تخیل کی موج مستیاں

(Amir jan haqqani, Gilgit)
تصور کیجے! رات کا سناٹا ہو، کمرے کے جھروکوں سے چاند جھانک رہا ہو، ستاروں کی جھلملاہٹ ہو، ڈھلتی ہوئی چاندنی آپ کو دعوت تخیل دے رہی ہو. اور انسان کسی کے تخیل میں غرق ہے. اس سے بڑی عیش بھی کچھ ہوسکتی؟

تخیل روگ بھی ہے مگر تخیل سے زیادہ عیش پرستی کچھ بھی نہیں.ایک عرصے سےتخیل کی موج مستیوں میں جی رہا ہوں، سچ کہوں تو آج کل تخیل کے سہارے ہی راتیں کٹ رہی ہیں. یہ ایسا روگ ہے کہ مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا.وہ دن گئے جب رات رات کتاب پڑھا کرتا تھا.

یہ بات بتانے میں حرج بھی نہیں کہ "بے بس" تخیل ہی میری زندگی کا عظیم سہارا ہے. دل کا درمان ہے. دماغی الجھنوں کا اکلوتا مداوا ہے اور بدنی تکالیف کا تریاق.

خدا کسی کو تخیل کے مرض میں مبتلا نہ کرے ورنا صبح تک آنکھیں موندتے ہوئے بیتنا پڑے.
فریب تخیل کے کیسے کیسے مناظر انہی آنکھوں نے رات رات دیکھے ہیں اور جسم نے کروٹیں بدلی ہے اور دماغ نے مستقبل قریب اور بعید کے کیا کیا پلان بُنے ہیں اور دل نے کتنی آہیں بھری ہیں، میں ہی جانتا اور پھر مرغ نے صبح کی بانگ دی ہے.

تصور کیجے! رات کا سناٹا ہو، کمرے کے جھروکوں سے چاند جھانک رہا ہو، ستاروں کی جھلملاہٹ ہو، ڈھلتی ہوئی چاندنی آپ کو دعوت تخیل دے رہی ہو. اور انسان کسی کے تخیل میں غرق ہے. اس سے بڑی عیش بھی کچھ ہوسکتی؟

کھبی دسمبر کی بھیگی ہوئی راتیں ہوں تو کھبی جولائی کی ڈھلتی صبحیں، اور انسان تخیل کی غم میں مبتلا ہے.
واہ! اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ موج ومستی اور عیش و عشرت کا کتنا سامان جمع ہوتا ہوگا.اور دماغ کیا کیا گُل کھلاتا ہوگا..

یہ ماننے میں بھی حرج نہیں کہ تخیل دل پر اگر آگیا، تو وہی دل کا درد ہے اور درمان بھی.

حسن آواز میں ہو یا چہرے میں یا صلاحیت میں، بہر صورت قہر انگیز ہی ہوتا. اور اگر اس حسن تک رسائی کا سہارا صرف تخیل ہو تو یہ قہر انگیزی دوبالا ہوتی.

تخیل کے ترنم اور صدائیں جان لیوا ہیں.

میری اور اس کی شناسائی تخیل کے ذریعے ہے. واحد تخیل ہے جس نے مجھے ماضی اور مستقبل کیساتھ جوڑا ہے. تخیل نے ماضی کی درماندیاں اور مستقبل کی خوش گمانیوں میں مبتلا کرکے رکھا ہے.
سچ کہتا ہوں کہ تخیل نے بہت ساری گلیوں کی خاک چھنوائی ہے.ناک کٹوائی ہے. دکھ دیے ہیں. غم دیے ہیں اور درد بھی.مگر پھر بھی مجھے تخیل بہت عزیز ہے. عزیز از جان!

تخیل سے بڑا رقیب کوئی نہیں
اور نہ تخیل سے بڑا رفیق کوئی ہے. تخیل کی رقابت اور رفاقت نے الجھا رکھا ہے.

تخیلی کی دلآویزیاں اتنی جمیل ہیں کہ بس ان میں مستغرق ہوں. کاش کہ تخیل کو حقیقت کا روپ مل جاتا. تو
احباب کیا کہتے ہیں؟
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 97 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amir jan haqqani

Read More Articles by Amir jan haqqani: 306 Articles with 149875 views »
Amir jan Haqqani, Lecturer Degree College Gilgit, columnist Daily k,2 and pamirtime, Daily Salam, Daily bang-sahar, Daily Mahasib.

EDITOR: Monthly
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: