یہ لیں آزادی۔۔۔!

(Muhammad Riaz Aleemi, Karachi)

ایک مرتبہ بھیڑیوں نے بکریوں کے حق میں جلوس نکالا کہ بکریوں کو آزادی دو ۔ بکریوں کے حقوق مارے جا رہے ہیں ، انہیں گھروں میں قید کر رکھا گیا ہے ۔ ایک بکری نے جب یہ آواز سنی تو دوسری بکریوں سے کہا کہ سنو !سنو ! ہمارے حق میں جلوس نکالے جا رہے ہیں ، چلو ہم بھی نکلتے ہیں اور اپنے حقوق کی آواز اٹھاتے ہیں ۔ ایک بوڑھی بکری بولی :بیٹی !ہوش کے ناخن لو ۔ یہ بھیڑیے ہمارے دشمن ہیں ان کی باتوں میں مت آؤ۔مگر نوجوان بکریوں نے اس کی بات نہ مانی کہ جی آپ کا زمانہ اور تھا ، یہ جدید دور ہے ۔ اب کوئی کسی کے حقوق نہیں چھین سکتا ۔ یہ بھیڑیے ہمارے دشمن کیسے ؟ یہ تو ہمارے حقوق کی بات کر رہے ہیں۔بوڑھی بکری سن کر بولی :بیٹا یہ تمہیں برباد کرنا چاہتے ہیں ، ابھی تم محفوظ ہو ، اگر ان کی باتوں میں آگئی تو یہ تمہیں چیر پھاڑ کر رکھ دیں گے۔ بوڑھی بکری کی یہ بات سن کر جوان بکری غصے میں آگئی اور کہنے لگی کہ اماں تم تو بوڑھی ہوچکی ہو، اب ہمیں ہماری زندگی جینے دو ۔ تمہیں کیا پتہ آزادی کیا ہوتی ہے ؟ باہر خوبصورت کھیت ہوں گے، ہرے بھرے باغ ہوں گے۔ ہر طرف ہریالی ہوگی ، خوشیاں ہی خوشیاں ہوں گی ۔ تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو ۔ اب ہم مزید یہ قید برداشت نہیں کرسکتیں ۔ یہ کہہ کر سب آزادی آزادی کے نعرے لگانے لگیں اور بھوک ہڑتال کردی ۔ ریوڑ کے مالک نے جب یہ صورتحال دیکھی تو مجبورا انہیں کھول کر آزاد کردیا ۔ بکریاں بہت خوش ہوئیں اور نعرے لگاتی چھلانگیں مارتی جنگل کی طرف نکل بھاگیں ۔ مگر نتیجہ ان کی سوچ و فکر کے برعکس نکلا ۔ جب بھیڑیوں نے بکریوں کو آزاد دیکھاتو ان پر حملہ کردیا اور بکریوں کو چیر پھاڑ کردیا۔اگر بھیڑیوں کی باتوں میں آکر بکریاں آزادی کا مطالبہ نہیں کرتیں تو وہ محفوظ رہتیں۔ بہرحال یہ حکایت یا واقعہ یہیں ختم ہوتا ہے۔ لیکن اس حکایت کے تناظر میں آج کی عورت کا جائزہ لیاجائے تو اس کی مادر پدر آزادی حاصل کرنے کا نتیجہ بھی یہی کچھ ہوگا۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کا ایک طبقہ اپنی آزادی کا مطالبہ کررہا ہے۔ حالانکہ یہ بھی ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ اس قسم کی آوارہ ذہنیت کی حامل خواتین کی تعداد مجمو عی طور پر ایک فیصد بھی نہیں ہے۔ یہ مارچ خواتین کے حقوق حاصل کرنے کے لیے ہوتا ہے لیکن پسِ پردہ اس کے مقاصد کچھ اور دکھائی دیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عورت مارچ پر فارن فنڈنگ ہے اور اس کے لیے خصوصی طور پر خواتین کو تیا رکیاجاتا ہے اور انہیں تربیت دی جاتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ مسلم عورتوں کو آزاد کرانے اور انھیں ان کا حق دلانے کی آواز سب سے زیادہ انھیں طبقات کی طرف سے اٹھتی رہی ہے جن کی شہرت اسلام دشمنی کے لیے رہی ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق انسانی اور خصوصا خواتین کے حقوق اور آزادی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے مغربی معاشرے میں خواتین کا مقام اس افسوسناک رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرانس میں 2019ء کے ابتدائی چھ ماہ کے مختصر عرصے میں 74 خواتین گھریلو تشدد کے باعث ہلاک ہوئی ہیں۔جب ان کے اپنے ممالک کا یہ حال ہے تو مسلم ممالک کی خواتین سے ہمدردی چہ معنی دارد؟ یورپی ممالک میں عورتوں کا جنسی استیصال ایک عام سی بات ہے۔ امریکہ جیسے ملک کے سرکاری اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ یہاں خواتین کی عصمت ریزی عام بات ہے۔ سنٹر فار ڈیزیزکنٹرول اینڈ پریونشن (SFDCP) کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق دنیا کے سب سے مہذب اورترقی یافتہ ملک،امریکا میں بیس فیصد عورتیں عصمت دری کا شکار ہوتی ہیں اور پچیس فیصد عورتوں کو تشدد کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ اسیّ فیصد عورتیں پچیس سال سے کم عمر میں پہلی بار جنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ان میں ایسی عورتوں کی بھی کمی نہیں جواپنے قریبی رشتے داروں یا پارٹنرز کے ہاتھوں ہی اپنی عصمت گنواتی ہیں۔ الاسکا،یگان اور نیواڈہ میں سب سے زیادہ تشدد اور عصمت دری کے معاملے دیکھنے کو ملے۔ہر آٹھ میں سے ایک عورت کا کہنا تھا کہ اس کے گھریلو فرد نے ہی اسے لقمۂ تر سمجھ کر ہوس کا شکار بنایا ۔ اگرچہ جدید مغربی سوسائٹی کو یہ خوش فہمی لاحق ہے کہ اس نے عورت کو کافی آزادی اور مساوات سے نوازا ہوا ہے جبکہ پسِ پردہ اسے ساری عزت و شرافت سے محروم کر دیا ہے اور اُسے اتنے خونخوار درندوں کے سامنے لا پٹخا ہے کہ وہ اس کی عصمت دری اور بے عزتی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔

اسی وجہ سے یورپی ممالک اور مغربی تہذیب میں خاندانی نظام تباہ ہو گیا ہے۔اخلاقی قدروں کا جنازہ نکل گیا ہے۔ بے حیائی اور فحاشی عام ہوگئی ہے۔ بعض یورپی ممالک میں مادر پدر آزادی کے بھیانک نتائج سامنے آنے کے بعد اس سے چھٹکارا پانے کی راہیں تلاش کی جارہی ہیں لیکن ہمارے معاشرے میں مادر پدر آزادی کا مطالبہ کیا جارہا ہے اور نعرے لگائے جارہے ہیں کہ ’’والد سے لیں گے۔ آزادی‘‘۔ یہ نعرہ یقینی طور پر باپ جیسے مقدس رشتے کی توہین ہے۔جو باپ پوری زندگی اپنا خون پسینہ ایک کرکے اپنی بیٹی کو ہر لحاظ سے خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ بیٹی بڑی ہوکر اپنے باپ سے بھی آزادی کا مطالبہ کرے؟ یہ کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان نہیں ہوسکتی ۔ یہ سراسر انسانی تہذیب کے خلاف ہے۔ اسی طرح عورت مارچ میں لگائے جانے والے دیگر خونی رشتوں کے متعلق ناقابلِ بیان بیہودہ نعرے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یوم خواتین کے موقع پر عورت مارچ کا مقصدعورتوں کے حقوق کی آواز اٹھانا نہیں بلکہ حقوق کی آڑ میں جنسی تسکین کے لیے عورتوں تک رسائی کو آسان بنانا ہے۔ ان کے نزدیک اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ’’مذہب ‘‘ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے مواقع پر مذہب کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مذہب نے عورتوں کوقیدی بناکر رکھا ہواہے۔ جبکہ حقیقت واضح ہے کہ اسلام نے عورتوں کو جو حقوق دیے ہیں وہ دنیا کے کسی مذہب میں نہیں ہے۔ اسلامی معاشرہ عورتوں کو گھر کی ملکہ کا درجہ دیتا ہے لیکن ذہنی فتور کا عالم یہ ہے کہ عورتیں ملکہ بننے کے بجائے یورپی طرز کی آزادی مانگ کر ہوس پرستوں کا کھلونا بننا چاہتی ہیں۔ اگر واقعی خواتین کے مسائل حل کرنے ہیں تو تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے ان کے حقیقی مسائل اجاگر کریں، عورت کی تعلیم کی بات کریں، حقِّ وراثت کی بات کریں، مظلوم اور غریب و نادار عورتوں کی مدد کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔

یہ بات بھی بڑی عجیب ہے کہ جب اسلام کی بات کی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ اسلام ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہے۔ کوئی نماز پڑھے یانہ پڑھے، مسجد جائے یا نہ جائے ، روزہ رکھے یا نہ رکھے وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب انسان کے ذاتی معاملات ہیں ، کسی پر زبردستی نہیں کی جاسکتی۔ سوال یہ ہے کہ مذہب اگر ذاتی معاملہ (Personal Matter) ہے تو بچے پیدا کرنا یا نہ کرنا ذاتی معاملہ کیوں نہیں ہوسکتا؟ اگر کسی عورت کو بچے پیدا نہیں کرنے تو نہ کرے ، لیکن اپنی سوچ اور فکر کو پورے معاشرے پر زبردستی نافذ کرنا کون سا طریقہ ہے؟ اگر کسی عورت کو اپنی بہادری اور خودمختاری پر اتنا ناز ہے کہ اسے کسی مرد کی ضرورت نہیں ، تو وہ اس معاملہ کو اپنی ذات تک محدود کیوں نہیں رکھتی ؟ جب مذہب کی بات آئے تو ذاتی معاملہ اور جب اپنی بات آئے تو اجتماعی مسئلہ۔ بہرحال عرض ہے کہ منافقانہ رویہ اور دوغلی پالیسی اختیار کرنے کے بجائے اپنے ذاتی معاملات کو اپنی ذات تک محدود رکھیں۔ دوسروں کو اپنی سوچ و فکر کے دھارے میں لانے کی کوشش مت کریں۔ اگر آپ کو مادر پدر آزادی چاہیے تو بخوشی بکریوں کی طرح آزاد ہوجائیں اور نکل جائیں اپنی بہادری پر ناز کرتے ہوئے حفاظتی حصار سے لیکن جب بھیڑیے آپ کو غیر محفوظ اور اکیلا دیکھ کر حملہ کریں گے تو پھر شکایت مت کیجیے گا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Riaz Aleemi

Read More Articles by Muhammad Riaz Aleemi: 75 Articles with 35661 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Mar, 2020 Views: 253

Comments

آپ کی رائے