ایک دور افتادہ سیارہ جہاں فولادی اولے پڑتے ہیں

image


زمین سے بہت دور ایک سیارہ ایسا ہے جہاں فولادی گولوں کی بارش ہوتی ہے۔ اس سیارے میں بڑی مقدار میں فولاد موجود ہے۔ اس کا درجہ حرارت اتنا زیادہ ہے کہ فولاد پگھل کر بخارات میں تبدیل ہو جاتا اور بخارات فضا میں پھیل جاتے ہیں۔ رات کے وقت جب درجہ حرارت قدرے گرتا ہے تو فولاد کے بخارات پانی کی بوندوں کی طرح چھوٹے چھوٹے گولوں میں تبدیل ہو کر زمین پر گرنے لگتے ہیں۔

یہ سیارہ ہماری زمین سے بہت ہی زیادہ دور ہے۔ اس کا ہماری زمین سے فاصلہ 390 نوری سال ہے۔ نوری سال کا تو آپ کو معلوم ہو گا ہی کہ روشنی ایک سال میں جتنا فاصلہ طے کرتی ہے اسے ایک نوری سال کہا جاتا ہے۔ روشنی کی رفتار ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ ہے۔ یہ فاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ وہاں راکٹ بھیجنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔

اس سیارے کا ہمارے نظام شمسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ البتہ ایک مماثلت ضرور ہے کہ یہ مشتری کی طرح بہت بڑا سیارہ ہے۔ مشتری کو ہمارے نظام شمسی کا سب سے بڑا سیارہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

یہ انتہائی گرم سیارہ ہے۔ چند سال قبل دریافت ہونے والے اس سیارے کے درجہ حرارت کا اندازہ 4350 ڈگری فارن ہائیٹ یعنی 2400 ڈگری سینٹی گریڈ لگایا گیا ہے۔ یہ درجہ حرارت سیارے کے اس رخ کا ہے جو سورج کی طرف رہتا ہے۔ اسی وجہ سے یہاں کی فضا میں فولاد کے بخارات بادلوں کی طرح چھائے رہتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سیارے کا ایک رخ ہمیشہ اپنے سورج کی طرف رہتا ہے۔ جب کہ دوسرے حصے میں ہمیشہ رات رہتی ہے۔ سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ جب فولاد کے بخارات سیارے کے تاریک حصے کی طرف بڑھتے ہیں تو درجہ حرارت گرنے سے وہ فولاد کے قطروں میں تبدیل ہو کر سطح پر گرنا شروع ہو جاتے ہیں اور فولادی گولیوں کی بارش ہونے لگتی ہے۔
 

image


اس تحقیق میں حصہ لینے والے یونیورسٹی آف جنیوا کے کرسٹوفر لوئس نے بتایا کہ بارش کا منظر ایسا ہی ہے جیسے آسمان سے فولادی اولے گر رہے ہوں۔

سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس سیارے کا سائنسی نام واسپ 76 بی رکھا گیا ہے۔ یہ حجم میں مشتری سے دگنا ہے۔ یہ اپنے سورج کے گرد چکر دو دن سے بھی کم عرصے میں مکمل کر لیتا ہے۔ اور اس کا ایک رخ ہمیشہ اپنے سورج کی جانب رہتا ہے جب کہ دوسرے حصے پر ہمیشہ گہری رات چھائی رہتی ہے۔

اس سیارے پر ہر وقت طوفانی جھکڑ چلتے رہتے ہیں جن کی رفتار کا اندازہ 11000 میل فی گھنٹہ یعنی 18000 کلومیٹر فی گھنٹہ لگایا گیا ہے۔ یہ ہوائیں فولادی بخارات کو دن کے حصے سے رات کے حصے کی جانب دھکیلتی رہتی ہیں۔ یہ فولادی اولے ہواؤں کے زور سے جب دوبارہ دن کے حصے میں داخل ہوتے ہیں تو شدید درجہ حرارت کی وجہ سے دوبارہ بخارات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

اس دور افتادہ سیارے کا کھوج ماہرین فلکیات نے چلی میں قائم یورپ کی جنوبی رصد گاہ کی طاقت ور دوربین سے لگایا تھا۔ اس سیارے سے منظر کشی ایک سائنسی پوسٹر میں کی گئی ہے۔


Partner Content: VOA

YOU MAY ALSO LIKE: