قرب ِقیامت کی مساجد

(Qazi baha ur rahman, )

 جب مسجدیں کچی تھیں تو نمازی پکے تھے اور جب مساجد پکی ہونا شروع ہوئیں تو نمازی کچے ہو گئے اور آج کے اس دور میں جب مسجدیں خوبصورتی کی انتہا کو پہنچ رہی ہیں تو نمازی خال خال ہیں۔انسان کے دنیاوی مزاج کے مطابق اصول تو یہ بنتا تھا کہ نماز پڑھنے کی جگہ جس قدر خوبصورت ہو ، آرام دہ ہو ، ائر کنڈیشنڈ ہو ،رنگ برنگ روشنیوں سے مزین ہو، دیدہ زیب ٹائلز اور لکڑی کے حیرت انگیز تراشوں سے سجائی گئی ہو ، الیکٹرک سنسرز اور خودکار ٹیکنالوجی کے مختلف مظاہر سے آراستہ ہو اورحتی ٰ کہ جدید ترقی یافتہ زندگی کے تمام تقاضوں کے مطابق لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کرکے ایسی تعمیر کی گئی ہو کہ دیکھنے والا اس کی خوبصورتی کے سحر میں کھو جائے تو ایسے میں نمازیوں کی تعداد انتہا کو پہنچ جاتی اور جگہ کم پڑ جاتی لیکن اس کے برعکس مشاہدہ یہ ہے کہ جب مساجد کی دیواریں مٹی اور گارے پر مشتمل تھیں اورکھجور کے پتوں سے تیار کردہ چھتیں جو کہ بارش کے پانی تک کو روک نہ پائیں، کم روشنی والے بمشکل ایک یا دو چراغ جس سے ساتھ والے نمازی کا چہرہ بھی بغور دیکھنا پڑے ، سجدہ کے دوران پیشانی یا گھٹنوں کے نیچے کسی پتھر یا کنکر کا تکلیف دہ احساس ، دروازے موجود ہی نہیں یا نہ ہونے کے برابر ،نہ تو جاڑے کی یخ بستہ ہواؤں کو روکنے کا خاطر خواہ انتظام اور نہ ہی گرمی اور لُوسے بچنے کا کوئی ذریعہ ،غرضیکہ پرانے زمانے کے آرام و سکون کے مکمل تقاضے بھی مسجد میں پورے نہ تھے تو مساجد میں نماز پڑھنے والوں کا نہ صرف تناسب بلکہ اخلاص اور خشوع بھی قابل دید وقابل رشک تھا، اس حیرت انگیز تفاوت کی خاص وجہ یہ ہے کہ ہم نے نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کے طریقوں کو اپنی زندگی سے نکال کر غیروں کے طرز کو اپنا لیا، یعنی مساجد کو رشد و ہدایت اور اخلاص و اعمال کا مرکز بنانے کی بجائے اس کی تزئین و آرائش کو اپنا شعار بنا لیا، نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسی قوم کے اعمال بگڑتے ہیں وہ قوم اپنی مسجدوں کو مزیّن کرتی ہے،اور فرمایامیں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ عنقریب تم اپنی مساجد کو ایسے مزین کرو گے جیسے یہودی اپنے کنیسہ کو اور نصاریٰ اپنے گرجا کو مزین کرتے ہیں،حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیشن گوئی اس دور میں صادق ہو چکی ہے بلکہ ابھی آئندہ آنے والے ادوار میں اس کے انتہائی مظاہر دیکھنے کو ملیں گے،کیونکہ اب مساجد کی تزئین و آرائش کا مقابلہ حیرت انگیز حد تک بڑھتا چلا جا رہا ہے ،فخر کے ساتھ ریکارڈ مرتب کیا جاتا ہے کہ فلاں مسجد دنیا کی ساتویں بڑی مسجد ہے اور خوبصورتی میں فلاں مسجد کا یہ نمبر ہے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک لو گ مسجد وں میں فخر نہ کرنے لگیں، خوبصورتی اور تزئین و آرائش کی اس بدعت کے بیسیوں مفسدات میں ایک بڑی کراہت یہ ظاہر ہوئی کہ لوگوں نے مساجد کو عبادت گاہ سے زیادہ سیرگاہ کا درجہ دے دیا، لوگ دور دراز سے مساجد کو صرف دیکھنے اور سیر کرنے کے لیے آتے ہیں،پہلے لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد کو دیکھنے کے لیے لوگ دور دراز سے آتے تھے اور اس کو سیر گا ہ کا درجہ دیا گیا، کیا مسلمان کیا کافر، پاکی ناپاکی کے مسائل سے بے بہرہ، سب کے سب عورتیں ،بچے مسجد کا ہرہرحصہ دیکھتے اور ٹکٹ لے کر مینار پر چڑھتے، سارا سال یہ منظر جاری رہتا ۔پھراسی طرح اسلام آباد کی فیصل مسجد کو تفریح گا ہ بنا لیا گیاجو دارالحکومت میں واقع ہونے کی وجہ سے غیر ملکیوں کی توجہ کا مرکز بھی بنتی ہے ان میں سے اکثر سیاح غیر مسلم ہوتے ہیں اور دیکھنے والے جانتے ہیں کہ جو بے حرمتی اس مسجد کی سیر کرنے والے کرتے ہیں الامان الحفیظ۔اور اب بحریہ ٹاؤن لاہور کی بے چاری گرینڈ مسجد، اس کی صورت حال یہ کہ وسعت اور خوبصورتی حیران کن ہے، شاید ملک بھر میں اس سے زیادہ خوبصورت مسجد پہلے نہیں بنی لہٰذا اس کی شہرت بھی دور دور تک پھیلی مرد عورتیں بچے سارا دن اس کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں بچوں کی کھیل کود، لڑکوں اور لڑکیوں کی سیلفیاں، قہقہے اوران جیسے اور بہت سے دکھ بھرے مناظراب اس مسجدمیں ہمارے معاشرتی انحطاط کے غماز ہیں ،یہاں تک کہ اذان کے پر اثرو دل گرفتہ الفاظ ، اﷲ اکبر کی شش بارگی تکرار، لاالہ الا اﷲ کی عظیم المرتبت گواہی، نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کا نام نامی گرامی قدر،حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح کی جلیل القدر دعوت اور قد قامۃ الصلوٰہ کی حتمی تنبیہ ،سب کچھ مسلمان کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بے سود ثابت ہوتا ہے ۔عصرِحاضر سے قبل چشم فلک نے ایک مسلمان کی اس قدر بد نصیبی یقینا نہیں دیکھی ہو گی کہ وہ مسجد میں موجو د ہونے کے باوجود فرض نماز ترک کردے کیونکہ یہ قرب قیامت کے انتہائی آثارہیں۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی مسجد سے گزر جائے گا مگر اس میں دو رکعت نماز نہیں پڑھے گا، فرمایا مسجدوں کے احاطے عالی شان بنائے جائیں گے اور اونچے اونچے منبر رکھے جائیں گے، محرابیں سجائی جائیں گی اور دل ویران ہوں گے،اور فرمایا مسجدوں میں شور و غل ہو گا،اور فرمایا لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ لوگ مسجدوں میں بیٹھ کر دنیا کی باتیں کیا کریں گے، تم ان کے پاس نہ بیٹھنا ، اﷲ کو ایسے لوگوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

اﷲ تعالیٰ اپنے گھر میں داخل ہونے والوں کا قدردان میزبان ہے اور اس کی رحمت ہمہ وقت مہمان کی طرف متوجہ رہتی ہے اسی طرح دینی و دنیاوی اقدار کے مطابق ایک مہمان پربھی میزبان کا حق یہ ہے کہ اس کے گھر میں داخل ہو کر ان تمام امور کو ملحوظ خاطر رکھے جو میزبان کے ادب و احترام کے متقاضی ہوں۔ لیکن ہم اﷲ کے گھر میں جا کر مہمانداری کے تمام آداب سے کس قدر بے نیاز ہوئے کہ عام مساجد تو درکنار ، اب حرمین شریفین بھی ہماری گستاخانہ جسارتوں سے محفوظ نہیں رہے۔سعودی عمال نے ہماری سہولت کے لیے حرم شریف اور مسجد نبویؐ میں موبائل فون ہمراہ لے جانے کی اجازت دے رکھی ہے کہ کوئی اپنے عزیز و اقارب سے بچھڑ جائے تو با آسانی رابطہ کرلے۔ساتھ ہی سمارٹ سکرین بھی نصب کی ہیں جن میں حج و عمرہ کی رہنمائی کا اسلامی ڈیٹا ہم با آسانی اپنے موبائل میں اپ لوڈ کر سکتے ہیں اس کے علاوہ موبائل کی چارجنگ کے لیے چارجنگ بورڈز بھی لگا دیے ہیں جن سے حجاج کو بہت آسانی ہو گئی ہے لیکن ہم اس سہولت کا ناجائز فائدہ اٹھانے میں حد سے گزر جاتے ہیں کہ اپنے موبائل فون کو خاموش کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے لہٰذا حرم شریف اور مسجد نبوی ؐ میں آئے روزکے افسوس ناک واقعات معمول بن گئے ہیں کبھی دوران طواف لبیک کی صداؤں کے درمیان انڈین فاحشاؤں کے واحیات گانے موسیقی سمیت کہیں سے بج اٹھتے ہیں تو کبھی نماز کے دوران کوئی انگریزی گانا نمازیوں کی توجہ اپنی طرف لے جاتا ہے ۔موبائل بند نہ کرنے کی غلطی سے زیادہ وہ مجرمانہ ڈھٹائی قابل گرفت ہے کہ اﷲ کے گھر میں حاضری دینے والے نے نان میوزیکل ٹون سیٹ کرنے کی بجائے اپنے موبائل میں موسیقی کوہی کیونکرترجیح دی۔اسی ضمن میں مسجد نبویؐ میں چند سال قبل پیش آنے والے ایک دلخراش واقعہ کی تفصیل ایک پاکستانی نے بڑے درد کے ساتھ بیان کی کہ دوران نماز امام صاحب کے پیچھے(روضۂ رسولؐ کے بالکل قریب) کھڑے ایک پاکستانی کے موبائل سے اچانک نصیبو لعل کی آواز میں بے ہودہ گانا اونچی آواز میں چلنے لگا۔امام مسجد نبویؐ کا خون کھول اٹھا ، انہوں نے نماز توڑی اور منبر پر تشریف لے جا کر جس طرح روئے اور جو جو کچھ کہا وہ ایک مسلمان کی عبرت کے لیے کافی تھا، امام صاحب نے اپنا فرض منصبی ادا کیا لیکن جو بات غور طلب ہے وہ یہ کہ منبرومحراب نبوی اور اس کے ارد گرد کی قریب ترین جگہ عین وہی مقامات ہیں جو گناہ گار امتیوں کے لیے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی آہوں سسکیوں اور ـ’’امتی امتی ‘‘کی دعاؤں کے گواہ ہیں ،انہی فضاؤں سے اٹھنے والی شب کی آہیں اور صبح کے نالے عرش الٰہی کے راہی تھے، یہیں سے بلند ہونے والی صداؤں کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھے،یہی جگہ فرشتوں کی آمدو رفت کا مرکز ہے مگر ہم اس ریاض الجنہ کے تقدس کے باوجود اپنے شیطانی کھلونے کوخود سے الگ کرنے کو تیار نہیں۔ اپنے بچپن میں راقم نے اپنے بزرگوں اور اساتذہ سے یہ سنا تھا کہ قیامت کے قریب مسجد میں بدکاروں کی آوازیں بلند ہو جائیں گی۔ چھوٹے ذہنوں میں اس کا عملی تصور یہی پیدا ہوتا تھا کہ شاید بدکار لوگ مساجد پر قبضہ کر لیں گے لیکن آج سمجھ آئی کہ دراصل ہم نے بدکاروں کا نام بدل کر گلو کار اور اداکار رکھ لیا ہے اور ان کی آوازیں موبائل ٹونز کی صورت میں مسجد کے اند ر بلند ہو رہی ہیں۔

نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ منظر واضح فرما دیا تھا کہ قیامت سے پہلے کا بہت بڑا فتنہ موسیقی کا فتنہ ہو گا جس کو کوئی روک نہیں سکے گااور یہ کہ میری امت کے لوگ بھی اس کے رسیا ہوں گے۔تمام انبیاء ؑ کو بڑی بڑی آزمائشوں کا سامنا رہا لیکن آپؐ سے زیادہ مظلوم کون ہو گاکہ اﷲ کے دین کی سربلندی کے لیے پوری حیات طیبہ میں کفار کا ظلم اور طعن برداشت کیا اور پھرجن کی مغفرت کے لیے رو رو کر اﷲ سے دعائیں مانگیں اورموسیقی سے دور رہنے کی ہدایت فرمائی کہ میں موسیقی کے آلات کو توڑنے کے لیے بھیجا گیا ہوں وہی امت الا ماشآاﷲ اسی طرح آپؐ کی نافرمانی پر اتر آئی جس طرح بنی اسرائیل اپنے انبیاء کی سرکشی کرتے تھے اورحتیٰ کہ آپ ؐ کی مسجد و محراب بھی اس طوفان بدتمیزی سے محفوظ نہیں رہے ، غلامی ٔ رسولؐ کا حق تو یہ تھا کہ ہم جیسے ہی آقاؐ کا فرمان پڑھتے یا سنتے فوراً اس منحوس آواز کو جوتے کی نوک پر رکھ کر اپنی زندگی سے نکال باہر کرتے لیکن کون سی غلامی اور کون سا عشق؟ ہم نے تو موسیقی کو نہ صرف اپنے گھروں کی زینت بنا لیا بلکہ اﷲ کے گھر کو بھی اس سے آلودہ کر دیا۔کیا یہ وہی امت ہے جس کے اکابر کی اذانیں یورپ کے کلیساؤں اور افریقہ کے صحراؤں میں گونجتی تھیں۔اس شخص سے زیادہ بد نصیب اور احمق کون ہو گاجو مسجد میں نماز پڑھنے جائے لیکن اپنے موبائل سے بجنے والی موسیقی سے نہ صرف اپنی نماز خراب کرے بلکہ پوری مسجد کے تمام عبادت گزاروں کی توجہ اﷲ کی طرف سے ہٹا کر اپنی موسیقی کی طرف کھینچ لے اور اس طرح ثواب کی بجائے نامۂ اعمال میں گناہ لکھوا کر مسجد سے واپس آئے۔

اسی سمارٹ فون کی ایک اور مصیبت سیلفی کا جنون ہے ۔تصویر سازی کے اس فتنہ نے جہاں دنیا بھر میں دجالی شیطانی انقلاب برپا رکھا ہے وہاں حرمین شریفین میں اس وبائی مرض کے مظاہر انتہائی تکلیف دہ ہیں۔سیلفی لینے والے حرم شریف اور مسجد نبویؐ میں اپنی عبادت کو تو خراب کرتے ہی ہیں لیکن ساتھ ساتھ دیگر حجاج کے خشوع و خضوع میں بھی خلل پیدا کرتے ہیں۔بیت اﷲ کی زیارت جو کسی زمانے میں مسلمان کی آنکھوں کی پیاس اور تڑپ تھی اور لوگ مہینوں سفر ی صعوبتوں سے گزر کر اس کی زیارت کے لیے جاتے اور اس کو دیکھتے رہنے کے باوجود بھی ان کی آنکھوں کی پیاس باقی رہتی تھی یہی شوق ان کو بارہا زیارت کے لیے بے قرار ررکھتاتھا، اب وہ ذوق ، وہ شوق ، وہ تڑپ اور وہ پیاس بے حس مسلمان کے دل سے روٹھ گئی کہ وہ بیت اﷲ کے روبرو موجود رہ کر بھی اپنے کھلونے سے کھیلنے میں مشغول ہے حرم کعبہ جس کا گوشہ گوشہ مقدس و محترم ہے جہاں قدم قدم پر دعاؤں کی قبولیت کا مقام ہے جہاں رب کائنات کی رحمت مسلمان کے آنسوؤں ، عاجزی و انکساری کی ہمہ وقت منتظر رہتی ہے جہاں ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے آنسو جاری رہتے اور فرماتے کہ یہ رونے ہی کا مقام ہے وہاں یہ غافل سیلفیاں اور ویڈیو بنا کر فارورڈ کرنے کے لیے بے تاب نظر آتا ہے اور اپنے اس جنون کے روبرو کسی اخلاقی اور اسلامی اقدار کی پاسداری کا روادار نہیں۔کون سمجھائے اور کس کس کو سمجھائے کہ بھائی یہاں اﷲ کا بہت زیادہ خوف اپنے اوپر طاری کر لواور عاجزی کے ساتھ اپنی گردن کو خوب خوب جھکائے رکھو جس طرح حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے حج کے دوران اپنے سر مبارک کو اتنا جھکا لیا تھا کہ اونٹنی کی کوہان کو چھو رہا تھا ۔

حرمین شریفین ہوں یا کوئی بھی دوسری مسجد، بہرحال اﷲ کے گھر کے احترام کا تقاضا یہ ہے کہ ہم موبائل فون جیسے لہوو لعب کو اپنی رہائش پر چھوڑ کر مسجد میں داخل ہوں سورۃجمعہ کی آخری آیت میں اﷲ کے فرمان کا کم و بیش مفہوم ہے کہ جو کچھ اﷲ کے پاس ہے وہ تہمارے اس کھیل تماشے سے کہیں بہتر ہے لہٰذا مسجد میں قدم رکھتے ہی اﷲ کے خوف اور عاجزی کو اپنے اوپر طاری کرلیں تا کہ ہماری عبادات قبولیت کے اعلیٰ درجے میں آ جائیں جس سے ہماری دنیا اور آخرت کی زندگی منور ہو جائے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qazi baha ur rahman

Read More Articles by Qazi baha ur rahman: 16 Articles with 7511 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Mar, 2020 Views: 500

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