چائے اور لکھاری

(A R Tariq, )

تحریر:سارہ عمر، الریاض سعودی عرب
چائے سے قاری اور لکھاری کا خاصہ گہرا رشتہ ہے-کچھ قاری ایسے ہیں کہ کتاب پڑھتے اگر چائے کی چسکیاں نہ لی جائیں تو پڑھنے کی چس ہی نہیں آتی-بالکل اسی طرح لکھائی حضرات بھی چائے کی چسکیاں لیتے لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں. کچھ لوگ تو چائے کا نشہ بھی کرتے ہیں-مرد حضرات اکثر سگریٹ اور چائے دونوں کے نشے میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ خواتین صرف چائے کے ہی نشے میں مبتلا پائی جاتی ہیں-مگر اس نشے کا سفر چائے، کالی چائے، سبز چائے، پودینے والی چائے، ملائی والی چائے، الائچی والی چائے، دودھ پتی،گلابی چائے سے ہوتا ہوا کافی، بلیک کافی، کپیچینو تک جا پہنچتا ہے- چائے پاکستانیوں کا دل پسند اور محبوب مشروب ہے-ہر کوئی اس کی شان میں قصیدے پڑھتا نظر آتا ہے-ہر موقع پہ اس کی ضرورت نکل ہی آتی ہے-سردیوں میں سردی سے بچنے کے لیے پی جاتی ہے جبکہ گرمیوں میں دردِ سر سے بچنے کے لیے پی جاتی ہے-امیروں میں'' ہائی ٹی'' کہہ کر پی جاتی ہے اور غریبوں میں ''ہائے ٹی'' کا نعرہ لگا کر پی جاتی ہے-کوئی گھر، دفتر، بازار، غرضیکہ کوئی جگہ اس کے متوالوں سے محروم نہیں - البتہ لکھاری اور قاری اس بہت عزت اور احترام سے پیتے ہیں - پہلے ماحول بناتے ہیں - خاموشی ہو جسمیں اپنے اندر کی آوازیں سنی جا سکیں - سکون ہو جس میں چائے کے گرم کپ کا لطف اٹھایا جا سکے-کاغذ قلم کا ساتھ ہو اور خیالات کے دریچے وا کر دیئے جائیں - بھاپ اڑاتی چائے کے سنگ الفاظ قطار در قطار ورق پہ اترتے جائیں اور سلسلہ اس وقت منقطع ہو جب چائے کا اخری گھونٹ حلق سے اترے اور مزید چائے کی طلب بڑھ جائے - ہمیں بھی ساری زندگی چائے نے نشے میں مبتلا رکھا مگر پھر سالوں بعد اس کی جگہ اس کی بہن کافی نے لے لی- سعودیہ آنے پہ یہاں کی کافی شاپس نے ہمیں اپنے سحر میں گرفتار کر لیا-یہاں کافی پینے والوں کی تعداد کے باعث ایسی ایسی کافی شاپس بنائی گئی ہیں کہ دیکھ کر بے اختیار دے چاہتا ہے ایک کپ کافی ہو جائے'' - سڑک کنارے بنائی گئی کافی شاپس کو مصنوعی درختوں، پھولوں، برقی قمقموں سے سجا کر ایسا ماحول پیدا کیا جاتا ہے کہ کافی، شائی(چائے) اور قہوے کے ایک ایک گھونٹ کا لطف دوبالا ہو جائے-یہاں کی ایک ایک کافی شاپ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں-کچھ کو مصنوعی جنگل کی شکل دی گئی ہے، کچھ کو باغ کی-غرضیکہ لوگوں کو متوجہ کرنے کے لیے کئی لوازمات کیے جاتے ہیں-کافی کی خوشبو ہمیں بھی ہمیشہ ایسے خمار میں مبتلا کر دیتی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے- رات کی تاریکی میں کتنے ہی افسانے لکھتے کافی کے کپ نے میرا ساتھ ایک ہمسفر کی طرح نبھایا ہے-ایسا لگتا ہے کہ رات کے اس پہر بھی کرداروں کے ساتھ ایک جیتا جاگتا کردار موجود ہے-جو ہر گھونٹ کے ساتھ اپنے ہونے کا احساس دلاتا ہے-کافی سے یہ عشق بدستور جاری و ساری ہے اور ناجانے کب تک جاری رہے کیونکہ ایک لکھاری کی زندگی چائے یا کافی کی چسکیوں کے بغیر ادھوری ہے-
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: A R Tariq

Read More Articles by A R Tariq: 55 Articles with 17795 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Mar, 2020 Views: 254

Comments

آپ کی رائے