کلرسیداں پی ٹی آئی لیبر ونگ کا قیام

(Muhammad Ashfaq, Rawalpindi)

 تنظیم سازی کسی بھی سیاسی جماعت کیلیئے بہت اہمیت کی حامل ہو تی ہے تنظیم سازی نہایت ہی مشکل اور کٹھن مرحلہ ہوتا ہے اسی مرحلے میں پارٹی کی بقاء بھی شامل ہوتی ہے پارٹی رہنماؤں کو زیلی تنظیموں کی تشکیل میں بہت خیال کرنا پڑتا ہے زیلی تنظیمیں ہی اپنی جماعت کے مفاد میں نچلی سطح پر کام کرتی ہیں اور اس کی مضبوطی کیلیئے عوام میں اپنی پارٹی کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں اپنا بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں نیز جو سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کی عزت افزائی میں اضافہ کا باعث بنتی ہیں وہ سیاسی میدان میں ہر لحاظ سے کامیاب ہوتی ہیں پاکستان تحریک انصاف کلرسیداں پچھلے کچھ عرصہ سے کافی مندی کا شکار رہی ہے اس کے کارکن مختلف گروپوں میں تقسیم ہو گئے تھے اور اب بھی صورتحال بلکل اس طرح کی دکھائی دے رہی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ مرکزی رہنماؤں کی عدم دلچسپی ہے جنہوں نے کبھی اپنی پارٹی کے کارکنوں میں پائے جانے والے اختلافات کو ختم کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی ہے وہ اپنے کاموں میں لگے ہوئے ہیں اور کارکن دن بدن پستی کا شکار ہوتے چلے جا رہے تھے لیکن اب ایک دو ماہ سے اس صورتحال میں تھوڑی کمی واقع ہوئی ہے کیوں کہ لیڈران نے معمولی سی توجہ اس جانب مرکوز کی ہے جس کے بہت اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں جوکہ ایک پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنوں کیلیئے بہت خوشی کی بات ہے مکمل اختلافات تو کبھی بھی ختم ہو ہی نہیں سکتے ہیں کیوں کے ہر کوئی کسی دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں اپنی جیت گردانتا ہے ہر کارکن اپنی اہمیت کو دوسرے سے زیادہ سمجھتا ہے لیکن سبی ایک دوسرے کی اہمیت کو تسلیم کرنے سے کتراتے ہیں اور یہی باتیں اختلافات کا روٹ لیول ہوتی ہیں جو آہستہ آہستہ مضبوط ہوتی چلی جاتی ہیں پی ٹی آئی کلرسیداں کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت پارٹی اصلاح اور تنظیم سازی کی ہے چند روز قبل پاکستان تحریک انصاف کلرسیداں کے اہم رہنماؤں کی طرف سے نظریاتی کارکنوں پر مشتمعل ایک لیبر ونگ باڈی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے نوٹیفیکیشن کے مطابق ضلعی صدر لیبر ونگ راولپنڈی شاہ خالد خان نے تحصیل کلرسیداں کیلیئے پی ٹی آئی کے نہایت ہی سرگرم کارکن اور کلرسیداں میں اپنی پارٹی کی مضبوطی کیلیئے بہترین کاوشیں کرنے والے رہنما راجہ فیصل زبیر کو لیبر ونگ کا صدر مقرر کیا گیا ہے جو کہ پارٹی کا بہت اہم فیصلہ ثابت ہوگا راجہ فیصل زبیر کے حوالے سے چند باتیں وہ ایک نوجوان رہنما ہیں جنہوں نے شروع دن سے ہی پارٹی میں ہراول دستے کا کام کیا ہے پارٹی کیلیئے دوڑ دھوپ میں انہوں نے کسی کو بھی آگے نہیں نکلنے دیا ہے ان کی محنتوں کی وجہ سے ان کا اپنا گاؤں تریل جو ایک لمبے عرصے سے ن لیگ کا گڑھ رہا ہے لیکن اس بار جنرل الیکشن میں انہوں نے ن لیگ کو شکست دلوائی ہے اور پی ٹی آئی کو کامیاب کروانے میں اپنا بہت اہم کردار ادا کیا ہے پارٹی کے حوالے سے کوئی بھی مہم ہو وہ ہمیشہ پیش پیش ہوتے ہیں ان کے علاوہ جو باڈی کے ممبران ہیں ان میں افرا سیاب نائب صدر ، نقاش مغل جنرل سیکریٹری،ظہیر عابد اڈیشنل جنرل سیکریٹری،محمد علی طارق ڈپٹی جنرل سیکریٹری،مبشر عباس ڈپٹی جنرل سیکریٹری،اسرار احمد فنانس سیکریٹری،راجہ ظروف انفارمیشن سیکریٹری ،وقار مغل سیکریٹری لیبر شامل ہیں یہ باڈی ایسے کارکنان پر مشتمعل ہے جنہوں نے اپنی پارٹی کیلیئے بہت کام کیا ہے ان کی پارٹی کے حوالے سے خدمات موجود ہیں کاص طور پر انفارمیشن سیکریٹری راجہ ظروف کے حوالے سے تھوڑا تعارف ان کا شمار کلرسیداں کے بانی کارکنوں میں ہوتا ہے انہوں نے اسوقت اپنی پارٹی کا جھنڈا بلند کیا تھا جب پی ٹی آئی کا کوئی خاص وجود ہی نہیں تھا انہوں نے کلرسیداں میں اپنی پارٹی کیلیے بہت کام کیا ہے پی ٹی آئی کلرسیداں لیبر ونگ کی باڈی کی تشکیل سے واقع ہی تبدیلی نظر آئی ہے ضلعی صدر شاہ خالد خان اور دیگر عہدیداروں نے کلرسیداں کی باڈی کیلیئے جن کارکنوں کا انتخاب کیا ہے اس میں انکی بہترین زہانت شامل ہے انہوں نے ایسی باڈی کا قیام عمل میں لایا ہے جن کی وجہ سے پارٹی مزید مضبوط ہو گی اس باڈی میں شامل تمام کارکن اپنے اپنے علاقوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں جب پارٹی نے اپنے کارکنوں کو ان کا جائز مقام دیا ہے تو وہ بھی پارٹی کی بہتری کیلیئے ضرور اپنا اہم کردار ادا کریں گئے جس طرح ضلعی صدر پی ٹی آئی لیبر ونگ راولپنڈی شاہ خالد خان نے کلرسیداں کی باڈی کی تشکیل اور اس میں شامل کیئے جانے والے اہم عہدیداران کے انتخاب میں اپنا اہم کردار ادا کیا ہے اسی طرح اگر پارٹی کے دیگر قائدین بھی اپنی زمہ داریاں پوری کریں تمام یو سیز میں اچھی شہرت کے حامل اور دیانتدار کارکنوں کو تنظیم سازی کا حصہ بنائیں ان کو عہدے دیئے جائیں تو کلرسیداں میں ان کی جماعت مزید مضبوط ہو سکتی ہے اسی طرح کی دیگر تنظیموں کی بھی جلد تشکیل کی جائے تا کہ نظریاتی کارکن محنت و لگن سے کام کر سکیں -

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Ashfaq

Read More Articles by Muhammad Ashfaq: 147 Articles with 48322 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Mar, 2020 Views: 164

Comments

آپ کی رائے