شاہوں کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور

(Dr Salim Khan, India)


للن کمار نے کلن خان سے پوچھا یار سنا ہے عدالت عظمیٰ نے شاہین باغ والوں سے بات چیت کے لیے دوثالث طے کردیئے ہیں ؟
جی ہاں للن وزیرداخلہ نے تین دن میں ملاقات کے لیے وقت دینے کا وعدہ کیا تو ہمادادیاں تین گھنٹے میں ان کے گھر جانے کے لیے تیار ہوگئیں ۔
تو کیا وزیر داخلہ ان سے ملے؟
وہ کیا ملتے؟ انہوں نے اپنی پولس کو کہلوا بھیجا کہ ان کو روکو اور کہو کہ آپ کا پیغام پہنچ گیا ہے لیکن جب وقت دیں گے تو اہتمام کردیا جائے گا۔
کہیں وزیر داخلہ ڈر تو نہیں گئے؟
ارے بھائی وہ تو پہلے ہی ڈرےہوئے ہیں۔ ملک معاشی حالت دن بہ دن بگڑتی جارہی ہے۔
میں نے سنا ہے امریکی صدر کے دورے سے قبل موڈی نام کی امریکی ایجنسی نے بھی ملک معاشی پر فاتحہ پڑھ دی ۔
لیکن اب تو سپریم کورٹ نے دوثالث طے کردئیے ہیں جو شاہین باغ سے نمائندوں سے بات چیت کریں گے ۔
اچھا مگر شاہین باغ والے بھی ان سے ملنے پر راضی ہوئے یا نہین ؟
بالکل ہوگئے ۔ وہ شاہوں یعنی شاہ اور مودی کی طرح اڑیل تھوڑی نا ہیں ؟
جی ہاں ان دونوں میں سے کوئی بات چیت کے لیے بلالیتا یا خود چلا جاتا تو یہ مسئلہ کب کا حل ہوجاتا؟
ارے بھائی وہ تو اس کی مدد سے انتخاب جیتنا چاہتے تھے ۔ وہ ایسا کیوں کرتے ؟ لیکن ان بیچاروں کو یہ چال مہنگی پڑی۔
اچھا میں نے سنا ہے ان لوگوں نے پچھلے ہفتہ شاہین باغ میں کسی کرگس شکار کرنے کے لیے بھیجا تھا جو شکار ہوکر چلا گیا؟
جی ہاں ،خیر سےوہ کالی میناپکڑی گئی ورنہ جانے کے بعد وہ اپنی ویڈیو میں نہ جانے کیا کیا غلط سلط باتیں ڈال کر تحریک کو بدنام کرتی ۔
للن بولا یہ بھی توہوسکتا ہے وہ شاہین باغ کی تعریف کرنے والی کوئی ویڈیو بناتی ۔ اس طرح کی بدگمانی مناسب نہیں ہے۔
کلن نے کہا یہ بدگمانی نہیں حقیقت پسندی ہے کیونکہ اس چور کی داڑھی میں تنکہ تھا۔
عورت کی داڑھی اور اس میں تنکہ؟ یہ کیا کہہ رہے ہیں کلن بھیا ۔
ارے بھائی محاورے میں عورت کی مونچھ داڑھی سب ہوتی ہے ۔ اس کی نیت اگر ٹھیک ہوتی تووہ بھیس اور نام بدل کر نہیں آتی ۔
اچھا تواس کا کیا نام تھا ؟
اس کا نام تو تھا گُنجا کپور لیکن اس نے اپنا تعارف برکھا کے طور پر کرایا
ارے یہ تو بہت غلط بات ہے ۔ شاہین باغ کی اسٹیج کنونیر گورکھپور کی پراچی پانڈے ہیں ۔ وہاں کوئی بھید بھاو تھوڑی نا ہے؟
جی ہاں ابھی میں نے شوشانت سنگھ کو بریانی کھلائی۔ اس سے پہلے چندر شیکھر آزاد آکر گئے ۔ شاہین باغ نے تو ذات پات کا فرق بھی مٹا دیا۔
یہ بات درست ہے لیکن چونکہ گنجا کپور کی نیت ٹھیک نہیں تھی اس کے احساسِ جرم نے اسے بھیس بدلنے یا برقعہ پہننے پر مجبور کردیا ۔
چلو اچھا ہوا شاہین باغ کی برکت سے ایک بےپردہ گنجا کو برقع پہننے کی توفیق تو ہوئی ۔
جی ہاں شاہین باغ کے بے شمار چمتکار میں سے یہ بھی ایک ہے لیکن وہاں موجود ہزاروں برقع پوش میں اس کالی بھیڑکی شناخت کیسےہوئی ؟
مودی جی کی چیلن کو اس کی جلد بازی مہنگی پڑی اور اسی لیے وہ دھر لی گئی۔
وہ کیسے بات سمجھ میں نہیں آئی۔
ارے بھائی اس نے فوراً کیمرہ چلا کر بہت سارے اوٹ پٹانگ سوالات کرنا شروع کردیئے اس سے دیگر مظاہرین کو شک ہوگیا ۔
لیکن وہاں تو سیکڑوں لوگ آتے ہیں۔ ایسے میں کیا ایک جاسوس کا پکڑا جانا حیرت انگیز نہیں ہے ؟
یقیناً یہ بہت مشکل کام تھا لیکن شاہین باغ کی شاہین صفت خواتین اس کو آسان کردیا۔
اچھا لیکن یہ ہوا کیسے؟
دراصل ایک خاتون نے اس سے نہایت سہل سوال پوچھا تم کہاں سے آئی ہو؟ تو اس نے بتایا لکھنو سے ۔
لیکن اس سے یہ کیسے پتہ چل گیا کہ وہ جاسوس ہے؟
اس خاتون نے پھر سوال کیا کہ تم گھنٹہ گھر کے مظاہرے میں ضرور گئی ہوگی ۔ اب ذرا وہاں کی ویڈیو دکھاو۔
ارے ہاں تو فطری سوال ہے کہ جو لکھنو سے دہلی آکر ویڈیو بنا رہی ہے ۔ وہ خود اپنے شہر کے مظاہرے کی ویڈیو نہ بنائے یہ کیسے ممکن ہے؟
ارے ہاں ۔ اس طرح تو وہ بیچاری بری طرح پھنس گئی۔
یار تم نےاپنی بیدار مغز خواتین کو آخر کیا سمجھ رکھا ہے؟ کیا تحریک یوں ہی دو ماہ سے چل رہی ہے؟
اچھا چلو مان گئےلیکن یہ بتاو کہ تم نے اسے کالی مینا کو مودی جی کی چیلن کیوں کہا ۔ وزیراعظم سے اس کا کیا تعلق ہے؟
ا رے بھائی ٹوئٹر پر مودی جی اس کو فولو کرتے ہیں اور جب انہوں نے نئے سال کی مبارکباد بھیجی تو اس نے اعتراف کیا کہ میں آپ کی پیدل فوجی ہوں ۔
تب تو لگتا ہے کہ وہ مودی جی کی ہدایت پر یا کم ازکم ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے وہ شاہین باغ گئی تھی ۔
جی مودی جی کو یہ کنفیوژن ہے کہ ’شاہین باغ اتفاق ہے یا تجربہ یعنی سازش ‘ ۔ شاید اسی غلط فہمی کو دور کرنے لیے انہوں نے گنجا کپور کو وہاں بھیجا ہو۔
یہ حسن اتفاق ہے کہ دوسروں پر سازش کا الزام لگانے والے خود سازش کرتے ہوئے پکڑے جائیں۔
یہ آپ کیسے کرسکتے ہیں کہ گنجا کسی خطرناک سازش کا حصہ تھی ۔
ارے بھائی یو ٹیوب پر اپنے چینل سے وہ پہلے بھی شاہین باغ میں بچیکی موت کو لاپرواہی کہہ کر تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش کرچکی ہے ۔
للن بھیا لیکن اپنی بہنوں نے اسے چھوڑ کیوں دیا۔ ایسی مار کٹائی کرنی چاہیے تھی کہ چھٹی کا دودھ یاد آجاتا۔
جی نہیں کلن ایساکرنے سے وہ مقصد حاصل ہوجاتا جس کی خاطر وہ آئی تھی یا بھیجی گئی تھی ۔
یہ میں نہیں سمجھا ۔
ارے بھائی وہ تحریک کو بدنام کرنے کے لیے آئی تھی اور وہ ہوجاتا ۔
لیکن اس کو پولس کے حوالے کردینے سے کیا فائدہ ہوا؟ پولس بھی اس کے آقاوں کی غلام ہے۔
ارے بھائی اپنے حسن ا خلاق سے انہوں نے بازی الٹ دی اور کہاکہ اگر وہ برقع کےبغیر آتی تب بھی اس کا استقبال کیا جاتا ۔
یہ تو بڑی اچھی بات ہے لیکن کیا انہوں نے یہ نہیں پوچھا کہ اس کو برقع کس نے دلایا ؟
بالکل پوچھا لیکن گُنجا نےڈر کر چپیّ سادھ لی اور کسی سوال کا جواب نہیں دیا اس کے باوجود اسےعزت و احترام کے ساتھ پولس کے حوالے کیا گیا ۔
لیکن ایک اخباری نامہ نگار کہہ رہاتھا کہ وہ ۲۰۱۴ سے قبل مودی کی مخالف تھی اوروزیراعظم کی کارگذاری سے متاثر ہو کر ان کی مداح بن گئی ۔
یہ جھوٹ ہے ۔ اس نے ۲۰۱۷ میں مودی پر تنقید کرتے ہوئے لکھاتھا گوڈسے نے گاندھی جی کو قتل کیا مگر مودی گاندھیائی اصولوں کے قاتل ہیں
ایک آدھ اختلاف تو ہوجاتا ہے
جی ہاں لیکن تمہیں پتہ ہونا چاہیے کہ انتخاب سے قبل اس نے راہل گاندھی کی کھلے عام تعریف و توصیف بھی کی تھی۔
یار اب تو میں بھی مودی جی کی طرح ان متضاد باتوں کو سن کر کنفیوژ ہورہا ہوں ۔
کیا بتاوں ! ۲۰۱۸ کی انتخابی مہم کے دوران اس نے راہل گاندھی کی حمایت اوران کی مخالفت کرنے والی نرملا سیتارامن کو پھٹکار بھی لگائی تھی۔
یہ بھی خوب ہے کہ جب راہل نے چوکیدارکو چور کہا تو اس کے ساتھ ہوگئی اور جب وہ الیکشن جیت گیا توچور کی وفادار بن گئی۔
ہاں سمجھ میں آیا یہ چڑھتے سورج کی پجارن ہے اور ایسے لوگ شاہین باغ جیسی عظیم تحریک کا کیا بگاڑسکیں گے؟انہیں کے بارےعلامہ اقبال نے فرمایا؎
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 219 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 921 Articles with 302409 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: