خواتین کا عالمی دن اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی

(Muhammad Jehan Yaqoob, Karachi)

خواتین کا عالمی دن قریب ہے۔یہ دن مغرب سے ہمارے ہاں آیا ہے۔اس دن کومنانے کاجوٹرینڈ چل رہا ہے،وہ بھی مغرب کا ڈیزائن کردہ ہے۔چناں چہ خواتین کے عالمی دن شمعیں روشن کی جاتی ہیں،واکس کا اہتمام کیا جاتاہے،مخلوط محافل منعقد کی جاتی ہیں اور کانفرنسوں،سیمینارزاور ورک شاپس میں خواتین کی عظمت اجاگر کرنے کے بجائے اس دین کو سب سے زیادہ تنقید وتعریض کا نشانہ بنایا جاتا ہے،جس نے عورت کو حقوق کسی بھی دین ودھرم اور ملت ومذہب سے زیادہ دیے۔اسے عزت کا مقام ومرتبہ دیا۔بیٹی ،ماں،بہن ،بیوی ہرروپ میں اسے عظمت وبلندی کی معراج پرپہنچایا۔اسے تصویر کائنات کی رونق قراردیا،ماں ہونے کی حیثیت سے اس کے قدموں کے نیچے جنت ڈال دی،دو بیٹیوں کی اچھی پرورش اور نکاح کرنے والے کو نبی کریم ﷺ نے جنت میں اپنا ساتھی بتایا،شوہر کی فرماں برداری پر اسے جنت کی سند دی کہ جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے،اسے میراث میں مردوں کی طرح شریک ٹھہرایا،اسے ذاتی ملکیت کا حق دیا،اس کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت اﷲ کے پیارے حبیب ﷺ نے اپنی حیات طیبہ کے ایک ایک لمحے میں اپنے قول وعمل سے تو کی ہی،دنیا سے پردہ فرماتے ہوئے بھی اسے نہیں بھولے۔اب بھی غیرجانب دارغیرمسلم تک اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اسلام نے عورت کی عصمت وعزت کا جو تحفظ کیا ہے،اور اس کے لیے معاشرے میں وقار سے جینے کی جو راہیں متعین کی ہیں،وہ اسلام ہی کا خاصہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ مغرب ویورپ کی خواتین اب بھی اسلام ہی کو اپنی جائے پناہ سمجھتے ہوئے ایک بھاری تعداد میں اسلام قبول کررہی ہیں۔اعداد وشمار سے اس کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس دن کی مناسبت سے خواتین کی عظمت اور ان کے مقام کو اجاگرکیا جائے،اسے معاشرے میں عزت ووقار سے جینے کا سبق دیا جاتا،جہاں جہاں معاشرتی رسوم ورواج کی جکڑ بندیوں میں عورت کا استحصال ہورہا ہے ،اس کی نشان دہی کی جاتی۔۔۔لیکن مشاہدہ اس کے برعکس ہے۔وجہ صاف ظاہر ہے کہ اصل ایجنڈا خواتین کی عظمت ہے ہی نہیں ۔اصل ایجنڈا تو اسلام کی تعلیمات کو نشانہ بنانا اور ملک میں خواتین کے حوالے سے ہونے والے منفی رویوں کو،اگرچہ واہ آٹے میں نمک کے برابر ہی کیوں نہ ہوں،اجاگر کرناہے،چاہے اس کے لیے رائی کا پہاڑ ہی کیوں نہ بناکر پیش کرنا پڑے،کہ وہاں سے عطا وانعام اسی بات کے ساتھ مشروط ہے۔جس معاشرے میں عورت کی حیثیت محض ایک شو پیش یاجنسی ضرورت پوری کرنے کے ایک آلے کی سی ہو،وہ خواتین کی عظمت اور ان کے حقوق کو کیا جانے۔جس معاشرے اور تہذیب نے حقوق کے نام پر عورت پر گھر داری کے ساتھ ساتھ ملازمت کا اضافی بوجھ بھی ڈال دیا ہو،اسے عورت کے حقوق سے کیا سروکار۔سو ،ان کی ڈکٹیشن پر نکالے جانے والے جلوسوں ،محافل ومجالس اور پروگرامز میں عورت کے اصل حقوق اور ان کے سب سے بڑے محافظ اسلام کی بات کیوں کی جائے گی!کون نہیں جانتا ،کہ این جی اوز کو تو ایسی عورتوں کی تلاش رہتی ہے،جسے مظلوم بناکر ڈالربٹورے جاسکیں،نہ کہ ایسی خواتین کی جو ایک باعزت زندگی گذاررہی ہوں۔یہاں تو ہر سال نئی نئی مختاراں مائی،ملالہ اور اس نوع کے مختلف کردار تلاشے ہی نہیں ،تخلیق بھی کیے جاتے ہیں۔

کیااس دن کی مناسبت سے یہ سوال نہیں کیا جانا چاہیے کہ اگر خواتین کے حقوق مقدم ہیں ،اور ہونے بھی چاہییں ،تو اس مظلوم وبے بس اور لاچار وبے کس خاتون کو اس کا حق کون دے گا؟جس کا نام ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہے،جسے ایک خوں خوار درندے اور مطلق العنان حکم ران نے،جواس وقت اﷲ کی پکڑ میں آچکاہے، ڈالر بٹورنے کے لیے بچوں سمیت کراچی سے اسلام آباد جاتے ہوئے اغوا کروایااوردشمن کے حوالے کردیا،پھر سالوں بعد اس کا سراغ افغانستان کی جیل میں ملا،وہاں سے اس کو امریکا منتقل کیا گیا،اور ایک جھوٹے مقدمے میں اسے اسی سال سے زائد کی سزا سنا کر پس دیوار زنداں کردیا گیا،جہاں وہ روز جیتی اور روز مرتی ہے۔ظلم وستم اور جبر وتشدد کا وہ کون سا حربہ ہے،جواس کے ساتھ مغرب کے درندے روا نہیں رکھے ہوئے ہیں؟کیا عافیہ صدیقی کے ساتھ بزعم خود سپرپاور امریکا میں کیا جانے والا یہ ظلم خواتین حقوق کے دعوؤں پر بدنما داغ نہیں ہے؟

عافیہ توعلم وانسانیت کی علم برداراوراسلام کی داعی تھی۔ڈاکٹرعافیہ نے امریکامیں انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک ریسرچ اینڈٹیچنگ قائم کیاتھا؛جہاں قرآن کی دعوت کوعام کرنے کے لیے لیکچرزہوتے تھے۔کیوں کہ ڈاکٹرعافیہ کاخیال تھاکہ امریکی عوام کوقرآن کے ذریعے اسلام کی طرف لایاجاسکتاہے۔اسی جذبے کے تحت عافیہ نے امریکی عوام اورقیدیوں میں قرآن مجیداوراس کے انگریزی تراجم ہزاروں کی تعدادمیں تقسیم کیے تھے۔وطن واپسی کے بعد ملک میں تعلیمی انقلاب ڈاکٹرعافیہ صدیقی کاخواب تھا۔انھوں نے ایک ایسانصاب مرتب کیاتھا،جس میں دین اوردنیادونوں جمع تھیں۔وہ قوم کے نونہالوں کوایک اچھامسلمان اورمثالی پاکستانی بناناچاہتی تھیں۔اس مقصدکے لیے انھوں نے کراچی میں ایک وسیع رقبہ بھی لے رکھاتھا،جہاں وہ میگاایجوکیشن سٹی بناناچاہتی تھیں۔وہ ایک محبِ وطن پاکستانی تھیں۔وہ پاکستان کے مسائل کے لیے پریشان رہتیں؛اوران کاحل سوچتی رہتی تھیں۔وہ ان مسائل کاذمے داربڑی حدتک نصاب تعلیم کوبھی ٹھہراتی تھیں؛ان کاموقف تھاکہ اسلامیات کوصرف ایک مضمون کی حیثیت سے پڑھایاجاناکافی نہیں۔اسلامیات کوہرمضمون کاجزوہوناچاہیے۔ڈاکٹرصاحبہ پاکستان میں جوتعلیمی انقلاب لاناچاہتی تھیں،شایدیہی ان کاجرم بن گیا۔
مغرب نے بے بنیاد الزامات لگاکر اسے ید تنہائی میں ڈال دیا،حالانکہ ان الزامات کی حقیقت اس بات سے واضح ہوجاتی ہے کہ مقدمے کی سماعت کے دوران امریکی ماہرتفتیش کارنے اپنے بیان میں کہا:’’ایسے کوئی شواہدجائے وقوعہ سے نہیں مل سکے،جن سے ثابت ہوسکے کہ عافیہ نے فوجیوں پرحملہ کیاتھا۔رائفل پرعافیہ کے فنگرپرنٹس بھی نہیں پائے گئے۔کسی شخص کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ اس رائفل کے خفیہ لاک کو،جونمبرسسٹم سے منسلک ہے،کھول سکے،کیوں کہ یہ نمبرصرف رائفل کے مالک ہی کومعلوم ہوتاہے۔دیواروں اورکھڑکیوں پربھی گولیوں کے نشانات نہیں پائے گئے۔چلائی جانے والی کسی گولی کاخول بھی جائے وقوعہ پرموجودنہیں تھا۔الغرض ڈاکٹرعافیہ پرلگائے جانے والے الزام کی صداقت کاکوئی پروف موجودنہ ملا۔‘‘یہ اس ماہرتفتیش کارکابیان تھا؛جسے خاص طورپرجائے وقوعہ کامعائنہ کرنے کے لیے تمام ضروری آلات دے کرامریکی حکومت نے بھیجاتھا۔کیااس قدرغیرمبہم گواہی کے بعدعافیہ پراس الزام کی کوئی حیثیت رہ جاتی ہے؟

ان سطور کے ذریعے ہماری خواتین کے حقوق کے تمام علم برداروں سے گذارش ہے کہ وہ اس مرتبہ 8مارچ کو عافیہ ڈے کے طور پر منائیں۔اپنی قیدی بہن کے حق میں عالمی برادری کے سامنے احتجاج ریکارڈ کرائیں ۔یہ اہم موقع ہے،کیوں کہ افغان طالبان اور امریکا کے معاہدے کی رو سے 10مارچ کو طالبان قیدیوں کی رہائی بھی ہونی ہے،اور اس کا بینیفٹ بھی عافیہ صدیقی کو مل سکتاہے،بشرطیکہ مسلسل اور ہر فورم پرآواز اٹھائی جائے۔اس لیے ہم میں سے ہر شخص،تنظیم اور ادارے کو اپنی بساط بھر کوشش کرنی چاہیے،یہ ہم سب کا اجتماعی فریضہ ہے۔اﷲ کرے اہل وطن کو وہ دن جلد سے جلد دیکھنا نصیب ہو،جب ہماری یہ مظلوم ،بے بس ،بیمار ولاچار مگر عظیم بہن آزاد فضامیں سانس لے رہی ہو۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M Jehan Yaqoob

Read More Articles by M Jehan Yaqoob: 248 Articles with 172048 views »
Researrch scholar
Author Of Logic Books
Column Writer Of Daily,Weekly News Papers and Karachiupdates,Pakistanupdates Etc
.. View More
07 Mar, 2020 Views: 178

Comments

آپ کی رائے