یہ جارہاہے کہ اس وقت کورونا وائرس کے علاج کی بہتر سہولتیں چین کے سوا کسی اور ملک میں نہیں۔ جبکہ کورونا وائرس چین سے نکل کر امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا اور جاپان سمیت دیگر ممالک میں بھی پھیل چکا ہے اور مختلف ممالک میں کورونا وائرس کے متاثرہ افراد سامنے بھی آ چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت بھی کورونا وائرس کے پیش نظر ہنگامی صورت حال نافذ کرنے کا اعلان کر چکا ہے اور پاکستان میں بھی کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے جا رہے ہیں لاہورکا مناواں ہسپتال اس مرض کیلئے مخصوص کیا جاچکاہے کیونکہ کرونا وائرس نے پوری دنیا میں اپنا خوف طاری کردیا ہے۔ چند ہی دنوں میں یہ وائرس ایک قہر بن کر ٹوٹ پڑا ہے۔

چینی صدر کاکہناہے کرونا وائرس ایک ’’ شیطان‘‘ ہے، اس شیطان کا ساری دْنیا کو مقابلہ کرنا ہے وہ دعا کیلئے گذشتہ دنوں ایک مسجد بھی جاچکے ہیں شنیدہے کہ وہ اسلامی تعلیمات سے خاصے متاثرہیں اور مسلمان ہونے کیلئے خاندان والوں سے مشورہ کررہے ہیں وائرس سے ہونے والی پھیپھڑوں کی بیماری اور اس کا انفیکشن جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ پچھلے دو ہفتوں میں’کرونا وائرس‘ چین میں سینکڑوں انسانوں کو نگل چکا ہے جبکہ اس وقت چین میں ساڑھے چار ہزار سے زائد لوگ اس سے متاثر ہیں۔ دْنیا بھر میں ہیلتھ الرٹ جاری کئے جا چکے ہیں۔ چین آنے اور جانے والوں کی ائیرپورٹس پر اسکریننگ ہو رہی ہے ۔ عالمی ادارہ صحت نے ’کرونا وائرس‘ کے پھیلاؤ کو ایک میڈیکل ایمرجنسی قرار دیا ہے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیربھی جاری کی ہیں۔ اس سے پہلے بھی اسی طرح کے وائرس سے دْنیا کو پالا پڑا تھا جن میں ڈینگی وائرس، وائن فلو وائرس، برڈ فلو اور سارس جیسے وائرس شامل ہیں مگر ان کی تباہ کاریاں ’کرونا‘ جیسی نہ تھیں مگر’’ کرونا وائرس‘‘ نے ساری دْنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ میڈیکل سائنس میں اتنی ترقی اور جدت کے باوجود ابھی تک وائرس سے پھیلنے والے امراض کے علاج کے لیے کوئی واضح پروٹوکول موجود نہیں اور نہ ہی ان کی کوئی خاص ویکسین دستیاب ہے۔ نتیجتاً وائرس کی وجہ سے ہونے والے امراض میں اموات کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ چین سے ملحقہ ممالک بھی اس وائرس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ آسڑیلیا، تائیوان، نیپال، جاپان، تھائی لینڈ، جنوبی کوریا بلکہ امریکا میں بھی کرونا وائرس سے متاثر افراد کے کیسز دیکھنے میں آئے ہیں۔ پاکستان میں بہت سے چینی انجنئیرز اور ورکرز متعدد قومی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، اس لئے پاکستان میں بھی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ ’کرونا وائرس‘ کی خبروں کی بعد اورنج لائن ٹرین اور دوسرے منصوبوں جات پہ کام کرنے والے چینی باشندوں کا کام سے روک دیا گیا ہے اور انہیں اسکریننگ ہونے تک ان کی رہائش گاہوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔ ’کرونا وائرس‘ کے بارے میں قومی ادارہ صحت نے بھی ہیلتھ ایڈوائزری جاری کی ہے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے مختلف ائیر پورٹس پر اس سلسلے میں ہیلتھ کاؤنٹرز قائم کر دیئے ہیں۔ مختلف ہسپتالوں میں علیحدہ ائسولیشن وارڈبنا دیے گئے ہیں۔ بیماروں اور ’کرونا وائرس‘ کی تشخیص کے لئے کی تشخیص کے لئے چینی ڈاکٹروں کی اور عالمی ادارہ صحت کے نمائندے پاکستان میں موجودہیں۔ کرونا وائرس کی علامات کیا ہیں ؟ کرونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کو زکام، گلا خراب، سر درد اور بخار کی علامات ہوتی ہیں، جسم تھکا تھکاسا لگتا ہے، ناک مسلسل بہتی ہے۔ انفیکشن زیادہ ہو جائے تو پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ خطر ناک وہ لمحہ ہوتا ہے جب انفیکشن کی وجہ سے نمونیہ ہو جائے۔ اس سے پھیپھڑوں میں زبردست انفیکشن ہو جاتا ہے، سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے، بخار زیادہ ہو جاتا ہے، ایسے میں فوری طور پر ہسپتال میں علاج کی ضرورت پیش آتی ہے۔ انفیکشن زیادہ ہونے کی صورت میں سانس رک جاتی ہے اور مصنوعی تنفس دینا پڑتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس حالت میں یہ میڈیکل ایمرجنسی بن جاتی ہے۔ اگر انفیکشن پھیل جائے تو سانس رک جاتا ہے اور چند گھنٹوں ہی میں موت واقع ہو سکتی ہے۔ کرونا وائرس سے ہونے والی بیماری کی تمام علامات نمونیہ سے ملتی جلتی ہیں۔ اس سے ہونے والی بیماری کا آغاز دسمبر2019ء میں چین کے صوبے ہوبی کے شہرو وہان میں ہوا جہاں اب تک 500 اشخاص جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ کرونا وائرس آسانی سے ایک متاثرہ شخص سے صحت مند شخص کو منتقل ہوجاتا ہے۔ متاثرہ شخص دو سے پانچ دن تک بیماری کو دوسروں تک پھیلا سکتا ہے۔ اس وجہ سے اگر کسی کو بیماری کی تشخیص ہوگئی ہو تو اسے کم از کم ایک ہفتے تک علیحدگی میں رکھا جاتا ہے تاکہ صحت مند اشخاص وائرس سے بچے رہیں۔ بیماری کے آغاز میں علامات زکام اور نظام تنفس کے بالائی حصے کے انفیکشن سے ملتی جلتی ہیں۔ اس لیے اس دوران علاج سے افاقہ ہو جاتا ہے مگر سب سے ضروری امر یہ ہے کہ اس دوران مریض کو علیحدگی میں رکھا جائے تاکہ دوسرے صحت مند اشخاص بیماری کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہیں۔کرونا وائرس کی تشخیص کے لئے اور جسم میں وائرس کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے بلڈ ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔کہاجاتا ہے چین میں کرونا وائرس سب سے پہلے سانپوں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوا۔ زندہ چمگادڑوں، سانپوں، بلیاں اور کتے کا سوپ بھی اس مرض کے پھیلاؤ کا بڑا سبب ہیں پالتو جانور بھی اس وائرس سے متاثر ہو جاتے ہیں اور ان سے وائرس انسانوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔ زکام کی طرح کرونا وائرس سے ہونے والی علامات بھی زیادہ تر 7 دن سے لیکر 10 دن تک جاری رہتی ہیں اگر اس دوران مکمل آرام کیا جائے اور ڈاکٹر کے مشورہ سے ادویات لی جائیں تو مرض میں افاقہ ہو جاتا ہے اور آدمی صحت مند ہو جاتا ہے۔ اس لیے کرونا وائرس سے زیادہ گھبرانے اور پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔ زیادہ تر متاثرین ہفتے دس دن تک خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ کورونا وائرس سے بچنے کے لیے لوگوں کے حیران کن اقدامات کئے گئے ہیں چین نے اپنے مختلف صوبوں میں لاک ڈاؤن کردیا شہروں میں6 کروڑ سے زیادہ چین باشندے اپنے شہروں تک محدود ہو کے رہ گئے ہیں۔ شنگھائی شہر میں نئے سال کی چھٹیاں 9 بڑھا دی گئی ہیں۔ ابھی تک چین میں متاثرہ افراد کی تعداد 5974 تک پہنچ گئی ہے جس میں 976 افراد کی حالت نمونیہ کی وجہ سے تشویشناک ہے۔ چینی کی یونیورسٹیوں میں داخلے کے ٹیسٹ منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ یعنی زبردست میڈیکل ایمر جنسی لگا دی گئی۔ و چین کے شہری کرونا وائرس سے لڑنے کے لیے پْر عزم ہیں۔ شہر میں جگہ جگہ بینرز لگے ہوئے ہیں:’’ ہم کرونا وائرس سے شکست نہیں کھائیں گے، ہم شیطان وائرس کو مار بھگائیں گے‘‘۔ ووہان میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے سبزیوں اشیائے خورو نوش اور ادویات کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ چین کے دوسرے شہروں سے چینی کے بہادر لوگوں نے ووہان کے ہم وطنوں سے اظہارِ یک جہتی کے لیے سبزیوں ، اشیائے خورو نوش اور ادویات کے سینکڑوں کنٹینرز ووہان پہنچا دیئے ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ کرونا وائرس سے ہونے والا زکام یا اس سے ہونے والی سانس میں رکاوٹ ابتدائی طور پر جاں لیوا مرض نہیں۔ آرام کرنے، بخار اور کھانسی اور انفیکشن کی ادویات لینے سے مرض کی علامات میں افاقہ ہو جاتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر کسی شخص میں کرونا وائرس کی تشخیص ہو جائے یا اس جیسی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جائیں تو اس مریض کو کم از کم سات دن کے لیے علیحدگی میں رکھا جائے۔ اگر ٹیسٹ کرونا وائرس کے لیے پازیٹوآجائے تو ٹیسٹ آنے کے کم از کم ایک ہفتہ تک اس مریض کو مکمل علیحدگی میں رکھا جائے۔ ضروری ہے کہ مریض اور اس کے ساتھ رابطہ رکھنے والے تمام اشخاص احتیاطی تدابیر، ماسک اور دستانے استعمال کریں۔ مریض کے کمرے میں اسپرے کیا جائے اور اس کے زیرِ استعمال ٹشو پیپرز کو علیحدہ تلف کیا جائے۔ کرونا وائرس زکام کے وائرس کی طرح Heat Sensitive وائرس ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مریض کو بھاپ دی جائے اور پینے کے لیے قہوہ، سبزیوں کا سوپ دیا جائے تا کہ بیماری کی علامات کم سے کم رہیں۔ ماہرین تجویزکررہے ہیں اس خوفناک مرض سے بچاؤ کے لئے بخار ہونے کی صورت میں بخار ختم کرنے والی ادویات دی جائیں۔ کھانسی کی صورت میں ایک کپ گرم پانی میں دو چمچ شہد اور تھوڑی سی کالی مرچ ڈال کر دیں۔ بیماری کی تشخیص ہو جائے تو صبح شام ایک کپ گرم دودھ میں ایک چمچ ہلدی ایک چمچ زیتون کا تیل اور ایک چمچ شہد ڈال کر دیں۔ ہلدی اور زیتون کے تیل میں اﷲ تعالیٰ نے بے حد شفاء رکھی ہے۔ ان دونوں میں انفیکشن کنٹرول کرنے کے صلاحیت اور اینٹی وائرل خصوصیات موجود ہیں۔ شہد ویسے ہی ہر بیماری کے لیے شفاء ہے۔ زکام اور گلے کے انفیکشن کے لیے پودینہ، سونف، دار چینی اور ادرک کا قہوہ بھی مفید ہے۔ مریض کو پینے والی گرم چیزیں دینے سے مرض میں خاطر خواہ افاقہ ہوتا ہے۔ مریض کے ساتھ خوشی گوار رویہ رکھا جائے کیونکہ علیحدگی میں رکھنے کے باوجود مریض سے رابطہ رکھا جاسکتا ہے۔ چین کی اپنے شہریوں تک محدود کرنے کی ہدایات سے 1440 سال پہلے رسول اﷲﷺ کی دی گئی ہدایات یادآتی ہیں۔ مدینہ میں جب طاعون کی بیماری پھیلی توآپ ﷺنے اس مرض میں مبتلا ہونے والے افراد کو اپنا شہر چھوڑنے سے منع فرمایا تاکہ مرض دوسرے علاقوں میں صحت مند افراد میں منتقل نہ ہو۔ مسلم شریف کی جلد نمبر 2 میں حضرت اسامہؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ طاعون اور متعدی بیماری ایک عذاب ہے جو پہلی امتوں پر مسلط کیا گیا۔ جب کسی علاقے یا شہر میں کوئی وبا پھیل جائے تو ضروری ہے کہ متاثرہ شہر کے باشندے اپنا علاقہ چھوڑ کر نہ جائیں تو یہ بھی ضروری ہے کہ دوسرے شہروں کے لوگ متاثرہ شہر یا علاقے میں نہ جائیں۔ جو ہدایات آج کی میڈیکل سائنس میں اب سامنے آرہی ہیں وہ ہادی دو جہاں ﷺ نے ہمیں 1440 سال پہلے بتا دیں (ماشاء اﷲ)۔ پاکستان میں بھی کچھ مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہیں۔ مریض کے زیر استعمال ٹشو پیپرز اور دوسری اشیاء کو مناسب طریقے سے تلف کیا جائے جبکہ کھانسی یا چھینک آ نے پر منہ اور ناک کو ٹشو یا رومال سے ڈھانپ کر رکھا جائے۔ بخار، کھانسی اور سانس لینے کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر یا ہسپتال سے رابطہ کریں۔ نزلہ، زکام اور سانس میں رکاوٹ محسوس ہو تو دفتر یا سکول ، کالج جانے سے پرہیز کریں، گھر میں رہ کر آرام کریں ، دوچار دن آرام کرنے سے طبیعت بحال ہو جاتی ہے۔ بیماری اور وبا اﷲ کی طرف سے آتی ہے۔ بیماریوں سے بچنے کیلئے اﷲ سے خیروعافیت کی دْعا کریں۔ حلال غذا استعمال کریں دن میں پانچ مرتبو منہ ہاتھ دھونا ڈاکٹروں نے لازمی قراردیدیاہے بیماریوں سے پناہ مانگیں اور مندرجہ ذیل دْعا پڑھیں: اَللّٰہْمَّ اِنّیِ اَعْوذْبِکَ مِنَ البَرَصِ وَالجنونِ وَالجْذَامِ وَ مِن سَیِئی الا سقَام (آ مین) ’’ ا ے اﷲ! میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں برص سے، دماغی خرابی سے، کوڑھ سے اور ہر قسم کی بْری بیماریوں سے۔‘‘ اس دْعا کے بار بار پڑھنے سے اﷲ تعالیٰ آپ کو ’کورنا وائرس‘ سمیت ہر طرح کے متعدی امراض سے محفوظ رکھے گا۔ صدقہ بلا اور بیماری کو ٹالتا ہے۔ اس لیے صحت مند رہنے کے لیے دوا، دْعا کے ساتھ صدقہ بھی ضرور کریں۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 400 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sarwar Siddiqui

Read More Articles by Sarwar Siddiqui: 120 Articles with 27359 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: