یونانی طب میں دواؤں کے محفوظ استعمال کی روایت

(Nazish Ehtesham Azmi, )

یونانی طب میں دواؤں کے محفوظ استعمال کی روایت
اور
فارمیکو ویجیلنس(pharmacovigilance) کے مفہوم کی تلاش
حکیم فخرعالم
ریجنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن - علی گڑھ

اختصاریہ
فارمیکو ویجیلنس (pharmacovigilance)دواؤں کی محفوظ اثرپذیری کا ایک استعارہ ہے۔اس میکانیہ کے ذریعہ دوائی مصنوعات کےadverse effects پر نظر رکھ کر اِن سے بچاؤ کی تدبیر کی جاتی ہے۔فارمیکو ویجیلنس میں دوائی مصنوعات کے مضر اثرات کامطالعہ ان کے بازار میں اجرا ء کے بعد شروع ہوتا ہے۔یونانی طب میں برطانوی عہد سے پہلے صنعتی صورت میں دوا سازی کی روایت مفقود تھی،لہٰذا اطباء کے ذریعہ دواؤں کے مضر پہلوؤں کی نشاندہی کوفارمیکو ویجیلنس کے مفہوم سے مطابقت کیسے دی جائے؟ایک اہم سوال ہے۔یونانی مطبوں پر برتی جانے والی دواسازی کوسمجھے بغیر اس مسئلے کی عقدہ کشائی نہیں ہوسکتی۔حکماء کے مطبوں پرقرابادینی نسخوں کو جس انداز میں برتنے کا چلن رہاہے،اس میں فارمیکو ویجیلنس کی ایک جھلک محسوس ہوتی ہے،مگر یہ تصویر صاف اس وقت ہوتی ہے جب یونانی طب میں دوا کے محفوظ استعمال کی روایت کے ساتھ مطبوں کی دواسازی اور طبیبوں کی بیاض ا ور قرابادین نویسی کو ایک ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے۔
ماضی میں بیاض نویسی کی صورت میں کلینیکی مشاہدات کو ضبطِ تحریر میں لانے کی مستحکم روایت ملتی ہے،انہیں کو سامنے رکھ کر قرابادینوں کی جمع و ترتیب عمل میں آئی۔قرابادین نویسی کے وقت سابقہ دعووں اور بیانوں کی توثیق و تردید کے ساتھ نسخہ کی مضرت سے جڑے پہلوؤں کو بھی دیکھنے کی کوشش کی گئی ۔الگ الگ قرابادینوں میں ایک ہی نام کے مرکب میں اجزاء،افعال اور مواقعِ استعمال کے سلسلے میں جداگانہ بیان ملتے ہیں،ساتھ ہی اجزاء میں تصرف اور ترکیبِ تیاری کا فرق بھی دیکھا جاتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب سابقہ دعووں کو تجربہ کی کسوٹی پر پرکھا گیا تومشاہدہ میں جو باتیں آئیں ،انہیں کو نئی تدوین میں جگہ ملی۔مرکب کو موثر اور محفوظ بنانے کے لیے اس میں جو تصرف کیے گیے، وہ بعد میں تالیف پانے والی قرابادینوں میں نسخہ کے اندر حذف و اضافہ اور رد و بدل کی صورت میں دیکھے جاتے ہیں۔
اس مقالہ میں دواؤں کے محفوظ استعمال کی روایت کے جائزہ کے ساتھ ،مطبوں کی دواسازی کے مطالعہ اور بیاض نویسی و قرابادینی تالیف کے عمل کو سامنے رکھ کر فارمیکو ویجیلنس کی صورت گری اور طبی مفہوم تلاشنے کی کوشش کی گئی ہے۔
کلیدی الفاظ:فارمیکو ویجیلنس(pharmacovigilance)دواؤں کی محفوظ اثر پذیری،adverse effects
................................................................................................
دواؤں کی محفوظ اثرپذیری کا معاملہ ہمیشہ علم الادویہ کی ترجیحات کا حصہ رہاہے۔اسی لیے کھلے بازار میں دوائی مصنوعات کی فراہمی سے پہلے مرحلہ وار تحقیق و تجربہ کے ذریعہ اِن کے عمل،میکانیۂ عمل ،نیز تحفظ سے جڑے پہلوؤں کو مطالعہ و مشاہدہ کے میزان پر جانچا جاتا ہے تاکہ فوائد اور نقصانات سے متعلق معلومات یکجا کرکے،انہیں مطلوب افعال کے سلسلے میں زیادہ موثر اورخطرات سے محفوظ بنانے کی تدبیر کی جا سکے۔پھر لائسنس کے ضابطوں کی تکمیل کے بعدان کا بازار میں اجراء عمل میں آتا ہے۔ مگر1961 میں رونما thalidomide حادثے کے بعد یہ تدبیر ناکافی محسوس کی جانے لگی ۔
1957میں ایک جرمن دواساز کمپنی نےthalidomide کے نام سے morning sicknessاور nauseaکے لیے ایک دوا پیش کی۔اس کو حمل کے دوران لاحق ہونے والے قے کے عارضہ میں بھی مفید بتایا تھا، مگر اسے استعمال کرنے والی خواتین سے پیدا ہونے والے بچوں میں phocomeliaکے شدیدخلقی نقائص دیکھے گیے۔دواسازی کی صنعت سے جڑے اس واقعہ کو thalidomide disaster کے نام سے یاد کرتے ہیں۔اسے فارمیکوویجیلنس کے سلسلے میں ایک بڑے محرک اور سنگِ میل کے طور پر دیکھا جاتا ہے(1)۔
ادارۂ عالمی صحت کے مطابق فارمیکوویجیلنس کے ذریعہ دوائی مصنوعات کے adverse effectsپر نظر رکھ کر ان سے بچاؤ کی تدبیر کی جاتی ہے۔ فارمیکوویجلنس کی تمام کوششوں کا منتہا دوائی مصنوعات سے جڑے مضر پہلوؤں کی شناخت ہے تاکہ انہیں زائل کرکے ،دوائی استعمال کو زیادہ محفوظ بنایا جاسکے۔تکنیکی لحاظ سے فارمیکوویجیلنس کا اطلاق اس وقت ہوتا ہے جب ادویاتی مصنوعات عام استعمال کے لیے بازار میں فراہم کردی جاتی ہیں۔ اجراء کے بعد جب وسیع پیمانہ پریہ استعمال میں آتی ہیں تو adverse effectsسے جڑے بہت سے پہلوجوکلینیکی مطالعہ کے دوران پردۂ خفا میں رہ گیے تھے،ان کے مشاہدہ میں آنے کی امید ہوتی ہے(2)۔ہندوستان میں فارمیکوویجلنس کا آغاز 1986میں ہوا۔مگر جنوری 2005میں ادارۂ عالمی صحت کے اشتراک کے بعداس تحریک نے سرگرم صورت اختیار کی۔2017سے اس کا اطلاق ہندوستانی طبوں یونانی آیورویداور سدھّا پر کیا گیا(3)۔
فارمیکو ویجلنس موجودہ عہد میں دواؤں کو محفوظ اور موثر بنانے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے،اس ضمن میں کی گئی ماضی کی کوششوں کا مطالعہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔ یونانی طب ایک قدیم طریقۂ علاج ہے،اس کے یہاں ادویاتی مطالعہ اور اصولی بنیاد پردوا سازی کی جو تاریخ ہے،وہ تقریباً دو ہزار برس سے زائد عرصہ کی قدامت رکھتی ہے۔لہٰذا صیدلاتی امور میں اس کے تحفظی میکانیوں اور تکنیکی اسالیب کے علمی جائزہ کی ضرورت ہے،تاکہ اس کے امتیازات اور اس میدان میں اس کے کردار سے دنیا کو آگہی ہوسکے ۔
یونانی طب کے مطالعہ سے ایسے بکثرت شواہد سامنے آتے ہیں جو ادویہ کی مضرتوں کی شناخت اور ازالہ کے سلسلے میں اطباء کی سنجیدہ توجہ کا پتہ دیتے ہیں۔ مفردات اور مرکبات کی کتابوں میں دواؤں کے افعال و خواص کے ساتھ ان کی مضرتوں کا بیان اور ان کی اصلاح اور تدارک کے طریقوں کا تذکرہ پہلو بہ پہلو کیا گیاہے اور یہ اہتمام ہمیشہ رہا ہے،لیکن یہ مفرد دواؤں کے باب میں زیادہ رہا ،جب کہ راست طور پر یہ معاملہ مرکبات کے سلسلے میں کم ملتا ہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ مرکبات کی تشکیل مفرد دواؤں سے ہوتی ہے،لہٰذا اطباء کے نزدیک یہ بات مفہوم تھی کہ جب اجزاء اوّلیہ میں مضرتین ہیں تو ان سے ترکیب پانے والے مرکبات میں بھی لازماً ہوں گی،چنانچہ ان کی اصلاح کے لیے نسخہ کی تالیف کے وقت ’’مصلح‘‘ کی شمولیت کی جاتی ہے۔جالینوس اور دیسقوریدوس کا شمار علم الادویہ کے ابتدائی مصنفین میں ہے،ان کے یہاں بھی اس کے التزامات ملتے ہیں۔ابن بیطار ’’الجامع لمفرداتِ الاویہ و الاغذیہ‘‘ میں جالینوس کے حوالہ سے باریلوماین کے ذیل میں لکھتا ہے(4):
’’مسلسل کافی دنوں تک کھانے سے عورتیں بانجھ ہوجاتی ہیں‘‘
اور ابہل کی مضر تاثیر کو دیسقوریدوس کے حوالہ سے بیان کرتا ہے کہ(5):
’’اس کو کھانے سے حمل ساقط ہوجاتا ہے اور پیشاب میں خون آنے لگتا ہے‘‘۔
ان اقوال سے پتہ چلتا ہے کہ دواؤں کی مضرتوں کے بیان کا اطباء نے شروع سے اہتمام کیا ہے۔
ان امثلہ سے معلوم ہوتاہے کہ یونانی طب میں ادویہ کی مضرتوں سے تحفظ کا اہتمام شدتِ اعتناء کے ساتھ رہا ہے،اسی لیے طبیب کی کوشش ہوتی ہے کہ دواؤں سے ممکنہ حد تک اجتناب کیا جائے،لہٰذا وہ ان کا استعمال اضطراری صورت میں اس وقت کرتاہے،جب تدابیر اور اغذیہ سے ازالۂ مرض کی بات نہ بن رہی ہو۔ جب دواؤں کا استعمال ناگزیر ہوجائے تواس کی کوشش ہوتی ہے کہ صرف اسی پر انحصار نہ رہے اور جسم پراس کا بوجھ کم سے کم رہے، اس کے لیے متوازی طور پر مناسب تدابیر اور اغذیہ کی معاونت حاصل کرتا ہے۔گویا اولاً دواؤں سے گریز کیا جاتاہے ،لیکن جب ان سے مفر نہ رہے تومختلف تدابیر اور اصلاحات کے ذریعہ مضرت کو کم کرکے انہیں محفوظ بنانے کی کوشش ہوتی ہے۔ یونانی دواؤں کی عدمِ مضرت اور ان سے مرض کے مکمل استیصال کا راز فلسفۂ کلّیت (holism) میں پوشیدہ ہے،جس کی کارفرمائی مرض کی تشخیص اور اس کے ازالہ کے لیے دوا کے انتخاب و تجویز ،پھر دوا کی تیاری ،اِن سارے مرحلوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔فلسفۂ کلّیت جو مجموعی نقطۂ نظر کا حامل ہے ،یہ مجموعہ کو وحدت کے طور پر دیکھتا ہے اور اسی کی روشنی میں لائحۂ عمل مرتب کرتا ہے۔
طبقۂ عوام میں شہرت ہے کہ یونانی ادویہ طبعی مآخذ(natural sources)سے حاصل ہونے کے باعث بے ضرر ہوتی ہیں۔اس گمان کے برعکس یونانی طب میں دواؤں کا استعمال اس نظریہ کے ساتھ ہوتا ہے کہ یہ جسم سے مغایرت رکھتی ہیں ۔چنانچہ مختلف تدابیر کے ذریعہ اسے کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔دوا کے انتخاب میں درجہ بندی ، مرض کی شدت و خفت کا لحاظ ،مریض کے بدنی قویٰ اور ماحول و موسم کی رعایت جیسے امور کی پاسداری ، دواؤں کے استعمال کو موثر اور محفوظ بنانے کی کوشش ہی کا حصہ ہیں۔یونانی دواسازی میں تدبیر اور اصلاح کو اہم اصول کے طور پر برتنے کا ہمیشہ اہتمام رہا ہے۔اس کے تحت سمّی تاثیر اور شدید کیفیات کی حامل دواؤں کی مختلف تصرفات کے ذریعہ اصلاح اور تدبیر کی کوشش کی جاتی ہے۔کچلہ،بیش،شوکران،بھنگ،سنکھیا،خبث الحدید، شنگرف،افیون، دھتورہ،حب السلاطین اورسقمونیا جیسی سمی دواؤں کو تدبیر کے عمل سے ہی محفوظ طریقے سے استعمال کیا جا سکا ہے۔
یونانی دواؤں کی محفوظ اثر پذیری کے سلسلے میں مزاجی درجہ بندی کا فلسفہ ایک بڑا عامل رہا ہے۔ ادویہ کے مزاج سے جہاں افعال و خواص کو متعین کرنے میں مدد ملی ہے،وہیں مزاجی درجہ بندی سے ادویہ کے محفوظ استعما ل کو ممکن بنایا جا سکا ہے۔دواؤں کی درجاتی تقسیم کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ مریض اور مرض کی رعایت کرتے ہوئے موقع و محل کی مناسبت سے حسبِ تقاضادواؤں کے انتخاب میں مزاجی شدت و خفت کو ملحوظ رکھا جا سکتا ہے۔
یونانی طب میں دواؤں کو مرکب کرکے استعمال کرنے کا رواج ہر دور میں رہا ہے۔ترکیب کے مختلف مقاصد میں ایک اہم مقصد دوا کی مضرت کا ازالہ بھی ہے،اسی لیے مرکبات میں ’’مصلح ‘‘ کی شمولیت ایک عام دستور ے،تاکہ مضرتوں (adrs)کو زائل کرکے دوا کو محفوظ الاثر بنایا جا سکے ۔اس سلسلے میں ابنِ سینا ایک کلی اصول بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے(6):
’’بسا اوقات ایک دوا کو کسی مرض کے لیے استعمال کرنا ہوتا ہے ،وہ دوا اس مرض کے لیے کافی ہوتی ہے ،لیکن اس میں دوسری مضرتیں ہوتی ہیں ،چنانچہ اس کے ساتھ کوئی ایسی دوا شامل کر دیتے ہیں جو اس کی مضرت کو دفع کردے‘‘۔
اس اصول کے مطابق مرکب کے اجزائے ترکیبی میں اصل اور عمود کے ساتھ معین،مصلح اور بدرقہ کے طور پر دوائیں شامل کی جاتی ہیں۔دواؤں کی ترکیب میں ’’مصلح‘‘ کی شمولیت کا دستور holistic approachہی کا حصہ ہے۔
ادویہ کی تیاری میں ان کے عام قبح کو جو ذوق و ذہن پر بار ہوسکتے ہیں، دور کرنے کے ساتھ وہ تمام تدابیراختیار کی جاتی ہیں جو ان کے ثانوی،جانبی یا مخالف اثرات کی اصلاح اور ازالہ میں معاون ہوں ،پھر ان کی تیاری کے بعداستعمال کے وقت حزم و احتیاط کے لیے بہت سے اقدام کیے جاتے ہیں ،ان تمام مساعی کا مقصد دوائی مصنوعات کی محفوظ اثر پذیری کو یقینی بنانا ہے۔حکیم سید رضا حسن جعفری اپنی تالیف ’’مجرباتِ رضائی‘‘میں لکھتے ہیں(7):
’’چونکہ ہلیلہ جات اور مغزِ فلوس خیار شنبر بالخاصّہ آنتوں کے لیے مضرت رساں ہیں ،اسی لیے ان کو بغیرمصلح کے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ان کے مصلح روغنیات ہیں،بالخصوص روغن بادام شیریں۔اسی وجہ سے ضروری ہے کہ اطریفلات اور لعوقات کے نسخوں میں یا جن مرکبات میں بھی یہ دوائیں ہوں،ان میں روغنِ مذکور لازمی طور پر شامل کیا جائے۔اطریفل کا دستور یہ ہے کہ اسے برتن میں رکھ کر اس کا منھ مضبوطی سے بند کردیں اور کم از کم چالیس دن جَو میں دبا کر رکھیں تاکہ مزاج حاصل کرلے،حتیٰ الامکان یہ مدت پوری ہونے سے پہلے استعمال نہ کریں‘‘ ۔
قرابادینِ جدید کے مؤلف حکیم عبد الحفیظ لکھتے ہیں(8):ـ
ـ’’اطریفل کو زیادہ عرصہ تک مسلسل استعمال نہ کریں ،اس لیے کہ اس کی مداومت سے معدہ ضعیف ہوجاتا ہے‘‘۔
ہندوستان میں کشتوں سے یونانی دواسازی کے متعارف ہونے کے بعد ان کے استعمال کے جواز اور عدم جواز پر حلقۂ اطباء میں زبردست علمی مناقشے ہوئے ،لکھنؤ اور دہلی کے طبیبوں کے درمیان جن مسائل میں اختلاف رہا ہے ،ان میں کشتہ کے استعمال کا مسئلہ بھی نزاع کا سبب رہا ہے۔ایک طبقہ جہاں اس کی سریع الاثری کے باعث دلدادہ دِکھا،وہیں اس کے مخالفین کی تعداد بھی کم بڑی نہیں ہے ،جو اس کی مضرت اور جسم سے طبعی مغایرت کے سبب عدمِ جواز کا فتویٰ صادر کرتی ہے۔حکیم محمد فیروز الدین نے ــمعدن الاکسیر ‘‘ میں ’’کشتہ کا جواز اور عدمِ جواز‘‘ کے عنوان سے طویل گفتگو کی ہے(9)۔
دواؤں کے برعکس جسم سے غذاؤں کا رشتہ اس لحاظ سے مطابقت اور موافقت کا ہوتا ہے کہ انہیں جسم قبول کر کے اپنا جزء بنا لیتا ہے،ہم آہنگی کے اس تعلق کے باوجود ان کے استعمال میں حزم ملحوظ رکھتے ہیں۔غذاؤں کی مضرت اور ان کے ازالہ کے موضوع پررازی کی تالیف’’ دفعُ مضارِ الاغذیہ ‘‘طبی نقطۂ نظر پیش کرنے والی ایک اہم تالیف ۔ اس سے یونانی طب میں غذاؤں کے بھی محفوظ استعمال کے سلسلے میں شدتِ اہتمام کامسلک سامنے آتا ہے(10)۔ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جہاں اغذیہ کی مضرتوں کے باب میں اتنا محتاط رویہ ہو،وہاں دواؤں کے سلسلے میں احتیاط کا کتنا دھیان رکھا جاتا ہوگا۔
فارمیکوویجیلنس میں دوائی مصنوعات کے adverse effects کا مطالعہ اِن کے بازار میں اجراء کے بعد کیا جاتا ہے۔یونانی طب میں برطانوی عہد سے پہلے صنعتی صورت میں دوا سازی کی روایت تقریباً مفقود تھی۔بڑے پیمانہ پراس کا چلن صرف شفاخانوں میں تھااور اس کا دائرہ بھی متعلقہ شفا خانہ تک محدود ہوتا تھا،لہٰذا اطباء کے ذریعہ دواؤں کے مضر پہلوؤں کی نشاندہی کوفارمیکوویجیلنس کے مفہوم سے کیسے مطابقت دی جائے؟ ایک بڑا سوال ہے۔ یونانی دواسازی کی حقیقت کو سمجھے بغیراس مسئلے کی عقدہ کشائی نہیں ہوسکتی۔برطانوی عہد سے پہلے یونانی طب میں رائج دواسازی جزوی اور گھریلو نوعیت کی تھی اور اسی پر معالجے کا انحصارتھا ۔اولاً سفوف،حبوب،اقراص،معاجین،اشربہ اور مراہم وغیرہ کی شکل میں قرابادینی نسخوں کو ضرورت کے لحاظ سے تیار کرکے رکھ لیا جاتا،پھراُنہیں مرضی تقاضوں کی روشنی میں دوسری ادویہ جیسے جوشاندے،خیساندے اور زلال وغیرہ کے ہمراہ تجویز کیا جاتا۔اس طرح قرابادینی نسخوں کا ہزاروں مطبوں میں استعمال ہوتا تھا۔اکثر اطباء انہیں معالجے میں برتنے اور معالجاتی مقاصد حاصل کرنے کے ساتھ،ان کی افادیت اور مضرت سے متعلق مذکور بیانات کو پرکھنے کا کام بھی کرتے اور اپنے مشاہدات کوبیاضوں میں قلم بند کرلیتے۔ماضی میں بیاض نویسی کی صورت میں کلینکی مشاہدات کو ضبطِ تحریرمیں لانے کی مستحکم روایت ملتی ہے، جس میں فارمیکوویجیلنس کی ایک جھلک محسوس ہوتی ہے۔ مگر یہ تصویر صاف اسی وقت ہوتی ہے،جب مطبوں کی دواسازی اور طبیبوں کی بیاض نویسی کو ایک ساتھ جوڑ دیکھا جائے گا۔اب تک ماضی میں رائج فارمیکوویجیلنس کے نظام کو اسی لیے نہیں سمجھا جا سکا کہ ان کڑیوں کو جوڑنے کی کوشش نہیں ہوئی۔
یونا نی طب میں قرابادینوں کو برتنے کا جس طرح کا چلن رہاہے ،اسے بغور دیکھنے سے کم و بیش وہی مفہوم سامنے آتا ہے جو فارمیکو ویجلنس کا ہے۔جس طرح فارمیکو ویجیلنس میں بازار میں دوا کے اجراء کے بعداس کے adverse effects کے مشاہدہ اور ان سے تحفظ کی تدبیر کی جاتی ہے، اسی طرح قرابادینی نسخوں کو مطبوں پر برت کر ان کے افعال و خواص اور جانبی و مضر اثرات کودیکھنے کا معمول ملتا ہے۔یونانی دوا سازی میں اوّلین عہد سے ہی تریاقوں کی تیاری کا ثبوت ملتا ہے۔تریاقِ فاروق ان اہم مرکبات میں ہے،جو قرنِ اول میں تیار کیے گیے ہیں۔اس کے اجزاء اور ترکیبِ تیاری میں بہتری کی ہر زمانہ میں کوششیں ہوئی ہیں،مجوسی اور دوسرے مصنفین نے ان کی تفصیل کو نقل کیا ہے(11)۔حذف و ترمیم کے یہ آثار قرابادینوں میں دیکھے جا سکتے ہیں،ظاہر ہے اس کے محرک افعال و خواص میں بہتری اور محفوظ الاثری کے تقاضے رہے ہیں۔ اس طرح یونانی طب کے قرابادینی نظام کو موجودہ عہد کے فارمیکوویجیلنس کے متوازی کہاجاسکتا ہے ،جس میں دواؤں کو محفوظ تر بنانے کے لیے وسیع مطالعہ کے ذریعہ ان کے adverse effects کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔یونانی طب میں قرابادین نویسی کے ذریعہ جب آزمودہ نسخوں ،مجربات اور معمول بہ ادویہ کو ضبطِ تحریر میں لا کر اِن کے ریکارڈ کو مدون کرنے کی کوشش شروع ہوئی تو ان کے دعووں اور بیانوں کی توثیق اور تردید کے ساتھ ان سے جڑے مضرت کے پہلوؤں کو دیکھنے کی کوشش بھی کی گئی ۔یہی وجہ ہے کہ الگ الگ قرابادینوں میں ایک ہی نام کے مرکب میں اجزاء ،افعال اور مواقع ِ استعمال کے سلسلے میں جداگانہ اور مختلف بیان ملتے ہیں اور بسا وقات ان کے اجزاء میں تصرف اور مرکب کی تیاری کے باب میں اصولِ ترکیب کا فرق دیکھا جاتا ہے۔اس کی وجہ یہ کہ جب سابقہ دعووں کو تجربہ کی کسوٹی پرجانچا گیا تومشاہدے میں جو باتیں آئیں انہیں کو تدوین میں جگہ ملی ،اس موقع پر افادی پہلوؤں کے ساتھ ان سے جڑی مضرتوں کو بھی دیکھا گیا ،اگر کچھ محسوس ہوا تو نسخہ میں تصرف اوراجزاء میں کمی بیشی کے ذریعہ اس کے تدارک کی کوشش کی گئی،اسی طرح حذف و اضافہ کے ذریعہ مرکب کو بہتر بنانے کے لیے اوزان اور اجزاء میں رد و بدل کیے گیے،جنہیں قرابادینوں کے مطالعہ سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔
بیسویں صدی میں طبی صحافت کے زمانۂ عروج میں رسائل و جرائد کا ایک اہم اشاعتی گوشہ ’مجربات‘ ہوا کرتے تھے۔انہیں مطبوں پر استعمال کرکے اطباء ان کی افادیت،عدم افادیت اور مضرت سے جڑے امور پر اپنے مشاہدے بیان کرتے،جو آئندہ شماروں میں شائع ہوتے۔ان سے بھی فارمیکوویجیلنس کا مفہوم سامنے آتا ہے۔
یونانی طب کی ادویاتی معلومات خواہ افعال و خواص سے متعلق ہوں یا ان کا تعلق مضرتوں اور جانبی اثرات سے ہو،ان کے بارے میں قیاس اور ان کی بنیادپر کیے گیے تجربے ہی رہنما اصول رہے ہیں۔دواؤں کے مزاجی مطالعہ،پھر درجات کے تعین ،بعدازاں دوا کے مزاج کی روشنی میں افعال و خواص،جانبی تاثیرات اور مضر اثرات کے مطالعہ کے سلسلے میں قیاس اور تجربہ کے یہی اصول اطباء کے سامنے رہے ہیں۔قرابادینی نسخوں کے اندر تصرف ،ترمیم اور حذف و اضافہ کے وقت انہیں اصولوں کی کارفرمائی رہی ہے۔
اطباء متقدمین کے یہاں تحقیق و تدقیق اور نقل کے سلسلے میں درایت کا جو اہتمام رہا ہے ’’الجامع لمفرداتِ الادویہ و الاغذیہ ‘‘ اس کی عمدہ مثال ہے۔ابن بیطار اس کتاب کے طرزِ تالیف کے بارے میں لکھتا ہے(12):
’’میں نے متقدمین اور متاخرین کے وہی اقوال لکھے ہیں جن کا مشاہدہ و تجربہ میں نے ذاتی طور پر کیا ہے،جن کی صحت کی تصدیق اپنی آنکھوں اور کانوں کے ذریعہ ہوسکی ہے‘‘۔
پھر آگے لکھتا ہے:
’’میں نے جرأت کے ساتھ بعض ایسی غلطیوں کی نشاندہی کردی ہے جو بعض دواؤں کے سلسلے میں متقدمین اور متأخرین سے اس بنیاد پر سرزد ہوگئی ہیں کہ انہوں نے محض کتابوں اور منقولات کا سہارا لیا ہے،اس کے برخلاف جیسا کہ اوپر کہا گیا میرا اعتماد اپنے ذاتی تجربہ و مشاہدہ پر ہے‘‘(13)۔
یہ مثال مشتے نمونہ از خروارے ہے۔تحقیق کا یہی میزان کم و بیش ماضی کی تمام معتبر تصنیفات میں رہا ہے،لہٰذا انہیں معتبر دستاویزی ثبوت کے طور برتا جا سکتا ہے۔
برسوں کے تجربہ اور مشاہدہ کے بعد جب نسخوں کے بارے میں محفوظ اور موثر ہونے کا یقین ہوجاتا ہے تو مجرب کے طور پروہ قرابادینوں میں جگہ پالیتے ہیں۔چونکہ ان کی افادیت اور محفوظ الاثری کے بارے میں ماضی کے تجربے شہادت فراہم کرتے ہیں ،لہٰذا ان نسخوں کو اطباء اپنے مطبوں میں استعمال کو ترجیح دیتے ہیں۔پھر حذّاق ان میں مشاہدے اور تجربے سے بوقتِ ضرورت مناسب رد وبدل کرتے ہیں۔اس طرح قرابادینوں میں درج نسخے تجربے اور مشاہدے کے طویل مرحلے سے گزرکر موجودہ نسل تک پہنچے ہیں۔چونکہ یہ مسلسل تجربے سے گزرے ہیں ،اسی لیے ان میں ترمیم اور رد و بدل کے آثار دیکھے جاتے ہیں۔طبیب کے اپنے مشاہدات ،خاندانی تجربات، اساتذہ کے معمولات ،افادیت اور مضرت کے سلسلے میں اہلِ فن کی روایات اور منقولات ،مریضوں کے بیانات،یہ سارے حوالے بیاضوں کے اجزائے ترکیبی ہیں،جو قرابادینوں کی ترتیب کا مواد رہے ہیں،پھربعد میں یہ قرابادینی نسخے اطباء کے مطبوں پر وسیع پیمانے پر استعمال میں لائے گیے ہیں۔
یونانی طب میں دواؤں کے محفوظ استعمال کی روایت کے ساتھ بیاضوں اور قربادینوں کو مربوط کرکے دیکھا جائے تو ادویہ کے افعال و خواص ،نیز مضر اور جانبی اثرات کے ریکارڈ کو محفوظ کرنے کا ماضی میں جو جامع نظام سامنے آتا ہے،اس کا مفہوم فارمیکو ویجیلنس کے حالیہ سسٹم سے کافی قریب محسوس ہوتا ہے۔
حوالہ جات
1۔James H. Kim and Anthony R.Scialli,Thalidomide:The Tragedy of Birth Defects and The Effective Treatment of Disease,Toxicological Sciences,Vol.122,Issue1,July 2011,p.1-6
2۔Pharmacovigilance Guidelines
3۔Kumar A,Past,Present and Future of Pharmacovigilance in India,Systematic Reviews in Pharmacy,Vol.2,Issue1,pp.55-58
4۔ الجامع لمفرداتِ الادویہ والاغذیہ،ج1،ابن بیطار(1985)(اردو ترجمہ)،سی سی آر یو ایم،نئی دہلی،ص203
5۔الجامع لمفرداتِ الادویہ والاغذیہ،ج1،ابن بیطار(1985)(اردو ترجمہ)،سی سی آر یو ایم،نئی دہلی،ص9
6۔ا القانون فی الطب،ج 5،ابن سینا(1417ھ)،جامعہ ہمدرد ،نئی دہلی،ص 2
7۔ مجرباتِ رضائی ، سید رضا حسن جعفری(2017) (اردو ترجمہ)سی سی آر یو ایم،نئی دہلی،ص 34
8۔قرابادینِ جدید، حکیم عبد الحفیظ(2005)،سی سی آر یو ایم،نئی دہلی،ص9
9۔معدن الاکسیر، حکیم محمد فیروز الدین(2007)،،سی سی آر یو ایم،نئی دہلی،ص5-21
10۔ محمد بن زکریا رازی :احوال و آثار، حکیم وسیم احمد اعظمی (2012)،بھارت آفسیٹ دہلی،ص46-47
11۔کامل الصناعۃ الطبیۃ،ج۲،علی بن عباس مجوسی(2005)،سی سی آر یو ایم،نئی دہلی،ص526-33
12۔ الجامع لمفرداتِ الادویہ والاغذیہ،ج1،ابن بیطار(1985)(اردو ترجمہ)،سی سی آر یو ایم،نئی دہلی،صxxiv
13۔ایضاً

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Nazish Ehtesham Azmi

Read More Articles by Nazish Ehtesham Azmi: 10 Articles with 5467 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Mar, 2020 Views: 216

Comments

آپ کی رائے