پاکستان ’بلیک لسٹ‘ ہونے سے بچ گیا لیکن کب تک؟


فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کو جون تک ’گرے لسٹ‘ میں ہی رکھا جائے گا۔ دوسری طرف اس واچ ڈاگ گروپ نے ایران کو بلیک لسٹ کر دیا ہے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی طرف سے جمعے کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ منی لانڈنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت پر مناسب کنٹرول نہ کرنے کی وجہ سے آئندہ ریویو میٹنگ تک اسے گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے گا۔ کہا گیا ہے کہ پاکستان نے 'کچھ ٹھوس اقدامات‘ کیے ہیں، اس لیے اسے موقع دیا جاتا ہے کہ وہ فراہم کردہ ایکشن پلان پر ٹھوس عملدرآمد کرے۔ اس اہم تنظیم کے چھ ماہ قبل ہونے والے ایک اجلاس میں بھی پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

جمعے کو پیرس میں ہونے والی اس چھ روزہ ریویو میٹنگ کے بعد کہا گیا ہے کہ اس واچ ڈاگ گروپ کی آئندہ میٹنگ جون میں ہو گی، جس میں پرکھا جائے گا کہ اس دوران اسلام آباد حکومت نے کیا پیش رفت کی ہے؟ جمعے کو پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس کے دوران منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے حوالے سے پاکستانی حکومت کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

سن 2018 میں امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں کے کہنے پر ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا تھا۔ اس لسٹ ميں ان ملکوں کو شامل کيا جاتا ہے، جہاں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے مالی معاونت روکنے کے ليے اقدامات ناکافی ہيں۔

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو ستائیس نکات پر مبنی ایک ایکشن پلان دیا تھا، جس کے تحت اسے مرحلہ وار کوشش کرنا تھی کہ وہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔ ابھی تک حکومت پاکستان چھتیس ممالک پر مشتمل اس گروپ کو مطمئن نہیں کر سکی ہے۔
 


تاہم اس نئی رپورٹ میں اتفاق کیا گیا ہے کہ پاکستان نے اپنے اہداف کی تکیمل کے لیے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن ابھی اسے مزید کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ اس گروپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر آئندہ میٹنگ تک پاکستان نے اس حوالے سے پائیدار پیش رفت دکھاتے ہوئے ٹھوس نتائج پیش نہ کیے تو سخت جوابی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

ایف اے ٹی ایف کے گزشتہ اجلاس میں پاکستان کو مہلت دی گئی تھی کہ اگر اس نے چھ ماہ کے دوران مناسب اور ٹھوس اقدامات نہ کیے تو اسے بلیک لسٹ میں ڈالا جا سکتا ہے۔ تاہم پاکستان کی طرف سے اس عرصے میں کی جانے والی کچھ کوششوں کی وجہ سے اسے جمعے کے اجلاس میں بلیک لسٹ نہیں کیا ہے۔ اگر اس عالمی واچ ڈاگ گروپ نے پاکستان کو بلیک لسٹ کر دیا تو پاکستان کو سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کے نتیجے میں کمزور ملکی معیشت کی زبوں حالی کے خطرات زیادہ ہو جائیں گے۔

دوسری طرف ایف اے ٹی ایف نے ایران کو بلیک لسٹ کر دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ تہران حکومت انسداد دہشت گردی کے بین الاقوامی معیارات پورا کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔ ایران گزشتہ تین برسوں سے گرے لسٹ میں تھا اور اس دوران اسے متعدد مرتبہ وارننگ بھی دی گئی تھی۔ ایف اے ٹی ایف نے البتہ ایران کو موقع فراہم کیا ہے کہ وہ عالمی معیارات کو پورا کرتے ہوئے اس لسٹ سے نکل جائے۔


Partner Content: DW

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1371 Print Article Print
 Previous
NEXT 

YOU MAY ALSO LIKE:

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
Language: