للن، کلن اور این پی آر

(Dr. Salim Khan, India)

للن نے دہلی سے لوٹ کر کلن سے کہا دیکھو بھیا اب اپنی جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔
کلن بولا تو کیا اب این پی آر پر آر پار کی لڑائی ہوگی ؟
جی ہاں یہی سمجھ لو ۔ جنگ کا طبل بج چکا ہے۔
کلن نے پوچھا لیکن تمہیں یہ کس نے بتادیا؟ دہلی سے کوئی اندر کی خبر تو نہیں لائے ہو؟
ویسے کوئی پکی خبر تو نہیں لیکن اس کا اشارہ واضح ہے۔
کلن نے کہا مجھے بھی ایوان پارلیمان وزیرداخلہ کی تقریر سن کر اس کا احساس ہوا لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ شاہ جی کو کیسے پتہ چل گیا؟
ارے ساری خفیہ ایجنسیاں ان کی خدمت میں تعینات ہیں، اگر انہیں پتہ نہیں چلے گا تو کس کو معلوم ہوگا؟
تب تو ایسا لگتا ہے کہ اونٹ واقعی پہاڑ کے نیچے آچکا ہے؟
للن نے کہا لیکن دیکھو اگر ہمارا دباو کم ہوا تو سارےگیدڑ پھر سے شیر بن جائیں گے۔ اب بے فکر ہوجانا ابھی تک کی ساری محنت پر پانی پھیر سکتا ہے۔
کلن بولا اچھا تو کیا اسی لیے آج شام پھر سے این آر سی اور این پی آر کا احتجاج آگے بڑھانے کے لیے نشست ہورہی ہے؟
جی ہاں آج ہم لوگ ۵ بجے ایک بڑا مظاہرہ طے کرنے کے لیے ممبئی باغ میں جمع ہورہے ہیں ۔ تم ضرور آنا، کوئی بہانہ نہیں چلے گا۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
میٹنگ میں موجود کارکنان جوش وخروش سےمختلف مشورے دے رہے تھے کہ اچانک چھٹن نے کہا حالات ٹھیک نہیں ہیں ، ہمیں محتاط ہونا چاہیے۔
اس بے وقت کی راگنی نے سب کو چونکا دیا۔ جمن نے حیرت سے کہا کیا کہنا چاہتے ہو؟ کھل کر بولو۔
چھٹن بولا مجھے پتہ چلا ہے کہ دہلی کے فساد زدہ علاقہ سے پانچ سو لوگ غائب ہیں ۔ وہ یا تو مارے جاچکے ہیں یا انہیں جلا دیا گیا ہے ۔
اس خبر نے خوف کی لہر دوڑا دی ۔ للن خاموشی توڑ کربولا یہ خبر کہاں سے لائے ہو؟ میں تو دو دن قبل دہلی سے لوٹا ہوں وہاں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔
اس سے پہلے کہ جھگڑا بڑھتا جمن نے تصفیہ کراتے ہوئے کہا ارے بھائی فساد پھوٹنے پر بہت سارے لوگ اپنے وطن لوٹ جاتے ہیں اور حالات کے ٹھیک ہونے پر لوٹ آتے ہیں اس لیے جو غائب لوگوں کے بارے میں ایسا برا گمان نہیں کرنا غلط ہے اور افواہ پھیلانے سے گریز کرناچاہیے۔
یہ سن کر کلن کے جان میں جان آئی وہ بولا بھائی چھٹن ہم لوگ دہلی میں نہیں بلکہ ممبئی میں ہیں۔ تم کیوں بلاوجہ ڈر پسار رہے ہو؟
چھٹن بگڑ کر بولا مجھے پتہ ہے ۔ ممبئی میں بھی حالات ٹھیک نہیں ہیں ۔
للن نے سوال کیا یہ تمہیں کس بیوقوف نے بتادیا؟
مجھے تم جیسے کسی بیوقوف کے بتانے کی چنداں ضرورت نہیں ۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔
کلن بولا تو کیا ہم لوگ آنکھیں موند کےچلتے ہیں ۔ ہمیں وہ سب نظر کیوں نہیں آتا؟
چھٹن نے کہا نظر نہیں آتا تو اپنی عینک بدلو یا یہ ویڈیو دیکھو۔
کلن کا پارہ چڑھ گیا اس نے کہا بھائی یو ٹیوب پر تو آدھے سے زیادہ ویڈیو جعلی ہوتی ہیں ۔ اس پر ہم یقین نہیں کرسکتے۔
یہ کسی یو ٹیوب کی ویڈیو نہیں ہے۔ میں نے خود اس کو آتے ہوئے بس میں بنائی ہے۔ چھٹن ویڈیو چلا کر دکھانے لگا۔
جمن بیزاری سے بولے ویڈیو چھوڑو اور منہ سے بتاو کہ کیا ہوا؟
ہوا یہ کہ بس میں بزرگوں کی سیٹ پر ایک مسلم خاتون بیٹھ گئی ۔ اس پر ایک ہندو نوجوان ان سے الجھ گیا اور برا بھلا کہنے لگا۔
جمن بولے یار اس طرح کے اکاّ دکا واقعات سے کیا ہوتا ہے؟ خود میری عمر کا خیال کرکے کئی ہندو نوجوان اٹھ کر مجھے اپنی سیٹ دے دیتے ہیں ۔
چھٹن نے اصرار کیا آپ اس ویڈیو میں تو دیکھیں کس طرح وہ بدمعاش نوجوان گالی گلوچ کررہا ہے بلکہ وہ تو اس بڑھیا پر ہاتھ اٹھانے جارہا تھا۔
للن بولا وہ تو جو کچھ کررہا تھا سو کررہا ہے لیکن تم کیا کررہے تھے ۔ تم نے اس نوجوان کو کیوں نہیں روکا؟
کلن بولا یہ کیسے روکتا ؟ اس کو موبائل بنانے سے فرصت نہیں تھی ۔
جمن پریشان ہوگیا نشست کا موضوع احتجاج سے ہٹ کر کسی اور سمت چلا گیا تھا ۔ اس نے کہا بھائی جو ہوگا دیکھا جائے گا ہمیں اپنا کام کرنا ہے۔
اپنا کام کیا مطلب ؟ کیا یہی ایک کام رہ گیا ہے۔ چھٹن نے کہا میری تو رائے یہ ہے کہ ان حالات میں ہمیں سارا احتجاج بند کردینا چاہیے۔
للن بھڑک کر بولا کیا بکواس کرتے ہو دہلی کے اتنے زبردست فساد کے باوجود شاہین باغ قائم ہے اور تم یہاں ایک ہزار کلومیٹر دور ڈر رہے ہو؟
چھٹن نے کہا میں ڈر نہیں رہا ہوں خبردار کررہا ہوں ۔ ساری دنیا میں کرونا وائرس نے تباہی مچا رکھی اور ہم لوگ اس سے بے نیاز احتجاج کررہے ہیں ۔
کلن نے کہا لیکن کرونا کے باوجود ہم لوگ لوکل ٹرین کی بھیڑ بھاڑ میں سفر تو کرتے ہی ہیں اور باقی سارے کام چل رہے ہیں تو یہ کیوں بند کیا جائے؟
چھٹن نہیں مانا۔ وہ بولا دیکھو بھائی کوئی احتجاج تا قیامت تو چل نہیں سکتا ۔ اب جبکہ وزیرداخلہ نے ایوان پارلیمان میں یقین دہانی کردی اور کیا چاہیے؟
کلن نے کہا ہم جملے باز رہنماوں کی زبانی تیقن پر بھروسہ نہیں کرسکتے ۔
اچھا تو کیا تم ان کےدل میں جھانک کر دیکھ لیا ہے ۔ تم چاہتے ہو کہ وہ اپنا سینہ چیر کر دکھائے؟
جمن نے کہا ہم چیر پھاڑ نہیں چاہتے ۔ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ جو کچھ کہا جارہا ہے وہی لکھ دیا جائے ۔
لکھ دیا جائے ؟ کہاں لکھ دیا جائے چھٹن نے سوال کیا؟
آئین میں لکھ دیا جائے۔ جہاں یہ لکھا ہے کہ این پی آر کے بعد این آر سی ہوگا وہاں لکھ دیا جائے کہ ایسا نہیں ہوگا ۔
للن بولا صرف اس سے کام نہیں چلے گا بلکہ جو کہا جارہا ہے ’کسی کو ڈی ووٹرنہیں قرار دیا جائے گا ‘ یہ بھی لکھا جائے۔
چھٹن بولا لیکن کہنے اور لکھنے میں کیا فرق ہے ؟ ایک ذمہ دار شخص ایوان پارلیمان میں کہہ رہا ہے پھر بھی آپ لوگ نہیں مانتے ۔
جمن بولے دیکھو بیٹے یہ ملک کسی فرد کے کہنے پر نہیں بلکہ آئین کے مطابق چلتا ہے ۔ عمل تو اسی پر ہوگا جو لکھا ہے نہ کہ جو کہا گیا ہے۔
کلن نے سوال کیا لیکن جمن چچا اگر ان لوگوں نے لکھ کر دے دیا اور اس پر عمل نہیں کیا تو ہم کیا کریں گے ؟
اس صورت میں ہم عدالت کے ذریعہ ان کو عمل درآمد کرنےپر مجبور کرسکتے ہیں ورنہ عدلیہ کے لیے ’ڈی ووٹر بنانے کا ‘جواز نکل آئے گا۔
چھٹن ایک نیا اعتراض لے کر آیا ۔ جمن چچا یہ بتائیے کہ یہ قانون تو ۱۹۵۵ میں پنڈت نہرو نے بنایا ۔ اس وقت سب لوگ کیوں خاموش رہے ؟
کلن بیچ میں بول پڑا نہرو اور پٹیل کا معاملہ مودی اور شاہ سے مختلف تھا ۔ وہ قوم کے خیر خواہ سمجھے جاتے تھے ۔ ان کو شک کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے۔
چھٹن بھڑک کر بولا تم چپ کرو۔ میں نے تم سے سوال نہیں کیا اگر کوئی کسی پر زبردستی شک کرے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے۔
کلن بولا بھائی شک شبہ کے پیچھے کرتوت و کردار ہوتا ہے یہ بلاوجہ نہیں ہوتا۔
چھٹن ناراض ہوکر بولا یار تم لوگ درمیان میں چونچ کیوں لڑا دیتے ہو؟ جمن کو بولنے کیوں نہیں دیتے ؟
جمن بولے دیکھو بیٹے چھٹن، مسئلہ ۱۹۵۵ کے قانون کا نہیں بلکہ ۲۰۰۳ میں بنائے گئے ضابطوں کا ہے اسی وقت یہ ساری تفصیل طے ہوئی تھی ۔
ٹھیک ہے چھٹن بولا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ اٹل جی کی غلطی ہے لیکن ۲۰۱۰ میں اس کے مطابق منموہن نے این پی آر بھی تو کرایا ؟
جمن بولے جی ہاں ویسے تو ۲۰۱۵ میں مودی نے اس کو اپڈیٹ بھی کیا لیکن کسی نے اعتراض نہیں کیا ۔ یہ کسی پارٹی یا فرد کا معاملہ نہیں ہے۔
تو پھر مسئلہ کیا ہے ؟ اچانک شاہ جی کی دشمنی میں یہ وبال کیوں کھڑا کیا جارہا ہے؟
دیکھو بیٹے ایک مثال سے سمجھو ۔ پنڈت نہرو نے ایک فارمولا بنایا جس سے بم بن سکتا تھا لیکن بنایا نہیں ۔ اٹل جی بم بنانے کا سارا سامان جمع کردیا لیکن اس کو ملاکرآخری شکل نہیں دی ۔ منموہن نے اس کو بےضرر سمجھ کر گودام میں رکھ دیا۔ مودی نے اس کی صاف صفائی کی ۰۰۰۰۰۰
چھٹن بیچ میں بول پڑا یہی تو میں پوچھ رہا تھا کہ ان سب کے بجائے شاہ جی کو کیوں نشانہ بنایا جارہا ہے۔
جمن ہنس کر بولے بہت اتاولے ہو، میرے بتانے سے پہلے بول پڑے ۔شاہ جی نے ہوشیار بن کر لوگوں کو ڈرانا شروع کردیا اسی سے گڑ بڑ ہوگئی۔
کلن بولا لیکن اب تو وہ کہہ رہے ہیں کہ کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔
للن بولا بھائی بات یہ ہے کہ ہمارے احتجاج سے وہ ڈر گئے ہیں اس لیے پینترا بدل کر یہ کہہ رہے ہیں ۔
جمن بولے جی ہاں پہلے ہم غفلت کا شکار تھے ۔ ہم سے بھول ہوئی جو ہم نے مخالفت نہیں کی ۔ ہمارے احتجاج کو اس غلطی کا کفارہ سمجھ لو ۔
للن نے پوچھا لیکن جمن چچا یہ سوال تو رہےگا کہ پہلے ہمیں اس خطرناک وائرس کا خیال کیوں نہیں آیا؟
جمن بولے یہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ اس سے قبل کسی نے اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی لیکن شاہ جی نے ہمیں ہوشیار کردیا ہے۔
کلن نے کہا تب تو ہمیں شاہ جی کا شکر گزار ہونا چاہیے کیونکہ ان کی حماقت نے ہمیں بیدار کرکے آئینی اصلاح کی جانب متوجہ کردیا۔
جمن ہنس کر بولے جی ہاں ہم ان کا شکریہ ضرور ادا کریں گے بشرطیکہ کہ انہوں نے جو کچھ کہا اس کے مطابق آئین میں ترمیم فرما دیں ۔
نشست کا ماحول پھر سے بدل گیا اور منصوبہ بندی شروع ہوگئی۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
اس مجلس سے واپس ہوتے ہوئے راستے میں کلن نے للن سے پوچھا آج یہ اپنے چھٹن کو کیا ہوگیا تھا؟
للن بولا مجھے تو لگتا ہے کہ چھٹن بک گیا ہے۔ وہ دشمنوں کے اشارے پر ہماری تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لیے آیا تھا ۔
اچھا تو کیا وہ کالی بھیڑ ہے۔ تب تو ہمیں اس کو آئندہ آنے سے روک دینا چاہیے۔
نہیں اس کی ضرورت نہیں۔ اس سے ہوشیار رہنا اور اس کی باتوں کو مسترد کردینا کافی ہے۔
لیکن اس نرمی کے مظاہرے سے کیا فائدہ؟
نہیں بھائی ایسی بات نہیں ۔ اب بگڑ گیا تو کیا ؟ وہ بچپن سے ہمارے ساتھ رہا ہے ۔ کون جانے کب راہِ راست پر آجائے؟
کلن نے کہا جی ہاں جب وزیرداخلہ راہِ راست پر آسکتے ہیں تو کوئی اور کیوں نہیں آسکتا؟
للن بولا لیکن یہ کام آسان نہیں ہے۔ اس کے لیے بہت پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ۔ بہت محنت درکار ہوتی ہے۔
کلن تائید میں بولا جی ہاں وہ تو ہے بقول چچا جمن ، ساری چچاغالب؎
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1252 Articles with 462569 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Mar, 2020 Views: 176

Comments

آپ کی رائے