ولیمے کا اہتمام

(Tanvir Sadiq, Lahore)

میں اپنے ایک ساتھی سے ملنے گیا تو وہ اس وقت مغرب کی نماز پڑھ کر لوٹے تھے اور واپسی پر چند نمازی حضرات بھی ان کے ساتھ آئے تھے جو سارے مل کر ڈرائنگ روم میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔میں ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو سبھی بڑے تپاک سے ملے۔ میرے ساتھی نے میرا تعارف کرایا اور ساتھ ہی اپنے دوستوں کو بتایا کہ وہ ابھی میرا ہی ذکر کر رہے تھے کہ وہ صاحب جن کے بارے وہ بات کر رہے تھے، اسی کے دوست ہیں۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا کون صاحب اور میرا ذکر کیوں۔ انہوں نے میرے ایک دیرینہ دوست کا نام لیا۔ میں نے کہا کہ ٹھیک وہ صاحب میرے دوست تھے، دوست ہیں اور ایک دوسرے سے کچھ ایسی کمزوریاں وابستہ ہیں کہ تمام تر اختلافات یا دوریوں کے باوجود بھی مجبوراً دوست رہیں گے۔ پوچھنے لگے کیسے انسان ہیں۔میں نے ہنس کر کہا کہ انسان اپنے دوستوں سے جانا اور پہچانا جاتا ہے ۔ جیسا میں ہوں ویسا کچھ نہ کچھ اس میں ہو گا اسی لئے ہم ایک طویل مدت سے ساتھ ہیں۔ کہنے لگے بظاہر تو وہ نیک آدمی نظر آتے ہیں مگر پتہ نہیں اس محلے میں آتے ہیں۔ پہلے نماز پڑھتے ہیں پھر یہاں سے ایک عورت کو ساتھ بٹھا کر لے جاتے ہیں۔ ان کی یہ حرکت کچھ مشکوک لگتی ہے۔ میں نے پوچھا، وہ عورت اس کے ساتھ بیٹھ کر جاتی ہے۔ جواب ملا، جی اس کے ساتھ بیٹھی ہوتی ہے۔ میں نے ہنس کر کہا، میں اسے پوری طرح جانتا ہوں وہ کسی نامحرم کو اپنے ساتھ نہیں بٹھا سکتا۔ اسے دوسری شادی کا شوق تھا۔ اس نے کر لی ہو گی۔ وہ عورت اس کی بیوی ہے ۔چونکہ یہ شادی پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے ہوئی ہے اس لئے ابھی اسے گھر منتقل کرتے اس کے پر جلتے ہوں گے باقی یہ یقین رکھیں وہ غلط کام نہیں کر سکتا۔ کوئی نا محرم اس کے ساتھ بیٹھی ہو اس کا تصور بھی ممکن نہیں۔

چند سال پہلے اخبار میں ہر روز کوئی نا کوئی ایسا اشتہار ہوتا تھا جس میں ایک امیر کروڑ پتی بیوہ کے لئے رشتہ درکار ہوتا تھا۔ گاڑی، مکان ،زمین، اخراجات اورلمبے چوڑے لالچ کے ساتھ پہلی بیوی کا بندوبست کرنے کی نوید بھی ہوتی تھی۔ کئی لوگ اس جھانسے میں آ جاتے مگر پہلی بیوی کا کم اور ان کا اپنا بندوبست بڑا شاندار ہو جاتا۔ دوسری شادی ایک جائز عمل ہے اسلام اس کی اجازت ہی نہیں مخصوص شرائط کے ساتھ حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے مگر ہماری کلچرل روایات اورذاتی حالات بہت کچھ دیکھنے کا تقاضا کرتے ہیں ۔ میں ذاتی طور پر اس کے حق میں کبھی نہیں رہا۔ تین چار سال پہلے ہمارا ایک مشترکہ دوست دوسری شادی کے چکر میں تھا۔ میں نے مخالفت کی اور اسے سمجھایا کہ ایسا نہ کرے کیونکہ بقول مصطفےٰ زیدی’’تتلیاں اڑتی ہیں اور ان کو پکڑنے والے، سعی ناکام میں اپنوں سے بچھڑ جاتے ہیں‘‘۔ اس وقت میرے اسی دوست نے اسے حوصلہ دیا اور کہا کہ وہ شادی کر لے۔ اسی دوران کسی طرح اس کی پہلی بیوی کو خبر ہو گئی اور وہ ہمارے دوست اور اس کی ہونے والی بیوی کا بندوبست کرنے کو تیار ہو گئی۔ انجام یہ ہوا کہ ہمارے مشترکہ دوست نے نہ صرف شادی کی امیدوار عورت کو چھوڑابلکہ حد سے زیادہ پریشانی کی صورت حال میں دنیا بھی چھوڑ گیا۔ مگر میرا یہ دوست اس معاملے میں دلیر ہے۔ یہ شروع ہی سے خطروں کا کھلاڑی ہے اور جو کرناہو، اسے کرنے کے لئے جان پر کھیل جانا بھی پوری طرح جانتا ہے۔ کیا کروں اب اسے مبارکباد تو دینی ہے۔ گو میں اس کے موجودہ حالات سے خوش نہیں۔مگر اس کے ذاتی حالات شاید ایسے ہو گئے تھے کہ یہ شادی اس کی مجبوری تھی۔ عورت اپنی انا کے چکر میں بھول جاتی ہیں کہ مرد کی بھی کچھ ضرورتیں اور مجبوریاں ہوتی ہیں اور بڑھتی عمر کے ساتھ ایک ہمدرد اور غمگسار ساتھی کی ضرورت بہت شدت سے ہوتی ہے اور ایک اچھی ،پیار کرنے اور خیال رکھنے والی بیوی سے بہتر کوئی ہمدم نہیں ہو سکتا۔ عورتیں انا کے چکر میں بہت کچھ کھوتی اور بعد میں پچھتاتی ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے معاشرے میں دوسری شادی زیادہ تر مسائل کو جنم دیتی ہے اس کے باوجود دعا اچھائی کی کرنی چائیے، کوئی شخص اپنے کسی دوست یا عزیز کو امتحان میں نہیں دیکھنا چاہتا۔

