عظیم لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح

(Mehr Ishtiqaq Ahmed, )

سونا یعنی (دولت روپیہ پیسہ )نہیں بلکہ لوگ بنا سکتے ہیں لوگوں (قوم)کو بڑا اور طاقتور وہ لوگ جو سچائی اور حرمت کی خاطر ثابت قدم رہتے ہیں اور عرصہ دراز تک مصیبتیں اٹھاتے ہیں ۔ بہادر لوگ وہ ہیں جو کام میں لگے رہتے ہیں جبکہ دوسرے سوئے رہتے ہیں ۔ بہادر لوگ جرات کرتے ہیں ۔جبکہ دوسرے لوگ میدان سے بھاگ نکلتے ہیں ۔ وہ بہادر لوگ قوم کو سہارا دینے والے ستون گھڑے تعمیر کرتے اور قوم کو آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیتے ہیں ۔

بیسیوں صدی نے بین الا قوامی سیاسی منظر نامے پر بہت سی عظیم شخصیتیں دیکھیں ہیں ۔ اُن میں سے کوئی بھی ذہانت اور مقصد کی دیانت میں قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کا ہم پلہ نہیں ۔یہ مخص اُنکی با اثر شخصیت ۔ آپ کے عزم صمیم اور ٹھوس ارادے کا نتیجہ تھا ۔کہ قائد اعظم دنیا کے نقشے پر پاکستان کا وجود قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ علاقہ اقبال ؒ کے خواب کو حقیقت کا روپ دینے میں ہمارے قائد کے پختہ ارادے کو کوئی بھی شے با ز نہ رکھ سکی ۔ کیونکہ ہر شخص جانتا تھا کہ آپ جو کہتے ہیں اُس سے آپکا مطلب بھی وہی ہوتا تھا ۔ محمد علی جناح سیا ست میں اُس وقت داخل ہوئے جب کانگریس کے سالانہ اجتماع کے موقع پر آ پ کو داد ا بھائی نورو جی کا سیکرٹری بنایاگیا اور جسکی صدارت دادا بھائی نورو جی نے کی تھی۔

جب آپ 1900ء میں پریذیڈنسی مجسٹریٹ بنے تو اُس وقت تک بطور ایک نمایاں وکیل کے آپ کی شہرت پو ری طرح قائم ہو چکی تھی ۔انگلستان میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے عرصے کے دوران میں محمد علی جناح ؒ کو جو وقت فارغ میسر آتا تھا ۔ اُسے کبھی آپ نے ضائع نہیں کیا ۔ اس کے بر عکس آپ نے یہ وقت قانون اور دیگر موضوعات پر مبنی کتب کے مطالعہ میں صرف کیا۔ آپ نے اپنی یہ زندگی محبت ، منظم اور گہرے مطالعے میں بسر کی ۔ آپ نے خاص طور پر بڑے لوگوں کی زندگیوں کا مطالعہ کیا ۔ جب کبھی پارلیمنٹ کا اجلاس ہو تو آپ اُس کے بحث تمحیت ااور کاروائیوں کو بڑی توجہ سے اور اثر پذیر ذہن سے سنتے ۔ قائد قلب و ذہن کی خوبیوں کے لحاظ سے عظیم اور غیر معمولی انسان تھے ۔ آپ سالمیت اور دیانتداری کی علامت تھے ۔ حتیٰ کہ آپ کے بد ترین دشمن بھی یہ تسلیم کرتے تھے کہ قائد اعظم کو خرید نا ناممکن تھا ۔ اس خوبی نے آپکو نہ صر اپنے ہی لوگوں میں پسندیدہ بنایا بلکہ مخالفین کے دلوں میں بھی عزت و ستائش پیدا ہو گئی ۔ ہمارے قائد اعظم رہنما ء میں بے شمار خوبیاں تھیں ۔ آپ بے باک اور حوصلہ مند انسان تھے ۔ ہر شخص آگا ہ تھا کہ قائد جو کہتے تھے اس سے اُنکی مراد بھی وہی ہوتا تھا ۔ ایک بار جو فیصلہ آپ کر لیتے وہ اُس پر ثابت قدم رہتے چاہے اُنکے راستے کتنی ہی مشکلات کیوں نہ حائل ہو تیں ۔ پاکستان کا قیام اُنکے یقین کی حوصلہ مندی کا مبینہ منہ بولتا ثبوت ہے ۔ قائد اعظم اصولوں کے خلاف کبھی مصالحت پر راضی نہ ہوئے قائد اعظم کے دستور العمل (ماٹو )اتحاد ، تنظیم ، ایما ن نے ہی مسلمانوں کو بر طانوں راج اور ہندو اکثریت کی مشترکہ سر توڑ مخالفت کے مقابلے میں اپنے مقاصد کے حصول میں کامیابی دلائی ۔ برصغیر ہندوستان میں ایک الگ مسلمہ مملکت کی سکیم محض ایک خواب ہی دکھائی دیتی تھی ۔ بلکہ یہ ایک موہوم سا خواب و خیال سمجھا جاتا تھا ۔ اس خیال کی سختی سے مخالفت کی گئی ۔ لیکن یہ قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔ جنہوں نے علا مہ اقبال کے خواب کو اپنے پختہ ارادے کی بدولت ایک حقیقت میں بدل دیا ۔ پاکستان کیلئے جدو جہد میں ہر گزرنے والے دن قائد اعظم اپنے لوگوں کی تو قعات کے مطابق آگے بڑھتے گئے ۔ یہ آپکی جادو اثر شخصیت کا فسون تھا کہ آپ بر صغیر کے مسلمانوں کے ایک طاقتور اور غیر متنازعہ لیڈر بن کر اُبھرے مسلمانوں کو برطانوی سامراج اور ہندو ں سے آزادی دلانے کیلئے آپ نے باوجود اپنی گر تی ہوئی صحت کے شب و روز محنت سے اور تن تنہا کام کیا۔ لیکن آپ کے پاسا عتماد اور ادارے کی قوت کی بے پناہ دولت تھی ۔ آپ ایک عمدہ مقرر تھے ۔ جو مسلسل گھنٹوں تک اپنے سامعین کواپنی تقریر سے مسخر رکھتے ۔ آپ نے مسلمانوں کے لیے الگ مملکت کا اپنا مقدمہ دلائل اور زبان دانی کے زور کے ساتھ اس طرح پیش کیا کہ آپ کے مخالفین آپ کی جادو بیان تقریر کی بدولت قائلہوکر رہ گئے ۔ مسلمانوں کیلئے ایک الگ ملک کا مطالبہ اُنکے سیاسی اور ثقافتی شناخت کے گہرے جذبات کا ایک ایسااظہار تھا۔جسکی جڑیں حضور نبی اکرم ؐ کے ہاتھ بنا رکھی گئی ۔ مملکت مدینہ میں مضبوطی سے گڑی ہوئی تھیں قائد اعظم ؒ کے ذہن میں اسلام کے ضابطہ حیات کے طور پر ایک واقع تصور موجود تھا ۔ آپ کے ایک برطانوی ہیورلی نکولس کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا ۔

