محبت

(Abdul Jabbar Larik, Islamabad)

محبت ایک مٙقناطیسی کٙشش ہے جو کِسی کو کِسی کے جانب کھینچتی ہے، کِسی میں حُسن وہ جمال کی ایک جٙھلک دیکھ لینا اور اُس کے جانب طبیعت کا مائل ہو جانا دل میں اُس کی رغبت اُس کا شوق اُس کی طلب وہ تمنا اور اُس کے لئے بیچینی کا پیدا ہونا اُس کے لئے شب و روز رہنا، اُس کی طلب سے تٙن مٙن دھن سے منہمک ہونا، اس کے فِراق سے ایذا پانا، اُس کے فِراق سے سیر نا ہونا، اُس کے خیال میں اپنا خیال، اُس کی رضا میں اپنی رضا، اُس کی ہستی میں اپنی ہستی کو گُم کر دینا یہ سب مُحبت کے کرشمے ہیں۔ اِس کی حکومت عالَمگیر ہے، ساری کائنات مُحبت کے زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ مُحبت سے ہی کائنات کا آغاز ہوا اور اِسی مُحبت کی آخر تک فرمانروائی رہے گی زرہ زرہ میں مُحبت کے اثرات نُمایاں ہیں۔

مُحبت ہی قُوت قلب ہے، مُحبت ہی غذاءِ روح، محبت ہی حیاتِ البٙدن، دل کی زندگی، زندگی کی کامیابی محبت ہی سب کچھ ہے۔ محبت سے علاقہ پیدا ہوتا ہے اِس تعلق کو ارادہ قوی بناتا ہے تو کشش اور جذب پیدا ہوتا ہے، اس کے بعد سوزش اور ہمہ وقتی جلن، اس کے بعد درد سے دل آشنا ہو جاتا ہے۔ محبت میں قرب کی تدبیر کی لگن ہوتی ہے محبوب کے علاوہ سب تفکرات ختم بلکے محبوب کی محبت دل پے حکمران بن جاتی ہے۔۔

محبت کی تعریف
میرے خیال سے محبت کی تعریف نہیں کی جا سکتی، لہٰذا محبت کی تعریف خود اس کا وجود ہے، محبت ایک جذبہ ہے اور جذبے کا ادرک ذوق و وجدان سے ہو سکتا ہے نا کے عقل سے۔
محبت ایک حال ہے اس کی تعبیر الفاظ سے نہیں ہو سکتی۔
محبت یہ ہے کے محبوب کی ساری صِفات محُو ہو جائیں اور محبوب کی ذات کی ساری صِفات اُس میں آ جائیں۔ محبت کی وجہہ سے محبّ کا اپنا پن آپ مٹ جاتا ہے فقط محبوب کی صِفات نظر آتی ہیں۔
روایت ہے کے مجنوں کا عشق کمال درجے کو پہنچ گیا تو اس سے کسی نے کہا "دیکھ وہ لیلیٰ جا رہی ہے" مجنوں حالتِ استغراق میں چونک پڑا اور بولا "میں ہی تو لیلیٰ ہوں"

کسی عارف کا قول ہے کے لفظ "حب" دو حروف سے مرکب ہے "ح" اور "ب" سے
ح سے اشارہ روح کی طرف اور ب سے اشارہ بدن کی طرف۔ جو شخص محبت کے راستے میں قدم رکھتا ہے تو اس کو تٙن مٙن فِدا کرنے پڑتے ہیں۔
جو محبت کرتا ہے!
اس کا دل کسی قبر یا قبرستان، مزار یا درگاہ سے کم نہیں ہوتا اور درگاہ سے "پیٹھ" کر کے نہیں نِکلا جاتا ہمیشہ اُلٹے پاؤں جانا پڑتا ہے اور اُلٹا چلنا بہت مُشکل اور بہت آہستہ ہوتا ہے۔
محبت کی حقیقت یہ ہے کے تو اپنے آپ کو چھوڑ کر محبوب کی ذات سے قائم ہو جا۔ دو شخصوں میں مُحبت اس وقت تک درشت نہیں ہو سکتی جب تک وہ ایک دوسرے کو ایک نا سمجھیں، جب تُو اپنے بارے میں بے اختیار نا ہو جاۓ محبت کے دائرے میں داخل نہیں ہو سکتا...
عبّدُالجٙبار لاڑک

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 138 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Jabbar Larik

Read More Articles by Abdul Jabbar Larik: 4 Articles with 913 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: