کورونا کی تباہ کاریاں

(Muhammad Humayun Shahid, Bahawalnagar)
ابھی ہم کشمیر کے کرفیو کو رو رہے تھے اور اب تو یہاں ہر جگہ کرفیو نظر آتا ہے. اور اس کرفیو کی زد میں وہ ممالک بھی آئے ہیں جوکہ کشمیر کے لوک ڈاون کو نظر انداز کر رہے تھے. اب شائد وہ بھی اس درد کو محسوس کررہے ہوں گے جو کہ اب تک صرف کشمیر کے لوگ کر رہے تھے.

‏اب نہیں کوئی بات خطرے کی اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے

کورونا وائرس جو کہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ چین کے شہر ووہان سے شناخت میں آیا اب جنگل کی آگ کی مانند پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے اور 195 ممالک میں سے 149 ممالک کو اب تک یہ اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے. اگر ہم اس وائرس کی تباہ کاریوں کا ذکر کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس وائرس نے اب تک پانچ ہزار سے زائد افراد کو لقمہ اجل بنایا ہے. اس نے نہ صرف جانی نقصان کیا ہے بلکہ اس نے دنیا کی سٹوک مارکیٹوں کو گراوٹ کا شکار بھی بنایا ہے اور پوری دنیا میں کرفیو کا سا سماں نظر آرہا ہے. جس کے سبب ساری دنیا اس کی تباہ کاریوں کا مظاہرہ دیکھ رہی ہے اور اس سب صورتحال میں سب لوگ بے بسی کا شکار ہیں اور اس سے بچاؤ کے لئے اپنے تئیں اپنی حفاظت خود کر رہے ہیں کیونکہ اب تک اس کی ویکسین بھی منظر عام پر نہیں آئی ہے.

کورونا کے بارے میں بات کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس نے انسان تو انسان کھیلوں کو بھی متاثر کیا ہے اور کاروبار زندگی کو تو جیسے منجمند کردیا ہے. پاکستان یا بھارت سمیت دیگر ممالک میں بھی کھیلوں کے انعقاد کو روک دیا گیا ہے. اس سب صورت حال میں جہاں پاکستان نے پی ایس ایل میں بیرونی ممالک سے آئے ہوئے کھلاڑیوں کو اپنے ملک واپس جانے کی اجازت دی ہے وہی پی ایس ایل کا فائنل جو کہ نہایت دھوم دھام سے 22 مارچ کو ہونا تھا اس کو جلدی کروانے کے لئے 18 مارچ کا اعلان کیا ہے اور یہ میچ بھی بغیر شائقین کے ہی ہوگا. لیکن اس ساری صورتحال میں بھی کچھ کھلاڑیوں نے واپس نہ جانے کا عزم کیا ہے. جہاں پاکستان یہ سب کررہا ہے وہاں بھارت نے تو آئی پی ایل کے مکمل انعقاد کو ہی منسوخ کردیا ہے.

کھیل تو کھیل کورونا نے مذہبی رسومات کو بھی نشانہ بنایا ہے جس کی واضح مثال ہم نے سعودی حکومت کے اس فیصلے کے پیش نظر دیکھی جس میں انھوں نے تمام ممالک کے مسلمانوں کو عمرہ کی سعادت حاصل کرنے سے روک دیا ہے. اور یہ ہی نہیں بلکہ مطاف کو بھی لوگوں کے ہجوم سے خالی کرا لیا گیا ہے. لیکن یہ سب لوگوں کے تحفظ کے پیشِ نظر کیا گیا ہے. یہاں پر بعض عناصر کا کہنا ہے کہ وجہ صرف کورونا نہیں بلکہ سعودی حکومت کے اندر بغاوت بھی ہے. خیر وجہ جو بھی ہو عوام کا تحفظ ہر حال میں لازمی ہے. ہم نے اس تحریر میں کورونا کے باعث ہونے والی تباہ کاریوں کا چیدہ چیدہ تذکرہ کیا ہے. جب کہ اس کی تباہی تو یورپ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے اور حالیہ واقعات کے بعد ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے یورپ کو بھی خطرے کی گھنٹی قرار دیا ہے. کیونکہ اٹلی میں کورونا کے باعث اموات کی تعداد میں بے پناہ اضافہ دیکھا گیا ہے. اور برطانیہ سمیت دیگر یورپی ممالک میں بھی یہی منظر نظر آتا ہے. یورپ ہی نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ کے بعض علاقوں میں کورونا نے اپنے پنجے گاڑھ لیے ہیں جس میں ہم نے دیکھا ہے کہ ایران ان میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور ایران ہی کا سفر کرکے یہ بیماری پاکستان تک پہنچ گئی ہے اور دیگر ایشیائی ممالک میں بھی پہنچ رہی ہے. نیز جہاں دیکھو کورونا کا رونا جاری ہے اور اس کی تباہ کاریاں دیکھنے کو مل رہی ہیں. چنانچہ اس سلسلے میں تمام ممالک نے ہنگامی انتظام کرتے ہوئے اپنے ملکوں میں کورونا کے خطرے کے پیش نظر ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کردی ہے. جس کی بدولت دنیا میں کرفیو کا سا سماں دیکھنے کو مل رہا ہے. ابھی ہم کشمیر کے کرفیو کو رو رہے تھے اور اب تو یہاں ہر جگہ کرفیو نظر آتا ہے. اور اس کرفیو کی زد میں وہ ممالک بھی آئے ہیں جوکہ کشمیر کے لوک ڈاون کو نظر انداز کر رہے تھے. اب شائد وہ بھی اس درد کو محسوس کررہے ہوں گے جو کہ اب تک صرف کشمیر کے لوگ کر رہے تھے. یہاں ہم اپنی بات کا رخ موڑتے ہوئے بات کرتے ہیں کہ یہ وائرس دراصل ہے کیا اور واقعی کیا یہ چین سے ہی شناخت میں آیا؟ کورونا وائرس کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں جس میں اس کی تقسیم الفا، بیٹا، گاما اور ڈیلٹا میں کی جاتی ہیں. جبکہ اس کی بعض اقسام میں میرس( جو کہ لاحقہ اسمیت جو کسی خاص قسم کے مادے کو ظاہر کرتا ہے) اور سارس ہیں.

حالیہ کورونا کا جو وائرس پھوٹا ہے اس کو سارس ہی کی نئی شکل کے طور پر دیکھا جارہا ہے. کورونا کا مرکز ویسے تو چین کے شہر ووہان کو سمجھا جاتا ہے.

لیکن تائیوان اور جاپان کے ماہرین، سائنس دانوں اور فارماسولوجسٹ نے اس نقطہ کو جھٹلایا ہے اور اس کے اصل مرکز کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کردیے ہیں اور یہ طے کیا ہے کہ نیا کورونا وائرس تقریباً یقینی طور پر امریکہ میں شروع ہوا ہے. کیونکہ اس ملک میں ہی کورونا کی پانچ اقسام کے بارے میں جانا جاتا ہے. جبکہ چین کے شہر ووہان میں اسکی صرف ایک قسم کے طور COVID-19 کے نام سے جانا جاتا ہے.

ہم اس سب کو یوں تشبیح دیتے ہیں جیسے کہ اگر ایک درخت ہو اور اس کی کئ شاخیں ہو تو جو اس کی ایک شاخ ہوگی وہ اس درخت سے ہی پروان چڑھے گی اور یہ ہی فطری عمل ہے.

اس سلسلے میں تائیوان کے معالج نے بتایا کہ 8 اگست 2019 کو امریکہ میں ہنگامہ برپا ہوا تھا. پھیپھڑوں کے نمونیوں یا اس سے ملتا جلتا، جس کا الزام امریکیوں نے ای سگریٹ سے وانپنگ پر لگایا. لیکن معالج کے مطابق، ای سگریٹ کے ذریعے اسکی علامات اور حالات کی وضاحت نہیں کی جاسکتی ہے. انھوں نے بتایا کہ ان اموات کا امکان کورونا وائرس کی وجہ سے ہے. لیکن ان کا یہ دعویٰ امریکہ نے نظر انداز کر دیا. یہ سب اس واقعے کے بعد ہوا جب فورٹ ڈیٹرک، میری لینڈ میں امریکی فوج کی اہم بائیو لیب کو فوری طور پر بند کردیا گیا تھا. یہ خبر نیویارک ٹائمز میں بھی 8 اگست 2019 کو شائع ہوئی تھی. پھر چینی سوشل میڈیا پر ایک مضمون شائع ہوا جس کے ایک حصے میں کہا گیا تھا کہ پانچ فوجی " غیر ملکی ایتھلیٹ" جنھوں نے ورلڈ ملٹری گیمز میں شرکت کی تھی، ان کو ایک غیر یقینی انفیکشن کے سبب ووہان میں داخل کرایا گیا تھا. ممکن ہے کہ یہ انفیکشن اس وقت معمولی ہو اور ان کو اس کے بعد چین کے دورے کی اجازت دے دی گئی ہو. اور ممکن ہو کہ وہ پھر ہزاروں مقامی باشندوں کو متاثر کرتے ہوں، جن میں سے بعد میں بہت سے لوگ سمندری غذا کی منڈی میں گئے ہوں. جس کی بدولت یہ وائرس جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا ہوگا. یہ سب تو لفظی قیاس آرائی بھی ہوسکتی ہے کیونکہ یہ محض چین کا موقف بھی ہوسکتا ہے اور اس کے ساتھ عین ممکن ہو کہ ہو بہو یہ کہانی سچ بھی ہو. خیر جو بھی ہو اب تو اس کی وجہ تاریخ ہی طے کرے گی کہ کس ذریعے سے یہ وائرس بےلگام ہوا. اس سب صورتحال میں ہمیں اپنی حفاظت کرنی چاہیے. نیز یہ کہ ڈاکٹر حضرات کی بتائی ہوئی احتیاطی تدابیر پر عمل کریں اور اس وائرس سے زیادہ نہ ڈریں کیونکہ اس میں اموات کی شرح صحت یاب ہونے کی شرح سے کم ہے. لیکن پھر بھی اپنی اور اپنے اردگرد کے ماحول کی حفاظت کریں . کورونا کی بدولت خوف کی جو لہر قائم ہے اس کو شاعر نے بہت خوبصورتی سے اپنے اس شعر میں سمویا ہے کہ؛
‏اب نہیں کوئی بات خطرے کی
اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Humayun Shahid

Read More Articles by Muhammad Humayun Shahid: 32 Articles with 8527 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Mar, 2020 Views: 266

Comments

آپ کی رائے