ایاّمِ حجاز

(Farhat Tahir, Karachi)

 یاسمین شفیق، کراچی

اﷲ تعالیٰ جب کسی کو نوازنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کی سوچ سے بھی زیادہ عطا کرتے ہیں شاید میں بھی اﷲ تعالیٰ کے ان خوش نصیب بندوں میں سے ہوں ۔ اﷲ کے گھر جانے اس کا مہمان بننے کا ارمان کس کے دل میں نہیں ہو گا ۔ میرے دل میں بھی یہی چاہت تھی لیکن اپنی کم مائیگی کا احساس اور سفر کے اخراجات کا سوچ کر خاموش ہوجاتی تھی پھر اﷲ کو میری کمزوری اور بے بسی پر رحم آیا اس نے میرے بچوں کے دل میں ڈالا اور انہوں نے کمال محبت سے سارے مسئلے حل کر دیئے ہم لوگ جب کسی کام کا ارادہ کرتے ہیں تو پہلے اس کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اس کے لئے دوڑ دھوپ کرتے ہیں اور کبھی اس میں کامیاب ہوتے ہیں کبھی ناکام لیکن اﷲ تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے لئے راستے خود بخود بنتے چلے جاتے ہیں میں اپنے مہربان رب کی بے انتہا شکر گزار ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کے لئے بھی دعا گو ہوں کہ اﷲ تعالیٰ انہیں بہترین اجر عطا فرمائے (آمین) ۲۳ تاریخ میری زندگی میں یادگار مبارک اور کامیاب تاریخ ہے۔ اسی تاریخ کو میری شادی ہوئی ۲۳ تاریخ کو میرا بیٹا مبشر پیدا ہوا پھر میری بیٹی کی شادی بھی ۲۳ تاریخ کو ہوئی ہم لوگوں نے پہلی مرتبہ عمرہ اسی تاریخ کو کیا اور اب ۲۳ جولائی کی مبارک تاریخ کو اپنے بیٹے فیصل کے ہمراہ حج کے لئے روانہ ہو رہی تھی بار بار اپنے گناہوں اپنی کمزوری اور اﷲ تعالیٰ کے بے انتہاء احسانا ت کا خیال آتا اور آنکھوں میں آنسو آ جاتے گھر اور بچوں کو چھوڑنے کا دکھ بھی تھا لیکن رب تعالیٰ کی مہمان بن کر اپنی قسمت پر نازاں بھی اے اﷲ میرے پیچھے سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھئے گا اور میری سعی کو میرے حج کو قبول فرما لیجئے گا میرے سفر کو میرے لئے آسان بنا دیجئے گا ۔(آمین)۔

سعودی ائیر لائن کا وقت دوپہر 2:45پر تھا ٹھیک 2:50پر ہم جہاز میں اپنی سیٹوں پر بیٹھ چکے تھے میرے دائیں طرف میرا بیٹا اور بائیں طرف ایک خاتون بیٹھی تھیں جن کا نام شازیہ تھا بعد میں ان سے اچھی خاصی دوستی ہو گئی تھی ہمارا 14چودہ لوگوں کا گروپ تھا چھ مرد اور آٹھ خواتین ان سے ہمارا تعارف پہلے ہی ہو چکا تھا سب لوگ اچھے اور ایک دوسرے سے تعاون کرنے والے لوگ تھے ، ساتھ رہنے والے اگر اچھے اور ملنسار ہوں تو بہت سارے مسئلے حل ہو جاتے ہیں۔اسی سلسلے میں کافی فکر مند تھی ۔ لیکن شکر اﷲ کا کہ اس نے میرے سارے اندیشے دور کر دیئے ہم لوگ پہلے جدہ پہنچے اور پھر وہاں سے مکہ روانہ ہوئے اور رات کے تقریباً گیارہ بجے مکہ پاکستانی مکتب پہنچ گئے چونکہ سب بہت زیادہ تھکے ہوئے تھے اس لئے کچھ وقت آرام کرنے کے بعد رات 3:30بجے عمرہ کی ادائیگی کے لئے حرم کی طرف روانہ ہوئے کیونکہ مکتب سے حرم کافی فاصلے پر تھا اس لئے حکومت پاکستان کی طرف سے بسوں کا انتظام کیا گیا تھا ۔ جو دن رات تھوڑے تھوڑے وقفہ سے چلتی رہتی تھیں۔ جب لوگ حرم پہنچے اس وقت تہجد کی اذانیں ہو رہی تھیں ہر طرف روشنی اور نور کا سماں تھا اور لوگوں کا سمندر جو کشاں کشاں حرم کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ بہت ہی حسین منظر تھا نہ یہاں سبزہ ہے نہ چشمہ او نہ ہریالی لیکن جتنا سکون اور محبت کا احساس یہاں ہے شاید کہ کسی بھی جگہ نہیں یہاں پہنچ کر ہر انسان باوقار ہو جاتاہے۔ یہ سب میرے رب کی عطا کردہ محبت اور عزت ہے ۔ چاروں طرف سے بلند و بالا عمارتوں میں گھرا خانہ کعبہ اپنی شان و جبروت میں بے مثال ہے وہ اپنے رب کی طرح سب سے بے نیاز ہے۔ چارو ں طرف سے اس کے پروانے امڈے چلے آ رہے ہیں۔ واہ مرے مولا، کیا شان و سطوت ہے آپ کی ……
ہم لوگوں نے تہجد اور فجر کی نماز کے بعد طواف کیا پھر سعی کے بعد باہر آئے فیصل نے سر منڈوایا اور اس طرح عمر ہ کی ادائیگی کے بعد باہر ہوٹل میں ناشتہ کیا یہاں کے ناشتہ کا بھی الگ ہی مزہ ہے۔ ایک طرف فرش پر بیٹھے ہم لوگ ناشتہ کر رہے تھے دوسری طرف کچھ انڈونیشیا کے لوگ تھے ہم نے انہیں ڈبل روٹی اور مکھن پیش کیا جو انہوں نے خوشی سے لے لیا ہم ایک دوسرے کی زبان نہیں جانتے تھے لیکن محبت کو محسوس کر سکتے تھے ۔ حج ہمیں ایک عالمی برادری ہونے کا احساس دیتی ہے ہم دنیا کے کسی بھی خطے میں رہیں ہم مسلمان ہیں امت مسلمہ کے ایک فرد کی حیثیت سے ہمارا دکھ درد ایک ہے۔ ہندوستان کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے مسلمانوں سے ملاقات ہوئی ان کی مشکلات مسائل اور بہت ساری باتوں سے آگاہی ہوں میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ ساتھ انہیں بھی اپنی دعاؤ ں میں یاد رکھتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ان کے مسائل کو حل کر دے ان کی مدد کرے اور انہیں اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ (آمین) اسی طرح ترکی اور انڈونیشیا کی خواتین سے مل کر بہت خوشی ہوئی ایک دوسرے سے گرم جوشی سے ہاتھ ملاتے سلام اور دعاؤں کے ساتھ ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کرتے قربان جایئے اپنے رب کے اس احسان پر کہ جس نے ایمان جیسی بڑی نعمت سے نوازا ہے کہ ہم ا س کے احسان اور شکر کبھی بھی ادا نہیں کر سکتے ۔

ہوٹل سے حرم کا فاصلہ بہت زیادہ تھا اسی لئے میں اپنے بیٹے کے ساتھ اکثر رات میں تین ،ساڑھے تین بجے ہوٹل سے بس کے ذریعے روانہ ہوتی اور ہم تہجد کے وقت حرم پہنچ جاتے وہاں تہجد اور فجر کی نماز کے بعد طواف کرتے اور پھر باہر آ کر ناشتہ کرتے پھر ہوٹل واپس آ جاتے کیونکہ گرمی بہت تھی اور ہم لوگ چاہتے تھے کہ حج سے پہلے کوئی بیمار نہ ہو اور اﷲ تعالیٰ صحت و تندرستی کے ساتھ حج کے فرائض ادا کروا دے۔

۳ اگست کی صبح جب ہم لوگ حرم پہنچے تو گزشتہ رات کی خبروں اور کشمیر کی بگڑتی صورت حال کی وجہ سے میرا دل بہت مغموم تھا دل چاہ رہا تھا کہ کوئی تو ہو جس سے دل کی باتیں کروں خانہ کعبہ پر نظر پڑتے ہی دل اور آنکھیں دونوں قابو سے باہر ہو گئے۔ یا اﷲ خانہ کعبہ کے رب تیری یہ ناچیز اور کمزور بندی تجھ سے فریاد کر رہی ہے۔ امت مسلمہ بالکل بے سہارا ہے ۔ نبیؐ مہربان کے فرمان کے مطابق کافروں اور مشرکوں نے انہیں تر نوالہ بنا لیا ہے ۔ کشمیر، فلسطین ، شام، افغانستان ہر جگہ امت مسلمہ کا خون بہہ رہا ہے کسی بھی مسلمان حکمران کو اس کا احساس نہیں۔ مالک ارض و سماں ہمیں حضرت ابو بکر ؓاور عمر فاروقؓ جیسے حکمران نہیں تو صلاح الدین ایوبی جیسا حکمران عطا فرما دے جو امت کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے۔ جنہیں اﷲ کی مدد کا یقین ہو اور وہ اس یقین کے سہارے پوری دنیا سے ٹکرانے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ مالک ہم اپنے گناہوں پر شرمسار لیکن تیری رحمت کے امیدوار ہیں ہماری دعاؤں کو قبول فرما لے ۔(آمین) دعاؤں کے بعد مجھے اطمینان اور سکون مل گیا جیسے میرے رب نے مجھے تسلی دی ہو کہ اﷲ کی مدد انشاء اﷲ ضرور آئیگی لیکن اپنے وقت پر بس صبر اور نماز کے ساتھ اپنے رب کو یا دکرتے رہو۔

پھر باہر آ کر ہم لوگوں نے حرم کے قریب ہوٹل میں ناشتہ کیا اور اپنے ہوٹل واپس آ گئے۔

پاکستانی گورنمنٹ نے اپنے حجاج کرام کے لئے ہوٹل ہی میں کھانے اور ناشتے کا انتظام کیا ہوا تھا ۔ جب دوسرے ملکوں کے حاجیوں کو دال سبزی کی فکر میں سرگرداں دیکھا تو اﷲ کا شکر ادا کیا کہ دیارِ غیر میں ہمیں اس فکر سے نجات مل گئی کہ آج کیا پکاؤں؟ پاکستانی ہوٹل میں کھانے کا بہت ہی اچھا انتظام تھا تازہ پکا ہوا گرم گرم کھانا آتا کبھی سبزی گوشت ،کبھی مکس سبزی ،کبھی قورمہ ،کبھی پلاؤ اس کے ساتھ جوس کا ڈبہ یا کوئی پھل سوجی کا حلوہ یا سوئیوں کی کھیر جو بہت ہی مزیدار ہوتی غرض بہت ہی اچھا انتظام تھا حرم کے دور ہونے کی وجہ سے ہم لوگ اکثر نمازیں یہاں پڑھتے حج سے پہلے ہم لوگو ں نے تین عمرے کئے اور اﷲ کے فضل سے بے شمار طواف کعبہ ہر عمرہ اور طواف کے بعد رب کے ساتھ قربت کا احساس اور بڑھ جاتا اس کیفیت میں اﷲ تعالیٰ سے جب بھی دنیا کے حوالے سے دعائیں مانگیں اسے مقبول ہوتا ہوا محسوس بھی کیا۔ اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آخرت کے حوالے سے مانگی گئی تمام دعاؤں کو بھی اپنی بارگاہ میں قبول فرما ئے۔ (آمین)

مکہ مکرمہ میں ہم لوگوں نے اہم مقامات کی زیارت کی جس میں غار حرا، جبل ثور، میدانِ عرفات اور شعب ابی طالب کی گھاٹی وغیرہ شامل ہے غار حرا کو دیکھ کر تو حیرت ہوتی ہے کہ اﷲ کے نبی ﷺ کس طرح اتنی اونچائی پر چڑھ کر جاتے تھے اور وہاں رہ کر تنہائی میں غورو فکر اور عبادت کیا کرتے تھے۔ دل میں آپﷺ کی عظمت کا احساس اور بڑھ گیا بے شمار درودوسلام نبیﷺ مہربان اور آپ کی آل پر ۔ میدان عرفات کو دیکھ کر تو تصور میں حشر کا میدان آ گیا یہاں قیامت کے دن لوگ جمع ہو ں گے اور میزان قائم ہو گا اﷲ تعالیٰ اس دن ہم سب کو اپنے عرش کے سائے میں لے لیجئے گا اور بغیر حساب کے اپنی رحمت میں داخل کر لیجئے گا۔(آمین) جب ثور جہاں نبیﷺ نے خطبہ حج دیا تھا کچھ لوگ اوپر جا رہے تھے کچھ سیڑھیوں پر کھڑے دعائیں کر رہے تھے ہم بھی ان میں شامل ہو گئے پھر آہستہ آہستہ حج کے اجتماع کا دن بھی آ گیا حج وہ اہم ترین عبادت ہے جو گزشتہ زندگی کے تمام گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ پیار ے نبی ﷺ نے فرمایا جس نے حج کیا اور اس میں نہ تو کوئی فحش بات کی اور نہ ہی اﷲ کی نافرمانی کی تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہو کر واپس ہو گا جیسا اس دن تھا جس دن پیدا ہوا۔
مکتب والوں نے کہا کہ آپ لوگ 7ذی الحج کو تیار رہیں کسی بھی وقت منیٰ کی طرف روانگی ہو سکتی ہے اتفاق سے اس دن جمعۃ المبارک تھا ان کے اعلان کی وجہ سے ہم حرم نہ جا سکے اور قریب کی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز کی ادائیگی کی سب لوگ تیاریوں میں لگے تھے میں نے بھی غسل کے بعد نیا لباس پہنا۔ نیا عبایا جو خاص اس دن کے لئے سلوایا تھا پہنا ایک بیگ میں کپڑے کا ایک جوڑا باقی ضرورت کی چیزیں رکھیں تقریباً مغرب کے بعد منیٰ کی طرف روانہ ہوئے لیکن راستے میں بہت زیادہ رش کی وجہ سے رات گئے منیٰ پہنچے تمام راستے مر د اونچی آواز میں اور خواتین آہستہ آواز میں اﷲ اکبر اور تلبیہ پڑھتی رہیں۔ ’’میں حاضر ہوں اے اﷲ میں حاضرہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں بے شک تمام تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں تمام نعمتیں تیری ہی ہیں ساری بادشاہی تیرے لئے ہی ہے تیرا کوئی شریک نہیں ۔‘‘ اﷲ تعالیٰ سے یہ عہد و پیمان باندھتے ہوئے ہماری زندگی کا ایک بہت ہی مبارک سفر شروع ہو چکا تھا مجھے نبی مہربان ﷺ کی حدیث مبارک کا ایک مفہوم یاد آ رہا تھا کہ حج مبرور کا بدلہ تو بس جنت ہے مبرور کے معنٰی ہیں مقبول یا قبول کیا گیا حج۔ سسکیوں کے درمیان بار بار اپنے رب سے دعا کر رہے تھے کہ ’’اے میرے رب ہماری تمام غلطیوں کو معاف کر کے ہمارے حج کو قبول فرمائے ہم اس کے بدلے آپ کی رضا اور جنت کے طلب گار ہیں۔ ‘‘

منیٰ کے خیمے میں فرش پر گدے بچھے ہوئے تھے جس پر چلنا اور آنا جانا خاصا دشوار تھا۔خیمہ پہلے ہی خواتین سے بھرا ہوا تھا۔ ہم لوگوں نے بھی جگہ بنا کر کچھ دیر آرام کیا پھر تہجد کے وقت اٹھ کر وضو خانہ کا رخ کیا۔ نماز کے بعد دیر تک اپنے والدین، بزرگوں، اپنے شوہر، عزیز و اقارب کے لئے اپنے بہن بھائیوں کے لئے اپنے بچوں اور ان کے بچوں اور جن لوگوں نے دعاؤں کے لئے کہا تھا سب کے لئے دعائیں کیں اپنے ملک کے لئے امت مسلمہ کے لئے اور اپنی تحریکی ساتھیوں کے لئے ’’ اے اﷲ ان سب کے حق میں میری دعاؤں کو قبول فرما۔‘‘ (آمین)

آٹھ ذی الحج کا دن اور رات ہم لوگوں نے خیمہ ہی میں گزارا۔۹ذی الحج کی صبح نماز کے فوراً بعد بس کے ذریعے عرفات کی جانب روانہ ہوئے۔ عرفات میں ٹھہرنا ’’وقوف عرفات‘‘ کہلاتاہے۔ یہ حج کا سب سے اہم فریضہ اور رکن اعظم ہے۔ عرفات میں بھی خواتین کا کیمپ پہلے ہی سے بھرا ہوا تھا۔ ہم لوگ کیمپ کے باہر چٹائیاں بچھا کر بیٹھ گئے۔ کیمپ میں ناشتہ کا انتظام تھا۔ فیصل اور دوسرے مردوں نے ناشتہ لا کر دیا۔ ناشتہ کے بعد واش روم اور وضو خانہ کی تلاش میں نکلے جو کچھ دور جا کر آسانی سے مل گیا لیکن رش بہت تھا۔ وہاں سے فارغ ہو کر آ رہے تھے کہ راستے میں فیصل مل گیا اس نے کہا اگر خطبہ اور نماز کے لئے مسجد نمرہ جانا ہے تو فوراً تیار ہو جائیں نہیں تو جگہ نہیں ملے گی چونکہ پاکستانی کیمپ مسجد نمرہ کے قریب تھا اس لئے میں فیصل اور میری ساتھی فرخندہ اور اس کے شوہر پیدل مسجد کی طرف روانہ ہو گئے۔