اسلام محض ایک مذہبی عقیدہ ہی نہیں بلکہ یہ زندگی کے ہر روز اور اہم شے کے لحاظ سے مثلا ہماری تاریخ ، ہمارے قوانین اور ہمارا فلسفہ قانون کیلئے ایک حقیقی ضابطہ اخلاق ہے ۔ ان تمام اُمور میں ہمارا نقطہ نظر نہ صرف مختلف ہے بلکہ یہ ہندوؤں کے نظریات کے بالکل اُلت ہے ۔زندگی میں کوئی شے نہیں جو ہمیں اور ہندوؤں کو باہم ایک رکھ سکیں ۔ ہمارے نام ہمارے لباس ،ہماراکھانا پینا، ہمارے تہوار، ہماری رسومات سب مختلف ہیں ۔ ہماری معاشی زندگی ہمارے تعلیمی نظریات ، عورتوں کے ساتھ ہمارا برتاؤ ، جانوروں کے ساتھ ہمارا رویہ ہمارا انسانی رحم کا جذبہ سب کچھ تو بالکل الگ ہے ۔

مسلم لیگ کے ایک کنونشن میں خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا ۔

ہم کس لیے لڑ رہے ہیں ؟ ہمارے سامنے کونسا مقصد ہے ؟ یہ صلائیت یا پایا سئیت نہیں ۔اور نہ ہی مذہبی حکومت ہے ۔ مذہب تو موجود ہے اور یہ ہمیں عزیز ہے اور بھی کئی چیزیں ہیں اور وہ ہیں ہماری سماجی زندگی ، ہماری معاشی زندگی اور بغیر سیاسی طاقت ہم اپنی معاشی اور ا یمان کا دفاع کس طرح کر سکتے ہیں ؟