خوشی صرف اتنی ہے کہ دوسری شادی کرنے کے سبب میرا دوست ایک تو جنت کا پکا حق دار قرار پائے گا اور دوسرا موجودہ حکومت کے نظریے کے مطابق لاتعداد حوروں کا مالک، کتنا روشن مستقل ہے کہ جنت بھی ہو گی اور دائیں، بائیں آگے پیچھے حوریں ہی حوریں اور وہ بھی بغیر کسی انا کے، بغیر کسی نخرے کے بس عیش ہی عیش۔۔جنت کی بات مجھے ایک مولوی صاحب نے بتائی تھی کہ رب العزت کے دربار میں لوگ پیش ہو رہے تھے، بڑا سخت حساب ہو رہا تھا۔ فرشتوں کے سوال جواب میں لوگ سہمے سمٹے ، ڈرے ڈرے اپنے بارے میں فیصلے کے منتظر تھے۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور فرشتے اس سے حساب لینے کو تیار ہوئے۔ اسی لمحے اس کے بارے رب کا حکم آیا کہ اس سے سوال جواب کی ضرورت نہیں ،اسے سیدھا جنت میں جانے دیا جائے۔وہ جنت کو چل دیا تو فرشتوں نے بڑے ادب سے رب سے پوچھا کہ اے مالک کائنات اس شخص پر یہ خاص کرم کیوں؟ جواب ملا، اس کی دو بیویاں تھیں، دنیا ہی میں کافی بھگت آیا ہے، مزید کی گنجائش نہیں۔سوچتا ہوں کہ میرے دوست کا مستقبل بھی اب بہت روشن ہو گیا ہے۔ بس کچھ تھوڑا سا بھگتنے کی کسر باقی ہے۔

چند دن ہوئے میں ایک ہوٹل میں رات کا کھانا کھا رہا تھا۔ اس ہوٹل کے ایک کونے میں ،میں اور میرے گھر کے دیگر افراد کچھ مہمانوں سمیت موجود تھے ۔اسی منزل پر ہوٹل کے دوسرے کونے میں نئی نویلی دلہن سمیت میرا دوست موجود تھا۔ کھانے کے بعد ایک ہی وقت میں دونوں فریق اٹھے ۔ میرا دوست اور اس کی بیگم احتیاط کے ساتھ کچھ فاصلے رکھ کر باہر آ رہے تھے۔وہاں میری اورمیرے دوست کی ملاقات ہو گئی، کچھ گھبرا کر اس سے مجھ سے ناراضی کا اظہار کیا۔ میں سمجھ گیا کہ وہ چاہتا ہے کہ اس کی نئی بیگم کے آنے سے پہلے میں اس کی جان چھوڑ دوں۔ سو میں چلا آیا۔ اس کی پہلی شادی میں ،میں پوری طرح، دامے، درمے، قدمے، سخنے شریک تھا۔ اب چونکہ اپنوں سے بچھڑنا مقدر ہے تو شاید ہم بھی ان اپنوں میں شامل ہونگے۔ لیکن ایک بات شادی کے بعد ولیمہ بہت ضروری ہوتا ہے جس کا اہتمام میں کر رہا ہوں۔ہم سے بچھڑنے والے کو ایک بار تو اس میں شریک ہونا ہو گا ،وہ بھی معہ نئے اہل و عیال کے۔ دنیا بہت چھوٹی ہے ، چاند نکلتا ہے تو سب کو نظر آتا ہے۔ اسے چھپایا نہیں جا سکتا۔بھلے لوگ تو اسے دیکھ کر اچھے دنوں کی دعا کرتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 440 Articles with 226949 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
16 Mar, 2020 Views: 192

Comments

آپ کی رائے