آج کا دن ہماری زندگی کا یادگار دن تھا۔ہم اﷲ تعالیٰ کے احسان کی بدولت تشکر اور خوشی کے جذبہ سے سرشار تھے راستہ میں اﷲ اکبر اور تلبیہ پڑھتے ہوئے مسجد پہنچ گئے مسجد کے اندر بھی داخل ہو گئے۔ لیکن رش کی وجہ سے جگہ نہ مل سکی باہر ہر طرف سخت گرمی اور تیز دھوپ تھی فرخندہ اور اس کے شوہر کسی اور جانب چلے گئے میں اپنے بیٹے کے ساتھ فوارے کے قریب چٹائی بچھا کر بیٹھ گئی۔اتنی سخت گرمی میں ہم پاکستان میں گھر سے نکلے کا سوچ بھی نہیں سکتے لیکن یہاں کمال کا نظم و ضبط تھا ایسے میں کچھ لوگ پانی کی ٹھنڈی بوتلیں پکڑا رہے تھے کوئی پانی پی رہا تھا تو کوئی سر پر پانی ڈال رہا تھا میں آنکھیں بند کر کے اپنے رب سے راز و نیاز میں مصروف ہو گئی اے میرے مولا تیرا کتنا شکر کروں کہ جس مسجد اور خطبے کو صرف ٹی وی پر دیکھا اور سناتھا آج ہماری آنکھوں کے سامنے ہے دل یہ چاہ رہا تھا کہ ایک ایک لمحے کو اور منظر کو اپنے دل میں اپنی آنکھوں اور ذہن میں بٹھا لوں اپنے رب کو منالوں اسے راضی کر لوں کہ دوبارہ یہ موقع ملے یا نہ ملے۔ فیصل بھی زیرِ لب اﷲ تعالیٰ سے محو گفتگو تھا لیکن ساتھ ہی اسے میری فکر بھی تھی وہ بار بار مجھ سے پوچھتا۔ امی آپ کی طبیعت کیسی ہے اور میں اسے الحمد ﷲ کہہ کر تسلی دے دیتی پھر خطبہ شروع ہوا خطبہ کے بعد امام صاحب نے دعائیں مانگیں لو گ رو رہے تھے اور اﷲ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے تھے کہ آج اپنی زندگی کے تمام گناہوں کی تلافی کرنا تھی اور اﷲ کو راضی کرنا تھا پھر ظہر اور عصر کی نماز یں ایک ساتھ ادا کی گئیں اس کے بعد ہم لوگ اپنے کیمپ واپس آ گئے کھانا کھا کر کچھ دیر کے لئے میں نے لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں اتنے میں بادلوں کے زور و شور سے گرجنے کی آوازیں آنے لگیں سارے لوگ کیمپ سے باہر آ گئے اس کے بعد موسلا دھار بارش اور بجلی کے کڑکنے کی آوازوں نے سب کے ہوش اڑا دیئے سارے لوگ بارش میں کھڑے بھیگ رہے تھے اور ہاتھ پھیلائے رو رو کر اﷲ سے معافی مانگ رہے تھے اور اپنے حج کی قبولیت کے لئے التجائیں کر رہے تھے۔ تیز بارش اور ہوا کے دباؤ کی وجہ سے کیمپ بھی گر گیا لیکن کوئی افرا تفری نہیں ہوئی گھنٹہ بھر بعد بارش رکی تو یوں لگا کہ اﷲ پاک نے بارش کے ذریعے ہمیں پاک کر دیا ہے اور ہمارے اوپر ایک سکینت سی طاری ہو گئی اور ہمیں اپنا آپ ہلکا پھلکا محسوس ہوا ۔ شکر الحمد ﷲ۔

عرفات کے میدان سے مزدلفہ کی جانب روانگی! بارش رکنے کے فوراً بعد لوگ مزدلفہ چلنا شروع ہو گئے تھے لیکن رش بہت زیادہ تھا اور گاڑیاں کم ۔ لوگ بسوں میں الگ الگ نمبروں کے حساب سے بیٹھ رہے تھے بہت دیر بعد ہمیں بھی جگہ مل گئی اس سفر میں ایک دلچسپ واقعہ ہوا راستے میں ڈرائیور نے بتایا کہ آج کے بعد گاڑی آپ لوگوں کو دو تین دن بعد بارہ تاریخ کو ملے گی اس لئے مزدلفہ سے منیٰ اور جمرات وغیرہ آپ لوگ اپنے طور پر کریں گے ہماری گاڑی میں ایک صاحب جو پہلے بھی حج کر چکے تھے انہو ں نے مشورہ دیا کہ ہم مزدلفہ کے آخیر میں اتریں گے تاکہ منیٰ قریب ہو اور ہمیں منیٰ جانے میں آسانی ہو اس چکر میں ڈرائیور صاحب جب بھی پوچھتے کہ یہاں اتار دیں لوگ کہتے نہیں کچھ اور آگے جائیں یہاں تک کہ ہم مزدلفہ کے بعد منیٰ میں داخل ہو گئے وہاں سے مکہ شہر پہنچ گئے گاڑی نے تین چار چکر لگائے لیکن اب سارے راستے بند ہو چکے تھے جہاں سے بھی گزرتے ہر موڑ پر پولیس والے بیٹھے تھے رات کے دو بج رہے تھے لوگ پریشان تھے آخر میں سب نے ڈرائیور سے کہا جہاں سے بھی مزدلفہ قریب پڑے ہمیں اتار دینا ہم لوگ پیدل چلے جائیں گے کچھ دیر بعد ایک موڑ پر ڈرائیور نے ہمیں اتار دیا اور سب لوگ مزدلفہ کی جانب روانہ ہو گئے کچھ دور چلنے کے بعد مزدلفہ کی حدود شروع ہونے کا بورڈ نظر آیاتو ہم لوگوں نے اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کیا مزدلفہ ہم سے گم ہو گیا تھا ہمیں واپس مل گیا تھا وہاں پہنچ کر مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں وضو خانہ اور واش روم کی تلاش شروع ہوئی یہاں بھی اس کا بہت اچھا انتظام تھا

وہاں سے فارغ ہو کر اپنے اپنے تھیلے نکالے اور شیطان کو مارنے کے لئے کنکریاں جمع کرنی شروع کیں ۔ ۷۰۔۸۰ کنکریاں جمع کرنے کے بعد واپس آئے توفجر کی اذانیں ہو رہی تھی سب نے نماز ادا کی پھر ناشتہ کیا آج ۱۰ ذی الحج تھا طلوع آفتاب کے بعد منیٰ جانے کے لئے سب تیار تھے ہم لوگ پیدل ہی منیٰ کی طرف چل پڑے منیٰ پہنچنے کے بعد اپنے خیمے کو تلاش کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ رش کی وجہ سے تمام ساتھ آگے پیچھے ادھر ادھر ہو گئے تھے خدا کا شکر میرا محرم میرے بیٹا ساتھ تھا بہت مشکلوں سے اپنا خیمہ تلاش کیا وہاں سامان رکھ کر رمی کے جمرات کی طرف روانہ ہوئے رمی کے معنی ہیں شیطان کو کنکری مارنا آج جوس کے ڈبے ساتھ رکھ لئے یہ ایک مشقت طلب کام تھا حج تو ویسے ہی مشقت والی عبادت ہے اور خاص طور پر شیطان کو کنکریاں مارنا بار بار یہ خیال آ رہا تھا کہ شیطان چاہے باہر کا ہو یا اپنے نفس کا اس کو مارنا اپنے کنٹرول میں رکھنا کتنا مشکل کام ہے جس کے لئے اﷲ تعالیٰ ہمیں تربیت سے گزار رہے ہیں ۔ سخت گرمی اور نہ ختم ہونے والی سرنگ جہاں ایک سرنگ ختم ہوتی وہیں سے دوسری سرنگ شروع ہو جاتی ۔ سعودی حکومت نے جگہ جگہ ٹھنڈے پانی کی سبیل لگائی ہوئی تھی کچھ پولیس والے فواروں کے ذریعے پانی پھینک رہے تھے اوپر پانی پھینکنے والے فوارے لگے تھے جگہ جگہ ڈاکٹر اور طبی عملہ بھی موجود تھا ہم لوگ کبھی پھل، کبھی جو س اور کبھی پانی پیتے ہوئے ساتھ ساتھ استغفار پڑھتے ہوئے جا رہے تھے وہاں پہنچ کر سب سے بڑے شیطان کو ساتھ کنکریاں ماریں۔اور پھر اسی طرح دوسرے راستے سے واپس آئے ہم لوگوں کو فون کے ذریعے بتایا گیا تھا کہ ا ٓپ لوگو ں کی قربانی مغرب تک ہو جائے گی اس لئے مغرب کے بعدحلق کروا کر احرام اتار دیں چنانچہ ہم لوگوں نے ایسا ہی کیا مردوں نے حلق کروایا یعنی بال اتروائے اور خواتین نے تقصیر یعنی بال کتروا لئے اور احرام کھول دیا۔

رات منیٰ میں قیام کے بعد دوسرے دن صبح نماز اور ناشتہ سے فارغ ہو کر پھر جمرات کی طرف جانا تھا وہاں اسی طرح دوسرے شیطان کو کنکریاں ماریں اور واپس آ کر ہوٹل کی طرف چل پڑے وہاں پہنچے کر غسل کیا کپڑے تبدیل کئے کھانا کھایا ظہر کی نماز ادا کی اور حرم کی طرف روانہ ہوئے وہاں طواف کیا جسے طواف زیارت کہتے ہیں اس کے بعد دو نفل ادا کئے اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی اور بال کتروائے وہاں بھی زور و شور سے بارش ہو رہی تھی

مغرب کی نماز کے بعد ہم لوگ منیٰ واپس آ گئے ۔ رات بہت زیادہ ہو گئی تھی اور سب لوگ بہت زیادہ تھکے ہوئے تھے اس لئے عشاء کی نماز کے بعد فوراً ہی سو گئے۔ دوسرے دن ۱۲ تاریخ یعنی حج کا آخری دن تھا۔ آخری اور تیسرے شیطان کو کنکریاں مارنے کے بعد شام تک منیٰ سے روانہ ہو نا تھا اگر رات ہو جاتی تو منیٰ ہی میں رات گزارنی پڑتی اس لئے زیادہ تر لوگ ۱۲تاریخ کی شام ہی اپنے اپنے ہوٹل روانہ ہو گئے حج کے بعد بار بار قرآن مجید کی ایک ہی آیت یاد آ رہی تھی جس میں اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر تمہیں سبقت حاصل ہونا ہے تو دوڑو اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمانوں اور زمین جیسی ہے۔ اﷲ تعالیٰ حج کے ذریعے ہمیں یہی پیغام دے رہے ہیں کہ اگر تمہیں جنت حاصل کرنی ہے تو عیش و آرام کو چھوڑ کر صبر واستقامت کے ساتھ اﷲ دین کو قائم اور سربلند کر نے کی جدو جہد کرو۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے (آمین)

حج کے بعد ۱۷تاریخ کو میں اپنے بیٹے فیصل اور بھانجی عزیزہ اور اس کے شوہر ظفر اور دوسرے لوگوں کے ساتھ طائف میں زیارت کے لئے گئے ہمیں بتایا گیا کہ طائف ایک سربلند علاقہ ہے جہاں انگور ، کینو اور دوسرے پھلوں کے باغات کثیر تعداد میں ہیں۔ اسلام سے پہلے بھی یہاں کے لوگ بہت امیر کبیر اور دولت مند تھے جب مکہ والوں نے آپﷺ کو جھٹلا دیا تو آپﷺ وہاں اسلام کا پیغام لے کر پہنچے لیکن وہاں کے سرداروں نے ناصرف انکار کیا بلکہ آوارہ لڑکوں کو پیچھے لگا دیا جنہو ں نے آپﷺ پر اتنے پتھر برسائے کہ آپ ﷺلہو لہان ہو گئے حضرت جبرائیل تشریف لائے اور فرمایا ۔ ’’آپﷺ حکم دیں تو دونوں پہاڑوں کے درمیان ان کو پیس کر ختم کر دیا جائے ۔ لیکن نبی ﷺ مہربان نے دعا فرمائیں کہ یہ نہیں تو ان کی آنے والی نسلوں میں سے کوئی ایمان لائے گا ۔ اور کہا جاتا ہے کہ محمد بن قاسم ان کی نسلوں میں سے تھے ۔ جنہوں نے سندھ اور پاکستان ناصرف اسلام کا پیغام پہنچایا بلکہ اس کو غالب اور حکمران بھی بنایا۔ الحمد ﷲ ہم نے ان ونوں پہاڑوں کو دیکھا اور دل اﷲ تعالیٰ کی عظمت اور تشکر کے احساس سے لبریز ہو گیا۔ پھر ہمیں عبداﷲ بن عباس کے مکتب اور گھر کی زیارت بھی کروائی گئی وہاں چار دیواری کے اندر آپ کی قبر مبارک بھی دیکھی۔ کاش جو لوگ دولت اور حکمرانی میں شان وشوکت تلاش کرتے ہیں ان کی سادگی، وقار اور عظمت سے کوئی سبق حاصل کر سکیں۔ عزیزہ نے وہاں سے انگور خریدے جو بہت ہی مزیدار تھے ۔ ہم لوگوں نے مسجد میں جا کر دو نفل ادا کئے جب بس میں واپس آئے تو بس کینو کی خوشبو سے مہک رہی تھی لوگ خود بھی کھا رہے تھے دوسروں کو بھی کھلا رہے تھے۔واقعی اہل طائف پھلوں کے حوالے سے بہت ہی خوش قسمت ہیں ۔ اس کے بعد میقات میں اتر کر مردوں نے احرام پہنا سب نے مسجد میں جا کر دو نفل پڑھ کر عمرے کی نیت کی اور حرم کی طرف روانہ ہوئے اس مرتبہ عمرہ کے ساتھ ساتھ حطیم میں نماز پڑھنے کی سعادت بھی حاصل ہو گئی الحمد ﷲ اب آہستہ آہستہ مکہ سے روانگی کے دن بھی قریب آ رہے تھے دل میں ایک ہلچل سی تھی۔ دل کبھی مکہ کی جدائی کے خیال سے رو دیتا اور کبھی اﷲ کے محبوب اس کے رسول کے شہر مدینہ منورہ جانے کے خیال سے سرشار ہو جاتا ۔ ہم لوگوں نے آخری طواف ۲۰ تاریخ کو کیا۔ صبح تہجد اور فرض پڑھی آنکھیں خانہ کعبہ پر جمائے اﷲ تعالیٰ سے باتیں کئے جا رہے تھے ۔ ’’اے اﷲ ہمیں واپس بھیج کر چھوڑ مت دیجئے گا ہمیں بھی ہمارے بچوں ان کے بچوں سب کو بار بار یہاں آنے کی توفیق عطا کیجئے گا سب کے لئے اور امت مسلمہ کے بہت ساری دعائیں اﷲ تعالیٰ ان سب دعاؤں کو قبول فرما لیجئے گا۔‘‘ (آمین)

مدینہ مدینہ !!
دوسرے دن شام کے وقت ہم لوگ مدینہ کی طرف روانہ ہو رہے تھے ہوٹل کے عملے نے بس میں آ کر سب کو خدا حافظ کہا اور عطر کا ہدیہ پیش کیا سب نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ میں سوچ رہی تھی اے شہر بے مثال تجھے کیا مثال دوں مکہ پیغمبروں کی سرزمین جس کے لئے اﷲ تعالیٰ کے خلیل نے دعا کی اور اس دعا کے جواب میں اﷲ تعالیٰ نے اسے لوگوں کے لئے مرکز و محور بنا دیا ۔ ہر دل اس کی محبت کا اسیر ہے جو اس میں داخل ہو گیا وہ امن وسلامتی میں داخل ہو گیا اور جس نے اس پر بری نگاہ ڈالی اسے نقصان پہنچانا چاہا وہ تباہ و برباد ہو گیا مکہ جہاں جا کر کبھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا۔ یہ میرے رب کا شہر ہے خانہ کعبہ میرے رب کا گھر ہے یہ ہم سب کا شہر ہے دنیا کے ہر مسلمان کا شہر۔
دنیا کے بت کدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا
ہم اس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہمارا

رات کے دو تین بجے ہم لوگ مدینہ منورہ پہنچ گئے بس میں مسافر زیادہ اور ہوٹل میں جگہ کم ہونے کی وجہ سے لوگوں کے گروپ کی صورت میں مختلف ہوٹلوں میں ٹھہرایا گیا جب ہم اپنے ہوٹل پہنچے تو دور سے مسجد نبوی کے مینار اپنا جلوہ دکھا رہے تھے ہماری آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔
وہ دانائے سبل ختم الرسل مولائے کل جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغ وادیٔ سینا
نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآں وہی فرقاں وہی ےٰسیں وہی طہ

دل یہ چاہ رہا تھا کہ جلد از جلد وہاں پہنچ کر آپ کی خدمت میں درود و سلام پیش کروں لیکن تھکن بہت زیادہ تھی اس لئے کچھ دیر آرام کرنے کے بعد وضو کیا اور سب مل کر مسجد نبوی کی طرف روانہ ہوئے مسجد ہوٹل سے پیدل ۲۰ منٹ کے فاصلے پر تھی آنکھو ں میں محبت کے آنسو اور لبوں پر درود و سلام کا نذرانہ لئے گیٹ نمبر ۲۴ کے اندر داخل ہوئے ہمارے رب تو سلامتی والا ہے اور تیری طرف سے سلامتی ہے ہمیں سلامتی کے ساتھ زندہ رکھ اور اپنے گھر میں داخل فرما جو سلامتی والا گھر ہے اور اے اﷲ لاکھوں درود و سلام نبیؐ پر آپ ﷺکی آل اور آپﷺ کے اصحاب پر اے اﷲ ہمارے گناہوں کو معاف فرما دیجئے اور ہمارے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیجئے دل میں بار بار یہ خیال آ رہا تھا کہ اﷲ تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ آج ہم اس شہر اس جگہ موجود ہیں جہاں کبھی نبیﷺ رحمت آپﷺ کے ساتھی ابو بکرؓ ، عمرؓ، عثمان ؓاور علیؓ اور بے شمار جانثاران اسلام موجود ہوتے تھے۔ مسجد نبویﷺ اسلام کے لئے مینارۂ نور ہے یہاں سے اسلام کا نور پھیلا اور ساری دنیا کو منور کر دیا ۔ آدھی سے زیادہ دنیا پر اسلام غالب اور حکمران ہوا۔ مولا وہ کیا وقت تھا جب قیصرو کسریٰ کے خزانے اونٹوں پر لدا چلا آتا تھا دولت کی ایسی ریل پیل ہوتی کہ زکوٰۃ دینے والے بہت تھے اور لینے والا کوئی نہ تھا وقت کے بڑے بڑے بادشاہوں اور جانبروں کو اسلام کے سامنے سرنگوں کر دیا اسلام کی وہ شان و شوکت اور آج کی زبوں حالی نے دل تڑپا دیا مسجد میں دو نفل پڑھ کر دعا کی اﷲ مسلمانوں کی غفلت دور کر دے انہیں اپنے رب کی اور اپنی پہچان عطا کر اور ہمیں ماضی سے سبق لینے والابنا دے

فجر کی نماز کے بعد ہم لوگ ہوٹل واپس آ گئے اس ہوٹل میں تیسری منزل پر ہمارا کمرہ تھا اور دوسری منزل پر کھانے اور ناشتے کا انتظام تھا ہمارے کمرے میں پانچ خواتین نے چار بیڈ کے ساتھ اپنا سامان سیٹ کر لیا جب ظہر کی نماز کے لئے مسجد کی طرف گئے تو صحیح طریقے سے راستے کو دیکھا سڑک کے دونوں طرف بے شمار اشیاء ضرورت کی دکانیں شاپنگ مال اور دکانوں سے بعد میں ہم لوگوں نے گھر والوں کے لئے خریداری کی چونکہ گرمی بہت زیادہ تھی اس لئے ہم لوگ اکثر عصر سے عشاء کی نماز تک مسجد میں ہی رہتے یہ وقت ہماری زندگی کے یادگار لمحات میں سے ہے اس وقت مسجد میں بچیوں اور خواتین طالب علموں کا ہجوم ہوتا اکثر خواتین کے ساتھ چھوٹے بچے بھی ہوتے جگہ جگہ مدرسات گروپ بنا کر لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ بیٹھی کہیں ناظرہ اور کہیں حفظ کی محفلیں جمی ہوتیں اس کے علاوہ عام خواتین بھی چھوٹی چھوٹی صورتیں پڑھ کر اپنی قرأت کی تصحیح کر رہی ہوتیں۔ غرض بہت ہی حسین منظر ہوتا ہم لوگ بھی کبھی قرآن ،کبھی درود اور کبھی ذکر الٰہی میں مشغول ہوتے۔ روضہ رسولﷺ پرحاضری کے لئے خواتین کے لئے فجر اور عشاء کی نماز کے بعد کا وقت مقرر تھا۔

دوسرے دن ہم بھی فجر کی نماز کے بعد روضہ رسول ﷺکی حاضری کے لئے انتظار گاہ میں بیٹھ گئے یہاں مسجد کی چھت میں کچھ گنبد ایسے بنائے گئے ہیں جو بٹن دبانے سے ہٹ جاتے ہیں اور آسمان نظر آنے لگتا ہے ۔ بعض سیدھی سادی خواتین اسے بھی معجزہ سمجھ کر دعائیں کر رہی تھیں رو رہی تھیں۔ تین چار گھنٹے انتظار کے بعد گیٹ کھلنے کی نوید سنائی دی۔ سب اس طرف دوڑ پڑے لیکن آدھی خواتین گئی تھیں کہ گیٹ پھر بند ہو گیا پھر تقریباً ایک گھنٹہ بعد ہمارے باری آئی اتنی جدوجہد کے بعد جب وہاں پہنچے تو اس قدر رش تھا کہ اندر جانے کا سوال ہی نہ تھا باہر ہی سے آپ کی خدمت میں درود و سلام عرض کیا دو رکعت نماز پڑھ کر دعائیں مانگیں اور واپس آ گئے دوسرے دن پھر گیٹ کھلنے کے انتظار میں بیٹھے تھے کبھی قرآن کی تلاوت کرتے کبھی درود شریف کا ورد اور کبھی دعائیں کرتے کہ ریاض الجنۃ میں پہنچ کر نماز ادا کروں اور اپنے ساتھ ان دوسرے لوگوں کاسلام بھی آپﷺ کی خدمت میں پہنچاؤں جنہوں نے آتے وقت یاد دہانی کروائی تھی آج آپﷺ کے ممبر تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی وہاں کھڑے کھڑے دو رکعت نماز ادا کی اور اپنے سب لوگوں کی طرف سے درود و سلام پڑھتے ہوئے باہر آ گئے تا کہ دوسروں کو بھی موقع ملے

گورنمنٹ کی طرف سے مدینہ میں بھی زیارت کا انتظام تھا یہاں مسجد نبوی ﷺکے علاوہ چار تاریخی مساجد ہیں مسجد جمعہ اور مسجد غمامہ تو بس میں بیٹھے بیٹھے باہر ہی سے دیکھیں مسجد قبلتین اور مسجد قباء میں اتر کر وہاں دو دو رکعت نمازیں ادا کیں ایک صحیح حدیث کے مطابق مسجد قباء میں دو رکعت نماز پڑھنے کا ثواب ایک مقبول عمرہ کے برابر ہے اﷲ تعالیٰ ہماری نمازوں اور دعاؤں کو قبول فرمائے۔ (آمین) اس کے بعد ہمیں جنگ خندق کے مقام پر لے جایا گیا آج وہاں پر کشادہ سڑکیں اور بلند و بالا عمارتیں کھڑی ہیں۔ میرے ذہن میں بار بار جنگ خندق کے واحد شہید حضرت سعد بن معاذؓ کا خیال آ رہا تھا حضرت سعد بن معاذؓ اسلام لانے سے پہلے یہودی قبیلہ نبو قریظہ کے حلیف تھے بنو قریظہ نے جنگ خندق کے موقع پر نبیﷺ سے عہد کے باوجود ناصرف مشرکین مکہ کا ساتھ دیا بلکہ ان کے ساتھ حملے میں شریک بھی ہوئے جنگ میں اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کامیابی عطا فرمائی تو نبی ﷺ نے بنو قریظہ کا محاصرہ کر لیا اس وقت انہو ں نے سعد بن معاذؓ کو اپنا منصف بنایا کہ آپ جو فیصلہ کریں گے ہمیں منظور ہو گا ۔ حضرت سعد بن معاذ ؓ کو جو جنگ میں زخمی ہو گئے لایا گیا اور آپ نے توریت کے مطابق فیصلہ دیا کہ ان کے لڑنے کے قابل مردوں کو قتل کر دیا جائے اور ان کی اولاد اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے نبیﷺ نے فرمایا : اے سعدؓ تو نے اﷲ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ دیا اس کے بعد آپ کے زخموں سے خون بہنے لگا اور آپ شہید ہو گئے۔ اس موقع پر نبیﷺ نے فرمایا کہ سعدؓ کی موت پر عرش بھی لرز اٹھا اور سعد کے جنازے میں ستر ہزار فرشتے شریک ہوئے میں نے جنگ خندق کے حوالے سے تاریخ کے اس شاندار اور عظیم کردار کو یاد کیا اور اﷲ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے رب عظیم اس ایمان کی کوئی چنگاری ہمارے اندر بھی پیدا کر دے (آمین) اس طرح احد کے مقام پر جنگ احد کے شہداء جنہوں نے اپنی شہادت کے ذریعے اسلام کو ہمیشہ کے لئے سربلند کر دیا امت مسلمہ کے محسن سید شہداء حضرت حمزہؓ اور حضرت مصعب بن عمیر ؓ کی قبر کودیکھا تو دل سے بے اختیار اﷲ تعالیٰ سے ان کے درجات کی بلندی کے لئے دعا نکلی سامنے احد کا پہاڑ تھا بڑی عقیدت اور محبت سے دیکھا اے پہاڑ تو کس قدر خوش قسمت ہے تو نے اﷲ کے رسول ان کے جانثار ساتھیوں کو دیکھا جنگ کے معرکہ میں انہیں اپنی آغوش میں پناہ دی اے پہاڑ ہم تجھ سے محبت کرتے ہیں تجھ پر فخر کرتے ہیں‘‘ واپسی پر قبرستان جنت البقیع کے پاس سے گزرے اور وہاں کے مکینوں کو سلام عقیدت پیش کیا اور اﷲ سے ان کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی۔

اب آہستہ آہستہ مدینے سے واپسی کا وقت بھی قریب آ رہا تھا گروپ کے لوگوں کے ساتھ مشورہ کیا اس مرتبہ رات عشاء کی نماز کے بعد ریاض الجنۃ کی زیارت کریں گے چنانچہ دوسرے دن عشاء کی نماز کے بعد زیارت کے لئے بیٹھ گئے رات میں بھی بے انتہا رش تھا میں نے درود شریف پڑھتے ہوئے اﷲ تعالیٰ سے خصوصی دعا کی کہ آج آخری دن ہے اﷲ تعالیٰ ریاض الجنۃ تک پہنچا دے تاکہ وہاں نماز پڑھ کر دعا مانگوں اور آپﷺ کی خدمت میں درودوسلام پیش کر کے قلبی سکون حاصل کر سکوں رب العالمین کا احسان ہے کہ اس نے ہماری دعائیں قبول فرما لیں اور ہم لرزتے قدموں کے ساتھ وہاں پہنچ گئے نماز کے بعد آنسوؤں اور سسکیوں کے درمیان رسول خداﷺ کے حضور سلام عقیدت او درودوسلام کا نذرانہ پیش کیا واپسی پر رات کے دو بج رہے تھے ہم لوگ مسجد ہی میں کچھ دیر آرام کے لئے لیٹ گئے کیونکہ سعودی ائیر لائن کے ذریعے مدینہ سے براہِ راست پاکستان جانا تھا-

دوسرے دن صبح بس کے ذریعے ائیر پورٹ روانہ ہو گئے راستے بھر ہم مدینے کی ہر گلی ،بازار، عمارتوں اور سڑکوں کو عقیدت اور محبت سے دیکھتے رہے دل میں سوچ رہے تھے کہ مدینہ وہ سرزمین ہے جس کو اﷲ تعالیٰ نے اسلام کو غالب اور حکمران بنانے کے لئے چن لیا تھا جب نبی رحمت ﷺ نے پکارا کہ کون ہے اﷲ کی راہ میں میرا مدد گار اس وقت مدینہ منور کے خوش نصیب لوگوں نے آگے بڑھ کر اپنے آ پ کو پیش کر دیا پھر چاہے آندھی ہو یا طوفان یا ہر طرف سے کافروں اور منافقوں کی یلغار انہو ں نے پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا اپنا گھر آل اولاد سب کچھ اﷲ کے دین کے لئے قربان کر دیا جواب میں اﷲ تعالیٰ نے ناصرف انہیں اپنی رضا اور جنت کی خوشخبری سنائی بلکہ دنیاا میں بھی کامیابی اور حکمرانی عطا فرمائی اور قیامت تک کے لوگوں کے لئے مثال اور راہ نما بنا دیا ۔ اﷲ تعالیٰ دنیا کے تمام مسلمانوں کو اہل مدینہ کی طرح شعور و اخلاص عطا فرما۔ (آمین)
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 443 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Farhat Tahir
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
ماشاء اللہ اللہ قبول کرے آمین ۔ بہت اچھی تحریر ہے ۔
By: محمد, کراچی on Feb, 19 2020
Reply Reply
0 Like
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