ایک اور موقع پر مارچ1948ء میں جب آپ چٹا گانگ میں میں ایک جگہ تقریرکر رہے تھے ۔ تو قائد اعظم محمد علی جناح َؒ نے فرمایا۔ پاکستان کی بنیاد سماجی انصاف اور اسلامی سوشلزم پر رکھی جانی چاہیے ۔ جو مساوات اور انسانی بھاء چارے پر زور دیتا ہے ۔ مسلم سٹوڈنٹس M.S.Fکی تشکیل اور ترقی میں قائد اعظم ؒنے بہت دلچسپی لی ۔ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد طلبہ کو آپکی نصیحت تھی کہ ’’ اب جبکہ آپ نے اپنی منزل پالی ہے آپ کے پاس اپنی حکومت اور اپنا ملک ہے ۔ جو آپ کا اپنا ہے اور جس میں آپ آزاد انسانوں کی طرح رہ سکتے ہیں ۔ آپکی ذمہ داریاں اور آپکے سیاسی ، معاشی اور اقتصادی مسائل تک رسائی کا طریقہ بھی تبدیل ہو جانا چاہیے ۔ اب آپ کے ذمہ یہ فرض ہے کہ نظم و ضبط ،کردار ، قوت اختراع کی نشوو نما کا گہرا احساس پیدا کرنا اور تعلیمی پس منظر پیدا کرنا ہوگا ۔ اپنے آپ کو دل و جان سے پڑھائی کیلئے وقف کر دینا کیونکہ یہ آپ کا اپنے لیے ، والدین اور مملکت خدادار کیلئے یہ اولین فرض ہے ۔

1948ء میں اسلامیہ کالج پشاور کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا ۔

’’یاد رکھو آپکی حکومت آپکے باغ کی مانند ہے اس کی نشوو نما اُسی پہنچ پر ہو گی جس طرح آپ اِسکی دیکھ بال کریں گے اور اسکی بہتری اور ترقی کیلئے اپنی کوشش بروئے کار لائیں گے ۔ اسی طرح آپکی حکومت اُسی صورت پھیلے پھولے گی جب آپ اپنی حب الوطنی ،ایمانداری اور تعمیر ی کوششوں سے اسے بہتر بنائیں گے ‘‘ آپ کو اپنے صوبے ے محبت اور مجموعی طور پر اپنے ملک سے محبت اورفرض میں تمیز کرنا سیکھنا چاہیے ۔اپنے ملک کیلئے ہمارا فرض ہمیں صوبائیت سے کہیں اگلی سطح پر لے جاتا ہے ۔ یہ فرض نظر کے وسیع اور حب الوطنی کے بہتر احساس کا تقاضا کرتاہے ۔ وطن کے متعلق ہمارا فرض اکثر یہ طلب کرتا ہے کہ ہم مشترکہ مفاد کیلئے اپنے انفرادی اور صوبائی مفادات کو ایک مشترکہ مفاد کی صورت میں مد غم کر دیں ۔ ملک کیلئے فرض ہماری اولین ذمہ داری ہے اور ہمارے صوبے ، ہمارے اضلاع ، ہمارے قصبے ، ہمارے گاؤں اور خود ہماری اپنی زات کیلئے ہماری ذمہ داری دوسرے درجے پر آتی ہے ۔ یاد رکھیے!!! ہم ایک ایسی سلطنت کی تعمیر کر رہے ہیں ۔ جو پوری اسلامی دنیا کی قسمت بنانے میں پورا پورا کردار ادا کرنے والی ہے ۔ لہذاہمیں وسعتِ نظر کی ضرورت ہے ۔ جو صوبائی حدود محدود قسم کی قومیت اور نسل پرستی کی حدوں سے آگئے گزرجائے ۔ ہمیں اپنی ذات میں حب الوطنی پیدا کرنی چاہیے ۔ جو جسکے ذریعے ہم اپنی منزل پا سکتے ہیں ۔اپنی جدو جہد کی منزل ،وہ منزل جسکی خاطر لاکھوں مسلمانوں نے اپنا سب کچھ کھویااور اسلام اور پاکستان کیلئے اپنی جانیں قربان کر دیں ۔ قائد اعظم محمد علی جناح کا ماٹو کام،کام اور بس کام

ہمیں خواب غفلت سے بیدارکرنے اور قومی مقاصد حاصل کرنے کیلئے ایک صد اہے ۔ کہ ہر پاکستانی کی یہ سنجیدہ خواہش ہے کہ وہ ہمارے عظیم لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے تصور کے مطابق پاکستان کے قدو قامت دیکھے ۔ ہم میں سے ہر شخص اُن سنہری اُصولوں پر عمل کرنے کی کوشش کر ے جوقائد نے قوم کو دئیے اور آپکے نقوشِ قدم پر چلے اور اس طرح قوموں کی رسم و راہ میں پاکستان کیلئے با عزت اوربا وقار مقام حاصل کرے ۔
اگر ہے ہے جذبہ تعمیر زندہ
تو پھر کس چیز کی ہم میں کھی ہے ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 160 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mehr Ishtiqaq Ahmed

Read More Articles by Mehr Ishtiqaq Ahmed: 9 Articles with 1836 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: