نہ، نا ، ناں اور ’ نہیں‘ (لسانیہ)

(Prof Niamat Ali Murtazai, )

نہ: اس لفظ کا استعمال عام طور پر فعل یعنی ورب سے پہلے کیا جاتا ہے۔ مثلاً وہاں نہ جاؤ، یہ پانی نہ پیؤ، شور نہ کرو وغیرہ
اسم، اسمِ ضمیر وغیرہ سے اسے پہلے استعمال کیا جاتا ہے: مثلاً نہ وہ اور نہ ہم میچ دیکھنے گئے۔
نا: اس لفظ کا استعمال ایک سابقے کے طور پر کیا جاتا ہے۔ مثلاً نا مناسب، نا منظور، نا جائز، نا زیبا، نا رسا، وغیرہ
آپ کا وہاں جانا نا مناسب ہے، اس کا رویہ نازیبا تھا، وغیرہ۔اس کا استعمال کسی اسمِ صفت یعنی ایجکٹو کے ساتھ اس سے پہلے ہوتا ہے جیسا کہ اوپر کی مثالوں سے واضح ہے۔
ناں: یہ لفظ اردو کے ایک اور لفظ کا متضاد ہے جسے’ ہاں‘ کہا جاتاہے۔ یعنی انکار کے معنی ہیں جیسا کہ اس نے وہاں جانے سے ’ناں‘ کر دی۔ اس کی’ناں‘ ہمارے لئے مسئلہ بن گئی۔ اس نے ’ناں‘ کیوں کی؟ وغیرہ
اس ’ناں‘ کا دوسرا استعمال فعل کے ساتھ ہوتا ہے اوراس فعل پے زور دینے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً جاؤ ناں، پیؤ ناں، بیٹھو ناں، وغیرہ ۔ اس صورت میں یہ ہمیشہ فعل کے بعد رکھا جائے گا یعنی بولنے میں یا لکھنے میں۔
اور جب کسی بات سے منع کرنے کے لئے اسے استعمال کیا جائے تو یہ آج کل کی اردو زبان میں ’ناں‘ کہ بجائے ’نہ‘ کے انداز یا تلفظ کے ساتھ بولا جاتا ہے۔
نہیں: یہ لفظ اردو میں کافی زیادہ استعمال حاصل کر چکا ہے۔ اسے سوال و جواب کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے: جیسا کہ
سوال: کیا تم وہاں جاتے ہو؟ جواب: نہیں !
سوال: کیا اُس نے تمہیں کچھ دیا ؟ جواب: نہیں!
اسی طرح فعل کے ساتھ بھی اس کا استعمال کیا جاتا ہے: مثلاً وہ یہاں نہیں آتا۔ ہم نے اسے کچھ نہیں کہا۔ وہ میرا ہمسایہ نہیں ہے۔ وغیرہ فعل کے ساتھ اس کا استعمال عام طور پر فعل سے پہلے ہوتا ہے۔
کسی کے حکم، نصیحت یا کسی بات کی مخالفت کرنے کے لئے بھی نہیں کا لفظ استعمال میں لایا جاتا ہے۔
حکم: وہاں جا کے بیٹھ جاؤ۔ انکار: نہیں میں وہاں نہیں جاؤں گا ۔
نصیحت: اپنا وقت فضول باتوں میں ضائع نہ کرو۔ انکار: نہیں میں وقت فضول باتوں میں ضائع نہیں کر رہا۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 387 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Niamat Ali

Read More Articles by Niamat Ali: 173 Articles with 159065 views »
LIKE POETRY, AND GOOD PIECES OF WRITINGS.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: