ذرا گوادر تک ۔۔ کچھ ذکر مسائل کا ! (تیسری اور آخری قسط)

(Anwar Graywal, Bahawal Pur)

 اب گوادر سے ہمارا رُخ کراچی کی طرف تھا، ’’کوسٹل ہائی وے‘‘ کا بہت نام سن رکھا تھا، کراچی گوادر سے چھ سو ساٹھ کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے، اس سڑک کی پہلی خوبی یہ ہے کہ یہ روٹ دہشت گردی کے خوف سے آزاد ہے، چھوٹی بڑی ٹیلے نما پہاڑیوں کا یہ طویل سفر بے آب وگیا ہ بھی ہے اور ویران بھی، گھنٹوں چلتے رہیں، انسانی فطری ضرورتیں پوری کرنے والی کوئی سہولت دکھائی نہیں دے گی۔ یہ سڑک کافی پرانی ہے، بہت جگہوں پر مرمت کے پنکچر لگے ہوئے تھے اور بہت سے مقامات سے سڑک اُدھڑ رہی تھی، آنے والے کچھ ہی دنوں میں یہاں کھڈے بن چکے ہوں گے۔ ہم نے گوادر سے چلتے وقت ہی راستے میں قیام کا فیصلہ کر لیا تھا، اس لئے تسلی سے ہی روانگی ہوئی۔ تین گھنٹے بغیر رُکے چلنے کے بعد مغرب کے وقت ’’اورماڑہ‘‘ پہنچے۔ شہر کے باہر میونسپل کمیٹی کے بورڈ سے اندازہ ہوا کہ شہر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہے۔ شہر سے باہر فوجی بیرکیں بھی ہیں اور نیوی کا ٹھکانا بھی ۔ رہائش کی غرض سے شہر میں داخل ہوئے، تو پسماندگی ، غربت، استحصال ہمارا منہ چڑا رہا تھا، ہر طرف کچرا، گرد وغبار اور گندگی کے ڈھیر تھے۔ رونق اگرچہ بہت تھی، مگر رات بسر کرنے کے لئے کوئی معقول تو دُور کی بات ہے ، نامعقول بندوبست بھی نہ تھا۔ چند گندی گلیوں کی خاک چھاننے کے بعد ہم لوگ مایوس پلٹے۔ شہر سے باہر کراچی کے ایک سیٹھ نے سمندر کنارے کچھ کمرے بنا رکھے تھے، وہاں قیام کیا۔

صبح کراچی کے لئے روانہ ہوئے تو ’اورماڑہ ‘سے قریب ہی سڑک کنارے ایک کیڈٹ کالج دکھائی دیا، جوکہ نیوی کے زیر اہتمام قائم ہوا تھا۔ ایسا ہی ایک کیڈٹ کالج پنجگور کے قریب بھی قائم ہے۔ اِن پسماندہ ترین علاقوں میں کیڈٹ کالج کا وجود ایک نعمت ہے، تاہم سوچوں کا بھنور یُوں دماغ میں گھومنے لگا کہ کچھ بھی سجھائی نہ دیتا تھا۔ ہزاروں کلومیٹر سفر کے دوران چند ہی سکول نظر آئے تھے، تاہم ان کی کمی دینی مدارس پوری کر رہے تھے۔ شہروں کے اندر یقینا سکول ہوں گے۔ مگر سوچنے والی بات یہ ہے کہ پہلے نرسری ہوتی ہے تو شجر کاری کی نوبت آتی ہے، جب پرائمری سکول کا وجود ہی نہیں، تو کیڈٹ کالج میں کون داخلہ لے گا؟ ظاہر سے دوسرے صوبوں کے طلبا آئیں گے، یا بلوچستان کے بڑے شہروں کے بڑے لوگوں کے بچے۔ جہاں یہ کالج قائم ہوئے ہیں، وہاں سے کوئی بچہ داخل نہیں ہو سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہاں بہترین پرائمری سکول بنائے جائیں، جہاں تمام وسائل کو بروئے کار لا کر بچوں کو لازمی تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جائے، انہیں وہ تمام تر سہولیات دستیاب ہوں جو بچوں کی ضرورت کو پورا کرنے والی ہوں۔ گوادر سے کراچی تک ساڑھے چھ سو کلومیٹر میں قومی اسمبلی کا ایک ہی نمائندہ ہے، ظاہر ہے آبادی اس قدر کم ہے کہ زیادہ نمائندے منتخب نہیں کئے جاسکتے۔ پورے راستے میں موصوف کے نام کی چاکنگ ہوئی ہوئی ہے، ’’سالارِ ساحل، اسلم بھوتانی‘‘ ’’ترقی کا ضامن، اسلم بھوتانی‘‘۔ ہم نہیں جان سکے کہ مذکورہ عوامی نمائندہ نے ترقی کی کونسی منازل طے کر لی ہیں، اور اس کے آثار یا اثرات کہیں دکھائی نہیں دیتے۔

اوڑماڑہ سے کراچی تک سمندر گزر گاہ کے ساتھ آلگتا ہے۔ ایک مقام پر تو ریت کے ٹیلے، سبز سمندر اور کالا پہاڑ تینوں مناظر ایک ہی قطار میں کھڑے دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہ منظر کسی طرح بھی بین الاقوامی معیار سے کم نہیں، اس میں حکومتِ پاکستان کی ذرا بھی محنت شامل نہیں، قدرت نے ہی اس کی ترتیب و آرائش کا اہتمام کر رکھا ہے۔ آگے ’’کُنڈ ملیر‘‘ کے مقام پر ساحل کا کٹاؤ نہایت دل آویز ہے، سمندری بگلے اڑان بھرتے اور کشتیوں پر منڈلاتے پھرتے ہیں، مگر حسرت کی بات یہ ہے کہ یہاں بھی صرف تصاویر سے ہی اپنے دل و دماغ کی تسلی کی جاسکتی ہے، کشتی میں سیر کا شوق یہاں بھی ادھورا ہی رہتا ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ ہزاروں کلومیٹرکے راستے میں خشک پہاڑ ہیں، مگر اُن کی کٹائی اس قدر دلکش ہے کہ انسان بور نہیں ہوتا۔ اسی راستے میں ایک پہاڑی سلسلہ آتا ہے، جسے دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ یہ ہزاروں برس قبل کسی شہر کے آثار ہیں، کئی حصے قلعہ کی دیوار جیسے ہیں، بعض دیو قامت مجسموں جیسے۔ اس سلسلہ کو Princiss of hopeکا نام دیا گیا ہے۔ قدرت کی صناعی کا یہ حیرت کدہ انسان کو مسحور کر دیتا ہے۔ یہ خشک پہاڑ اور یہ طویل فاصلے سیاحت کا سرمایہ بھی ہیں، مگر کہیں یہ شائبہ تک پیدا نہیں ہوتا کہ کسی بھی حکومت نے یہاں کسی دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہو۔

پاکستان سیاحت کے لئے بلاشبہ بہترین ملک ہے، اگر شمالی علاقہ جات جنت نظیر ہیں تو جنوب مغربی علاقہ جات بھی اپنے مخصوص حُسن کی بدولت منفرد مقام رکھتے ہیں۔ ملکی سیاحت کو فروغ دینے کے لئے اپنی مدد آپ والی پالیسی زیادہ کارگر نہیں ہو سکتی، بڑے وسائل اور بڑی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے، یہ کارِ خیر حکومت ہی سرانجام دے سکتی ہے، البتہ ایسے کاموں میں حکومت کے ساتھ تعاون کرنا عوام کا فرضِ عین ہوتا ہے۔ بات سیاحت کی چلی ہے تو کراچی پہنچ کر معلوم ہوا کہ کراچی کے بھی دو رُخ ہیں، یا بہت گندا یا بہت عالیشان۔ مزارِ قائد پر جانے کے لئے ٹکٹ خریدتے ہوئے بہت پریشانی ہوئی، پشیمانی بھی اور غصہ بھی آیا،قوم بانی پاکستان کے مزار پر فاتحہ پڑھنے کے بھی پیسے دیتی ہے۔ مگر ٹکٹ گھر سے آگے گردو غبار ، بے رونقی، پانی کی عدم دستیابی دیکھ کر پریشانی اور غصہ میں مزید اضافہ ہوگیا ۔ ٹھٹھہ میں مکلی کا قبرستان ہو یا شاہ جہاں مسجد، جہاں بھی چلے جائیں، بے شمار بھکاری آپ کا استقبال کریں گے، جن میں بچے اور بچیوں کی اکثریت ہے، ہماری حکومتوں کو اس لعنت سے چھٹکارے کے لئے قوم کی مدد کرنی چاہیے۔ یوں بہاول پور سے بہاول پور تک ہمارا تقریباً چار ہزار کلومیٹر سفر اختتام کو پہنچا، خوبصورت اور پُر امن پاکستان ، زندہ باد!


 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 291 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: muhammad anwar graywal

Read More Articles by muhammad anwar graywal: 581 Articles with 215590 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: