پاکستان اسلامی جمہوریہ ممکت ہے سیکولر نہیں

(Muhammad Nafees Danish, )

تاریخ یہ بتلاتی ہے کہ 1910 ء میں سوشلسٹ خواتین کی عالمی کانفرنس ہوئی،جس میں ستر ممالک سے سیکڑوں خواتین نے شرکت کی اور اس کانفرنس میں مشترکہ طورپر یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہر سال 8مارچ کو ورکر خواتین کے عالمی دن کے طورپر منایاجائے ،اس کا پس منظر یہ تھا کہ 8 مارچ 1907 ء میں نیویارک کی لباس سازی کی صنعت سے وابستہ سینکڑوں کارکن عورتوں نے اپنے حقوق کے لیے ایک مظاہرہ کیااور اس میں مطالبہ کیا تھا کہ دس گھنٹے کام کے عوض ملنے والی ان کی تنخواہ معقول نہیں ،اس لیے اس میں اضافہ کیا جائے ۔1910 ء کی اس تجویز کو1977 ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے شرف قبول بخشتے ہوئے ہر سال 8مارچ کو خواتین کاعالمی دن منانے کی منظوری دی اور اب یہ دن دنیا بھر میں زور وشور سے منایا جاتا ہے۔

چنانچہ ہمارے وطن عزیز میں بھی 8 مارچ 2020 کوعورت آزادی مارچ کے نام پر چند ہزار خواتین پاکستان میں بے پردہ ہو کر نکلیں ہیں ، لیکن میڈیا کے ذریعے اتنی زیادہ کوریج دینے سے تاثر یہ دیا گیا کہ شاید پاکستان میں ساری ہی خواتین سڑکوں پر نکل آئی ہیں ، حالانکہ پاکستان میں سیکولر یعنی بے دین لوگ ایک فیصد بھی نہیں ہیں اور خواتین آزادی مارچ کے شرمناک نعروں میں سے ایک نعرہ یہ بھی ہے تم سالن گرم کرو تب تمہارا بستر گرم کروں گی اس کے علاوہ اور بھی کئی بے ہودہ نعروں میں سے ایک نعرہ میرا جسم میری مرضی بھی ہے جسے ناپسندیدہ ہونے کی وجہ سے زیادہ توجہ ملی ، حسب معمول آزاد خیال خواتین کی جانب سے اس سال پھر عورت آزادی مارچ کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ہماری اکثریت ان کے مقابل دینی نعروں کو عام کرنے میں لگی ہے ، بہت سے لوگ کھل کر اس عورت آزادی مارچ کی مخالفت بھی کر رہے ہیں اس لئے مناسب لگا کہ اپنے نوجوانوں کے سامنے اس کا پس منظر آسان لفظوں میں پیش کروں ، یقین جانیں لال لال لہرائے گا اور میرا جسم میری مرضی کے جو اداکار ہمیں سوشل میڈیا یا مین اسٹریم میڈیا میں نظر آرہے ہیں یہ سب فضولی ہیں ، ان کے اصل ہدایتکار ہماری نظروں سے اوجھل ہیں ان ہدایتکاروں کو جانے بغیر اس عورت آزادی مارچ کے اصل مقاصد تک ہم نہیں پہنچ سکتے ، اصل ہدایتکاروں کو نہ ہماری خواتین سے کوئی غرض ہے اور نہ مردوں سے ، وہ ہماری تہذیب ، ثقافت اور اسلامی تشخص کے خلاف ہیں ، پاکستان اور اسلام مخالف ان سرگرمیوں کے اصل ڈائریکٹر مغرب میں بیٹھے ہیں ، یہ جاننے کے بعد کہ ان ہدایتکاروں کا اصل ہدف ہمارے معاشرے سے اسلامی شعائر کو ختم کرنا ہے ، اب ان کی واردات کا طریقہ بھی ملاحظہ فرمائیں یہ ہدایتکار سب سے پہلے ایک بھاری بجٹ مختص کرتے ہیں ، پہلے پاکستان کی حکومت اور سیاسی جماعتوں کو ان مذموم مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا تھا جیسے مشرف دور میں میراتھن ریس کی بات ہوئی تھی ، لیکن دھیرے دھیرے مغرب کے ہدایتکاروں کو یہ احساس ہوا کہ ہم جتنا سرمایہ خرچ کرتے ہیں پاکستان کی حکومت اور سیاسی جماعتوں سے وہ نتائج نہیں مل رہے ، اس لئے مغربی ہدایتکاروں نے پاکستان میں انسانی حقوق کے نام پر مختلف این ، جی ، اوز قائم کیں ، انہیں بھاری رقوم فراہم کی گئیں ، ان این ، جی ، اوز کے لئے میڈیا کے دروازے پیسے کے بل بوتے پر کھلوائے گئے ، تاکہ لال لال لہرائے گا اور میرا جسم میری مرضی جیسے تماشے لگانے کے لئے ماحول بن سکے ، یقین جانیں پاکستان کے اسلامی تشخص پر بھاری سرمائے کے ساتھ این ، جی ، اوز کے ذریعے ہلہ بول دیا گیا ہے ، لیکن بدقسمتی سے ہم سب ان این ، جی ، اوز کو بے ضرر سمجھتے ہیں ، لیکن خوب جان لیں یہ ماروی سرمد جیسی خواتین حقیقت میں مغربی پراکسی ہیں ، مغرب کی طرف سے میڈیا مالکان کو خوب پیسے دئیے جاتے ہیں پھر کہا جاتا ہے کہ مغربی پراکسیوں کو خوب کوریج دو تاکہ ان کے ذریعے یہ تاثر قائم کیا جاسکے کہ پاکستان میں خواتین کا بہت استحصال ہو رہا ہے ، ملالہ ، آسیہ مسیح اور مختاراں مائی کو مغرب نے میڈیا کے ذریعے راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچوایا ، حالانکہ پاکستان میں اکثریتی خواتین کے حقوق کا یہ عالم ہے کہ شادی کے بعد بھی بہن بیٹی کے مان کے لئے اس کے سسرالیوں تک کے ناز نخرے اٹھائے جاتے ہیں ، لیکن پاکستان میں الٹے تماشے لگے پھر یہ سب تماشے خوب چلے اور آج بھی جاری ہیں ، آپ یہ بھی جان لیں کہ ریاست پاکستان ان سازشوں سے بے خبر نہیں ہے ، وہ ہم سے زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ این ، جی ، اوز کے ذریعے پاکستان میں کیا کھیل کھیلا جارہا ہے ، ریاست پاکستان یہ بھی جانتی ہے کہ ان این جی اوز کو اربوں روپے کی بیرونی فنڈنگ ہورہی ہے ، اس سارے مسئلے میں ریاست پاکستان بے خبر نہیں ہے لیکن بے بس ضرور ہے ، ایف ، اے ، ٹی ، ایف سے ہماری ریاست کو ڈرایا جاتا ہے ، پھر یہاں بلاول بھٹو اور فواد چودھری جیسے لیڈروں کی بھی کمی نہیں ہے جو اپنے اقتدار کے لئے ریاست پاکستان کے وقار کو داؤ پر لگانے میں بھی دیر نہیں کریں گے ، اس لئے ریاست پاکستان ان تماشوں کو خاموشی سے دیکھ بھی رہی ہے اور ان کے لئے جگہ بھی بنا رہی ہے ، ایسے حالات میں ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم آگاہی مہم چلائیں ، ماروی سرمد فقط ایک مہرہ ہے یہ مہرہ پٹ جائے گا دوسرا مہرہ آجائے گا ، اس لئے ماروی سرمد کے خلاف نہیں اصل ہدایتکاروں کے خلاف عوامی رائے عامہ ہموار کریں ، اللہ کی مدد کے بعد عوام کی طاقت ہی ہے جس کے ذریعے ان سازشوں کا بہتر انداز میں مقابلہ ہو سکتا ہے ، آپ اس پر بھی غور کریں کہ عافیہ صدیقی بھی ایک خاتون ہیں اور مظلوم خاتون ہیں لیکن آپ نے دیکھ لیا کہ 8 مارچ کو عورت آزادی مارچ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لئے کوئی آواز بلند نہیں کی گئی؛ کیونکہ اصل ہدایتکاروں کا ایجنڈا کچھ اور ہے ، اس لئے ذہن نشین کر لیں کہ گند کو صاف کرنے کے لئے گند میں اترنا پڑتا ہے ، اپنے کپڑوں اور دامن پر داغ بھی سہنے پڑتے ہیں اور یہ سب ہمیں بھی کرنا پڑے گا ہمیں ثابت کرنا ہوگا کہ ہم ہر قسم کے چیلنجز کو سمجھتے ہیں ، اس لئے پوری طاقت کے ساتھ اس شرمناک عورت آزادی مارچ کے پیچھے چھپے اصل مذموم مقاصد کی مخالفت کریں ، مغرب کے ٹکڑوں پر پلنے والی این ، جی ، اوز کے بارے میں آگاہی حاصل کریں ، پھر ان کے عزائم بے نقاب کریں کیونکہ صرف قرآن و حدیث نہیں پاکستان کا آئین بھی ہمارے بیانئیے کی تائید کر رہا ہے ، پاکستان ایک فلاحی اسلامی و جمہوری مملکت ہے اسے سیکولر بنانے کی باتیں آئین پاکستان سے انحراف ہے ، ہماری حکومت اور ریاست کا بیانیہ یہ ہے کہ فیصلے جتھے نہیں کریں گے بلکہ فیصلے آئین و قانون کے مطابق ہوں گے ، عورت آزادی مارچ کے مطالبات غیراسلامی بھی ہیں اور غیر جمہوری و غیرآئینی بھی ، اس لئے یہ سوال بھی بنتا ہے کہ جب فیصلے جتھے نہیں کریں گے تو کسی جتھی کو کیسے یہ اجازت مل گئی کہ وہ کہے کہ ہم پاکستان کو سیکولر بنائیں گے ، پاکستان ہمارا پیارا ملک ہے ، اس کی معیشت کو مضبوط بنانا ہے ، اس میں امن قائم رکھنا ہے لیکن ساتھ ساتھ پُرامن طور پر آگاہی مہم بھی چلانی ہے ، علماء کرام کو چاہیئے کہ منبر و محراب کی طاقت کو استعمال کریں اور پاکستان کے خلاف ہونے والی مغربی یلغار سے عوام کو آگاہ کریں ، پاکستان ہمارے بزرگوں نے لاکھوں جانیں قربان کر کے بنایا تھا ، اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو ضائع ہونے مت دیں ، مغربی یلغار کا آئینی و قانونی جدوجہد کے ذریعے مقابلہ کریں ، اپنے پیارے وطن پاکستان کو اسلامی جمہوری فلاحی ریاست بنائیں ، ہم کسی بھی آزادی مارچ یا ریلی کے مخالف نہیں ہیں ، ہر ایک کے جمہوری و آئینی حق کو تسلیم کرتے ہیں ، لیکن اس عورت آزادی مارچ کے ایجنڈے پر ہمارے تحفظات ہیں ، ریلی بے شک ہوجائے مگرعورت آزادی مارچ کا اصل ایجنڈا عوام کو بتائیں گے ، کیونکہ یہ عورت اور مرد کے حقوق کی جنگ نہیں ہے، بلکہ یہ اسلام دشمنوں کی سازشیں ہیں جن کو بے نقاب کرنا ہم سب کا فرض ہے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Nafees Danish

Read More Articles by Muhammad Nafees Danish: 32 Articles with 7155 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Mar, 2020 Views: 323

Comments

آپ کی رائے