پروفیسرڈاکٹر عطاالرحمٰن میو: ایک دبستان علم و ادب

(Ghulam Ibnesultan, Jhang)

 تحریر: ڈاکٹر غلام شبیررانا
عطا الرحمٰن میو پروفیسر ڈاکٹر :انیسویں صدی میں پنجاب کی انجمنوں کی اردوخدمات ،فکشن ہاؤس،لاہور ،اشاعت ،2016

پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میوکا تعلق بلھے شاہ کی دھرتی قصور سے ہے مگر کچھ عرصے سے انھوں نے قصور شہر کو چھوڑ کر داتا گنج بخش کی نگری میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ قدرتِ کاملہ نے انھیں جس ذوق سلیم سے متمتع کیا ہے اس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن،دائرۃ المعارف اور دبستان ِعلم وادب ہیں۔خلوت میں بھی انجمن خیال سجانا اور ہجر میں بھی وصل کی نشاط حاصل کرکے وادیٔ خیال میں مستانہ وار گھومنا اس زیرک ،فعال اور مستعد نقاد و محقق کا شیوہ ہے ۔ایم۔فل کی سندی تحقیق کے لیے پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میو کے تحقیقی مقالے’’انجمن مفید عام قصور کی علمی و ادبی خدمات ‘‘کومقاصد کی رفعت کے اعتبار سے ہم دوشِ ثریاقرار دیا جاتا ہے ۔ چند ر وز قبل اس یگانۂ روزگار دانش ور کا تحقیقی مقالہ ’’انیسویں صدی میں پنجاب کی انجمنوں کی اردوخدمات ‘‘موصول ہوا ۔ پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میو نے یہ تحقیقی مقالہ پی ایچ۔ڈی کی سندی تحقیق کے سلسلے میں لکھا جس پر جامعہ علامہ اقبال ،اسلام آباد کی طرف سے انھیں ڈاکٹریٹ کی ڈگر ی عطا کی گئی۔انجمن آرائی کے دل دادہ اس نقاد،مورخ ،محقق،ماہر تعلیم،فلسفی ،ماہر لسانیات ،ماہر علم بشریات اورماہر آثار ِ قدیمہ کی خطر پسند طبیعت نے ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا ہے کہ حیات جاوداں کا راز ستیز میں پنہاں ہے۔ اس وقیع تحقیقی مقالے میں پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میونے پنجاب کی ایک سو سال کی تاریخ( انیسویں صدی) کا جائزہ لے کر ستاروں پر کمند ڈالی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میو نے ان دونوں مقالات میں دستاویزی تحقیق کا جو ارفع معیار اور اسلوب پیش نظر ر کھا ہے وہ اوروں سے تقلیداً بھی ممکن نہیں۔ سر زمینِ پنجاب میں ملوکیت اور نو آبادیاتی دور میں جومظالم ڈھائے گئے وہ تاریخ کا الم ناک باب ہے ۔جس زمانے میں یورپ میں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق جامعات کے قیام پرتوجہ دی جا رہی تھی اُسی زمانے میں اس خطے کی قسمت سے محروم رعایا نے یہ دیکھا کہ یہاں شہرخموشاں میں سر بہ فلک مقبرے،باغات،ہرن مینار، لاٹھ،بارہ دری، محلات، قلعے اور بُدھو کا آوا جیسی بے مقصد عمارات کی تعمیر و تزئین کو اولین ترجیح سمجھا جاتا تھا۔یہ حالات کی ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ ضعفِ بصارت کے اس د ور میں ہر طرف بُدھوہنہناتے پھرتے تھے اور ہر درباری مسخرا ہاتھ میں دوپیاز تھام کر راگ درباری الاپ کر ظلِ تباہی کی جی حضوری کر کے حقِ نمک ادا کرتاتھااور دُھول اُڑاتے گرد باد ،جھکڑ اور آندھی کو گھنگھور گھٹا کہہ کر اپنے بُدھو ہونے پر مہر ِ تصدیق ثبت کرتا تھا۔ اس قماش کا فاتر العقل اور مخبو ط الحواس بُدھو جب رواقیت کا داعی بن بیٹھاتو اس کا کچا چٹھا پیش کرنے کے لیے شاعر کی رگِ ظرافت پھڑک اُٹھی اور اس نے بر ملا کہا :
ہو گئے لوگ کیا سے کیا بُدھو
تُو وہیں کا وہیں رہا بُدھو
اودھ کے دسویں اور آخری نواب واجد علی شاہ (1822-1887)کو فرانسیسی اوپیرا سے گہری دلچسپی تھی ،وہ چاہتا تھا کہ ہندوستانی اوپیرا کو بھی اسی انداز میں پیش کیا جائے۔اس مقصد کے لیے آصف الدولہ نے آغا حسن امانت( ؔ 1815-1858 )کی خدمات حاصل کیں اور منظوم ڈرامہ لکھنے پر مائل کیا۔ا ٓغا حسن امانتؔ کی معرکہ آرا تصنیف ’’اندرسبھا‘‘(1847-1853)اسی عہد کی یاددلاتی ہے۔اِندر سبھااردو کا پہلا منظوم سٹیج ڈرامہ ہے جو پہلی بار 1853میں سٹیج پرپیش کیا گیا۔ایک شہزادے اور پری کی یہ منظوم داستان محبت بہت مقبول ہوئی اور اس کے بعد بر صغیر میں صنف ڈرامے کو نئی آب و تاب نصیب ہوئی ۔آخری عہدِ مغلیہ میں نوابان اودھ نے لکھنؤ میں فنون لطیفہ کی جس طرح سر پرستی کی اس کے اثرسے مایوسی کے بادل کسی حد تک چھٹ گئے اور عوام کے دلوں کو ایک ولولۂ تازہ نصیب ہوا ۔سحر لکھنوی نے اس عہد کے لکھنو کی معاشرت کی چکا چوند اور عیش و عشرت کے بارے میں کہا تھا:
خدا آباد رکھے لکھنؤ کے خوش مزاجوں کو
ہر اِک گھر خانۂ شادی،ہر اِک کُوچہ ہے عشرت گاہ
نوابانِ اودھ کی اطا عت کیش وفادار ی کے با عث انگریزان پر بے حد مہر بان تھے۔ شما لی ہند وستان میں شا ہانِ اودھ کا فی عر صہ تک انگریزوں اور دوسری قوتوں سے محفوظ رہے یہاں تک کہ 1856 میں یہ علا قہ انگریزوں کے قبضے میں آگیا۔ اس کے بعد برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہوس ملک گیری کے اپنے نو آبادیاتی چُنگل کو مزید پھیلا دیا۔
چار مئی 1799کو شیرِ میسور سلطان فتح علی ٹیپو (1750-1799)نے غاصب بر طانوی استعمار کے خلاف سینہ سپر ہو کر سر نگا پٹم کا دفاع کرتے ہوئے جامِ ِشہادت نوش کیا۔بر طانوی سامراج کے نمائندہ گورنر لارڈ ویلزلی(Lord Wellesley)نے چار مئی 1800 کوکلکتہ میں فورٹ ولیم کالج کے قیام کی منظوری دی۔ فتح علی ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد بر طانوی سامراج کو یقین ہو گیا کہ اب پورے بر صغیر پر غاصبانہ قبضہ کرنے میں انھیں کسی شدید نوعیت کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گااور وہ ہندوستان کے مطلق العنان حکم ران بن کر یہاں کے مظلوم عوام کو اپنا تابع اور مطیع بنا کر رکھنے میں کام یاب ہو جائیں گے۔ بر طانوی سامراج کے کبر ونخوت اور رعونت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ فورٹ ولیم کالج کے قیام کی منظوری ٹیپو سلطان کی شہادت کی پہلی برسی پر دی گئی۔ فورٹ ولیم کالج میں دس جولائی 1800کو تدریسی کام کا آغاز ہو گیا۔اپنی نوآبادی میں انگریزوں کو بر صغیرکی زبانیں اورعلوم شرقیہ سکھانے کی غرض سے فورٹ ولیم کالج کاقیام عمل میں لایا گیا ۔ نوآبادیاتی دور کے تقاضوں کے مطابق فورٹ ولیم کالج میں اردو،عربی،فارسی،سنسکرت،بنگالی،مراٹھی اورچینی زبان کی تدریس کا انتظام کیا گیا۔فورٹ ولیم کالج کلکتہ کے شعبہ ترجمہ میں ماہر مترجمین نے مقامی زبانوں کی ہزاروں کتابوں کے تراجم کیے۔اس کالج میں شعبہ اُردو کی نگرانی پر جان گلکرسٹ( 1759-1841 :John Borthwick Gilchrist ) کو مامور کیا گیا جو میٹرک کرنے کے بعد برطانوی بحریہ میں سرجن کے معاون کی حیثیت سے خدمات انجام دے چُکا تھا۔اکثرمورخین کا خیال ہے کہ بر طانوی سامراج نے بر صغیر میں اپنے قدم جمانے کے لیے اس قسم کے اقدامات کیے ورنہ انھیں ہندوستانی لسانیات اورادبیات کے فروغ سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں جو تراجم کیے گئے وہ سب نو آبادیاتی دور کی نشانی ہیں۔
بر طانوی استعمار کی کی چڑھتی ہوئی سفید آندھی اور کالے قوانین کے تُند و تیز بگولوں کی زد میں آکر مقامی حکومتوں اورریاستوں کی آزادی ، وقار اورخود مختاری خس وخاشاک کے مانند اُڑ گئی۔ایسی ہوائے جور و ستم چلی کہ پنجا ب سمیت بر صغیر کے سب مقامی باشندے اپنے وطن میں اجنبی بن گئے اور بر طانوی سامراج ان پر مسلط ہو گیا۔آخری مغل حاکم بہادر شاہ ظفر (عرصہ حکومت :اٹھائیس ستمبر 1837ء تاچودہ ستمبر 1857 ء)کی جائز اورقانونی حکومت کو بلاجواز ،غیر قانونی اور غیر اخلاقی انداز میں بر طرف کر دیا گیا۔آخری مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر اور اُس کے خاندان کے سولہ افراد نے لال قلعہ دہلی سے آٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع عہدِ اکبری میں سال1570 ء میں تعمیر ہونے والے بر عظیم میں باغوں والے پہلے مرقد’’ہمایوں کے مقبرے ‘‘میں پناہ لے رکھی تھی۔جنگی جنون میں مبتلابر طانوی فوجی صبح سے شام تک شاہی خاندان کے افراد کے تعاقب میں رہتے تھے۔بالآخر بر طانوی فوجی دستے کے سالار میجر ہڈسن نے شاہی خاندان کے افراد کو ڈھونڈ نکالا اور ان کی سلامتی اور جاں بخشی کا عہد کرکے انھیں بیس ستمبر 1857 ء کو گرفتار کر کے ایک رتھ میں بٹھا کر دہلی لایا گیا۔عادی دروغ گو،پیمان شکن حملہ آور ،سفاک قاتل اور شقی القلب جلاد میجر ہڈسن نے بائیس ستمبر1857ء کو دہلی گیٹ کے قریب خونی گیٹ میں بہادر شاہ ظفر کے بیٹوں مرزا مغل،مرزا خضر سلطان اور پوتے مرزا ابو بکر کو گولیوں سے چھلنی کر دیا،ان کے سر تلوار سے کاٹ کر پھینک دئیے اور ان کی انگوٹھیاں اور زیورات خوداتار کر اپنی جیب میں ٹھونس لیے۔ ان شہزادوں کی لاشیں دہلی شہر کی کوتوالی کے سامنے لٹکا دی گئیں جہاں ان بد نصیب شہزادوں کی بو ٹیاں گدھ اور کتے کئی دن تک نو چتے رہے ۔(1) برطانوی استعمار کی بے رحمانہ انتقامی کار روائیوں اور ظالمانہ نوآبادیاتی نظام کی قباحتوں کے سامنے مظلوم عوام بے بس تھے۔ مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر اور اس کے خاندان کے افراد کو جنگل کے قانون کے تحت جلا وطن کر کے رنگون کے زندان میں محبوس کر دیا گیا ۔ معزول مغل شہنشاہ اور اس کے اہلِ خانہ کے ساتھ سفاکی اور درندگی کا مظہر یہ سلوک اسحقیقت کا غماز ہے کہ بر طانوی استعمار اور نوآبادیاتی استبدادنے بنیادی انسانی حقوق اور اخلاقی اقدار کو مامال کر دیا۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ عالم ،دانش ور ،مورخ ،محقق،ادیب اور فنون لطیفہ سے وابستہ ممتاز لوگو ں کو جان کے لالے پڑ گئے۔ 1857ء کی ناکام جنگ آزادی کے بعد بر طانوی استعمار نے رابن ہڈ، ہلاکو اور چنگیز کو بھی مات کر دیا ۔ بر طانوی استعمار کے مقتدر حلقوں کی فرعونیت کا یہ حال تھا کہ جسے چاہتے بے جرم و خطا اُسے گولی سے اُڑا دیتے۔1857 ء کی ناکام جنگ آزادی کے بعدجن ہزاروں بے گناہ خاک نشینوں ، الم نصیبو ں اور ممتاز ادیبوں کا خون رزقِ خاک ہوا اُن میں ا ُس عہد کے ممتاز عالم امام بخش صہبائی اور اُن کے خاندان کے اکیس افراد بھی شامل تھے۔(2)آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے سات نومبر 1862ء صبح پانچ بجے رنگون کے ایک عقوبت خانے میں عالم تنہائی اور جلاوطنی میں ستاسی سال کی عمر میں داعی ٔ اجل کو لبیک کہا ۔اسی روز سہ پہر چار بجے بر عظیم پاک و ہند میں سال 1526 ء میں قائم ہونے والی مغلیہ حکومت کی آخری نشانی رنگون میں پیوند ِ خاک ہو گئی۔بہادر شاہ ظفر کی تدفین کے وقت اس کے دو بیٹے موجود تھے مگر اس کی اہلیہ زینت محل موجود نہ تھی۔وقت کا دھار ا بہت ظالم ہے یہ نمود و نمائشدنیاوی کر و فر اور جاہ و جلال کوخس و خاشا ک کے مانند بہا لے جاتا ہے ۔ بڑے بڑے نامیوں کی مثال بھی ریگِ ساحل پر نوشتہ وقت کی ایسی تحریر کے مانند ہے جسے سیل زماں کے مہیب تھپیڑے پلک جھپکتے میں مٹا دیتے ہیں۔ 1857ء کی ناکا م جنگ ِ آزادی کے بعد رُونما ہونے والے الم ناک حالات اور مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے بارے میں ممتازمحقق ڈاکٹر محمو دالرحمٰن نے لکھا ہے :
’’بر طانوی سامراج کا بول بالا ہو گیاہر جگہ توپ و تفنگ کا پہر ہ تھا،سنگین و سلاسل کی یورش تھی۔حسین و جمیل عمارتوں کے شہر کھنڈر میں تبدیل کر دئیے گئے،اُمید و آرزو کا آخری مرکز،قلعہ معلیٰ غیر ملکی تاجروں کی تحویل میں چلا گیا۔اب ہر سُو شکست و ریخت کا روح فرسا سماں اہلِ وطن کے رُو بہ رُو تھا۔‘‘(3)
1857 ء کی ناکام جنگِ آزادی کے بعد رُو نما ہونے والے المناک واقعات،انتقامی کارروائیوں اور توہین آمیز سلوک کے بعد برصغیر کے باشندوں نے بر طانوی استبداد ی نظام ِحکومت کو کبھی دل سے تسلیم نہ کیا۔ غیر ملکی تاجروں کے عزائم کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے مسلمانوں نے اس وقت بھی اس نظام کی مخالفت کی جب ہر طرف سے اس قسم کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں :
’’خلق خدا کی ، ملک بادشاہ کا اور حکم کمپنی بہادر کا۔‘‘(4)
جنگِ آزادی1857ء کے بعد بر صغیرکے کئی دیہات اورقصبات ملبے کا ڈھیر بن گئے ۔جن کھیتوں اور کھلیانوں میں بور لدے چھتنار ، سرو وصنوبر اوراثمار و اشجار کی فراوانی تھی اب وہاں زقوم اورحنظل کے سوا کچھ نہ تھا۔ایسٹ انڈیا کمپنی جس کا قیام اکتیس دسمبر 1600ء کو عمل میں لایا گیاتھااسے استعماری،توسیع پسندانہ ،جابرانہ اور نو آبادیاتی ایجنڈے کی تکمیل کے بعد یکم جون 1874ء کو غیر فعال کر دیا گیا۔ اس سے پہلے دو اگست 1858ء کو بر طانوی پارلیمنٹ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کی منظوری دے کر بر صغیرکا انتظام سنبھال چکی تھی۔ برصغیرپر برطانوی تسلط کے بعد مسلمانوں کی اکثریت نے برطانوی استعمار کے کالے قوانین اور فسطائی جبر کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکار کردیا ۔انگریزوں نے اپنی کینہ پروری اور اسلام دشمنی کے باعث بر صغیر میں مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے ہر قسم کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ انگریزوں نے ہندوؤں کی مسلم دشمنی سے فائدہ اٹھایااور انھیں اپنا طرف دار بنانے کی مکروہ سازش تیار کر لی ۔ نو آبادیاتی دور میں بر صغیر میں انگریزوں نے لڑاؤاور حکومت کرو کے شیطانی منصوبے پر عمل کیا۔ جب پورا بر صغیرغاصب بر طانوی سامر اج کے شکنجے میں آ گیا تو یہاں کے مظلوم عوام پر جو کوہِ غم ٹوٹا اس نے اُردو زبان و ادب پردُور رس اثرات مرتب کیے۔بر طانوی استعمار کی مسلط کردہ شبِ غم جو نوے سال پر محیط تھی اس نے یہاں کے باشندوں کی زندگی کا تمام منظر نامہ گہنا دیا ۔ہراساں شب و روز کے اس طویل ،لرزہ خیز اور اعصاب شکن ماحول میں چلنے والی ہوائے جورو ستم نے اُمیدوں کے چمن میں کِھلنے والی حوصلے ،صبر اور تعمیر ِ نو کی کلیوں کو جُھلسا دیا۔اس خطے کے مظلوم عوام کا اس بے دردی سے استحصال کیا گیا کہ تاریخ میں کی کوئی مثال نہیں ملتی۔یورپ کے حکمران طبقے نے سولہویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک ایشیا اور افریقہ کے پس ماندہ ممالک میں اپنی نو آبادیاں قائم کر لی تھیں۔ان نو آبادیوں کے باشندوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا گیا اور وہاں کے تما م وسائل پر ہاتھ صاف کرنا ان ظالم حکمرانوں کا وتیرہ بن گیا۔
1857 ء کی ناکام جنگ آزادی کے بعد برصغیر کے علمی و ادبی حلقوں میں غیر یقینی ، مایوسی ، اضطراب اور بیزاری کی کیفیت پیدا ہوگئی ۔ فنونِ لطیفہ سے وابستہ لوگ اس تشویش میں مبتلا تھے کہ مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد حالات کیا رخ اختیار کریں گے اور برطانوی سامراج کی ہوسِ ملک گیری کیاگُل کھلائے گی ۔ برطانوی سامراج نے اپنے مظالم سے توجہ ہٹانے کے لیے برصغیر کے طول وعرض میں ادب اور فنون لطیفہ کے فروغ کے نام پر مختلف انجمنیں اور سوسائٹیاں قائم کیں ۔ اسی مقصد کے تحت اکیس جنوری 1865ء کو لاہور میں ’’انجمن اشاعتِ مطالبِ مفیدہ پنجاب‘‘ کے نام سے ایک انجمن کا قیام عمل میں لایا گیا۔اس کے قیام میں ہنگری میں پید ہونے والے مشہور مستشرق ڈاکٹرلائٹنر( Dr Gottlieb Wilhelm Leitner :1840-1899 )نے گہری دلچسپی لی۔ سال 1865ء میں انجمن پنجاب کے اراکین کی تعداد 244تھی یہ سب انگریزی معیار تعلیم کی بلندی،یورپین سائنسز کو متعارف کرانے ،علوم شرقیہ کے فروغ ،عربی و سنسکرت تعلیم کے احیا اورپنجاب میں ایک جامعہ کے قیام کے لیے کوشا ں تھے۔ بر صغیر کی یہ پہلی انجمن تھی جونو آبادیاتی دور میں پرنس آف ویلز کی سرپرستی اور حکومتی عہدے داروں کی نگرانی میں کام کرر ہی تھی۔ یکم جنوری 1864 کولاہور میں گورنمنٹ کالج کے قیام کے بعدڈاکٹر لائٹنر کو اِس کا پہلا پر نسپل مقرر کیا گیا اور سال 1882 میں لاہور میں جامعہ پنجاب کے قیام کے بعد ڈاکٹر لائٹنر کو اس کا پہلا رجسٹرار مقرر کیا گیا۔ انجمن پنجاب نے بر صغیر کی مقامی زبانوں کے ادب کی ترویج و اشاعت کو اپنا نصب العین بنایا۔انجمن پنجاب نے طب کے شعبے میں بھی گہری دلچسپی لی یو نانی اور ویدک ادویات پر تحقیقی کام کی حوصلہ افزائی کی۔انجمن پنجاب نے مشاعروں ،ادبی سیمینارز،صحافت،کتب خانوں کے قیام،علمی و ادبی خطبات اور علمی وادبی کتب کی اشاعت کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا۔انجمن پنجاب میں خدمات انجام دینے کے لیے محمد حسین آزاد (1830-1910) سال 1864میں دہلی سے لاہور پہنچے ۔ محمد حسین آزادؔنے سال 1864میں انجمن پنجاب کے جلسہ میں ایک اہم لیکچر دیا۔اُردو زبان کو تکلف ،تصنع ،روایتی نوعیت کے استعارات ، مبہم تخیل کی جو لانیوں ،بے فائدہ طول نویسی ،غیر محتاط قیاس آرائی اور تخیل کی شادابی کے مظہر مفروضوں سے نجات دلا کر علم و ادب کی حقیقی ترجمان بنانے کے سلسلے میں مؤثر لائحۂ عمل اختیار کرنے پر زور دیا۔ محمد حسین آزادؔکا خیال تھا کہ زبان کی سادگی ،سلاست اورروانی اس کے مؤثر اظہار و ابلاغ کو یقینی بنا سکتی ہے۔اپنی تصنیف ’’آب ِحیات (1880)میں محمد حسین آزاد ؔ نے ادب میں اصلاح ،افادیت اور مقصدیت پر توجہ مرکوزرکھنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ سال1880کے وسط میں انجمن پنجاب کی مقبولیت کم ہو گئی اکثر لوگ اسے قدیم سوچ کی مظہر سمجھنے لگے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ بر عظیم میں بر طانوی استعمار کے غلبے کے بعدیہاں کے اکثر ادیبوں نے مصلحت وقت کے تحت ایساطرز عمل اختیارکیا جو برطانوی استعمارکو ناگوار نہ گزرے۔ برطانوی نو آبادی کے بے بس عوام نے استعماری قوت کے فسطائی جبر کے سامنے سینہ سپر ہو کر کیسے کیسے دکھ بر داشت کیے اور انھیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا یہ سب تاریخ کا الم ناک باب ہے۔ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں مرغانِ باد نما ، موقع پرست ،ابن الوقت اور چڑھتے سورج کی پوجا کرنے والے بے ضمیروں نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لیے کون سے حربے اختیار کیے یہ بھی عبرت کی ایک لرزہ خیز داستان ہے ۔اُردو ادب میں نو آبادیاتی دور کی عقوبتوں اور اذیتوں کے خلا ف کُھل کر لکھا گیا۔
پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میوکاشمار ہمار ے عہد کے اُن رجحان ساز ادیبوں میں ہوتاہے جنھوں نے مسموم ماحول میں سمے کے سم کے ثمرکی تلخی کو محسوس کرتے ہوئے سدا حریت ِ فکر و عمل کا علم بلند رکھنے پر اصرار کیا ۔ادب کے وسیلے سے عصری آ گہی پروان چڑھانے کی تمنا کرنے والے اس باکمال تخلیق کار نے اپنی تخلیقی فعالیت کو بروئے کار لاتے ہوئے افکار ِ تازہ کی مشعل تھا م کر جہانِ تازہ کی جستجو کو اپنا نصب العین بنا رکھا ہے ۔تحقیق و تنقید اور لسانیات کے شعبوں میں اس محقق کی عظیم الشان کا مرانیوں کی وطن عزیز میں دھوم مچ گئی ہے ۔ ذوقِ سلیم سے متمتع زندہ دِلوں اور ژرف نگاہوں نے اس فطین تخلیق کار ،نقاد،محقق اور مورخ کی علمی وادبی فتوحات کو ہمیشہ بہ نظر تحسین دیکھا۔ رنگ ،خوشبو اور حسن و خوبی کے تما م استعاروں سے مزین اس یگانہ ٔروزگار ادیب کے اسلوب نے جامد و ساکت پتھروں اور سنگلاخ چٹانوں سے بھی اپنی افادیت اور تاثیر کا لوہا منوا لیا ہے ۔اس محقق نے جدت و تنوع کو شعار بنا کر اپنے افکار کی ضیا پاشیوں سے سفاک ظلمتوں کو کافورکرنے ،جمود کا خاتمہ کرنے اور نئے تجربات کی راہ ہموار کرنے کا پختہ عزم کر رکھا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میونے اپنی معرکہ آرا تصانیف سے اردو تحقیق کی ثروت میں جو اضافہ کیا اس کا ایک عالم معتر ف ہے۔ تخلیق اور اس کے لا شعوری محرکات کے رمز آ شنا ،ادب اور فنون لطیفہ سے گہری دلچسپی رکھنے والے اس کو ہ پیکر تخلیق کارنے اپنی زندگی تاریخ، علم و ادب،فنون لطیفہ اور تحقیق و تنقیدکے فروغ کے لیے وقف کر رکھی ہے ۔بابا بلھے شاہ کی اقلیم معرفت کے اس خوشہ چین نے بچپن ہی سے تخلیق ِادب میں گہری دلچسپی لی ۔ پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میو نے عہدِ ملوکیت اورنوآبادیاتی دور میں سر زمین پنجاب کی تاریخ اور علم و ادب پر پڑنے والی ابلق ِ ایام کے سموں کی گرد صاف کرنے ، ادب اور فنون لطیفہ کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے سلسلے میں جو گراں قدر خدمات انجام دیں وہ ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ستائش اور صلے کی تمنا سے بے نیاز رہتے ہوئے اپنی دُھن میں مگن رہنے والا یہ مورخ بے حس معاشرے کو جھنجھوڑ کر ان سوالوں کے جواب بھی پیش کرتا ہے جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتے۔ پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میو کا شمارفنون لطیفہ کے ممتاز نقادوں،علم بشریات کے ماہرین،جدید ذرائع ابلاغ سے وابستہ عظیم شخصیات،زیرک،معاملہ فہم اور دُور اندیش ماہرین تعلیم ،میڈیا کے نباض شعلہ بیان مقررین اور ہر دل عزیز ادیبوں میں ہوتا ہے۔تیشۂ حرف سے فصیل ِ جبر کو منہدم کرنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہنے والے اس جری ،پُر عزم اور با ہمت تخلیق کار نے فسطائی جبر کے سامنے سپر انداز ہونے سے ہمیشہ انکار کیا ہے۔ اگرچہ وہ زندگی بھر مفاد پرست استحصالی عناصرکے ٹکڑوں پر پلنے والے بے حس، ابن الوقت ،مفاد پرست اور کینہ پرور حاسدوں کے طعنوں اور دشنام طرازی کی زد میں رہا مگر اس نے کبھی دِل بُرا نہ کیا اور اپنی دُھن میں مگن پرورشِ لوح و قلم میں مصروف رہا ۔ وہ فصلِ خزاں میں بھی خمیدہ بُور لدے چھتنار کی ڈالی تھام کرفصلِ بہار کا منتظر رہا اورفصلی بٹیروں ، طالع آزمامرغانِ باد نما اور طوطا چشم عناصر کی جانب کبھی توجہ نہ دی ۔سبک نکتہ چینی کے عادی اس کے حر ف گیروں کا خیا ل ہیپروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میو کے طرز عمل سے ناسٹلجیا کے مارے قدامت پرستوں کے موقف کو تقویت ملنے کا اندیشہ ہے ۔ اس قسم کی غلط فہمی پیدا کرنے والی باتوں کے باوجود پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میو اپنے حقیقت پسندانہ موقف پر ڈٹ گیا اورسبک نکتہ چینیوں کے عادی کینہ پرور حاسدوں کی تنقیص بے جا کو نظر انداز کرتے ہوئے پورے عزم و استقلال کے ساتھ شمعِ وفا کو فروزاں رکھا ۔ اس کے اسلوب میں نمایاں ارضِ وطن ،اہلِ وطن اور اپنی تہذیب و ثقافت سے والہانہ محبت اورقلبی وابستگی اس کا واضح ثبوت ہے ۔ پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میونے اپنی پیش بینی اور بصیرت سے یہ اندازہ لگا لیاہے ایام گزشتہ کی کتاب کو ازبر کیے بغیر روشن مستقبل کے خواب دیکھنا سرابوں کے عذابوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میونے پس نو آبادیاتی دور میں تاریخ کے مسلسل عمل،ریاستوں اور سامراجی تناظر کو ہمیشہ پیش ِ نظر رکھنے کا مشورہ دیا جواُس کی انفرادیت کی دلیل ہے ۔
ایک راسخ العقیدہ مسلمان اور محب وطن پاکستانی کی حیثیت سیپروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میونے ہر قسم کی علاقائی ،لسانی ،نسلی اور مذہبی عصبیت سے اپنا دامن بچاتے ہوئے اپنی تحقیق کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے کی مقدور بھر کوشش کی ہے ۔اس نے واضح کیا ہے کہ مطلق العنان بادشاہت اور اس کے بعد نوآبادیاتی دورکے مسلط کردہ حبس کے ماحول میں انجمن سازی پر توجہ دے کر پنجاب کے دانش وروں نے جو طرزِ فغاں ایجاد کی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہی اس خطے کے مظلوم عوام کی طرزِ ادا بن گئی۔پنجاب کے باشندوں کے بارے میں استبدادی قوتوں اور استحصالی عناصر کے سطحی ،عمومی نوعیت کے فرسودہ ،دقیانوسی اورمتعصبانہ نو عیت کی سوچ کے مظہر روّیے کو پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میونے کبھی لائق اعتنا نہ سمجھا اور اس پر ہمیشہ کڑی تنقید کی۔انگریزی ادبیات،پسِ ساختیات اور تقابل ادبیات جیسے اہم موضوعات کی تشریح پر انھوں نے بھر پور توجہ دی ہے۔پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میونے معاصر ادبی تھیوری پر جن فکر پرور اور خیال افروز مباحث کا آغاز کیا اس میں کوئی اُس کا شریک و سہیم نہیں۔پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میونے پنجاب کے مشہور کالجز اور جامعات میں ایک سو کے قریب توسیعی لیکچرز دئیے۔ ان عالمانہ لیکچرز میں اس عالمِ آب و گِل کے کھیل،لسانیات کے میل ،نفسیاتی مسائل اور فلسفے کے دلائل کا پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میونے نہایت باریک بینی سے جائزہ لیا ۔ ان کے خطبات میں قطعیت اور ثقاہت ان کے وسیع مطالعہ کا اعجاز ہے ۔ان کا خیال ہے کہ ابہام ہمیشہ ابلاغ کی راہ میں سد سکندری بن کر حائل ہو جاتاہے ۔ پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میوکی تحقیقی اور تنقیدی تحریروں میں نئی تنقید سے متاثر مشہور برطانوی نقاد ولیم ایمپسن(Willaim Empson:1906-1984) کی سال 1930میں شائع ہونے والی تصنیف’’Seven TypesOf Ambiguity‘‘کے اثرات محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ معاشرتی زندگی کے نشیب و فراز کامشاہدہ کرتے وقت انھو ں نے اُسی ارتکاز توجہ کا خیال رکھاجو مطالعہ کتب کے لیے نا گزیرہے ۔یہی وجہ ہے کہ کتابِ زیست کی جزئیات نگاری میں وہ حیران کن مہارت کا ثبوت دیتا ہے اور کہیں بھی خود سری اور طرف داری کا شائبہ نہیں ہوتا ۔ ذاتی مخا لفین کے لیے وسعتِ نظر اور فراخ دلی مگر آمریت کے جبرو استبداد ،سامراجی نظام کے استحصال کے بارے میں اس کا بے انتہا غیظ و غضب اور پیہم ستیز اس کی شخصیت کا امتیازی وصف سمجھا جاتا ہے۔ حب الوطنی اورعصری آ گہی سے لبریزمعاصر مطابقت نے اس تحقیقی مقالہ کی اہمیت و افادیت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے ۔
بر طانیہ اور فرانس نے نو آبادیاتی نظام کے تحت پس ماندہ اقوام کو جس بے دردی سے لُوٹا اس کے بارے میں پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میو نے حقائق پر روشنی ڈالتے ہوئے ان اقوام کے مظالم اور مکرکا پردہ فاش کیا ہے ۔ اس نے اپنی تحریروں سے یہ واضح کر دیا کہ یورپ میں صنعتی انقلاب کے بعد وہاں کے صنعت کاروں کی استحصالی سوچ سے معیشت کا سارا منظر نامہ بدل گیا۔یورپ کے صنعت کار اپنی صنعتوں کے لیے درکار خام مال انتہائی ارزاں نرخوں پر حاصل کرنے کی فکر میں ایشیا اور افریقہ کے پس ماندہ ممالک میں پہنچے اور ان ممالک کے عیاش مطلق العنان حکم رانوں کو سبز باغ دکھا کر یہاں سے کِشت دہقاں اوربیش بہا معدنیات اونے پونے داموں بٹورنے لگے۔اس طرح عالمی سامراج اپنی مصنوعات کو فروخت کرنے کے لیے منڈیاں تلاش کرنے میں کام یاب ہو گیا ۔ اس کے ساتھ ہی مفاد پرست استحصالی مافیا کو کوڑیوں کے مول خام مال کے حصول میں بھی کامیابی حاصل ہوئی۔پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میو کو اس بات کا قلق ہے کہ نو آبادیاتی دور میں یورپی اقوام نے ایشیا اور افریقہ کے پس ماندہ ممالک کے عوام کی زندگی کی تما م رُتیں بے ثمر،کلیاں شرر ،زندگیاں پُر خطر ،آہیں بے اثر ،بستیاں خوں میں تر اور عمریں مختصر کر دیں ۔یورپی اقوام نے عسکری قوت کے بل بوتے پر اپنی نو آبادیات میں اپنا غاصبانہ تسلط قائم کیااور اس خطے کے عوام پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا ۔ان نو آبادیات میں معاشی،سیاسی،تہذیبی اور ثقافتی شعبوں میں یورپ کے غاصب اور جارحیت پسند در اندازوں نے اپنا تسلط قائم کر کے سلطانیٔ جمہور کی راہیں مسدود کر دیں ۔ انیسویں صدی میں اس جارحانہ اور غاصبانہ تسلط کے خلاف ا نجمنوں کے جو اہم کردار ادا کیا پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میو نے اس تحقیقی مقالے میں تاریخی تناظر میں اس کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔ اس تحقیقی مقالہ کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتاہے کہ پنجاب میں انجمنوں کا قیام اس خطے میں تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوا جس کے اعجازسے یہاں کے باشندوں میں مثبت شعور و آ گہی پیدا کرنے کی مقدور بھر کوشش کی گئی۔ مشرق میں واقع نو آبادیات کے بارے میں استعماری طاقتوں کی تعصب پر مبنی آریائی سوچ کاجائزہ لیتے ہوئے فلسطین سے تعلق رکھنے والے پس نو آبادیات پر تحقیق کرنے والے امریکی پروفیسر ایڈورڈ سعید (Edward Said :1935-2003)نے لکھاہے :
"Access to Indian (Oriental)riches had always to be made by first crossing the Islamic Provinces and by withstanding the dangerous effect of Islam as a system of quasi-Arian belief.And at least for the larger segment of eighteenth century,Britiain and France were successful" (5)
پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میو نے بر صغیر کی تاریخ کا وسیع مطالعہ کیا ہے خاص طور پرتیسری دنیا کے ممالک کے مسائل پر ان کی گہری نظر ہے۔ ان ممالک کے باشندوں کے دِل سے احساسِ زیاں کے عنقا ہونے کو وہ ایک بہت بڑے المیے سے تعبیر کرتے ہیں۔ان کی دلی آرزو ہے کہ پس نو آبادیاتی دور میں تیسری دنیا کے پس ماندہ ممالک کے قسمت سے محروم عوام کی زندگی میں حوصلے، اُمید اورولولۂ تازہ کی شمع فروزاں کی جائے ۔جرأت مندانہ موقف کے آئینہ دار محقق کے منفرد اسلوب کا تنوع ،نُدرت اور ہمہ گیری اُسے ایک جری ،بے باک،ہمہ جہت اور جامع الحیثیات تخلیق کار ،نقاد اور محقق کے منصب جلیلہ پر فائز کرنے کا وسیلہ ثابت ہواہے ۔ایک بلند پایہ نقاد، محقق ،دانش ور ،ماہر تعلیم، مدبر ،سیاست دان،ماہر علم بشریات ،ماہر لسانیات کی حیثیت سے پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میو نے پوری دنیا کے مظلوم انسانوں کے ساتھ درد کا رشتہ استوار کر ر کھا ہے ۔اسی معتبر رشتے کو انھوں نے ہمیشہ علاجِ گردش ِ لیل و نہار قرار دیا۔پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میو کی حیات وعلمی و ادبی خدمات کا بہ نظر غائر جائزہ لینے پر یہ حقیقت کُھل کر سامنے آتی ہے کہ وہ ایک مخلص اور دردمند انسان ہے جس کے دِل میں سارے جہاں کا درد سمٹ آیا ہے۔ اسلام کی عطاکردہ روحانیت ،علم دوستی،ادب پروری اور انسان دوستی اس کی پہچان ہے ۔تاریخ کے مسلسل عمل کو سداپیش نظر رکھنے و الے اس محقق نے مظلوم انسانیت کے مصائب و آلام پر لکھتے وقت عجز و نیاز اور دیدۂ نم کا مظہر جو موثر اسلوب اپنا یا ہے وہ اس عظیم انسان کی انفرادیت کی دلیل ہے ۔ ملوکیت اورنو آبادیاتی دور میں پنجاب میں انجمنوں کی بنیاد رکھنے و الوں کے بارے میں پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میو نے واضح کیا ہے کہ جبر و استبداد سے نفرت اورسامراج دشمنی ان محب وطن انجمن سازوں کے ریشے ریشے میں سما گئی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ جبر کا ہر انداز مسترد کرتے ہوئے ان زعما نے استحصالی عناصر کے مکر کا پردہ فاش کرنے میں کبھی تامل نہ کیا ۔ سامراجی طاقتوں کے کرتا دھرتا فراعنہ کے کاسۂ سر میں جو کبر و نخوت و رعونت بھری تھی اس کے خلا ف پنجاب کے انجمن سازو ں اور ان کے معتمد ساتھیوں نے جس جرأت ،استقامت اورعزم صمیم سے کام لیا وہ اس خطے کی تاریخ کا درخشاں باب ہے ۔پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میو نے پنجاب کی انجمنوں کے موضوع پر سائنسی انداز فکرکو ملحوظ رکھتے ہوئے جس بے باکی کے ساتھ قلم اُٹھایا ہے وہ اس کی حب الوطنی اورملی درد کی دلیل ہے۔نو آبادیاتی دور میں اس خطے کے مظلوم عوام پر جو صدمے گزرے ان کا احوال اس تحقیقی مقالے میں موجود ہے ۔ نو آبادیاتی دور میں عالمی سامراج کے ہاتھوں پنجاب کے عوام پر جو کوہِ ستم ٹوٹا پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میو نے انیسویں صدی میں پنجاب کی انجمنوں کے موضوع پر لکھے گئے اس مقالے میں اُس کا تحقیقی جائزہ پیش کیا ہے ۔ عالمی سامراج کے عزائم کے بارے میں پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میو اور ممتازمورخ ایڈورڈ سعیدکے خیالات میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے ۔ عالمی سامراج کیا ہے اس کے بارے میں ایڈورڈ سعید نے لکھا ہے :
"Imperialism means thinking about,settling on,controlling land that you do not possess,that is disrant,that is livedon and owned by others .For all kinds of reasons it attracts some people and often involves untold misery for others" (6)
اپنی تحریروں میں پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میو نے اس حقیقت کی جانب متوجہ کیا ہے کہ سادیت پسندی کے روگ میں مبتلا استحصالی عناصر پرانے شکاریوں کے مانند ہمیشہ نئے جال لے کر شکار گاہ میں پہنچتے ہیں اور کُھلی فضاؤں میں دانہ دُنکا چُگنے کے عادی طیور کو اسیرِ قفس رکھ کر لذتِ ایذا حاصل کرتے ہیں۔ عالمی سامراج کی سازش سے پس ماندہ اقوام کی آزادی بے وقار او رموہوم ہو کر ر ہ گئی ہے ۔ مغرب کی استعماری طاقتوں نے مشرق کے پس ماندہ ممالک میں اپنی نو آبادیاں قائم کر کے ان ممالک کی تہذیب و ثقافت ،فنون لطیفہ ،سماج اور معاشرت کے بارے میں گمراہ کُن تجزیے پیش کیے۔حقائق کی تمسیخ اور مسلمہ صداقتوں کی تکذیب مغرب کے عادی دروغ گو مورخین کا ہمیشہ سے وتیرہ رہا ہے ۔یہ سلسلہ اس وقت سے جاری ہے جب فرانس کے مہم جُو نپولین بونا پارٹ ( Napoleon Bonaparte)نے سال 1798میں مصر اور شام پر دھاوا بو ل دیا تھا یہ حالات کی ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ ان سابقہ نو آبادیات میں سلطانیٔ جمہور کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکا ۔ تیسری دنیاکے ان ممالک کے حکمرانوں کے سر پر تو خود مختارحکومت کا جعلی تاج سجا دیا گیا ہے مگر ان کے پاؤں بیڑیوں سے فگار ہیں۔اس موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے ایڈورڈ سعید نے لکھا ہے :
" They were likely,on the one hand,to be considered by many Western intelellectuals retrspective Jeremiahs denouncing the evils of past colonialism,and,on the other,to be treated by their governments in Saudi Arabia ,Kenya,Pakistan as agents of outside powers who deserved imprisonment or exile.The tragedy of this experience ,and indeed of so many post colonial experiences ,derives from the limitations of the attempts to deal with relationships that are polarized,radically uneven ,remembered differently,,(7)
دوسری عالمی جنگ(1939-1945) کے بعد پُوری دنیا میں فکر و نظر کی کایا پلٹ گئی۔ انجمن سازی کی صورت میں محکوم اقوام کا لہو سوزِ یقیں سے گرمانے والے پنجاب سے تعلق رکھنے والے دُور اندیش اور جلیل القدر قائدین نے ممولے کو عقاب سے لڑنے کا ولولہ عطا کیا ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سامراجی طاقتوں کو اپنا بوریا بستر لپیٹ کر اپنی نو آبادیات سے بادِلِ نا خواستہ کُو چ کر نا پڑا ۔ وقت کے اس ستم کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ جاتے جاتے سامراجی طاقتوں نے اپنے مکر کی چالوں سے یہاں عصبیتوں ،نفرتوں، سیاسی انتشار،معاشرتی فتنہ و فساد اور سماجی خوف و دہشت کی فضا پیدا کر دی۔ پنجاب میں انجمنوں کے قیام میں فعال کردار ادا کرنے والے دانش وروں کا خیال تھا کہ اجلاف و ارذال ،سفہا،ساتا روہن اور مشکوک نسب کے درندوں کے پروردہ گُرگ منش شکاری نوآبادیات کے باشندوں کو پھانسنے کی خاطرہمیشہ نئے پھندے بناتے رہتے ہیں ،زنجیریں بدلتی رہتی ہیں مگر الم نصیبوں کے روز و شب کے بدلنے کے امکانات معدوم دکھائی دیتے ہیں۔انھوں نے یہ بات ذہن نشین کرانے کی کوشش کی کہ جب تک کسی قوم کے افراد احتسابِ ذات پر توجہ مرکوز نہیں کرتے اور حریتِ ضمیر سے جینے کی راہ نہیں اپناتے اس وقت تک اُن کی قسمت نہیں بد ل سکتی۔حریتِ فکر و عمل اور حریتِ ضمیر سے جینے کی روش وہ زادِ راہ ہے جو زمانۂ حال کو سنوارنے ،مستقبل کی پیش بینی اور لوح ِ جہاں پر اپنا دوام ثبت کرنے کا وسیلہ ہے۔ ایک مر نجان مرنج انسان کی حیثیت سے پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میو کوکسی کی دل شکنی و دِل آزاری سے اُسے کوئی غرض نہیں۔ انھوں نے اس جانب متوجہ کیا ہے کہ نو آبادیاتی دور میں پنجاب کے محکوم اور مظلوم عوام کی بے بسی سے جنم لینے والی بے حسی اور بے عملی نے ایک بحرانی کیفیت اختیار کر لی تھی ۔ان لرزہ خیزاور اعصاب شکن حالات میں سیرت و کردار کی تعمیر وقت کا اہم ترین تقاضا تھا ۔پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میونے اس جانب متوجہ کیا کہ ماضی کے تجربات کے پیشِ نظر پنجاب کی انجمنوں نے انیسویں صدی عیسوی میں اس خطے کے باشندوں کی تقدیر سنوارنے میں اہم کردار کیا۔ انیسویں صدی عیسوی میں پنجاب کی انجمنوں کے بنیادگزاروں کا خیال تھا کہ ایک ذمہ دار شہری کا یہ مدعا نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنی ذات کے نکھار،نفاست،تزئین اور عمدگی کو مرکزِ نگاہ بنالے بل کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ حریتِ فکر و عمل کو شعار بنائے اور ممکنہ حد تک اپنے جذبات،احساسات، تجربات و مشاہدات ،اظہار و ابلاغ اور تحلیل و تجزیہ کے جملہ انداز صداقت اور حقیقت پسندی سے مزین کرے۔ بر صغیر کی تاریخ کے مطالعہ اور تحقیق میں پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میو نے نو آبادیاتی دور کے حالات اور پس نو آبادیاتی مطالعات پر اپنی توجہ مرکوز رکھی ہے۔جہاں تک ادب میں نو آبادیاتی مطالعات کا تعلق ہے اس کے بارے میں یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ ان میں نو آبادیاتی دور کے محکوم باشندوں کے زوایہ ٔنگاہ ،وقت کے بدلتے ہوئے تیور ،فکر و خیال کی انجمن کے رنگ اور ان کے آ ہنگ پیشِ نظر رکھے جاتے ہیں۔ نو آبادیاتی مطالعات بالعموم نو آبادیات کے باشندوں کی خاص سوچ پر محیط ہوتے ہیں۔ جری تخلیق کار اس جانب متوجہ کرتا ہے کہ سامراجی طاقتوں کی نو آبادیات کے وہ مظلوم باشندے جو طویل عرصے تک سامراجی غلامی کا طوق پہن کر ستم کش ِ سفر رہے مگر سامراجی طاقتوں کے فسطائی جبر کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیا،ان کا کردار ہر عہد میں لائق صد رشک وتحسین سمجھا جائے گا۔یہ دیکھا جاتا ہے کہ سامراجی طاقتوں کو جب اپنی نو آبادیات میں منھ کی کھانا پڑی اور ہزیمت اُٹھانے کے بعد جب وہ بے نیلِ مرام اِن سابقہ نو آبادیات سے نکلنے پر مجبور ہوئے تو اس سیاسی تبدیلی کے بعد ان نو آبادیات کے با شندوں نے آزادی کے ماحول میں کس طرح اپنی انجمنِ خیال آراستہ کی۔ انیسویں صدی میں استعماری طاقتوں نے دنیابھر کی پس ماندہ اقوام کو اپنے استحصالی شکنجوں میں جکڑے رکھا۔سامراجی طاقتوں کی جارحیت کے نتیجے میں ان نو آبادیات کی تہذیب وثقافت،ادب،اخلاقیات،سیاسیات ،تاریخ ،اقدار و روایات اور رہن سہن کے قصر و ایوان سب کچھ تہس نہس ہو گیا۔پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میو نے پس نو آبادیاتی مطالعات میں اس امر پر نگاہیں مرکوز رکھی ہیں کہ ان کھنڈرات کے بچے کھچے ملبے کے ڈھیر پر نو آزاد ممالک کے باشندوں نے آندھیوں اور بگولوں سے بچنے کے لیے صحنِ چمن کو کس طرح محفوظ رکھا۔تیسری دنیا کے پس ماندہ ممالک کے مسائل اور اس کے نتیجے میں آبادی میں رونماہونے والے تغیر و تبدل کے بارے میں ایڈورڈ سعید نے حقیقت پسندانہ انداز میں لکھا ہے :
"The widespread territorial rearrangements of the post-World War Two period produced huge demographic movements,for example the Indian Muslims who moved to Pakistan after 1947 partition,or the Palestinians who were largely dispersed during Israel,s establishment to accomodate incoming European and Asian Jews; and these transformations in turn gave rise to hybrid political forms.(8)
پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میونے ایامِ گزشتہ کی کتاب کی ورق گردانی کرتے وقت دیارِ مغرب کے مکینوں کی مشرق دشمنی کے خلاف نہایت بے باکی،ذہانت اور دیانت سے حقائق کو زیبِ قرطاس کیا ہے۔ اپنے انتہائی سنجیدہ ، موثر اور با وقار اسلوب میں وہ کہیں بھی نو آبادیاتی نظام کے خلاف آمادۂ پیکار دکھائی نہیں دیتے ۔ان کا خیال ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں حقیقی انقلاب برپا ہونے کی واحد ممکنہ صورت یہ ہے کہ وہاں جذبِ باہمی کو یقینی بنا کر دلوں کو خلوص ،مروّت ،ایثار ،وفا ،شفقت اور شجاعت کے جذبات کا ایسا معدن بنایا جائے جہاں کردار کی پختگی کے انمول ہیرے جواہرات موجود ہوں ۔ عملی زندگی میں حریت ِ ضمیر سے جینا اور حریتِ فکر و عمل کو نصب العین قرا ردینا خو د انحصار ی کو شعار بنانے والی زندہ اقوام کا شیوہ ہوتاہے ۔ عالمی ادب کے وسیع مطالعہ کے بعدوہ اس تلخ حقیقت سے یقیناً باخبر ہیں کہ ہومر(Homer) کے زمانے ہی سے شیخ چلی منش یورپی اقوام اور وہاں کے بز اخفش قماش کے تخلیق کاروں کے فکر و خیال پرجورو ستم اور جبر و استبداد کا عنصر حاوی رہا ہے ۔ماضی کے تلخ تجربات ،تباہ کن حوادث اور صدمات کے باعث بادی النظر میں مشرق میں یہ تاثر عام ہے کہ ہر یورپی باشندے کا مزاج جابرانہ و آمرانہ ہے اور نسل پرستی،سامراج کی حمایت، مجبور اقوام کو اپنے دام فریب میں لانا اورمریضانہ قبیلہ پرستی اہلِ یورپ کی جبلت اور سرشت میں شامل ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میونے اپنے اس مقالے میں یہ بات واضح کر دی ہے کہ جب حرف شکایت لب پر لانے پر بھی بھویں تن جائیں اور جبینوں پر بل پڑ جائیں تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اب آمریت کا عفریت ہر سُو منڈلانے والا ہے ۔ انیسویں صدی میں پنجاب کے انجمن سازوں کی زندگی مشعل تاباں کے مانند گزری انھوں نے اپنے ہم وطنوں کو خبردار کیا کہ کوئی نام نہاددیوتا،کسی قسم کے حالات،کوئی من گھڑت تجریدی تصوریا ضابطہ بے بس و لاچار اور بے گناہ انسانیت کے چام کے دام چلانے ، ان پر کوہِ ستم توڑنے اور مظلوم انسانوں کی زندگی کی شمع گُل کرنے کا جواز پیش نہیں کرتا ۔اُنھیں اس امر کا یقین تھا کہ ظلم کا پرچم بالآ خر سر نگوں ہو گا اور حریتِ ضمیر سے جینے والے عملی زندگی میں کامیاب و کامران ہوں گے۔انجمن سازی میں اہم کردار ادا کرنے و الے مصلحین در اصل ان مظلوم انسانوں کے حقیقی ترجمان تھے جن کی زندگی جبر مسلسل برداشت کرتے کرتے کٹ جاتی ہے۔انھوں نے اپنے ہم وطنوں کو اس جانب متوجہ کیا کہ اقوام کی تاریخ اور تقدیر در اصل افراد ہی کی مساعی سے متشکل ہوتی ہے ۔یہ افراد ہی ہیں جو کسی قوم کی تاریخ کے مخصوص عہد کے واقعات کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں اور ابہام کو دُور کر کے اِسے از سرِ نو مرتب کرتے ہیں۔جبر کے ماحول میں مصلحت کے تحت افراد کی خاموشی کو تکلم اور بے زبانی کو بھی زبان کا درجہ حاصل ہو جاتا ہے ۔ انیسویں صدی میں پنجاب کی انجمنوں کے منشور اور مختلف جلسوں کی رودادمیں یہ واضح کیاگیا کہ حریتِ فکر کی پیکار اور جبر کے خلاف ضمیر کی للکار سے تاریخ کا رُخ بدل جاتا ہے ۔حریتِ فکر کے مجاہد تاریخ کے اوراق سے فرسودہ تصورات اور مسخ شدہ واقعات کو حذف کر کے اپنے خونِ جگر سے نئی خود نوشت تحریر کرتے ہیں۔پرِ زمانہ کی حرکت سے جب جو ر و جفا کا بُر اوقت ٹل جاتا ہے توتاریخ میں مذکور ماضی کے تضادات ، بے ہنگم ارتعاشات،بے اعتدالیاں اور بد وضع قباحتیں جنھیں ابن الوقت مسخروں نے نظر انداز کر دیا ان پر گرفت کی جاتی ہے ۔ پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میو کا خیال ہے کہ افراد پر یہ ذمہ دار ی عائد ہوتی ہے کہ ایام ِگزشتہ کی کتاب کے اوراق میں مذکور تمام بے سرو پا واقعات کو پشتارۂ اغلاط قرار دے کر اُنھیں لائق استردا دٹھہرادیں تا کہ تاریخ اور قضا و قدر کے فیصلے کے نتیجے میں یہ گمراہ کن باتیں تاریخ کے طوماروں میں دب جائیں۔
پس ماندہ اور نو آبادیاتی نظام کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ممالک کے مظلوم باشندوں کا لہو سوز ،یقیں سے گرمانے میں پنجاب کے انجمن سازوں نے نہایت خلوص اور دردمندی سے کام لیا ۔ وہ دردِ دِل رکھنے والے اور درد آشنا مسیحا کے مانند مرہم بہ دست پہنچے جنھوں نے چارہ گری سے کبھی گریز نہ کیا اور نہایت خلوص سے دُکھی انسانیت کے دکھوں کا مداوا کرنے کی کوشش کی ۔ یہ امر کس قدر لرزہ خیز اور اعصاب شکن ہے کہ استبدادی قوتیں بے گناہ افراد کو اس شک کی بنا پر جبر کے پاٹوں میں پِیس دیں کہ ان کے آبا و اجداد نے ماضی میں شقاوت آمیز نا انصافیوں کا ارتکاب کیا تھا اور موجودہ دور کے مقتدر حلقے ماضی میں ان کے عتاب کا نشانہ بنتے رہے ۔ غاصب فراعنہ کی طرف سے اپنے بلاجواز انتقام کے لیے یہ دلیل دی جائے کہ چونکہ ان کے خاندان نے ماضی میں ظلم سہے ہیں اس لیے اب وہ نسل در نسل ان مظالم کا انتقام لیں گے اور اپنے آبا و اجداد کے دشمنوں کی زندگی اجیرن کر کے انھیں ماضی کے تلخ حالات کا خمیازہ اُٹھانے پر مجبور کر دیں گے۔انجمن سازوں نے سادیت پسندوں پر واضح کردیاکہ کسی کو اذیت و عقوبت میں مبتلا رکھنے کی بھی حد ہونی چاہیے۔اس سے پہلے کہ مظلوموں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے فسطائی جبر کو اپنے انتہا پسندانہ روّیے پر غور کرنا چاہیے۔زندگی کا ساز بھی ایک عجیب اور منفرد آ ہنگ کا حامل ساز ہے جو پیہم بج رہا ہے مگر کوئی اس کی صدا پر کان نہیں دھرتا۔ انیسویں صدی میں کُوڑے کے ڈھیر سے جاہ و منصب کے استخواں نو چنے اور بھنبھوڑنے والے خارش زدہ سگانِ راہ نے تو لُٹیاہی ڈبو دی ۔اس قماش کا جو بھی مسخرادرِ کسریٰ میں داخل ہوتا ہے طلوعِ صبح ِ بہاراں کی نوید عشرت آگیں لے کرغراتا رہتا کہ ماضی کے فراعنہ کے برعکس اس کا مقصدلُوٹ مار،غارت گری،انسان دشمنی،اقربا پروری اور قومی وسائل پر غاصبانہ تسلط نہیں بل کہ وہ فنون لطیفہ کی ترقی، افراد کی آزادی،تعلیم،صحت اور خوش حالی پر اپنی توجہ مرکوز رکھنے کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتاہے۔ نو آبا دیاتی دور میں بر صغیر میں یہ ایک طرفہ تماشا رہا ہے کہ فقیروں کے حال جُوں کے تُوں رہتے ہیں مگر سامراجی طاقتوں کے اشاروں پر دم ہلانے والے بے ضمیروں کے سدا وارے نیارے رہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے پنجاب کے سادہ لوح عوام کو سبز باغ اور حسین خواب دکھانے والو ں نے بھی ماضی کی طرح حقائق کو سرابوں کی بھینٹ چڑھا کر اپنی اپنی راہ لی اور دنیا دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی ۔ نو آبادیاتی دور میں پنجاب میں انجمنوں کے قیام پر اپنے مطالعات میں پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن میونے تاریخ کے مسلسل عمل،ریاستوں اور سامراجی تناظر کو ہمیشہ پیش ِ نظر رکھنے پر زور دیاہے۔
اگرچہ لائق محقق نے اپنے سروے میں انیسویں صدی میں پنجاب کے طول و عرض میں قائم اکثر انجمنوں کا احوال بیان کیا ہے مگر کچھ انجمنوں کا ذکرشاید محقق کے ترک و انتخاب کی بھینٹ چڑھ گیا ہے ۔ دھجی روڈ ،جھنگ پر واقع طب یونانی کی اہم درس گاہ ’پنجاب طبیہ کالج جھنگ‘ کے بانی اور ممتاز معالج حکیم ادریس بخاری نے حکیم محمد سعید، حکیم آفتاب احمد قرشی اور حکیم نیر واسطی کے حوالے سے احباب کو بتایا کہ جھنگ میں حکیم اجمل خان(1868-1927) کے شاگر د حکیم احمد بخش نذیر (چوّنی والا حکیم )نے سال 1895ء میں انجمن اطبا قائم کی۔ اپنے عہد میں اطبا کی اس مقبول انجمن کے بنیاد گزاروں میں حکیم احمد بخش نذیر (چوّنی والا حکیم )،مولوی امیر الدین، حکیم یار محمد ،حکیم محمد فاضل ،حکیم نذر محمد ،حکیم محمد اسماعیل ، حکیم شیر محمد ، حکیم عبدالواحد ،حکیم صالح محمد،حکیم بر خوردار ،حکیم حاجی غلام محمد ، حکیم حافظ احمد بخش ،حکیم خادم حسین ،حکیم غلام غوث ، حکیم شرف الدین، حکیم محمد یونس ،حکیم محمد صدیق ،حکیم طالب حسین،حکیم شمیرخان شامل تھے ۔
حکیم احمد بخش(چار آنے والے حکیم ) نے کچھ عرصہ صدیقی دواخانہ دہلی کے مہتمم حکیم عبدالجمیل سے بھی نباضی اور امراض کی تشخیص کی تربیت حاصل کی۔ حکیم اجمل خان نے جب جامعہ اسلامیہ دہلی میں اہم ذمہ داریاں سنبھالیں تو حکیم احمد بخش(چار آنے والے حکیم ) بھی اپنے استاد کے ہمراہ وہاں چلے گئے اور ان سے اکتساب فیض کا سلسلہ جاری رکھا ۔تاریخ اور تاریخ کے مسلسل عمل پر حکیم احمد بخش(چار آنے والے حکیم ) کو پختہ یقین تھا۔بیسویں صدی میں طب یونانی کے فروغ کے سلسلے میں حکیم اجمل خان کی مساعی کو حکیم احمد بخش (چار آنے والے حکیم )ہمیشہ بہ نظر تحسین دیکھتے تھے ۔حکیم اجمل خان کی عظیم شخصیت خاک کو اکسیر بنا دیتی تھی اور غبار راہ سے ایسے جلوے تعمیرہوتے جو نگاہوں کو خیرہ کر دیتے تھے ۔ حکیم احمد بخش(چار آنے والے حکیم ) اس بات سے بہت متاثر ہوا کہ دہلی میں حکیم اجمل خان کے مطب پرجو بھی مریض علاج کے لیے پہنچتااس سے دوا ،علاج کا کوئی معاوضہ وصول نہیں کیا جاتا تھا۔انیسویں صدی کے اس یگانۂ روزگار طبیب ،دانش ور ،حریت فکر کے مجاہد اور مرد مومن نے پارس کی صورت مس خام کو کندن بنا دیا اور ذرے کو آفتاب بننے کے فراواں مواقع میسر آئے۔زمانہ لاکھ ترقی کے مدارج طے کرتا چلا جائے ایسے لوگ چراغ لے کر بھی ڈھونڈنے سے نہیں مل سکتے ۔
طب کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد حکیم احمد بخش(چار آنے والے حکیم ) نے جھنگ شہر میں اپنا مطب قائم کر کے دکھی انسانیت کی خدمت کا عزم کر لیا ۔ایک خستہ حال سی جھونپڑی میں قائم یہ مطب بھی ان کی درویشی ،فقیری، سادگی،قناعت اور عجز و انکسار کی عمدہ مثال تھا ۔حکیم احمد بخش (چار آنے والے حکیم ) ایک چٹائی پر بیٹھتے ،سامنے گھڑونچی پر پانی سے بھرے مٹی کے گھڑے رکھے ہوتے ان پر چپنی اور مٹی کے پیالے دھرے رہتے ۔ سامنے ایک الماری میں چند مرتبان ،کچھ بو تلیں اور سفوف کے ڈبے رکھے ہوتے ۔وہ ہر وقت ہاون دستے میں کوئی نہ کوئی سفوف تیار کرنے میں مصرو ف رہتے ۔ان کا ایک شاگرد عرقیات ،شربت،معجون ،گولیاں اور پھکی بنانے میں ان کا ہاتھ بٹاتا اور اس طرح مل جل کر ادویات کی تیاری کا کام جاری رہتا ۔ مقامی طور پر تیار کیے جانے والے سفید کھدر کے صاف اور سادہ لباس میں ملبوس سر پر کلاہ و دستار باندھے حکیم احمد بخش(چار آنے والے حکیم ) اپنی گل افشانیٔ گفتار سے حاضرین کو مسحور کر دیتے ۔ان کے پاس جو بھی مریض علاج کی غرض سے آتا وہ اس سے صرف چار آنے وصول کرتے اور مریض کو ایک بوتل شربت ،ایک بوتل عرقیات ،معجون ،مربہ جات اور پھکی دیتے۔اگر کوئی مریض زیادہ رقم دینا چاہتا تو ہرگز قبول نہ کرتے البتہ مفت دوا لینے والوں یاکم پیسے دینے والوں سے کبھی جھگڑا نہ کرتے ۔ حکیم احمد بخش(چار آنے والے حکیم ) دوا بھی دیتے اور ساتھ ہی دعا بھی کرتے ا ﷲ کے فضل و کرم سے مریض شفا یاب ہو جاتا ۔ شہر کے لوگ آج تک محو حیرت ہیں کہ اس قدر کم قیمت میں علاج معالجہ کرنے والا حکیم اپنی گزرا وقات کیسے کرتا ہو گا ۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کہ یہ سب کچھ سات عشروں تک ہوتا رہا اور عقل ہمیشہ کی طرح محو تماشائے لب بام ہی رہی ۔چار آنے والا حکیم اس قدر مشہور ہوا کہ اکثر لوگوں کو اس کے اصل نام کا علم ہی نہیں ۔لوگ طویل مسافت طے کر کے یہاں آتے اور ایک ہی خوراک سے شفا یاب ہو کر گھروں کو لوٹتے ۔ تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن اور مشہور ماہر تعلیم غلا م علی خان چین ؔکا کہنا تھا کہ مریضوں کا علاج ، دوا،نباضی اور تشخیص تو محض ظاہری صورت تھی ،باطنی کیفیات سے بہت کم لو گ آگا ہ تھے ۔اس کا تعلق ما بعد الطبیعات سے ہے کہ کبھی یہاں جھنگ شہر کے مغرب میں واقع نو رشاہ گیٹ میں فٹ پاتھ پر زمین پر بیٹھ کر صرف ایک آنہ اُجرت وصول کر کے حجامت کرنے والا اﷲ دتہ (ایک آنے والا حجام ) لوگوں کو حیرت زدہ کر دیتا ہے اور کبھی زمین پر بیٹھا غریب راہ گیروں کے سفر کے دوران ٹوٹ جانے والے بوسیدہ جوتوں کی مفت مرمت کر کے پیوند لگانے والا جھنگ کا کرموں موچی (کرم دین جفت ساز)قدرت اﷲ شہات جیسے سخت بیوروکریٹ سے اپنے دبنگ لہجے میں مخاطب ہو کراس پر ہیبت طاری کر دیتا ہے ،کبھی جھنگ کا ایک حال مست فقیر میاں مودا (مراد علی ) جون کی چلچلاتی دھوپ میں شہر کی پختہ سڑکوں پر ننگے پاؤں بھوکا پیاسا چل کر یہ ثابت کرتا ہے کہ آج بھی اگرا براہیم ؑکا ایماں پیدا ہو جائے تو آگ انداز گلستاں پیدا کر سکتی ہے اور گرمیوں کی دو پہر کے وقت تانبے کی طرح تپتی زمین بھی شبنم افشاں گل تر کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ باہو سلطان ،شیخ جوہر،شاہ جیونہ اور زندہ پیر جیسے فقیر اسرار شہنشاہی سکھا سکتے ہیں تو میاں بکھا (حافظ بر خوردار )جیسا مردِ مومن اپنی موت کو التوا میں ڈال کر جرائم پیشہ ،پیمان شکن اور عادی دروغ گو عناصر کے کذب و افترا کی سزامرگ ِ ناگہانی کی صورت میں دے کر جھوٹ کی ہر کہانی کو عبرت کی نشانی اور پس ماندگان کے لیے دائمی پشیمانی بنا دیتاہے ۔ یہ پر اسرار بنجارے اپنی دنیا آپ پیدا کرتے ہیں ،حرص و ہوا کو ترک کر کے دکھی انسانیت سے عہد وفا استوار کرنے والے ایسے لوگ یادگار زمانہ ہوتے ہیں۔ مظلوم اور مفلوک الحال انسانیت کی بے لوث خدمت ان کے وقار اور سر بلندی کو یہ علاج گردش لیل و نہار خیال کرتے ہیں اور ہر سو بچھے دکھوں کے جال ہٹانا ان کا شیوہ ہوتا ہے ۔ متعدد قرائن و شواہد کو دیکھ کر یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ حکیم احمد بخش (چار آنے والا حکیم) بھی ایک پر اسرار اور یاد گار زمانہ شخص تھا جس نے واضح کر دیا کہ یہ دنیا ایک آئینہ خانہ ہے،وہ دولت پانے کے بجائے اسے ٹھکرانے کا قائل تھا ۔ وہ مال و دولت دنیا اور یہاں کے رشتہ و پیوند کو بتان وہم و گماں سے تعبیر کرتا تھا اور اس میں وہ دولت کے حریص اور ہوس کے مارے لوگوں کو تماشا بنا کر اس دنیا سے چلا گیا ۔عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ایسے لوگوں کے نام اور کام کی ہر دور میں تاریخ تعظیم کرتی ہے اس تمام سلسلے کو سمجھنے کے لیے بصیرت کی ضرورت ہے۔بڑے بڑے سگھڑ سیانے بھی ان نازک معا ملات کی تہہ تک نہیں پہنچ سکے ،بھارت کے مشہور شاعرمجروح سلطان پوری( اسرار الحسن خان :1919-2000) نے ان پر اسرر ا بندوں کے متعلق راز کی بات بتائی ہے :
بے تیشہ ٔ نظر نہ چلو راہِ رفتگاں
ہر نقش پا بلند ہے دیوار کی طرح
حکیم احمد بخش (چار آنے والاحکیم )نے سو سال سے زیادہ عمر پائی ۔اس کی جنم بھومی وہ علاقہ تھاجہاں سے ڈاکٹر عبدالسلام (نوبل انعام یافتہ پاکستانی سائنس دان )،سید جعفر طاہر ،محمد شیر افضل جعفری ،حاجی محمد یوسف ،غلام علی خان چین ،مجید امجد ، میاں محمود بخش ،رانا سلطان محمود، احمد یار ملک ،میاں اﷲ داد ، فلائٹ لیفٹنٹ خواجہ یونس حسن شہید ،حکیم یار محمد اور اﷲ دتہ سٹینو جیسے متعدد مشاہیر نے جنم لیا ۔ان سب شخصیات نے اپنے زمانے میں اپنے اپنے متعلقہ شعبوں میں جو گراں قدر خدمات انجام دیں ان کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے لیکن بیماری کے جان لیوا کرب سے سسکتی مجبور ،غریب ،بے بس و لا چار دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت کی جو درخشاں مثال حکیم احمد بخش (چار آنے والے حکیم )نے قائم کی اس میں کوئی ان کا شریک و سہیم نہیں ۔ وہ رات دن ،شام و سحر ہمہ وقت اپنے مطب کے دروازے پر بچھی چٹائی پر موجود رہتے ۔رات کے وقت کچھ دیر سستا بھی لیتے لیکن مطب کا درواز کبھی بند نہ کرتے ۔وہ پنجگانہ نماز با جماعت مسجد شلیانی ( شا ہ علیانی )میں ادا کرتے اور نماز تہجد اپنے مطب میں ادا کرتے تھے ۔ یہ فقیر سارے جہاں کے درد کو اپنے جگر میں سموئے دنیا و ما فیہا سے بے خبر ایام کا مرکب نہیں بل کہ راکب بن کر زندگی گزارتا رہا اور کبھی حرف شکایت لب پر نہ لایا ۔اس کا طرز زندگی فقیری اور درویشی کا مظہر تھا اس نے زندگی بھر اپنی خودی کی حفاظت کی اور غریبی میں بھی قناعت اور استغنا کا بھرم قائم رکھا۔سچی بات تو یہ ہے کہ عملی زندگی میں اس مر د فقیر نے مہر و مہ و انجم کے محاسب کا کردار ادا کیا ۔وہ دن بھر جو کچھ کماتا سر شام علاقے کے غریبوں ، بے سہارا ضعیفوں ،مسکینوں ،یتیموں اور بیواؤں کو بھجوا دیتا تھا ۔اس نیک کام میں حاجی محمد یوسف ، رانا سلطان محمود ، شیر محمد ،سجاد حسین ، محمد منیر ،غلام علی خان چینؔ اور اﷲ دتہ سٹینو اس کی مدد کرتے تھے ۔ خدمت خلق کایہ کام اس رازداری سے ہوتا تھا کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی ۔اگرچہ وہ اپنے کام تک محدود تھا اور کبھی حصارذات سے نہ نکل سکا لیکن اس کی وسیع النظر ی کا ایک عالم معترف تھا ۔اپنی ذات میں سمٹے ہوئے اس معالج کے خیالات میں سمندر کی سے گہرائی اور وسعت تھی ۔یہ اس کی عالی ظرفی تھی کہ وہ دام غم حیات سے بچ کر ہمیشہ خاموشی سے عوامی خدمت کے کاموں میں مصرو ف رہا۔ایک بات قابل ذکر ہے کہ اگرچہ وہ ہر مریض سے دوا اور علاج کے صرف چار آنے طلب کرتا تھا لیکن کچھ مریض ایسے بھی ہوتے جو ایک پائی ادا کرنے کی بھی سکت نہ رکھتے تھے ۔ایسے مریضوں کے قیام ،طعام ،دوا ،علاج اور سفر خرچ کے تما م اخراجات بھی حکیم احمد بخش (چار آنے والا حکیم )کے ذمے تھے ۔ اس پر اسرار حکیم نے انیسویں صدی کے اواخر میں روشنی کا جو سفر شروع کیا وہ ان کی زندگی میں جاری رہا اور یہ نیک کام تاریکیوں کی دسترس سے ہمیشہ دور رہا ۔راہ جہاں سے گزر جانے والے ایسے عالی ہمت لوگوں کی تقلید وقت کا اہم ترین تقاضا ہے ۔لوح دل پر ان کی خدمات کے نقوش ہمیشہ ثبت رہیں گے ۔آج بھی دور دراز علاقوں سے آنے والے دکھی لوگ اس یگانہ ٔروزگار طبیب کو یاد کر کے اس کے لیے دعا کرتے ہیں ۔فضاؤں میں ہر سو اس مسیحا صفت معالج کی یادیں اس طرح بکھری ہیں کہ جس سمت بھی نگاہ اُٹھتی ہے اس کی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے ۔
انیسویں صدی میں انجمن اطبا جھنگ کے بانی حکما میں سے اکثر حکیم سال 1884میں قائم ہونے والی انجمن تاجران اور انجمن اہلِ حرفہ جھنگ کے رکن بھی تھے ۔نو آبادیاتی دورمیں سال 1884میں ملکہ وکٹوریہ کے نام پر کراچی میں ایمپریس مارکیٹ کی تعمیر جاری تھی اس سے پہلے جھنگ میں انجمن تاجران اور انجمن اہل حرفہ فعال کردارادا کررہی تھیں۔ انجمن اہلِ حرفہ جھنگ کے قیام کے دھندلے نقوش خلجی عہد (1290-1320)میں ملتے ہیں ۔حاجی محمد یوسف اور غلام علی خان چینؔ کی روایات کے مطابق اس شہرسدا رنگ کے سب قدیم بازاروں کے نام اہل حرفہ کی یاددلاتے ہیں۔ انیسویں صدی میں اہل حرفہ کی انجمن اس علاقے میں محنت کشوں کی فلاح کے لیے فعال کردار ادا کر رہی تھی ۔ انیسویں صدی کے وسط میں گجرات کی المیہ لوک داستان ’سوہنی اور مہینوال ‘ کے خاندان کے ایک کوزہ گر ’ تلا کمہار‘ نے جھنگ میں اپنے کمال فن کی دھاک بٹھا دی ۔کفِ کوزہ گر میں پنہاں کمالِ فن جب خوب صورت اور دل کش نقش و نگار میں متشکل ہوتا تو مرصع مٹی کے برتن لوگ ہاتھوں ہاتھ لیتے اس طرح تلا کمہار کی پانچوں گھی میں تھیں ۔ اس کوزہ گرنے اس قدرزرو مال جمع کر لیاکہ بڑے بڑے عزت بیگ بھی اس کے سامنے پانی بھرتے پھرتے تھے ۔ایک بانس کے ساتھ رسیوں سے دو پلڑے باندھ کر اس میں مٹی کے برتن رکھ کر تلا کمھار اپنے کندھے پر بانس رکھ کر ہر گوٹھ اورگراں میں برتن فروخت کرنے پہنچتا۔اس کے دن پھرے تو اس نے گدھا گاڑی خرید لی اور اس پر بیٹھ کر نواحی دیہات و قصبات میں اپنے بنائے ہوئے مٹی کے برتن فروخت کرتا تھا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے تلا کمھار شہر کا سب سے متمول شخص بن گیا دنیا یہ تغییر حال دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی۔ اس زمانے میں جھنگ میں شتر بانی اور گھڑسواری عام تھی تلا کمہار نے جب نئی موٹر خریدی تو سب لوگ ششدر رہ گئے ۔شہر کے لوگ تلاکمہار کے بجائے اس کی نئی موٹردیکھنے کے لیے امڈ آئے۔ تلا کمھار کے بارے میں یہ شعر زبان زدِ عام تھا:
موٹر پہ اُڑرہا ہے وہ تلا کمھاردیکھ
ہے دیکھنے کی چیزاسے باربار دیکھ
ذیل میں جھنگ کے قدیم بازاروں کے نام درج ہیں جو جدید دور میں بھی اہل حرفہ کی عظمت کی دلیل ہیں :
کھیتیاں والا بازار ،بازار سناراں ،بازار لوہاراں ، پھولوں والا بازار ،چڑی ماروں والا بازار،چونا بھٹیاں ،لکڑ منڈی ،بازار حکیماں ،سوتر منڈی،رنگ محل ،گھگ بازار (عام ملبوسات بالخصوص گھگراسینے والے درزیوں کا بازار )،بازار کمہاراں ،کھسہ بازار ،دھسہ بازار
ان انجمنوں میں فعال کردار ادا کرنے والے مشاہیرکے خوشہ چین بیسویں صدی میں ’ حلقہ ٔ اربابِ ذوق‘ سے بھی وابستہ رہے ۔ میاں اقبال زخمی نے بتایا کہ لاہور میں مقیم طب یو نانی کے ماہر معالج بھی انجمن اطبا،انجمن اہلِ حرفہ اور انجمن تاجراں جھنگ کی سرگرمیوں کے مداح تھے۔انجمن اطباسے وابستہ حکیموں نے حلقۂ ارباب ذوق کے جلسو ں میں حضرت سلطان باہو کے اسلوب کو بہ نظر تحسین دیکھتے ہوئے ان کے کلام سے اکتساب فیض کیا اور ان کی عزت و تکریم کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھا۔ محمد کبیر خان ،ظہور احمد شائق، خادم مگھیانوی ،مظفر علی ظفر ، دیوان احمد الیاس نصیب، غلام علی خان چینؔ،رجب الدین مسافرؔ،فیض محمد خان ،شریف خان ،غلام محمد اور اﷲ دتہ سٹینونے انجمن تاجران ، انجمن اطبااور حلقۂ اربابِ ذوق کو ہمیشہ اطبا، ادیبوں اور تاجروں کی ایسی انجمنوں سے تعبیر کیا جن کے اعجاز سے اس شہرمیں فکر و خیال کی نئی شمعیں فروزاں کیں ۔ جھنگ میں انجمن اہلِ حرفہ ،انجمن اطبا اور انجمن تاجراں کے اراکین ان با صلاحیت ادیبوں کے لیے صدق دل سے دعا کرتے تھے ۔ جھنگ میں مرزا معین تابش اوران کے معمتد رفقائے کاراور لاہور میں حلقۂ اربابِ ذوق سے وابستہ سب ادیب،نقاد اور دانش ور حکیم احمد بخش (چار آنے والا حکیم ) کی تخلیقی کامرانیوں کو اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے ایک نیک فال سے تعبیر کرتے تھے۔ ا نجمن تاجران ،انجمن اہلِ حرفہ ،نجمن اطبا اورحلقہ ٔاربابِ ذوق کے اشتراک عمل اور ارتقا کے بارے میں سب اہم امور کے بارے میں آگہی ان نشستوں کا ثمر ہے ۔ مارچ 1939ء کی ایک خنک شام تھی سید نصیر الدین جامعی اور تابش صدیقی گرم جوشی سے ملے ۔ دوران گفتگو سید نصیر الدین جامعی نے تجویز پیش کی کہ ایک ایسی فعال ادبی مجلس کا قیام عمل میں لایا جائے جو جمود کا خاتمہ کرے اور فکر و نظر کو مہمیز کر کے قارئین ادب میں مثبت شعور و آگہی پید ا کرے ۔اس مجلس کا نام’’مجلس افسانہ گویاں ‘‘تجویز ہوا ۔تابش صدیقی نے اس تجویز کو بہ نظر تحسین دیکھا اور اس مجلس میں شامل ہونے والے وہ پہلے فعال رکن تھے ۔’’مجلس افسانہ گویاں‘‘کے قیام کے سلسلے میں جن ممتاز شخصیات سے مشاورت کی گئی ان کے نام درج ذیل ہیں :
حفیظ ہو شیارپوری ،شیر محمد اختر ،محمد فاضل ،سید اقبال احمد جعفری ،اخت